تبصرۂ کتب

حیات مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانیؒ

وصیل خان

تجربہ بتاتا ہے کہ گزرے ہوئے تاریخی واقعات کا مطالعہ انسان کو متوازن بنانے میں بے حد مددگار ثابت ہوتا ہے۔دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں حال کی انسانی نسلیں نہ صرف اپنے ماضی کا مشاہدہ کرسکتی ہیں بلکہ اس کے ذریعے اپنے حال کو درست بھی کرسکتی ہیں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ تاریخ کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کیا جائے نہ کہ اس کے ذریعے فخرکی غذا حاصل کرکے جھوٹی نفسیات اور انانیت میں خود کو مبتلا کرلیا جائے۔ اس صمن میں محققین کیلئے بھی یہ بات لزوم کا درجہ رکھتی ہے کہ وہ اپنی تحقیق و تلاش کا کام غیر جانبدارانہ طور پر انجام دیں تاکہ ماضی و حال کی صحیح تطبیق کی جاسکے اور حال کی نسلوں کیلئے ایک مفید اور کارآمد نظریہ ٔ حیات کی تعیین کی جاسکے جس کی روشنی میں وہ اپنے مستقبل کو تابناک بناسکیں ۔کتابیں تو بہت کثرت سے شائع ہورہی ہیں، کمپیوٹر اور پرنٹنگ کی دنیا میں زبردست انقلاب آجانے کے بعد اس کی رفتار مزید بڑھ گئی ہے لیکن اس اضافے کو بہت خوشگوار اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ نوے فیصد کتابیں خام تحقیق اورمواد و موضوع کے اعتبار سے انتہائی کمزور اورغیر مفید ہوتی ہیں جن میں ایک بڑی تعداد محض شعرو شاعری اور وہ بھی انتہائی مجہول اور فکر و نظر سے عاری شاعری پر، جسے زیادہ سے زیادہ تک بندی تک محدو د رکھا جاسکتاہے۔

اچھی، بامقصد اور معیاری تخلیقات کے اس قحط میں بھی شاذ و نادر ہی سہی کچھ تخلیقات بہر حال منظر عام ہوتی رہتی ہیں جس سےجس سے نہ صرف ڈھارس ہوتی ہے بلکہ بڑی حد تک یہ امید بھی بندھتی ہے کہ مستقبل میں کچھ اچھی اور مفید کتابیں قارئین تک پہنچ سکتی ہیں ۔حال ہی میں ’’ حیات مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی ؒ کے عنوان سے پروفیسر وحید اشرف اشرفی الجیلانی کچھوچھوی کی تازہ کتاب دیکھنے کے بعد اس خیال کو نہ صرف تقویت ملی بلکہ بے انتہا مسرت بھی ہوئی کہ اس قحط الرجال میں بھی کچھ لوگ ابھی بھی موجود ہیں جو تصنیف و تالیف کے میدان میں انہی روایات کے امین و محافظ ہیں جو ماضی کے دور نشاط کے مصنفین و مولفین کا طریقہ ٔ کار رہا ہے اور جنہوں نے تحقیق و تلاش کی دنیا میں اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ،جن کی کتابیں آج بھی اور نہ جانے کب تک مآخذو حوالہ کا کام دیتی رہیں گی۔

سید اشرف جہانگیرسمنانی ؒکے حالات و کوائف سے متعلق ابھی تک متعدد تصنیفات شائع ہوچکی ہیں لیکن اس طرح کہ قارئین کی تشنگی کسی نہ کسی طور برقرار رہی ۔سید وحید اشرف کی اس کتاب میں جو مع اضافے کے دوسری بار شائع کی گئی ہے تحقیق و جستجو کا وہ پہلو اختیار کیا گیا ہے جو قارئین کیلئے مکمل تسکین و تشفی کا باعث ہوگا، چونکہ تحقیق و تلاش کے ہزارہا پہلو ہوتے ہیں ممکن ہے کہ کوئی اور محقق ان سے بھی آگے نکل جائے لیکن جب تک کہ دوسری کوئی اور تحقیق سامنے نہیں آجاتی اس کتاب کی اہمیت و افادیت مسلم رہے گی اوراسے اپنے موضوع پر حرف آخر کا درجہ حاصل رہے گا ،دوسری بات یہ کہ مستقبل کے کسی بھی محقق کیلئے یہ ناگزیر ہوگا کہ وہ اس کتاب سے صرف نظر کرتے ہوئے اس موضوع پر ایک قدم بھی آگے بڑھ جائے۔

مصنف کی محنت، دقت نظری اور موضوع کے متعلق ان کی چھان بین کا اندازہ اس اقتباس سے لگایاجا سکتا ہےجسے کتاب کے ابتدائی صفحات پر بطور مقدمہ انہوں نے تحریر کیا ہے اور یہ تحریر ان صاحبان فکر و تحقیق کیلئے بھی مشعل راہ کا کام کرے گی جو ایسے تاریخی موضوعات سے دلچسپی رکھتے ہیں۔

’’ حضر ت سید اشرف جہانگیرسمنانی ؒ کی مستند سوانح حیات اور ان کی تعلیمات کو کتاب کی شکل میں پیش کرنے کا خیال ایک عرصہ سے تھا ۔حسن اتفاق سے آپ کی سوانح حیات کا ایک معتبر مآخذ بھی موجود تھا یعنی خود آپ کے ملفوظات کامجموعہ جو ’ لطائف اشرفی ‘ کے نام سے موسوم ہے ۔اس لئے مجھے اطمینان تھا اور خوشی بھی کہ یہ کام میرے لئے آسان ہوگا کیونکہ یہ خیال تھاکہ لطائف اشرفی کے قلمی اور مطبوعہ نسخے مجھے خاندان ہی میں سجادہ نشینان نیز دیگربزرگوں سے مل جائیں گے۔ لطائف اشرفی کا مطبوعہ نسخہ اور اس کے کچھ قلمی نسخے مولانا آزاد لائبریری مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں بھی موجود تھے ۔ان نسخوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ نسخے تحریف و الحاق سے خالی نہیں ہیں ۔ اس لئے یہ ضروری ہوا کہ اگر حضرت سید اشرف جہانگیر ؒکی سوانح حیات کو قلم بند کرنے سے پہلے لطائف اشرفی کے متن کی تحقیق کرلی جائے ،اس کیلئے مزید قلمی نسخوں کی تلاش ہوئی۔دنیا بھر کے کتب خانوں کے دستیاب مخطوطات کی فہرستوں کی چھان بین کی، ہندوستان کے مختلف حصوں کا دورہ کیا۔

بدایوں میں ملا عبدالقادر بدایونی کے کتب خانے سے استفادہ کیلئے تین دن تک وہاں باریابی کیلئے مقیم رہا۔ حضرت سید اشرف جہانگیر ؒ کے حالات زندگی پر مشتمل زیر نظر کتاب پورے پلان کا ایک حصہ ہے اس میں آپ کے حالات اور واقعات کی چھان بین کی گئی ہے اور انہیں جہاں تک ممکن ہوسکا تحقیق کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ‘‘

336؍صفحات پر مشتمل اس ضخیم کتاب کو انیس ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، پہلے با ب میں ایران میں واقع  سمنان کے تعلق سے اس کے محل وقوع اور جغرافیائی کیفیت وہاں کے قلعے ،مساجد تاریخی سمنان بقاع متبرکہ اورسمنان کے مشہور وزراء، صوفیا، دانشمنداور شعرا ء حضرات کے حالات تاریخی پس منظر معتبر مآخذ کے ذریعے تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں۔ دوسرے باب میں مخدوم جہانگیر ؒ کے شیخ طریقت حضرت علاء الدین گنج نبات پنڈو ی ؒ کے مکمل حالات کے ساتھ حضرت مخدوم کی ان سے عقیدت اور روحانی علوم کا حصول، پنڈوہ میں سید اشرف جہانگیرؒ کا ورود مسعود ، گنج نبات حضرت نور کی تربیت، گنج نبات کے ایمان افروز بیانا ت اور ان کے اخلاق کریمانہ کی چند جھلکیاں ،محبت الہی ، سماع ، خانقاہ ، قبولیت عام ، کشف او ر علمی مراتب کا تذکرہ مفصل انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔ تیسرے اور چوتھے ابواب میں آپ کے خاندانی حالات، حکومت سمنان، تاریخ پیدائش اور وفات کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔ سمنان میں آپ کے لیل و نہار، فراست و عدل اور ترک سلطنت کے حالات درج کئے گئے ہیں۔ سمنان سے آپ کی روانگی ہندوستان میں ورود اور شیخ پنڈوی ؒکی خدمت میں باریابی پھر سفر جونپور کے بعد کچھوچھہ شریف آمد اور قیا م ،وہیں کمال جوگی سے ملاقات اور اس کی حقیقت سے آشنائی چھٹے، ساتویں اور آٹھویں باب میں نہایت دلچسپ طرز تحریر کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔

کمال جوگی کے تعلق سے عوام الناس میں جن روایات نے جگہ بنالی ہے اس کتاب کے مطالعے کے بعد اندازہ ہوگا کہ واقعات ایک زمانہ گزر جانے کے بعد کیسی کیسی شکلیں تبدیل کرلیتے ہیں اسی طرح اس کتاب میں بہت سے ایسے حقائق سامنے آئیں گے جو لوگوں کے درمیان رائج بے ربط مبنی بر تصورات اور تحریف کےشکار واقعات کوصحت فراہم کرتے ہیں ۔ نویں باب میں ہندوستان اور عالم اسلامی کے اسفار اور اس دوران وقوع پذیر اہم ترین واقعا ت کا احاطہ کیا گیا ہے ۔دسویں باب میں معاصر علماء صوفیاء کا تذکرہ انتہائی رقت انگیز انداز میں ملتا ہے۔ گیارہویں ،بارہویں اور تیرہویں ابواب میں امراء وسلاطین سے آپ کے  روابط، اخلاق و عادات، آخری ایام کے حالات پر سیر حاصل اور مستند تاریخی حوالوں کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے، اسی طرح آپ کا تبحر علمی، ادبی ذوق، سیاسی اور معاشی افکار، کرامات، کلام منظوم، اقوال و نصائح اور سید عبدالرزاق نورالعین اور دیگر خلفاء کا تذکرہ آگے کے ابواب میں کیا گیا ہے۔

اس طرح یہ کتاب اختتام کو پہنچتی ہے جس کے مطالعے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضرت مخدوم جہانگیرؒکے تعلق سے تاریخ کی بھرپوروشنی میں جس قدر تفصیل ممکن تھی اس کا حق ادا ہوگیا ہے جس کے لئے مصنف کتاب پروفیسر سیدوحیداشرف کو مبارکباد دینی چاہیئے جن کی انتھک محنت، تاریخی حقائق کی تلاش، چھان پھٹک اور پھر ان تمام حالات و واقعات اور کوائف کو عام فہم زبان اور دل نشین اسلوب میں پیشکش اگر نہ کی گئی ہوتی تو قارئین اتنی معیاری اور حقیقت افروز کتاب سے یکسر محروم رہ جاتے اور نویں صدی ہجری کی دنیائے تصوف کی اس معروف ترین ہستی سے واقفیت بھی اس معیار کو نہ چھوپاتی جیسا کہ اس کا حق تھا ۔ہم تمام اہل ادب و تصوف اور دیگر تمام صاحبان دل کی طرف سے ایک بار پھر اس کتاب کی تصنیف و تالیف اور پیش کش کیلئے پروفیسر سید وحید اشرف اور ان کی کتاب کا والہانہ خیر مقدم کرتے ہیں اور اس امید کے ساتھ کہ آگےبھی وہ اپنا تحقیقی سفر جاری رکھیں گے تاکہ ان کی دیگر تصنیفات سے بھی ہم اسی طرح سیراب و فیضیاب ہوتے رہیں۔

نام کتاب:حیات مخدوم سید اشرف جہانگیرسمنانی ؒ,مصنف:پروفیسر سید وحید اشرف کچھوچھوی (سابق صدر شعبہ عربی ، فارسی واردو، دانش گاہ مدراس ) ، اشاعت:بار اول1975بار دو مع اضافہ2017، قیمت:400/-روپئے،صفحات:336، تقسیم کار:مکتبہ جامعہ لمٹیڈ ابراہیم رحمت اللہ روڈ ممبئی ،فون : ، مکتبہ جامعہ لمٹیڈ ، علی گڑھ ،فون : 0571-2706142 ،  مکتبہ جامعہ لمٹیڈ اردو بازار جامع مسجد دہلی ۶۔ مخدوم سید اشرف جہانگیر اکادمی ،۱۷کلیان سوسائٹی O/Sپانی گیٹ بڑودہ email :ssz-ashraf@rediffmail.com

مزید دکھائیں

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

متعلقہ

Close