اردو ادب کے خوشہ چینوں کے لئے یہ کتاب بلاشبہ اہمیت کی حامل ہوگی اور اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا۔

تبصرہ کتاب : سرحدِ ادراک

نام کتاب : سرحدِ ادراک
مصنفہ : ڈاکٹر نفیس بانو
صفحات: 181، قیمت:250روپئے
ناشر : عرشیہ پبلی کیشنز ، دہلی

زیر تبصرہ کتاب ’’سرحد ادراک‘‘ ڈاکٹر نفیس بانو (ایسو سی ایٹ پروفیسر وصدر شعبہ اردو، وسنت کالج فار ویمن، راج گھاٹ، وارانسی(بنارس ہندو یونیورسٹی)کی جانفشانی،تحقیق و جستجواور اردو ادب سے والہانہ عقیدت کا ثمرہ ہے۔طویل عرصے تک تنقید و تحقیق کے بعد انہوں نے اسے مرتب کیا اورکل ۱۲گراں قدر مضامین کے ساتھ اس کی تکمیل کی۔ زبان انتہائی شستہ ، لب و لہجہ دلفریب اور مواد قابل توجہ ہیں۔
مضامین کا یہ قیمتی مجموعہ شعر و ادب کی ان مایہ ناز ہستیوں اور ممتاز شاعروں و ادیبوں پر محیط ہے جنہوں نے اردو زبان و ادب کی نہ صرف آبیاری کی بلکہ اسے تناور درخت بنانے میں اپنی پوری زندگی کھپا دی۔
مصنفہ نے ایسے کہنہ مشق شاعروں اور اردو شاعری کے ہر اول دستہ کے سپہ سالاروں کی شاعری پر خامہ فرسائی کی ہے اور اسے نئی جہت سے دیکھنے کی کوشش کی ہے جس کے لئے بڑے حوصلے کی ضرورت ہے نیز جس پر کچھ بھی لکھنے سے پہلے نہ یہ کہ صرف مشقت لازمی ہے بلکہ اس کے لئے انتہائی تگ و دو اور تحقیق و انہماک بھی ناگزیر ہے ۔قابل مبارکباد ہیں مصنفہ کہ انہوں نے اس میں پوری کامیابی حاصل کی ہے اور اپنے مطالعہ کا نچوڑ اپنی اس کتاب میں پیش کیا ہے۔
کتاب کے ابتدائی حصے میں ڈاکٹر نفیس بانو نے غزل کے حوالے سے’میر کا معیار عشق‘اور’تصوف اور میر کی غزلیہ شاعری‘پر مدلل ،دقیق اوسیر حاصل گفتگو کی ہے۔اس باب کے ذیل میں انہوں نے لکھا ہے کہ’’میرؔ کی غزلوں میں جودردمندی، سوزوگداز،خلش،چبھن اور تڑپ ہے انہیں دیکھ کر یہ سوچنا پڑتا ہے کہ یہ محض شاعر کا تخیل ہے یا حقیقی تجربات۔جب اس کا بنظر غائر جائزہ لیا جاتا ہے تو بے ساختہ زبان سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ حقیقی زندگی کے تلخ تجربات،چشم کشا حقائق اور خون دل کی گل کاریاں ہیں‘‘۔میر ؔ کا یہ کہنا کہ
دل کی لاگ بری ہوتی ہے، رہ نہ سکے ٹک جائے بھی
آئے بیٹھے،اٹھ بھی گئے، بیتاب ہوئے پھر آئے بھی
کتاب میں انتہائی عرق ریزی کے ساتھ دو مضامین مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ پرتحریر کئے گئے ہیں۔قارئین سمجھ سکتے ہیں کہ غالب،ؔ ان کے فن اور شاعری پر قلم اٹھانا ہنسی کھیل نہیں ہے ۔ اس کے لئے دریائے ادب کا غواص بننا پڑتا ہے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ یہ دونوں مضامین شاندار، جاندار،لائق توجہ اور لائق مطالعہ ہیں۔مصنفہ نے ان پر اپنی پوری توانائی صرف کی ہے اور اس میں وہ صد فی صد کامران رہی ہیں۔پہلے کا عنوان’غالب کی شخصیت کا ایک روشن پہلو‘ ہے جبکہ دوسرے کا عنوان’غالب،فیضان غالب اور جدید غزل‘ہے۔
مصنفہ نے غالبؔ کو آفاقی شاعر سے ملقب کیا ہے۔ ان کی فکری پرواز،ہمہ جہت پہلو،انسانیت نوازی،حب الوطنی،راہ ادب کی ہمواری،بذلہ سنجی، حاضر جوابی، طرزبیان، الفاظ و تراکیب سمیت تمام خصائص کا احاطہ کیا ہے۔غالب کے تعلق سے یہ دونوں مضامین طالب ادب کے لئے بھرپورڈوز ہیں۔
اس مجموعے کا پانچواں مضمون’۱۹ویں صدی کا لکھنؤ او رمنشی دوارکا پرشاد افقؔ کی تخلیقی جہت‘ ہے۔یہ مضمون اس دور کے تاریخی، سماجی اور ادبی فضا کو ملحوظ رکھتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے۔افقؔ نے نثری و شعری ادب میں جتنے بھی اصناف پر طبع آزمائی کی سب کا مفصل تذکرہ اس مضمون میں یکجا کرنے کی مصنفہ نے سعی کی ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انہوں نے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا ہے اور مصنفہ اس فن میں یقیناًمشاق ہیں۔
چھٹے اور کتاب کے نصف حصے میں موصوفہ نے شاعر مشرق سر ڈاکٹر محمد علامہ اقبالؔ کے فکر وفن کا محققانہ مطالعہ کیا ہے اور عنوان باندھا ہے’اقبال کے فکر و فن میں مشرقی سوز وساز‘۔انہوں نے لکھا ہے کہ ’’اقبالؔ کی شاعری وہ بحر ذخاز ہے جس کی تہہ میں بصارت و بصیرت کے انمول موتی بکھرے پڑے ہیں۔ ان کی فکر بسیط ہماری سرحدِ ادراک سے پرے ہے۔ان کے افکار کی آفاقیت کو محدودیت کے دائرے میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔مصنفہ نے اپنے دلائل سے اسے ثابت بھی کیا ہے۔یہ حصہ کتاب کی روح کے مانند ہے۔
ساتواں مضمون’’ لکھنؤ اور’صبح وطن‘ کا شاعر: چکبست‘ؔ ‘ہے جس میں انہوں نے چکبستؔ کوقوم پرستی کا جذبہ بیدار کرنے والا، سیاسی شعور کو پروان چڑھانے والا اور حیات و کائنات کا صحت مندر ویہ پیش کرنے والا شاعر کہا ہے۔
کتا ب کا آٹھواں، نواں اور دسواں باب میکشؔ اکبر آبادی کی نظر ہے۔اس با ب کو مصنفہ نے تین خانوں میں تقسیم کیا ہے۔’’تصوف کی نیرنگیوں اور تغزل کی گلکاریوں کا شاعر:میکشؔ ،میکشؔ :آگرہ اور آگرہ والوں کے درمیاں، میکشؔ کا تخلیقی سفر اور ادبی نقطہ نظر‘‘۔اس میں موصوفہ نے میکشؔ کی پوری ادبی زندگی کی تصویر کھینچ کر رکھ دی ہے کہ قاری ان کے کلام سے اس دور کی جھلک دیکھ لے۔
آخری کے دو مضامین بھی قابل قدر ہیں۔مصنفہ نے ایک مضمون استاد شاعر،ادیب، نقاد،اردو کے مزاج شناس اور رمز شناس پروفیسر رشید احمد صدیقی پر اپنی عقیدت نچھاور کرتے ہوئے اس کا عنوان دیا ہے’غزل کے مزاج شناس:رشید احمد صدیقی‘۔یہ مضمون بھی دیگر مضامین کی طرح خوب سے خوب تر ہے۔
سب سے آخر میں ڈاکٹر نفیس بانو نے ’غزل کے تہذیبی و تخلیقی رویے‘پر اظہار خیال کیا ہے اور’غزل کے نئے جہات‘ میں پروفیسر سید محمد عقیل رضوی کے مضامین پر توضیحاتی اور استدلالی انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ غرضیکہ اردو ادب کے خوشہ چینوں کے لئے یہ کتاب بلاشبہ نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوگی۔
تبصرہ نگار :سبطین کوثر
سب ایڈیٹر :یونائیٹیڈ نیوز آف انڈیا(یو این آئی)
9،رفیع مارگ، نئی دہلی



⋆ سبطین کوثر

سبطین کوثر نے صحافت کا آغازاپنے وطن بہار میں واقع چمپارن کی سرزمین (موتہاری) سے کیا۔ انہوں نے روزنامہ راشٹریہ سہارا بحیثیت نامہ نگاراپنی خدمات کا آغاز کیا جہاں وہ بعدمیں ڈسٹڑکٹ انچارج اور بیورو چیف ہوئے۔ سبطین فی الوقت ایشیا کی سب سے بڑی نیوز ایجنسی یونائیٹیڈ نیوز آف انڈیا (یواین آئی) سے وابستہ ہیں۔ ادارتی شعبے سے ان کا تعلق ہے، جہاں بنیادی طور پر خبر نگاری اور خبر نویسی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

انجام

عزیر انجم کادوسرا افسانوی مجموعہ "انجام" آپ بیتی سے زیادہ جگ بیتی شعر و ادب کی دنیا کو ملک گیر شہرت یافتہ نام عطا کرنا مشترکہ چمپارن کی روایت رہی ہے - اسی روایت کو جاری رکھتے ہوئے دور حاضر میں مشرقی چمپارن نے افسانہ نگاری میں ایک نیا نام عزیر انجم کا جوڑا ہے - عزیر انجم کی پیدائش محمد سجاد حسین (مرحوم) اور محترمہ رقیبہ خاتون کے گھر سسونیا، موتیہاری، مشرقی چمپارن میں 16 مئی 1965 کو ہوئی