تبصرۂ کتب

ترجمات معانی القرآن الإنجلیزیۃ: دراسۃ نقدیۃ و تحلیلیۃ

قرآن کریم کے انگریزی تراجم کی تحقیق و تنقید پر ایک عمدہ کتاب

مبصر: امتیاز شمیم

قرآنی علوم ومعارف پر دنیا بھر میں اب تک جتنا کام ہوا ہے، اتنا شاید ہی کسی آسمانی یا غیرآسمانی کتاب پر ہواہوگا اور اس کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی کی کتاب ’’ترجمات معاني القرآن الإنجلیزيۃ: دراسۃ نقدیۃ وتحلیلیۃ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، یہ کتاب در اصل ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے، جوپہلی بار 2009 ء میں سعودی عرب کے معروف ومشہوراشاعتی ادارہ مکتبہ توبہ سے چھپ کر منظر عام پر آیاتھا، علمی وادبی حلقوں میں ڈاکٹر اعظمی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، وہ عربی زبان وادب میں نمایاں خدمات کے عوض حکومت ہند کی جانب سے صدر جمہوریہ ایوارڈ یافتہ اورفی الوقت جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے شعبۂ عربی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، تصنیف وتالیف، تحقیق وانکشاف، صحافت، ترجمہ نگاری، ادب اور شاعری سے انھیں زمانۂ طالب علمی سے ہی غیر معمولی دلچسپی رہی ہے، قرآن سے شغف اور قرآن فہمی کا ذوق بھی آپ کاپراناہے، مدرسۃ الاصلاح سرائے میر میں درجہ عربی چہارم کے سال ہی ”اسالیب القرآن” نامی کتاب کی تحقیق کی تھی، وہاں سے فضیلت کی تکمیل کے بعد انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے گریجویشن کیا، اس کے بعد جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے ایم اے کیا اور وہیں سے سال 2007ء میں عربی زبان وادب میں ’’قرآن کریم کے انگریزی تراجم: ایک تنقیدی وتجزیاتی مطالعہ‘‘ جیسے اہم علمی وتحقيقی موضوع پر ایک گراں قدر مقالہ لکھ کرپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

موصوف نے زیر تبصرہ کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیاہے۔ پہلے باب کا عنوان ہے ”نزول قرآن اور اس کی کیفیت”، اس باب کی تین الگ الگ فصلوں میں بالترتیب عہدِ نبوی، عہد صحابہ اور عہد تابعین میں مطالعہ قرآن اورقرآن فہمی کے اساسی مآخذ ومصادر پر روشنی ڈالی گئی ہے، ان مصادر میں قابل ذکر یہ ہیں: وحی کا نزول، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات اقدس (عہد نبوی میں)، قرآن کریم کی دیگر آیات، احادیث پاک، قدیم کلام عرب، دیگر آسمانی کتابیں اور تفاسیر صحابہ۔تیسری فصل کے آخر میں قرآن کی تفسیر کے حوالے سے ایسی منفی چیزوں کا بھی ذکر ملتا ہے، جو عہد تابعین میں، عہد نبوی اور عہد صحابہ سے دوری کی وجہ سے در آئی تھیں مثلاً اسرائیلی روایات کی کثرت، مذہبی اختلافات اور معانیِ قرآن کی توضیح وتفسیر میں کثرت اختلاف وغیرہ۔

دوسرا باب ’’عہد اموی اور عہد عباسی میں مطالعہ قرآن‘‘، اس باب میں بھی تین فصلیں ہیں، فصل اول میں قرآن سے متعلق احادیث کی جمع وتدوین پر بات کی گئی ہے، یہاں اعظمی صاحب نے دلائل سے اس غلط فہمی کا بھی ازالہ کیا ہے کہ بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتاہے کہ قرآن کے ماثور تفاسیر ومعانی کی جمع وتدوین کا سلسلہ عہد عباسی میں273 ھ میں شروع ہوا؛ حالاں کہ حقیقت اس کے برخلاف ہے؛ کیوں کہ یہ سلسلہ عہد اموی (40۔132ھ) میں ہی شروع ہوگیا تھا، گرچہ اب اس عہد کی مدون قرآنی تفاسیر میں سے اکثر دستیاب نہیں ہیں، جہاں تک تفسیر ابن جریر کا تعلق ہے، تو وہ عصر عباسی میں وجود میں آئی (صفحہ 49، 50)، دوسری فصل میں اس بات کی وضاحت ہے کہ قرآن کا ترجمہ کرنے اور اس کے معانی کی تفسیر میں عقل کا استعمال اسی حد تک درست ہے، جب وہ حدود وقیود کے ساتھ مقید یعنی قرآن وسنت اور فصیح عربی زبان کی فہم کی روشنی میں ہو، عہد نبوی، عہد صحابہ اور عہد تابعین میں عقل کا استعمال اسی حد تک تھا؛ لیکن جیسے جیسے زمانہ گزرتا گیا، لوگ عہد نبوی، عہد صحابہ اور عہد تابعین سے دور ہوتے گئے اور نتیجتاً قرآن کی تفسیر وتشریح میں بنا کسی لگام کے عقل کا استعمال شروع ہوا اورلوگ اپنے اپنے مسلک وفکر کے مطابق اس کے معانی بیان کرنے لگے، سو تیسری فصل میں یہ اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ قرآنی الفاظ واصطلاحات کے معانی کی تحدید وتعیین میں کس طرح سے اختلاف رائے عمل میں آیا۔

تیسرے باب میں ترجمۂ قرآن کی مختصر تاریخ بیان کی گئی ہے، حضرت سلمان فارسی وہ پہلے فرد ہیں، جنہوں نے سب سے پہلی بار قرآن کی پہلی سورت فاتحہ کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا تھا؛ لیکن قرآن کا مکمل ترجمہ 345 ہجری میں منصور بن نوح السامانی کے حکم سے علما کی ایک جماعت نے فارسی زبان میں ہی کیا اور یہ تفسیر ابن جریر طبری کا ترجمہ تھا، اولا (فصل اول) مصنف کتاب نے ان مختلف علاقائی، قومی اور بین اقوامی زبانوں (کل تعداد 63) کو شمار کیاہے، جن میں قرآن کے ترجمے ہوئے ہیں، ساتھ ہی ساتھ اس زبان کا مختصر تعارف کرواتے ہوئے اس میں ہوئے اولین ترجمہ کی مع سن طباعت واشاعت نشاندہی بھی کی ہے اور مترجم کانام بھی بتلایا ہے، ثانیا (فصل ثانی) مختلف زمانے میں ہونے والے، یعنی 1862ء سے لے کر دور حاضر تک قرآن کریم کے انگریزی تراجم وتفاسیر کا مختصر تاریخی جائزہ پیش کیاگیاہے،اس لمبی فہرست میں کل 75؍ تراجم قرآن شامل ہیں، جن میں بالترتیب 59 مسلم اسکالرز کے، جب کہ آٹھ قادیانی اور آٹھ غیر مسلموں (یہود ونصاری) کے ہیں۔

چوتھاباب یعنی ’’قرآن کریم کے منتخب انگریزی تراجم: ایک تنقیدی وتجزیاتی مطالعہ‘‘، کتاب یا مقالے کی اصل یہی باب ہے، اس سے قبل کے تین ابواب کی حیثیت اس موضوع کے تعارف کی ہے اور اسی وجہ سے مصنف نے پچھلے تینوں ابواب میں حتی الوسع اختصار کے ساتھ گفتگو کرنے کی کوشش کی ہے، اس کے برعکس اس باب میں گفتگو طویل ہے اوردس فصلوں پر محیط ہے۔
چوں کہ قرآن کے انگریزی ترجمے کی تعداد بہت زیادہ ہے، اس محدود مقالے میں ان میں سے ہر ایک کا احاطہ کرنا ایک دشوار امر تھا، سو ڈاکٹراعظمی نے ان میں سے مختلف ادیان ومکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے مترجمین کے نو اہم تراجم کا انتخاب کیاہے اور وہ ہیں:

1۔ محمد مارمادیوک بیکثال

2۔ عبداللہ یوسف علی

3۔ آرتھر آربیری

4۔ مولوی شیر علی

5۔ عبدالماجددریابادی

6۔ م۔ ح۔ شاکر

7۔ سر محمد ظفراللہ خان

8۔ ت۔ ب۔ ارونغ

9۔ ڈاکٹر محمد تقی الدین ہلالی ومحمدمحسن خان

مذکورہ بالا تراجم کی اہمیت و افادیت تو اپنی جگہ مسلم ہے ہی، ان کے انتخاب میں مختلف ادیان ومذاہبِ فکر کے لوگوں کی شمولیت مصنف کی وسعت ذہنی اور کشادہ نظری کی علامت ہے۔

پہلی فصل میں قرآن کے بیس مفرد الفاظ (مثلا آلاء، احوی، شوی وغیرہ) کا انتخاب کرکے مذکورہ بالا مترجمین قرآن کے ذریعے ان کے ترجمے کا تنقیدی وتجزیاتی مطالعہ کیاگیا ہے اور شواہد ودلائل کی روشنی میں درست معنی کی طرف رہنمائی کی گئی ہے۔

دوسری فصل میں قرآن کی بیس ایسی خاص عبارات واصطلاحات (مثلا فدلاہما بغرور،ابرموا امرا، بلغ اشدہ، خرلہ ساجدا وغیرہ) پر معتمد علیہ اصول وضوابط کی روشنی میں بحث کی گئی ہے، جن کی قرآن کے مشمولات کو سمجھنے میں بہت اہمیت ہے۔

تیسری فصل قرآن کے ایسے سولہ بیانیے اور اسالیب سے بحث کرتی ہے ،جن کی نظیر ہمیں قدیم کلام عرب میں ملتی ہے، اعظمی صاحب نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح بعض مترجمین ان قرآنی اسالیب کو سمجھنے سے قاصر رہے اور ان کے درست مفہوم تک رسائی میں عام طور سے غلط فہمی شکار ہوئے ہیں۔چوتھی فصل میں عربی زبان وادب کے اہم بیس نحوی اور صرفی قواعد کا تذکرہ ہے، ایسے قواعد جن کا کلام فہمی میں بہت رول ہوتاہے، ڈاکٹر اعظمی کے مطابق متعددمترجمین سے ان قواعد سے ناواقفیت یا بے توجہی کی بناپر ترجمے میں چوک ہوئی ہے۔

پانچویں فصل میں ایسی بارہ اصطلاحات ومعارف کا ذکر ہے، جن کا اعظمی صاحب کے مطابق ترجمہ نہیں کیاجانا چاہیے( مثلا صلاۃ، اللہ، طاغوت وغیرہ)، وہ کہتے ہیں کہ ترجمہ کرتے وقت ان اصطلاحات کو جوں کا توں رکھا جائے اور ہامش یا بین القوسین میں بہ قدر ضرورت ترجمہ یا تشریح کی جائے۔

چھٹی فصل نظم قرآن سے بحث کرتی ہے، عام طور سے مفسرین نے نظم قرآن سے نظمِ کلماتِ قرآن مراد لیاہے اور اسی اعتبار سے قرآن کی تفسیر و معانی کو بیان کیاہے، جبکہ اعظمی صاحب کہتے ہیں کہ نظم سے مراد نظمِ آیات وسور ہے ،جو قرآن کو شئ واحد کی طرح بناتی ہے اور اس سے قرآن کے صحیح اور درست معانی تک پہنچنے میں ہمیں مدد ملتی ہے، انہوں نے اس کی گیارہ مثالیں پیش کی ہیں۔

ساتویں فصل شان نزول سے متعلق ہے، بعض جگہ شان نزول قرآن فہمی میں ہماری رہنمائی کرتے ہیں اور بعض جگہ ہمیں صحیح مفہوم سے بھٹکا دیتے ہیں، ڈاکٹر اعظمی کے مطابق صواب تک رسائی کے لیے اس نظم کی رعایت کرنی چاہیے، جو ہماری رہنمائی کرے، اس میں ایسی نو مثالیں پیش کی گئی ہیں۔

آٹھویں فصل میں قرآن کے معانی کی تفہیم میں دیگر آسمانی صحیفوں سے استفادے کے بارے میں بحث کی گئی ہے اور اس بابت ایسی 10 مثالیں دی گئی ہیں ،جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح دیگر آسمانی کتب قرآن کے صحیح معانی تک ہماری رہنمائی کرتی ہیں۔
نویں فصل میں ایسے عقائد وافکار کا بیان ہے، جن کی وجہ سے عام قاری قرآن فہمی میں غلطی کا شکار ہوجاتاہے، یہاں ڈاکٹر صاحب نے 12؍ ایسی مثالیں پیش کی ہے، جن میں انہوں نے ان فکری عقائد وافکار کا پردہ فاش کیاہے، جن کی وجہ سے مترجمین قرآن کے ترجمے میں غلطی کر بیٹھے۔

دسویں فصل گزشتہ نو فصلوں میں بیان کردہ اصول ومباحث کی روشنی میں قرآن کے صحیح مفاہیم کی تعیین پر بحث کرتی ہے، اس فصل میں ڈاکٹر صاحب نے قرآن سے دس مثالیں پیش کی ہیں اور ان کے ترجمہ ومعانی کا ان مذکورہ اصول کی روشنی میں جائزہ لیاہے اور اس کے مطابق صحیح معنی کی تعیین وتطبیق کی ہے۔

پانچویں باب میں گذشتہ ابواب کے جملہ موضوعات کا خلاصہ ہے اور اپنے تنقیدی وتجزیاتی مطالعے کی روشنی میں اعظمی صاحب نے بعض مترجمین اور ان کے تراجم پر زبان واسلوب اور معانی کو ایڈریس کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اورقرآن کی تفسیر وتوضیح کے متعلق کچھ اہم تجاویز بھی پیش کی ہیں۔

 زیرنظر کتاب ضخیم ہے اور اس اعتبار سے نہایت اہم ہے کہ یہ قاری کو 9 ؍منتخب انگریزی تراجم قرآنی کے تنقید وتجزیہ کے ساتھ ساتھ قرآن فہمی اور مطالعۂ قرآن کے اصول اور ترجمۂ قرآن کی مختصر تاریخ سے بھی روشناس کراتی ہے، زبان اور اسلوب سادہ ہے، قیمت درج نہیں ہے، خوبصورت ٹائٹل وکاغذکے ساتھ 484؍ صفحات پر مشتمل شائع شدہ اس وقیع کتاب پر ملک سعود یونیورسٹی کے ڈاکٹر فہد بن عبد الرحمان الرومی کا مقدمہ اس کی علمی قدروقیمت میں اضافہ کرتا ہے۔ عربی زبان سے آگاہی رکھنے والے اہلِ علم و نظر کے لیے یہ کتاب ایک گراں قدر علمی تحفہ ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close