تحریکی مکالمے: دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے!

ڈاکٹر سلیم خان

انسان کو حیوانِ ناطق اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ  بولتا ہے۔ بولنے اور آواز نکالنے میں بہت بڑا فرق ہے۔ ہر جاندار آواز نکالتا ہے کسی کی آواز ہمارے کان سن پاتے ہیں اور کسی کی نہیں  بلکہ جانور تو اپنی آواز سے پہچانے جاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ننھے  بچے کتے کو بھوں بھوں اور بلی کو میاوں میاوں کہہ کر پکارتے ہیں نامجو نہیں جانتے۔ ان ناموں کا بھی کیا ہے جو انسانوں نے رکھ چھوڑے ہیں۔ اردو بولنے والے والدین  کا بچہ  جس جانور کو کتا کہتا ہے انگریزی بولنے والا اسی کو ڈاگ سے منسوب کردیتا ہے حالانکہ  اپنے مختلف ناموں سے بے نیاز کتا اپنی جبلت کے مطابق بوقتِ ضرورت بھونکتا  ہےاور انسان  اس  کےشور کا محدودمطلب سمجھ لیتا ہے۔ طوطا بولتا ہے لیکن وہی جو اسے رٹادیا جاتا ہے۔ وہ اپنے سے کچھ نہیں بولتا بالکل کمپیوٹر کی مانند کہ جو بتادیا وہی سمجھتا اور کرتا ہے۔ اس  میں کمی یا زیادتی پر اختیار نہیں رکھتا۔اس کے برعکس  انسان وہ سب بھی بولتا ہے اور جو اس نے نہ کبھی سنا اور نہ کسی استاد سے سیکھا۔ یہی شعور کا ارتقاءانسان کا طرۂ امتیاز ہے۔ تہذیب و تمدن کے نشوونما کی یہ شاہِ کلید ہے۔

ڈاکٹر محی الدین غازی کی ترجمہ کردہ شیخ جاسم محمد المطوع  کی  کتاب تحریکی مکالمے انسانی  شعور کو ان  بلندیوں  سے واقف کراتی ہے جہاں وہ  صرف  اپنے جیسے بولنے اور سننے والوں سے ہمکلام نہیں ہوتابلکہ ان اشیاء سے محوِ گفتگو ہوجاتا ہے جو بظاہر نطق و سمع پر قدرت نہیں رکھتے مثلاً  دنیا، جانماز، دینار، غفلت، قلعہ، حوصلہ، پھول، بادل  وغیرہ۔ یہ تمثیلی گفتگو اس قدر برجستہ  اورزبان  ایسی رواں  ہے کہ  قاری کو محسوس ہی نہیں ہوتا  وہ ترجمہ پڑھ رہا ہےاس کے لیے ڈاکٹر غازی خاص طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں  ’’ میں نے کتاب اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا، کتاب میں سے یکایک ایک لفظ زمین پر گرپڑا۔میں نے اسے اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اس نے کہامجھے مت پکڑو۔ میں نے تعجب سے دیکھا تو یہ لفظ ’غفلت‘ تھا۔ میں نے پوچھا کیا الفاظ بولتے ہیں  وہ بولاہاں جب غفلت حد سے بڑھ جاتی ہے تو الفاظ  بھی پکار اٹھتے ہیں ۔‘‘

 تصور خیال کے  اعلیٰ و ارفع مراحل  آفاق و انفس کے ایسے راز افشاء کرتے ہیں  کہ جن  تک حواسِ خمسہ کی رسائی ممکن نہیں ہے۔ طبعی وجود  کےحصار سے آزاد  یہ شعوری سفر  لامحدود بلندیوں  اور بے پایاں گہرائیوں کی سیر کراتا ہے۔اس کتاب میں ’دنیا‘ اپنا تعارف اس طرح کراتی ہے کہ  ’’دیکھو ایک کہاوت ہے کہ لوگوں نے کوے سے پوچھا  کہ تم آخر صابن کیوں اچک لیتے ہو۔ کوے نے کہا کیونکہ ستانا میری فطرت ہے۔میں بھی تم سے کہتی ہوں کہ دیکھو پھنسانا میری فطرت ہے۔اس لیے دنیا کے عاشق کبھی مت بننا۔دنیا تمہاری وفادار نہیں ہوسکتی‘‘۔ان مکالمات کو پڑھ احساس ہوتا ہے کائنات کا ذرہ ذرہ چیخ چیخ کر گواہی دے رہا ہے کہ  ان  کو  عبث  نہیں پیدا کیا گیا۔ پاک ہےخالق  کی  ذاتِ والا صفات کہ وہ لا مقصدیت کا شکار ہوجائے۔

رب ِ کائنات کی نشانیوں کو جھٹلانے والے لوگوں کے متعلق   فرمانِ خداوندی ہے ’’ جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں ، تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے‘‘۔ یہ گونگے بہرے لوگ  جب کسی قلعہ کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ ان سے نہیں پوچھتا کہ تم کون ہو؟ اور نہ وہ اس سے کہتے ہیں کہ میں راہِ حق کا مسافر ہوں ۔ تمہارے بارے میں جاننا چاہتا ہوں ۔ لیکن جولوگ قلعہ کی زبان سمجھتے ہیں ان سے وہ کہتا ہے کہ میں تحریک اسلامی ہوں اور سمجھاتا ہے کہ تحریک اسلامی کس طرح محفوظ ترین قلعہ سے مضبوط تر  پناہ گاہ ہے۔حضرت انسان جب بصارت سے آگے بڑھ کر بصیرت کو دہلیز  پر قدم رکھتا ہے تو منظر اپنے آپ بدل جاتا  ہے۔ جب وہ شعور کی سماعتوں کا در کھولتا ہے تو ساری کائنات اس سے ہمکلام ہوجاتی  ہے۔

اس کتاب میں جن اشیاء سے گفتگو نقل کی گئی وہ کسی سے اجنبی نہیں ہیں ۔ ہم سب کا ان سے دن رات سابقہ پیش آتا رہتا ہے لیکن نہ  ہم ان  سے نہ کچھ کہتے یا پوچھتے ہیں اور ان کی کوئی بات سننا گوارہ کرتے ہیں ۔ ان سے کام تو لیتے ہیں لیکن عبرت نہیں پکڑتے۔ اپنی جیب میں متحرک دینار سے یہ سوال نہیں کرتے کہ ’’ میری جیب میں تمہیں کیا پریشانی تھی جو نکلنے کے بے چین تھے‘‘۔ اس کتاب میں جب آپ دینار کا جواب پڑھیں گے ششدر رہ جائیں گے۔

 کلام ربانی عالمِ انسانیت کو ان پاکیزہ نفوس  سے متعارف کرتا ہے کہ جن کا معاملہ اس آیت کی مصداق ہوتا ہے ’’یہ وہ لوگ ہیں جو (سراپا نیاز بن کر) کھڑے اور (سراپا ادب بن کر) بیٹھے اور (ہجر میں تڑپتے ہوئے) اپنی کروٹوں پر (بھی) اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق (میں کارفرما اس کی عظمت اور حُسن کے جلووں ) میں فکر کرتے رہتے ہیں ، (پھر اس کی معرفت سے لذت آشنا ہو کر پکار اٹھتے ہیں) اے ہمارے رب! تو نے یہ (سب کچھ) بے حکمت اور بے تدبیر نہیں بنایا، تو (سب کوتاہیوں اور مجبوریوں سے) پاک ہے پس ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے‘‘۔ شیخ جاسم نے اس کیفیت سے گزرنے کے بعد آفاق و انفس سے جو بات چیت کی اس کو اپنے قلم سے جاوداں کردیا۔ دل کی یہ بات دل سے نکل کر سیدھے دل میں اتر جاتی ہے۔ اس کی بابت علامہ اقبال فرماتے ہیں ؎

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

 پر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

کائنات میں پھیلی ہوئی ان نشانیوں سے  گفتگو کے لیے صرف حواس خمسہ کافی نہیں ہیں بلکہ  انسان کا صاحبِ دل ہونالازمی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد پہلے تو مجھے صاحب کتاب پر رشک آیا کہ یہ انسان کیا کیا سنتا ہے اور کتنا اچھا بولتا ہے اور پھر خیال آیا کہ یہ مجھ سے کیوں نہیں ہوتا؟  کہیں میرا شمار ان لوگوں میں تو نہیں جن کے بارے میں ارشادِ ربانی ہے ’’ یقیناً خدا کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے‘‘۔ میں عقل سے دنیا کی  حقیر  نعمتوں کے حصول کی خاطر بہت کام لیتا ہوں حالانکہ اسی  عقل کا استعمال شیخ جاسم کو کائنات کے عظیم تر حقائق سے روشناس کرادیتا ہے۔ میری محرومی کی بنیادی وجہ  وہ ناقدری ہے جس کی جانب اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ فرمان الٰہی ہے’’اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور انہیں سُننے کی توفیق دیتا (لیکن بھلائی کے بغیر) اگر وہ ان کو سُنواتا تو وہ بے رُخی کے ساتھ منہ پھیر جاتے‘‘۔

ہم  نےآفاق و انفس میں پھیلی ہوئی آیاتکو نظر انداز کرکے اپنا کتنا بڑا نقصان کیا اس کا احساس دلانے کے لیے یہ ایک کتاب کافی ہے۔ اس کتاب سے وہ شعور بیدار ہوتا ہے جوساری  کائنات کو ہمارا ناصح ومعلم بنا دیتا ہے۔ یہ خاموش کائنات بغیر کچھ کہے ہم  سے کیا کیا کہتی ہے؟ یہ جاننے کے لیے تحریکی مکالمے کا مطالعہ  بہت مفید ہے۔ دنیا کے اس میلے میں آپ نے بہت سے لوگوں کو لڑتے جھگڑتے دیکھا ہوگا لیکن کیا کوئی ایسا منظر بھی یاد ہے کہ  دولوگوں کو آپس میں برسرِ پیکار دیکھ کر آپ نے کسی تماش بین سے پوچھا ہو  ’’ یہ کون ہیں ؟‘‘ اور اس نے جواب دیا ہو کہ ’’ان میں سے ایک کا نام جذبات اور دوسرے کا جمود ہے‘‘۔ تصور کیجئے کہ اگر ایسا ہو جائے تو آگے کیا ہوگا  اور نہیں کرسکتے تو  ’جمود ‘ سے گفتگو پڑھ لیجئے۔

 امید ہےاس کتاب کو پڑھنے کے بعد آپ  بھی ان خیر خواہوں  سے  باتیں  کریں گے جو خاموشی کے ساتھ غیر مشروط اور بے غرض   بہت کچھ بولتی ہیں ۔ ان کی نصیحت کے پس پشت کوئی مفاد پوشیدہ نہیں ہوتا۔ وہ اپنے سامع سے ناراض نہیں ہوتی کہ ان سنی  کیوں کی گئی۔ انہیں بقول غالب ’’  نہ ستائش کی تمنا ہوتی ہے اور نہ گلہ کی پرواہ ہوتی ہے‘‘۔ فطرت کے یہ عناصر سمع خراشی و دلآزاری کی لعنت سے پاک ہوتے  ہیں ۔ ان کو رب کائنات نے انسانوں کے لیے مسخرکر رکھا ہے بشرطیکہ ہم ان سے ہم آہنگ ہوجائیں لیکن ہم ان سے ٹکراو کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور ازخود ٹوٹ  کر پاش پاش ہوجاتے ہیں  ۔ تحریکی مکالمے پر گفتگو  کے اختتام پرہدایت پبلشرس کو مبارکباد دیتا ہوں  اور کتاب  کے صفحہ نمبر ۳۲ پر درج نبی کریم ﷺ کی یہ دعا پیش  کرتا ہوں :

 ’’اے اللہ ہمیں اپنے ڈر کا وہ حصہ دےجو ہمارے اوپر تیری نافرمانیوں کے بیچ حائل ہوجائے۔

اپنی اطاعت کا وہ حصہ دےجس سے تو ہمیں اپنی جنت تک پہنچادے۔

یقین  کا وہ حصہ دےجس سے دنیا کی مصیبتیں ہمارے لیے آسان ہوجائیں ۔

ہماری سماعت  اور بصارت اور قوت کو جب تک ہم زندہ ہیں باقی رکھ۔

  ہمارے وارث ہم ہی سے میں سے بنا۔ ہمارا انتقام ان کے خلاف کر جنھوں نے ہم پر ظلم کیا۔

جو ہم سے دشمنی کرے اس کے خلاف ہماری مدد کر۔

  اور دین کے معاملے میں ہمیں مصیبت میں نہ ڈال۔

 اور دنیا کو ہماری سب سے بڑی فکر نہ بنادے۔

اور نہ اسے ہمارے علم کی منزل بنا۔

اور نہ ہم پر انہیں  مسلط کر جو ہم پر رحم کے روادار نہ ہوں ‘‘۔



⋆ سلیم خان

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

عصر حاضر میں بنت حوا کا  تار تار آنچل

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے حالیہ رپورٹ کے مطابق  بھارت میں جنسی ہراسانی کی شکایت درج کرانا خاصہ پیچیدہ عمل ہے۔ شکایت کنندگان کی اسپتالوں اور تھانوں میں تذلیل کی جاتی  ہے اور بعض پولیس اہلکار شکایات درج کرنے سے اجتناب کرتے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق عدالتوں میں بھی متاثرہ کو ’نازیبا تہمتوں ‘ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک بھارتی صحافی اور انسانی حقوق کی کارکن انجی پینو نےایسے۶۰ہندوستانی  پروفیسروں کے نام کی فہرست جاری کی ہےجو مبینہ طور پر جنسی  حملوں میں ملوث ہونے کے سبب بیرون ملک مقیم ہیں ۔بنارس ہندو یونیورسٹی کی  طالبات پر بربریت سے خواتین پر مظالم کا معاملہ ذرائع ابلاغ میں آیامگر بہت جلد کافور ہوگیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے