تبصرۂ کتب

تبصروں پر تبصرہ

مبصر: ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

مصف: ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی

تبصرہ عموماً کتابوں اور رسالوں پر کیا جاتا ہے، لیکن جب برادر مکرم ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی نے اپنے تبصروں پر کچھ لکھنے کی فرمائش کی تو مجھے عجیب سا لگا کہ یہ تو ’’تبصروں پر تبصرہ‘‘ والا معاملہ ہوگیا۔ وہ مجھے بہت عزیز ہیں، اس لیے ان کی خواہش کو ٹالنا میرے لیے ممکن نہ تھا۔

اردو کے مجلات میں تبصروں کی روایت قدیم ہے، ماہ نامہ معارف اعظم گڑھ میں علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا شاہ معین الدین ندوی اور مولانا مجیب اللہ ندوی کے تبصرے مثالی اور معیاری ہوتے تھے، تبصرہ نگاری کے میدان میں مولانا ماہر القادری (فاران) مولانا عامر عثمانی (تجلی) مولانا عبدالماجد دریابادی (صدق/صدق جدید) اور مولانا سید ابو الاعلی مودودی (ترجمان القرآن) کو شہرت اور اعتبار حاصل ہے، موجودہ دور میں ششماہی ’’نقطۂ نظر‘‘ اسلام آباد کے مدیر جناب سفیر اختر کے تبصرے اعلیٰ پائے کے ہوتے ہیں، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر چہ ہندو پاک میں اردو رسائل وجرائد ‘حشرات الارض’ کی طرح نکل رہے ہیں، لیکن عموماً ان میں شائع ہونے والے تبصروں کا کوئی معیار نہیں رہ گیا ہے۔ ان کا دائرہ صرف کتابوں کے تعارف تک محدود رہتا ہے، بلکہ صحیح طریقے سے تعارف بھی نہیں ہوپاتا۔ اگر بات تعارف سے آگے بڑھتی ہے تو مدّاحی پر آکر رک جاتی ہے۔ کتابوں کے مولفین بھی صاف لفظوں میں یا اشاروں کنایوں میں تعریف و توصیف کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں اور تبصرہ نگار بھی مدح و ستائش کو اپنا شیوہ بنا لیتے ہیں۔ رہا کتاب کو صحت مند تنقید کی کسوٹی پر پرکھنا، اس کی خوبیوں کا تذکرہ کرنا اور اس کے کم زور پہلوؤں کی نشان دہی کرنا تو اس کے لیے بالاستیعاب مکمل کتاب کا مطالعہ کرنا ہوگا، اور آج کی مصروف ترین زندگی میں تبصرہ نگار کو اس کی فرصت کہاں، اور اگر وہ اس کے لیے وقت نکال لے تو تنقید کرنے کی جرأت کہاں سے لائے کہ اس صورت میں مؤلفین کی ناراضی مول لینی پڑتی ہے۔ اس صورت حال میں ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی جیسے لوگوں کو داد دینی پڑتی ہے کہ وہ معیار ی تبصرہ نگاری کی روایت کو قائم رکھے ہوئے ہیں اور بلا خوف لومۃ لائم کتابوں پر تبصرہ کرتے ہیں۔

ماہ نامہ ’’ندائے اعتدال‘‘ اپنی اشاعت کے گیارہویں برس میں ہے۔ ابتدا ہی سے میں اسے دیکھتا رہا ہوں۔ میری بھی بعض تحریریں اس میں شائع ہوئی ہیں۔ علی گڑھ میں تھا تو یہ مجلہ پابندی سے میرے مطالعہ میں رہتا تھا، دہلی منتقل ہو گیا ہوں تو کبھی کبھی نظر سے گزرتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مختصر عرصے میں بر صغیر کے مجلات میں اس نے اپنی پہچان بنائی ہے۔ مضامین کے انتخاب اور ان کی ایڈیٹنگ کے علاوہ ایڈیٹوریل اور مطبوعات جدیدہ پر تبصروں کی وجہ سے اسے قارئین کے درمیان مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ ڈاکٹر ایوبی کے ادارتی مضامین میں عالمی اور ملکی حالات پر بھر پور تبصرہ ملتا ہے، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کی جانے والے سازشوں کو واشگاف کیا جاتاہے، اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کا رد ملتا ہے اور بدلتے ہوئے حالات میں مسلم امہ کے لیے رہ نمائی کا سامان فراہم کیا جاتاہے۔ اسی طرح نئی مطبوعات پر ان کے تبصرے بھی بھر پور ہوتے ہیں۔ ان میں جہاں ایک طرف زیر تبصرہ کتابوں کے محاسن نمایاں کرنے میں فراخ دلی کا مظاہرہ کیا جاتاہے وہیں ان کے معایب کی نشان دہی سے بھی پہلو تہی نہیں کی جاتی۔ ڈاکٹر ایوبی کے ادارتی مضامین کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے، تبصروں کے مجموعے کی اشاعت اب ہو رہی ہے۔

اس مجموعے میں ستاسی (۸۷) کتب ورسائل پر تبصرے شامل ہیں۔ زیادہ تر کتابیں اردو زبان کی ہیں، کچھ عربی اور انگریزی کی بھی ہیں۔ موضوعات میں بڑا تنوع ہے۔ ان کا دائرہ قرآنیات، حدیث، سیرت نبوی، فقہ، تاریخ، سماجیات، تعلیم، قانون، سیر و سوانح، سیاست، ادب و شاعری اور دیگر موضوعات کو محیط ہے۔ تبصرہ کی جانے والی کتابوں میں بعض تراجم بھی ہیں۔ بعض تبصرے مختصر ہیں، جن میں کتابوں کا صرف اجمالی تعارف کرایا گیا ہے، بعض متوسط حجم کے ہیں، جب کہ بعض مفصل ہیں اور حقیقت میں یہی تبصرے کتاب کی اصل جان ہیں، جن میں ڈاکٹر ایوبی کے قلم کی جولانیوں کا اظہار ہوتا ہے، ان میں خاص طور پر ‘آخری وحی اردو ترجمانی کے قالب میں’ (مولانا سید سلمان حسینی ندوی)، ‘نقوشِ سیرت نبوی’ (پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی)، ‘نماز کے اختلافات اور ان کا آسان حل’ (ڈاکٹر محی الدین غازی)، ‘تہذیب و سیاست کی تعمیر میں اسلام کا کردار’۔ مجموعۂ مقالات سیمینار ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ (مرتبین ڈاکٹر صدر سلطان اصلاحی اور مولانا محمد جرجیس کریمی)، ‘فکرِ اسلامی کا ارتقاء۔ ہندوستان کا خصوصی مطالعہ ‘(ڈاکٹر ضیاء الدین فلک فلاحی)، ‘اسلام کا نظامِ سیاست و حکومت’ (پروفیسر محسن عثمانی ندوی)، ‘تحریرِ بے عدیل’۔ قاضی عدیل عباسی کی حیات و خدمات’ (ڈاکٹر مسعود الحسن عثمانی)،’ تعبیر و تشکیل’ (ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی)، ‘کلیسا۔ یورپ کی مذہبی و اخلاقی تاریخ’ (مولانا محمد نفیس خاں) اور’ دانش راہ بین۔ نذرِ پروفیسر عبدالرحیم قدوائی’ (مرتب حارث منصور) خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔

ڈاکٹر طارق ایوبی زیر تبصرہ کتابوں کے علمی معیار کو پرکھنے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتے، چنانچہ اگر اس معاملے میں کچھ کمی پاتے ہیں تو اس کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ ایک کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’جب بازار میں ملاوٹ کا دور چل رہا ہو تو یہ ضرورت اور شدید ہوجاتی ہے کہ مراجع کا ذکر ضرور کیا جائے اور حتی المقدور ثانوی مراجع سے گریز کیا جائے۔ زمانۂ قدیم سے ہی واقعات کو وضع کرنے اور ان کو بیان کرکے اپنے اثرات قائم کرنے اور پھر ان سے نفع اٹھانے کا طریقہ مجرّب و مستعمل رہا ہے‘‘۔ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ کے بارے میں ایک کتاب کو (جس پر مصنف کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی تھی) بڑے لطیف انداز میں میزانِ نقد پر یوں پرکھا ہے: ’’غالبا طوالت سے بچتے ہوئے اس علمی بحث میں یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ عناوین زیادہ ہیں اور ان پر مواد کم۔ موسوعاتی طرز پر معلومات فراہم کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے، البتہ جس درجے کی یہ علمی بحث ہے اس درجے کا تجزیاتی مطالعہ اس میں نظر نہیں آتا‘‘۔

زیر نظر کتاب میں شامل تبصروں کو پڑھ کر بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر ایوبی کسی کتاب کو روا روی میں اِدھر اُدھر سے دیکھ کر تبصرہ کرنے کے قائل نہیں، بلکہ وہ کتاب کا بالاستیعاب مطالعہ کرنے کے بعد ہی اس پر تبصرہ کرتے ہیں۔ چنانچہ کتاب میں کوئی بحث غلط اٹھائی گئی ہو، کہیں اسلوب غیر شائستہ ہوگیا ہو، کسی لفظ کے استعمال میں احتیاط ملحوظ نہ رہی ہو یا کوئی حوالہ دینے میں مصنف سے چوک ہوگئی ہو، وہ ہر ایک پر بر ملا تنقید کرتے ہیں اور کوئی رو رعایت نہیں کرتے۔ مئی ۲۰۱۲ء میں ماہ نامہ تہذیب الاخلاق علی گڑھ کا قرآن نمبر پروفیسر ابو سفیان اصلاحی کی ادارت میں نکلا تھا۔ اس کے بعض مضامین بڑے سطحی اور غیر علمی تھے، چنانچہ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر ایوبی نے لکھا ہے:

’’یوں تو اس میں بیش تر مضامین بڑے علمی، فکری اور دل چسپ ومعلوماتی ہیں، لیکن بعض مضامین ایسے بھی ہیں جو شتر بے مہار کے مصداق اظہار رائے کی آزادی کے قائل اہل علم (جنھیں علوم قرآن و حدیث کا صحیح و پختہ درک نہ ہو) کی گم راہی کے لیے کافی ہیں‘‘۔

آگے ایک مضمون پر بہت تفصیل سے اظہار خیال کیا ہے اور اس کی علمی کم زوریاں واضح کی ہیں۔ پروفیسر عبدالرحیم قدوائی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر اور اکیڈمک اسٹاف کالج کے ڈائریکٹر ہیں۔ قرآن مجید کے انگریزی تراجم پر ان کا غیر معمولی کام ہے۔ وہ ہمیشہ شیروانی ٹوپی زیب تن کرتے ہیں، مزید برآں داڑھی کی وجہ سے وہ پورے مولوی لگتے ہیں۔ ایک صاحب نے اپنے مضمون میں ان کا خاکہ کھینچا تو ان کے اسلوب میں مولویوں کا استخفاف در آیا۔ ڈاکٹر ایوبی نے اپنے تبصرے میں بجا طور سے اس پر برہمی کا اظہار کیاہے اور خاکہ نگار کی خوب کھینچائی کی ہے۔ ایک صاحب کو شاعرِ مشرق علامہ اقبال سے خدا جانے کیا بیر ہے کہ انھیں ‘نام نہاد اسلامی شاعر’ اور ‘برہمن زادہ’ لکھ بیٹھے۔ ڈاکٹر ایوبی نے اس پر بہت اچھی گرفت کی ہے۔

اس کتاب میں جن عربی کتابوں یا ان کے ترجموں پر تبصرہ کیا گیا ہے ان کا جائزہ تبصرہ نگار نے مواد، اسلوب اور ترجمہ نگاری کے پہلو سے لیا ہے اور ان کی خوبیوں کے اعتراف کے ساتھ ان کی کمیوں کی بھی نشان دہی کی ہے۔ ایک عربی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے:

’’ان مضامین میں عربیت کا رنگ خالص ہے، مگر قدرے مبالغہ آمیزی ہے‘‘۔

احادیث قدسی کے موضوع پر ایک ضخیم ترجمہ کردہ کتاب پر ان کا تبصرہ ملاحظہ کریں: ’’کیا خوب ہوتا جو ترجمہ و تشریح میں بھی معاصر اسلوب کی رعایت کی گئی ہوتی۔ اگر چہ بڑی حد تک زبان کو سہل رکھا گیا ہے، مگر لفظی ترجمہ سے ثقل کا احساس ہوتا ہے‘‘۔ ایک دوسری ترجمہ کردہ کتاب پر یوں تبصرہ کیا ہے:

’’ترجمہ اس وقت زیادہ دل چسپ ہوتا ہے جب قاری کو محسوس نہ ہو کہ وہ اصل کتاب پڑھ رہا ہے یا ترجمہ۔ مذکورہ کتاب کے مطالعے میں ترجمہ ہونے کا احساس بارہا دامن گیر رہا، جس سے مطالعہ میں وہ تسلسل باقی نہ رہا جو مطالعہ کی روح ہے‘‘۔

ڈاکٹر ایوبی اصل کتابوں کے ساتھ تحریر کردہ مقدموں پر بھی نظر رکھتے ہیں اور ان کے سلسلے میں بھی قابل توجہ امور کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کلیسا کی تاریخ کے موضوع پر شائع ہونے والی کتاب میں ایک اہم شخصیت کا مقدمہ شامل تھا، لیکن اس سے کتاب کا بھرپور تعارف نہیں ہوا اور اس کی قدر وقیمت پر روشنی نہیں پڑی تو انھوں نے اس کا شکوہ کرنا ضروری سمجھا:

’’اس مقدمہ میں مقدمہ نگار نے تکلّف سے کام لیا ہے۔ یہ مقدمہ نہ اس کتاب کے معیار ومواد کا حق ادا کرتا ہے اور نہ نووارد مصنف کی پختہ علمی کاوش کی کماحقہ حوصلہ افزائی‘‘۔

ڈاکٹر ایوبی نے لکھا ہے کہ انھوں نے عموماً اپنے تبصروں میں لسانی پہلو کو ملحوظ نہیں رکھا ہے، لیکن کہیں کہیں اس پہلو سے بھی ان کے لطیف تبصرے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک کتاب میں پروف ریڈنگ کی غلطیوں کی طرف انھوں نے ان الفاظ میں توجہ دلائی ہے: ’’کتاب میں پروف ریڈنگ کی غلطیاں شاید اس کی ضخامت کے سبب رہ گئی ہوں ، لیکن آخری حصے سے زیادہ ابتدائی حصے میں ان اغلاط کی موجودگی کے باوجود بھی کتاب کی کشش میں کوئی کمی نہیں آتی‘‘۔ ایک کتاب میں مصنف نے کسی علمی و دینی شخصیت سے اپنی ملاقات کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے: ’’ہر بار آنکھیں سینکنے کے لیے مولانا کے درِ دولت پر حاضر ہوا‘‘۔ اس پر تبصرہ نگار نے لکھا ہے:

’’یہ ترکیب لغت و عرف کے اعتبار سے مناسب نہیں معلوم ہوتی، عرفِ عام میں اس لفظ میں ذم کا پہلو مضمر ہے‘‘۔

یہ صرف چند مثالیں ہیں جن کے ذریعے ڈاکٹر طارق ایوبی کی تبصرہ نگاری کا تعارف کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ قوی امید ہے کہ ان کو پڑھ کر قاری ضرور ان کتابوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گا جن پر یہ تبصرے کیے گئے ہیں، اور یہی تبصرہ کا مقصد ہوتاہے۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ مدرسۃ العلوم الاسلامیہ علی گڑھ کے اہتمام اور تدریس کے ساتھ ڈاکٹر ایوبی کی قلمی جولانیاں بھی جاری ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اپنے دین کی خدمت کا زیادہ سے زیادہ کام لے۔ آمین ثم آمین۔

مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

2 تبصرے

  1. ماشااللہ آپ کا تبصرہ بھی خوب ہے ۔اسی طرح کا ایک منفرد مجلہ اردو بک رویو جس میں معیاری تبصرے شائع ہوتے ہیں ۔ان مبصرین میں مرحوم محمود الحسن اور ہاشم قدوائ کے تبصرے مفصل اور تحقیقی ہوتے تھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close