تبصرۂ کتب

تکبیر تحریمہ سے سلام تک: مع منتخب مسائل نماز

محمد سالم سریانوی

دین اسلام ایک ہمہ گیر وجامع ترین مذہب ہے، جس میں عقائد وعبادات سمیت دوسرے تمام شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے، بالخصوص عبادات، جس کو احادیث طیبہ میں نہایت بسط وتفصیل کے ساتھ بیان کی گیا ہے۔ عبادات میں سب سے اہم عبادت جو مقصد تخلیق سے بہت ہی زیادہ ہم آہنگ ہے’’ نماز‘‘ ہے، جس میں بندہ اپنی جبیں رب العالمین کے حضور خم کرتا ہے، اور اس سے راز ونیاز کرتا ہے، اسی لیے احادیث کریمہ میں نہایت اہتمام کے ساتھ اس رکن عظیم کو بیان کیا گیا ہے، اور اس کے متعلقہ گوشوں پر روشنی ڈالی گئی ہے، انھیں احادیث وآثار کی روشنی میں علمائے امت وفقہائے ملت نے ہر زمانے میں ’’نماز‘‘ کے فضائل ومسائل اور متعلقہ ابحاث پر کھل کر گفتگو کی ہے، اور اس کے ہر ممکنہ جزئیہ ومسئلہ کو قرآن وحدیث کی روشنی میں امت کے سامنے پیش کرنے کی سعی مبروک کی ہے، جس کی وجہ سے آج اس پر ایک پورا مکتبہ موجود ہے اور امت مسلمہ اس سے خاطر خواہ استفادہ کر رہی ہے۔

لیکن اس کے باوجود زمان ومکان کے لحاظ سے ضرورت اس کی متقاضی رہتی ہے نمازکے افعال وارکان کو لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے؛ تاکہ وہ کسی بھی موقع پر غلطی سے اس اہم فریضہ میں کوتاہی کے شکار نہ ہوجائیں، اسی تناظر میں اس بات کی بھی شدت سے ضرورت تھی کہ اس عظیم وجامع موضوع پر ایک ایسی کتاب تیار کی جائے جس میں ابتدا سے لے کر انتہا تک کے عمومی پیش آمدہ مسائل کو نئے اسلوب وبیان میں پیش کیا جائے، اور اس کا خیال رکھا جائے کہ وہ حجم کے اعتبار سے بڑی نہ ہو لیکن مسائل کی جامعیت کے اعتبار سے بڑی ہو، تاکہ ہر شخص بآسانی ضرورت کے تحت اس سے فائدہ اٹھاسکے۔

چناں چہ اس عظیم مقصد کے تحت رفیق محترم، فاضل نوجواں، جستجو وتحقیق کے رسیا، فن حدیث کے شارح حضرت مولانا محمد شاکر عمیر صاحب معروفی قاسمی زید مجدہم نے ہمت کی اور امت کے سامنے ’’تکبیر تحریمہ سے سلام تک مع منتخب مسائلِ نماز‘‘ پیش کی، موصوف دیار پورب کے عظیم وزرخیز علاقہ ’’پورہ معروف‘‘ کے ایک دینی وعلمی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، ام المدارس دار العلوم دیوبند سے رسمی فراغت حاصل کی، اس کے بعد جامعہ مظاہر علوم سہارنپور میں شعبۂ تخصص فی الحدیث سے متعلق ہوئے اور محدث عصر وزین المحدثین حضرت مولانا زین العابدین معروفی ؒ سے کسب فیض کرتے ہوئے راہ ترقی کے منازل طے کیا، بعدہ مرادآباد کے ایک مشہور وبافیض ادارہ جامعہ قاسمیہ دار العلوم زکریا میں شعبۂ تدریس وتحقیق سے منسلک ہوئے، اور امت کے نونہالوں کو اپنے اندر موجود صلاحیتوں کے ذریعہ فیضیاب کیا، اسی دوران بخاری شریف جیسی عظیم ترین کتاب پر ایک معاون حضرت مولانا خورشید صاحب قاسمی مؤی کے ساتھ تحقیق وترتیب کا کام کیا جو علماء کے مابین مقبول ومعروف ہے، اِس وقت مولانا موصوف مشرقی یوپی کی مرکزی وعلمی درس گاہ جا معہ عربیہ احیاء العلوم مبارک پور سے تدریسی طور پر وابستہ ہیں، اور حدیث، تفسیر اور اصول فقہ وغیرہ کی کتابوں کی تدریس کا فریضہ بخوبی انجام دے رہے ہیں۔

زیر نظر کتاب میں مولانا موصوف نے اس بات کا التزام کیا ہے کہ ’’نماز‘‘ کا مکمل مسنون طریقہ ابتدا سے لے کر انتہا تک آجائے، اور اس کے ذیل میں اہم مسائل جو درپیش رہتے ہیں وہ بھی سمٹ جائیں، چناں چہ اس کے لیے نماز کی شروعات سے لے کر اختتام تک ہر ہر رکن کے طریقۂ ادا اور اہم مسائل کو عنوان وار مرتب کیا ہے، جیسا کہ قارئین کرام کتاب کے چند اہم عناوین سے اندازہ لگا سکتے ہیں (۱) مسنون نماز کا طریقہ۔ (۲) جب نماز شروع کریں۔ (۳) قیام کی حالت۔ (۴) رکوع کی حالت۔ (۵) قومہ کی حالت۔ (۶) سجدہ کی حالت۔ (۷) دونوں سجدوں کے درمیان۔ (۸) قعدے کی حالت۔ (۹) سلام۔ (۱۰) نماز کے بعد۔ (۱۱) صف کے مسائل۔ (۱۲) قراء ت کے مسائل۔ (۱۳) سترہ کے مسائل۔ (۱۴) جمعہ کے مسائل۔ (۱۵) سجدۂ سہو کے مسائل وغیرہ۔ ہم نے چند عناوین بطور نمونہ پیش کیے ہیں، ان میں سے ہر عنوان کے تحت مولانا موصوف نے اس کی کوشش کی ہے کہ وہ تمام مسائل سمٹ جائیں جن کی ضرورت عام طور سے نماز میں پیش آتی ہے، نماز کے بہت سے مسائل ایسے ہیں، جن سے پڑھا لکھا طبقہ بھی ناواقف ہوتا ہے، چہ جائے کہ باریک مسائل، اسی طرح کچھ مسائل ایسے بھی ہیں جن کا واسطہ بہت سے افراد کو پڑتا ہے، لیکن وہ ان سے واقف نہیں ہوتے ہیں۔

مولانا موصوف نے اس کتاب میں ایسے تمام مسائل کو بھی سمیٹنے اور ان کو بہتر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے، اور کتاب کو خوب سے خوب تر بنانے کی جہدِ مبارک کی ہے، خاص بات یہ ہے کہ کتاب کے جملہ مسائل کو اصل مآخذ ومراجع سے مراجعت کرکے لکھنے اور مفتی بہ قول کو اختیار کرنے کا بھی اہتمام کیا ہے، تاکہ ہر اعتبار سے یہ کتاب مفید اور قابل اعتبار رہے، مزید خوبی یہ ہے کہ کتاب کی نظر ثانی نمونۂ سلف حضرت مولانا مفتی محمد امین صاحب قاسمی مبارک پوری، شیخ الحدیث ومفتی جامعہ عربیہ احیاء العلوم مبارک پور نے فرمائی ہے، جو بجائے خود ایک بڑی سند ہے، کتاب در حقیقت دریا بکوزہ ہے، جو ہر مسلمان، خواہ عام مسلمان ہو، یا طالب علم اور مدرس ہو، کے پاس ہونی چاہیے، بل کہ موجودہ بے دینی کے دور میں یہ کتاب ایسی ہے کہ اسے مصلیان مسجد کے روبرو سنانے کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ لوگ مسائل سے آشنا ہوں اور اور رب العالمین کی عبادت کما حقہ ادا کرسکیں۔

دعا ہے کہ اللہ رب العزت اس عظیم علمی ذخیرہ کو نافع بنائے، تبصرہ نگار، مرتب اور قارئین کو اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، مصنف موصوف کو دارین کی سعادت سے بہرہ ور فرماکر مزید علمی وعملی ترقیات سے نوازے اور ہم سب کو اپنی طاعت ومحبت عطا فرمائے۔ آمین

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close