تبصرۂ کتب

جہاد اور روح جہاد

عالم نقوی

یہ نام ہے مولانا محمد عنایت اللہ اسد سبحانی کی  اُس معرکہ آرا  کتاب کا، جو ابھی حال ہی میں (مارچ اپریل 2017 ) ہدایت پبلی شرس  شاہین باغ جامعہ نگر نئی دہلی25 نے شایع کی ہے  اور جو بلا شبہ اپنے موضوع پر مولانا مودودی کی ’الجہاد فی ا لاسلام ‘ کے بعد ،جس کا پہلا ایڈیشن 1927 میں اور دوسرا، 1974 میں ،مولانا کے انتقال سے تین سال قبل شایع ہوا تھا ، اس کے بعد سے اب تک کی شایع شدہ ،متعلقہ موضوع پر کم و بیش تمام کتابوں سے نسبتاً  زیادہ متوازن اور خود مصنف کے لفظوں میں ’’ کتاب و سنت کی روشنی میں ، قرآنی سوچ اور قرآنی اپروچ ‘‘پر مشتمل ،’ہر طرح کے انتہا پسندانہ نظریے سے پاک ،مبنی بر اعتدال اور مدلل با لقرآن ‘ہے اور بیسویں صدی کی مایہ ناز ’ الجہاد فی ا لاسلام ‘کے بعد اکیسویں صدی کی رواں دہائی میں  اس موضوع پر شایع ہونے والی  غالباً پانچویں کتاب ہے۔عربی میں علامہ یوسف القرضاوی قطر  اور اردو میں مولانا عبد ا لعلیم اصلاحی حیدرآباد ،مولانا محمد عمار خان ناصر اور مولانا یحییٰ نعمانی لکھنو کی کتابیں قابل ذکر ہیں ۔

مولانا  عنایت اللہ اسد سبحانی اردو اور عربی میں 46 وقیع کتابوں کے مصنف ہیں جن میں  سے 13  کا تعلق براہ ِراست قرآن کریم سے  اور بقیہ کا سیرت ِطیِّبہ اور دیگر دینی و تعلیمی  موضوعات سے ہے ۔اِن ہی میں سید قطب شہید کی معرکہ آرا کتاب ’معالم فی ا لطریق ‘ کا بے مثل اردو  ترجمہ ’نقوش راہ ‘ بھی شامل  ہے ۔

جہاد قرآن کریم  کی اُن اصطلاحوں میں  سرِ فہرست ہے جن کی غلط توجیہ اور  غلط استعمال سب سے زیادہ ہوا ہے یا  کیا گیا ہے ۔اِس ظلم میں  اَہلِ ایمان کے دائمی دُشمنوں  اور دیگر تمام غیروں  کے ساتھ ساتھ بد قسمتی سے  کچھ اَپنے بھی شریک  رہے ہیں ۔اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہماری نیک توفیقات کبھی سلب نہ فرمائے ۔

مولانا مودودی کی کتاب کے دوسرے اڈیشن (1974)میں عرض ِناشر کے تحت (ص14)درج یہ تجزیہ بالکل درست تھا کہ ’’مغرب کی ڈیڑھ سو سالہ غلامی نے ہمارے ذہنوں پر جہاد کا ایک ایسا تصور مسلط کر دیا ہے کہ ہم اس کا نام سنتے ہی کانوں پر ہاتھ رکھ کر فوراً معذرت کرنے لگتے ہیں ۔خاص طور پر آزادی سے قبل تو اچھے اچھے صاحب ِعلم حضرات بھی جہاد کا نام سن کر وحشت زدہ ہوجاتے تھے ۔ذہنی اور جسمانی دُوہری  غلامی کے اُس دور میں ۔۔اَلجہاد فی ا لاسلام اِس موضوع پر دنیا کی کسی بھی زبان میں لکھی جانے والی پہلی جامع اور بلند پایہ کتاب تھی ‘‘۔اِس اعتبار سے مولانا سبحانی کی زیر تبصرہ کتاب ’جہاد اور روح جہاد ‘ 1974 سے 2017 کے درمیان شایع ہونے والی،بلا شبہ  دوسری سب سے اَہم کتاب ہے جس میں گزشتہ 43 برسوں کے دوران خلیج کی جنگوں اور خانہ جنگیوں سے پیدا شدہ مسائل اور نئے سوالوں کے جواب بھی شامل ہیں ۔چار عرب مسلم ممالک کے ذریعے اسرائل اور امریکہ کے تتبع میں مصر کی اخوان ا لمسلمین اورفلسطین کی حماس وغیرہ کو دہشت گرد قرار دیے جانے  اور ’داعش‘ جیسے اکیسویں صدی کے خوارج کی سرگرمیوں کے تناظر میں یہ کتاب قرآن و سنت کی روشنی میں  متعدد نئے سوالوں کے شافی جواب فراہم کرتی ہے ۔وہ لکھتے ہیں کہ ’’۔۔حکم جہاد کے سلسلے میں غیر مسلم قومیں ۔۔بری طرح غلط فہمیوں کی شکار ہیں ۔بہت سی وہ قومیں بھی جو کہنے کو تو مسلمان ہیں مگر ان کی وفاداریاں اللہ اور رسول ﷺ کے لیے نہیں بلکہ دُشمنان ِاسلام کے لیے ہیں ۔اُن کے دل و دماغ کتاب و سنت کے سانچوں میں نہیں تہذیب حاضر کی فیکٹریوں میں ڈھلے ہیں ‘‘ (ص25)

اُنہوں نے بالکل صحیح لکھا ہے کہ ’’اِخوانُ ا لمسلمون نے کبھی کسی کے خلاف نفرت اور تشدد کی مہم نہیں چلائی یہ ایک ایسا الزام ہے جس کا نہ سر ہے نہ پیر ۔ انہوں نے شیطانوں کی شیطنت سے تو نفرت کی ہے لیکن خود شیطانوں کو ہمیشہ سینے سے لگایا اور اُنہیں راہِ راست پر لانے کی کوشش کی ہے ۔یوسف طلعت شہید اِخوان ُالمسلمون کے چوٹی کے رہنماؤں میں سے تھے ۔فرعونِ مصر جمال عبد ا لناصر کے عہد میں برسوں جیل میں ستائے گئے پھر اُن کو پھانسی دے دی گئی ۔جب اُنہیں تختہ دار کی طرف لے جایا جا رہا تھا تو اُن کی زَبان پر  یہ دعا تھی کہ ’اے اللہ میری مغفرت فرما اور اُن لوگوں کی بھی جنہوں نے مجھے اِس بری طرح ستایا ہے ‘ ! سید قطب شہید اپنی کتاب ’معالم فی الطریق‘ میں ( نقوشِ راہ  جس کا اردو ترجمہ  ہے )لکھتے ہیں ’’ہم اسلام کی طرف اِس لیے نہیں بُلاتے کہ ہم کسی صلے کے بھوکے ہیں ۔ہم زمین میں غلبہ و اقتدار حاصل کرنا یا فسادبھی نہیں مچانا  چاہتے ،بالکل نہیں ۔۔ہم تو لوگوں کو اسلام کی طرف صرف اِس لیے بلاتے ہیں کہ  ہمیں اُن سے محبت ہے ۔ہم اُن کے لیے خیرو فلاح کے آرزو مند ہیں ،اگرچہ وہ ہمیں ستائیں اور اذیتیں دیں (ص189۔190)‘‘

مولانا سبحانی لکھتے ہیں کہ ’’اخوان ا لمسلمون نے کبھی یہ نہیں کہا کہ مغربی قوموں نے سازش کر کے مسلم حکمرانوں کو اپنا موافق بنا لیا ہے ۔۔دشمنان اسلام کے تلوے چاٹنے والے اور اُن کے اشاروں پر حق کے پروانوں کی گردنیں تراشنے والے یہ حکمراں مسلمان رہے ہی کب ہیں ؟ ۔۔ہمیں اِس حقیقت سے اِنکار نہیں کہ کسی مسلم کو کافر کہنا نہایت سنگین جرم ہے ۔مگر کسی دشمنِ اِسلام کو اِسلام کا ہیرو یا پاسبانِ اسلام یا قائدِ ملَّت یا خادم ِحرمین کہنا اُس سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے ۔۔اِن ظالم وجابر حکمرانوں کی حمایت اِس جوش و خروش سے کی جاتی ہے کہ علمائے حق کی تمام اصلاحی اور تجدیدی کوششوں پر پانی پھیر دیا جاتا ہے ۔ اور قضا و اِفتا کے تیروں سے اُن کے جسم و جان اور دین و ایمان ،سب کو لہو لہان کر دیا جاتا ہے ۔۔اَرباب ِقضا ،اَہلِ اِفتا اور دانشورانِ مِلّت کی یہ خوشامدانہ رَوِش ،جو وہ حکمرانوں کے معاملے میں رَوَا رکھتے ہیں ،بہت ہی دَرد اَنگیز اور بہت ہی شرم ناک ہے ۔ یہ رَوِش اِس دنیا میں چاہے کتنی ہی لذیذ اور راحت بخش معلوم ہوتی ہو ،مگر آخرت میں اُنہیں یہ رُسوا کر کے چھوڑے گی (ص192۔193)

 ’’جہاد کے سلسلے میں مختصر اور بنیادی بات یہ ہے کہ اس کا ظلم و بر بریت اور سفاکی و خوں ریزی سے کوئی تعلق نہیں ۔اس کے بر عکس وہ ظلم و بر بریت کا بہترین علاج اور دنیا سے فساد و خوں ریزی ختم کرنے کا کامیاب ترین نسخہ ہے !یہ جہاد کسی مذہب ،کسی دھرم ،کسی نسل ،کسی قوم کے خلاف نہیں ،یہ ہمیشہ اُن طاقتوں سے ہوتا ہے جو ظلم و اِستبداد کی عادی ہوتی ہیں جو اَپنی طاقت کا غلط اِستعمال کرتی ہیں اور ظلم و جبر سے دوسروں کی آزادیاں چھین کر اُنہیں اَپنا غلام بنا لیتی ہیں ۔۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنے بھی رسول (علیہم ا لسلام )آئے وہ زندگی بھر اَیسے ہی ظالموں اور مجرموں سے جہاد کرتے رہے کبھی مسلح تو کبھی غیر مسلح ، پہلے دلیل و برہان اور علم و استدلال سے ،پھر مسلح ،لیکن علم و استدلال کا جہاد ہر حال میں جاری رہا مسلح جہاد بھی جاہلیت اور کفر و شرک کے خلاف نہیں ظلم و استبداد کے خلاف تھا۔ جاہلیت یا کفر و شرک سے جہاد ہمیشہ علم و استدلال ،محبت اور دل سوزی اور نصح و خیر خواہی سے ہوتا ہے ۔۔ظلم و استبداد سے آزادی کی جنگ ہی ’جہاد فی سبیل اللہ‘ ہے کیونکہ یہ اللہ کا حکم ہے (سورہ نسا ۔75) جہاد فی سبیل ا للہ لوگوں کو زبر دستی مسلمان بنانے کا نام نہیں غیر مسلموں پر حملہ کر کے اُن سے جزیہ وصول کرنے کا نام بھی نہیں نہ ملک گیری کانام ہے ۔

’’جہاد نام ہے ستائے ہوئے اور کچلے ہوئے مظلوموں کے آنسو پوچھنے اور اُن کے زخموں پر مرہم رکھنے کا اور یہ مظلوم انسان کسی بھی رنگ و نسل ،کسی بھی قوم و مذہب اور کسی بھی زبان اور کلچر کے ہو سکتے ہیں ۔جہاد کمزوروں اور مظلوموں کے لیے نعمت اور رحمت ہے ۔جہاد کا ظلم و فساد سے کوئی تعلق نہیں خواہ وہ نعرہ تکبیر  اور تہجد و اشراق کے ساتھ ،پرچم اسلام کو لہرا کر اور قرآن ہاتھوں میں لے کر ہی کیوں نہ ہو !

’’ تاریخی ریکارڈ کے مطابق عہد رسالت کی جنگوں میں مارے جانے والے دشمنوں کی کل تعداد ۵۷۹ سے زائد نہ تھی ۔اِس تعداد کی کیا حیثیت ہے اُن ہوش ربا تباہیوں اور اُن لرزہ خیز بر بادیوں کے مقابلے میں جو اِس دور ِتہذیب و تمدن کی جنگوں میں ہوتی رہی ہیں ؟( اور آج بھی وسطی جنوبی اور مغربی ایشیا میں مختلف مہذب ناموں سے جاری ہیں ۔ع ن) آج کا ایک حملہ منٹوں اور سکنڈوں میں بستیوں کی بستیاں اُڑا دیتا ہے یا راکھ کا ڈھیر بنا دیتا ہے ۔( زمینی گولہ باری اور فضائی بمباری میں شام و یمن کی انسانیت سوز تباہی کی تصویریں تو انٹر نٹ پر عام ہیں ۔موصل کی تازہ ترین تصویر تو آج 4 اگست 17 کے کسی بھی اخبار میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ع ن )اور جو لوگ اِس آگ میں جلتے بھنتے ہیں اُن کا کوئی جرم  نہیں ہوتا ،سِوَا اِس کے کہ وہ مسلمان ،کمزور اور بے سہارا ہوتے ہیں !اور اِن وَحشیانہ حملوں کے بعد بھی یہ ظالم حکومتیں متمدن اور ترقی یافتہ کہلاتی ہیں ! ۔۔آج کا ظالم نہایت ڈھٹائی سے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ظلم نہیں کر رہا ہے بلکہ ظلم اور دہشت گردی کے خلاف لڑ رہا ہے اور حقوق انسانی کا دفاع کر رہا ہے !آج کے فرعون اور نمرود اپنی تمام ستم رانیوں اور خوں ریزیوں کے باوجود ظالم نہیں کہے جاتے ! یہ ظالم اِنسدادِ دَہشت گردی کے نام پر اِس دین کو اور اِس دین کے نام لیواؤں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی مہم چلا رہے ہیں اور ظالموں کے خوف سے لوگوں کی زبانیں گنگ ہیں ۔۔

’’حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی بے خدا سائنس اور ٹکنالوجی سے  ، اپنے بے خدا علم و تمدن  سے اور اپنے  بے خدا صنعت و حرفت سے زہریلا سانپ ،خونخوار بھیڑیا ،مکار لومڑی اور بے حس پتھر تو بن سکتا ہے ،ایک اچھا ،رحم دل اورپوری انسانیت کا درد اور بے ریا خدمت کا جذبہ اپنے سینے میں رکھنے والا اپنے خالق و مالک پروردگار کا شکر گزار انسان نہیں بن سکتا !اِس کے لیے رَب پر ایمان ،آخری نبی ﷺ کی پہچان اور قرآن کو حرز ِجان اور مشعلِ راہ بنانا ضروری ہے (ص21۔35)یہی اسلام کے نظریہ جہاد کا ایک مختصر سا تعارف ہے اورمولانا سبحانی کی پوری کتاب ’جہاد اور روح جہاد ‘ اِسی اِجمال کی تفصیل ہے !

مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

3 تبصرے

  1. بہت ہی شاندار تبصرہ ہے. جو پوری کتاب کا احاطہ کئے ہوئے ہے. جزاک اللہ

  2. ماشاء اللہ بہت ہی جامع اور شاندار تبصرہ ہے۔کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اد کا ترجمہ دیگر زبانوں میں کروانا اور اسے وسیع پیمانہ پر پھیلانا بہت ضروری ہے۔

متعلقہ

Close