تبصرۂ کتب

بال کی کھال: طنز و مزاح پر ایک دلچسپ کتاب

وصیل خان

فیاض احمد فیضی طنز و مزاح پر مشتمل اپنی تحریروں کے حوالے سے ادبی دنیا میں نہ صرف متعارف ہیں بلکہ مقبول بھی ہیں اس سے قبل ’ قند و زقند ‘ اور ’ قند مکرر ‘  کے عنوان سے ان کی دو کتابیں قارئین سے دادوتحسین حاصل کرچلی ہیں ۔ بال کی کھیل ان کی تیسری اور تازہ ترین کتاب ہے۔ موصوف کی سابقہ کتابیں ہمارے مطالعے سے تو نہ گزرسکیں لیکن ’بال کی کھال ‘ بالاستیعاب مطالعے میں رہی جس کی تحریری سلاست،فکری تعمق اور شگفتگی دیکھ کر یہ قیاس لگانا مشکل نہیں رہ جاتا کہ سابقہ کتابیں بھی تحریری ہنرکاریوں اور رواں دواں طرز نگارش کا نمونہ رہی ہوں گی۔ فیضی صاحب ایک عرصہ تک انقلاب اور اردو ٹائمز میں اپنے موضوع سے ہٹ کر روزگار، معیشت اور اسٹاک مارکیٹ جیسے خشک موضوعا ت پر بھی مضامین لکھ چکے ہیں ان مضامین کے بیشترابتدائی پیراگراف اور کہیں کہیں درمیانی حصوں میں بھی مزاح اور شعرو ادب کی بھرپور چاشنی موجود ہوتی تھی۔ ذاتی طور پر معیشت اور روزگارجیسے خشک مضامین سے مجھے کبھی بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں رہی لیکن موصوف کے مضامین میں ان دلچسپیوں اور ادبی چاشنیوں کی تلاش میں ان مضامین کو بھی حلق سے اتارلیتا تھا اور اسی زمانے سے ان کے فکرو فن اور گرم تر اسلوب کا قائل ہوگیا تھا سو وہ کیفیت آج بھی موجود ہے لیکن اس کی باقاعدہ تصدیق تازہ کتاب ’ بال کی کھال‘دیکھنے کے بعد پایہ ٔ تکمیل کو پہنچ گئی۔

موصوف اپنے گردوپیش کے حالات پر صرف گہری نظر ہی نہیں رکھتے بلکہ انسانی نفسیات اور اس کےاندر خلق ہونے والے نئے نئے زاویوں اورجہتوں کا ادراک بھی وہ بہت آسانی سے کرلیتے ہیں اور جب وہ  ان بند  گوشوں کی جہاں عا م لوگوں کی نگاہیں نہیں پہنچ پاتیں اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں پرتیں کھولتے ہیں تو قاری پر ایک نئی تفہیم اور ایقان کے دروازے کھل جاتے ہیں ۔ پیش کش کے دوران وہ جو مثالیں اور دلائل پیش کرتے ہیں وہ اتنے اثر انگیز اور یقینی ہوتے ہیں کہ قاری کے پاس سوائے ایجاب و تسلیم کے کوئی چارہ ہی نہیں رہ جاتا۔ باتوں میں بات پیدا کرنا اور ان کی تہوں سے فکر و دانش کے موتی رولنے کا فن ان کی تحریروں میں جا بجا نظر آتا ہے۔ کتاب سے ایک اقتباس دیکھیں ۔

’’جہاں تک پھلوں کی تجارت کا تعلق ہے اس میں ہم یقینا ًدوسروں سے آگے ہیں ۔ مشتاق احمد یوسفی نے کہیں لکھا ہے کہ ’مسلمانوں نے صدیوں تک تجارت کواس خوف سے نہیں اپنا یا کہ کہیں انہیں منافع نہ حاصل ہوجائے، لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ جب مسلما ن تجارت کو اپنا لیتا ہے تو وہ بہت جلد اور بہت زیادہ منافع کمانے کی دھن میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجاتاہے وہ اپنی جان بیچ کر علم و ہنر حاصل کرنے کے بجائے دوسروں کی جان نکال کر نفع و زر حاصل کرنے کو مقدم مانتا ہے پھر وہ جیسے ملے جہاں سے ملے جس قدر ملے۔ اس لئے اگر آپ کم تر کوالٹی اور برتر داموں سے پھل خریدنے کے خواہش مند ہوں تو آپ کو کسی ’ اپنے ‘ پھل والے سے رجوع کرنا چاہیئے۔ ‘‘

کتاب میں کل بارہ مضامین تین سفر نامے، سات خاکے اور تین کالم ایپی سوڈ ہیں ۔ ان ساری تحریروں میں جو قدر مشترک ہے وہ یہ کہ کہیں بھی وہ اپنے رنگ، مزاج، فکری آگہی، لطیف تیراندازی اور نتیجہ خیز سنگ باری میں ذرا بھی کمزور نہیں دکھائی دیتے۔ ایک اور جگہ وہ لکھتے ہیں ۔

’’ آگے اسپتال ہے، یہ سائلینس زون ہے۔ براہ کرم پیالے میں سکّے پھینک کر شور نہ کریں ۔ صرف نوٹ قبول کئے جاتے ہیں ۔ ‘‘ فیضی کی شگفتہ نگاری اور ذہانت طبع کی ایک اور مثال لیجئے۔

’’ فی زمانہ سب سے اچھا اشتہار وہ سمجھا جاتا ہے جو لوگوں کو لالچ کے مارے پاگل بنادینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اب یہ ایک ایسی سائنس بن گیا ہے جو انسانی ذہانت کواس وقت تک اپنی قید میں رکھتا ہے جب تک وہ اپنی جیبیں نہ خالی کردے، پہلے یہ خوبی صرف معشوق میں پائی جاتی تھی جس کی خاطر وہ دین و دنیا دونوں کو تیاگ دینےکی حماقت کیلئے تیار رہتا تھا، اب معشوق کی جگہ اشیاء اور خدا کی جگہ دولت نے لے لی ہے لیکن اب ایک کامیاب اشتہار وہ کہلاتا ہے جوامیروں سے زیادہ غریبوں کو اپنے فریب حسن میں جکڑلے کیونکہ اشتہار نہ بھی ہو تو امیردولت اڑانے کے ہزار بہانے ڈھونڈھ لیتا ہے مگر عالم کاری کا زریں اصول ہے کہ غریبوں کو نت نئی اشیاء اور قرض کے بوجھ سے لاددو وہ ان دونوں کے نیچے عمر بھر فاقہ مستی کے مزے لوٹیں اور E.M.Iادا کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوجائیں ۔ ‘‘

کتاب میں متعدد ایسے جملےوفقرے موجود ہیں جنہیں ہم مثال بناسکتے ہیں لیکن کالم کی تنگ دامنی اس کی اجازت نہیں دےرہی ہے، بہتر یہی ہے کہ آپ کتاب خریدیں اورپورے کے پورے لطف اندوز ہوں ۔ مشہور طنزو مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی چھوٹے چھوٹے جملوں میں ایسی کاٹ دار اور پرلطف باتیں کہہ دیتے ہیں جوبڑی دیر تک ذہن و دل میں دھمک پیدا کرتے رہتے ہیں ایک جگہ انہوں نے لکھا ہے کہ ’ لاہور میں بعض تنگ وتاریک گلیاں ایسی بھی ہیں کہ اگر ایک طرف سے کوئی خاتون آرہی ہو اور دوسری طرف سے کسی مرد کا گزر ہورہا ہو تو ان کے درمیان صرف نکاح کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔ ‘یہاں مشتاق احمد یوسفی سے فیضی کا موازنہ ہرگز مقصود نہیں لیکن بال کی کھال پڑھتے وقت پتہ نہیں کیوں مشتاق احمد یوسفی بار بار یاد آتے ہیں ۔

مطالعے کے دوران مجموعی تاثر یہی ہوتا ہے کہ فیاض احمد فیضی اردو ادب کی فضا میں طنزو مزاح کا ایک ایسا رنگ گھول رہے ہیں جو نہ پھیکا ہوسکتا ہے نہ ہی مدھم۔ ان کی مشاقی اور مستعدی اسی طرح جاری رہی تو وہ دن دور نہیں جب طنزو مزاح کی دنیا میں وہ  ایک نمایاں مقام پر نظر آئیں گے۔ لیکن کمپوزنگ میں بے تحاشا اغلاط سے ذہن و دل میں جو انقباضی کیفیت پیدا ہوتی ہے،جس سے مطالعے کا تسلسل مجروح ہوتا ہے اس ذمہ داری سے وہ پوری طرح انصاف نہ کرسکے کاش اس جانب بھی وہ توجہ مبذول کرلیتے۔

 نام کتاب: بال کی کھال ( طنزومزاح ) ، ناشر و مصنف: فیاض احمد فیضی،موبائل :9323043113 ، زیراہتمام:  تخلیق کار پبلشرز 104/B۔یاور منزل، آئی بلاک، لکشمی نگر، نئی دہلی ۱۱۰۰۹۲، قیمت: 280/-،  صفحات  :  272، ملنے کے پتے: کتاب دار، جلال منزل ٹیمکر اسٹریٹ، نزد جے جے اسپتال ممبئی ۴۰۰۰۰۸، مکتبہ جامعہ، اردو بازار،جامع مسجد دہلی ۱۱۰۰۰۶،ایجوکیشنل بک ہاؤس، مسلم یونیورسٹی مارکیٹ علی گڑھ ( یوپی ) 

مزید دکھائیں

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

متعلقہ

Close