تبصرۂ کتب

حیدرآباد میں اردو ذرائع ترسیل و ابلاغ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں

نام کتاب  :           حیدرآباد میں اردو ذرائع ترسیل و ابلاغ بیسویں صدی کی آخری دہائیــ میں

نام مصنف           :           مصطفی علی سروری

نام مبصر                        :           ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

ابلاغیات اپنی بات دوسروں تک پہونچانے کا عمل ہے ۔ اور موجودہ زمانے میں اس کئے لئے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ـانٹرنیٹ اور سوشیل میڈیا کو استعمال کا جارہا ہے ۔ ابلاغیات کا ہم ذریعہ صحافت بھی ہے ۔صحافت ملک کا چوتھا ستون ملک کی عوام کی ذہن ساز ہوتی ہے۔ ایک ایسے دور میں جب کہ صحافت پر الزام ہے کہ وہ کاروباری ہوتی جارہی ہے اور اپنے اصل مقصد خبروں کی ترسیل کی راہ سے بھٹکتی جارہی ہے حیدرآبادی اردو صحافت کو ہم اس لحاظ سے عالمی سطح کی معیاری اور مقبول صحافت قرار دے سکتے ہیں کہ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں یہاں سے عالمی سطح کے مقبول عام اردو اخبارات نکلتے ہیں ۔ ان اخباروں میں سیاست کو میر کارواں کی حیثیت حاصل ہے ۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد صحافت کے افق پر یہ ستارہ نمودار ہوا تھا محبوب حسین جگر‘ عابد علی خان اور اب زاہد علی خان اور عامر علی خان کے زیر نگرانی    نکلنے والے اس اخبار کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنے دور کے مسائل کو نہ صرف اجاگر کرتا ہے بلکہ ان مسائل کا حل بھی پیش کرتا ہے روزنامہ سیاست میں نئے دور میں ہر اتوار اپنا کالم لکھنے والے نئی نسل کے صحافی اور مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے شعبہ صحافت سے وابستہ فعال استاد مصطفی علی سروری اسوسیٹ پروفیسر ہیں ۔ سروری صاحب حیدرآباد کی نئی نسل کہ وہ صحافی ہیں جنہیں زمانہ طالب علمی سے ہی اردو صحافت سے دلچسپی رہی ۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے بی سی جے ایم سی جے کی تعلیم حاصل کی۔ نامور استاد صحافت رحیم خان صاحب کے شاگرد رہے۔سیاست اخبار نے انہیں اظہار خیال کا موقع فراہم کیا۔ اور ہر اتوار سماجی ـسیاسی اور حالات حاضرہ کے موضوعات پر بے لاگ تبصروں کے ساتھ شائع ہونے والے ان کے مضامین اردو اخبار کے قارئین میں بے حد مقبول ہیں ۔ گزشتہ کئی سال سے انہوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر خون کا عطیہ کیمپ کا کامیابی سے انعقاد عمل میں لایا۔ وہ حیدرآباد کے ٹی ٹی وی خانگی چینل پر مختلف ماہرین سے کیریر گائڈنس لیکچرز اور براہ راست سوال و جواب کے پروگرام منعقد کرتے ہیں ۔ انہوں نے پروفیسرافضل الدین اقبال مرحوم عثمانیہ یونیورسٹی کے زیر نگرانی ایم فل اردو کے لئے تحقیقی مقالہ ’’ حیدرآباد میں اردو ذرائع ترسیل و ابلاغ بیسویں صدی کی آخری دہائیــ میں ‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا۔ جو بعد میں ترمیم و اضافہ کے ساتھ نوبل انفوٹیک حیدرآباد کے زیر اہتمام کتابی صورت میں شائع ہوا۔سروری صاحب کے مضامین کی طرح اردو حلقوں اور خاص طور سے اردو صحافتی حلقوں میں اس کتاب کی بے حد پذیرائی ہوئی اورحیدرآباد کی اردو صحافت کی تاریخ پر یہ کتاب اہمیت اختیار کر گئی۔  زیر تبصرہ کتاب میں مختلف ابواب جیسے ترسیل و ابلاغ۔ترسیل و ابلاغ کے ذرائع اور ان کی ترقی۔ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں حیدرآباد میں اردو صحافت۔ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں حیدرآباد میں ریڈیو کی ترقی۔ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں حیدرآباد میں ٹیلی ویژن کی ترقی۔ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں حیدرآباد میں ذرائع ابلاغ کی ترقی اجمالی جائزہ۔ کے تحت معلومات اور خیالات پیش کئے گئے ہیں ۔

            اکیسویں صدی بلا شبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے غلبے والی صدی ہے۔ اس دور میں ساری دنیا اس کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ کس طرح لوگوں کی توجہ اپنی جانب کرائی جائے۔ اپنے کاروبار کی تشہیر ہو ۔ لوگوں کی ذہن سازی سے انتخابات جیتے جائیں اور اپنا فائدہ ہو۔ پہلے خبریں ہوتی تھیں اب لوگ خبر تیار کر رہے ہیں اور اسے اپنے انداز میں پیش کر رہے ہیں ۔ یہ سب سلسلہ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں تیز ہوا اور دنیا میں کیبل نشریات کے ذریعے ابلاغیات کی دنیا میں انقلاب برپا کیا گیا۔خیال کے کامیاب اظہار کی ترسیل قرار دیتے ہوئے صاحب کتاب مصطفی علی سروری  لکھتے ہیں کہ’’ اگر انسانوں کے درمیان ترسیل کے عمل پر پابندی عائد کردی جائے اور انہیں ترسیل کے ذرائع اختیار کرنے سے روک دیا جائے تو معاشرے کا نظام ٹھپ ہوجائے‘‘۔اس کی اہمیت کے پیش نظر انہوں نے لکھا کہ اقوام متحدہ نے ترسیل کو قانونی حیثیت عطا کی ہے اور خود اظہار خیال کی آزادی والے ملک ہندوستان میں فریڈم آف انفارمیشن بل1997ء کے ذریعے ترسیل کو قانونی درجہ دیا گیا ہے۔ترسیل اور ابلاغیات کے تعارف کے باب میں انہوں نے تکینیکی طور پر ابلاغیات کی سائنس کو پیش کیا جس میں مرسل مرسل الیہ واسطہ باہمی ترسیل گروہی ترسیل اور عوامی ترسیل کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں ۔اس کی بعد ابلاغیات کی ترقی اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیاکے وسائل کا تعارف بیان کیا گیا ہے۔ذرائع ابلاغ اور نظریات کی ترویج کے ضمن میں فاضل مصنف نے لکھا کہ ہندوستان جیسے تکثیری سماج میں قومی یکجہتی اہم پہلو ہے اور اس کی برقراری کے لئے میڈیا کے رول کی ہر زمانے میں ضرورت محسوس کی گئی ہے۔زیر تبصرہ کتاب کے دوسرے باب میں ابلاغیات کے تین ذرائع صحافت پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی ترقی کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں ۔ مصنف نے وہ تمام حالات پیش کئے جب کہ ہندوستان میں بیسویں صدی کی آٹھویں دہائی میں دوردرشن سے ٹیلی ویژن نشریات شروع ہوئیں اور 1990ء کی دہائی میں سٹلائٹ چینلوں خاص طور سے اسٹار زی سونی وغیرہ کے غلبے کے ہندوستانیوں پر اثرات کو اجاگر کیا گیا۔ٹیلی ویژن کی تجارتی اہمیت کے بارے میں مصطفی علی سروری لکھتے ہیں ’’ ہندوستان ایک اہم تجارتی منڈی ہے جہاں اشیاء کی فروخت کے لئے کمپنیاں اہم فلمی ستاروں ‘نامور کھلاڑیوں اور خوبصورت ماڈلس کو اشتہارات کے لئے کروڑوں روپئے لیتے ہیں وہیں با صلاحیت نوجوان اشتہارات کے خوبصورت دلچسپ فقرے لکھ کر سرمایہ کما سکتے ہیں ۔ اس طرح ٹیلی ویژن کی صنعت فراہمی روزگار کا اہم ذریعہ ہے‘‘۔کتاب کے اصل تین ابواب میں پہلا باب حیدرآباد میں بیسویں صدی کی آخری دہائی میں صحافت کی ترقی سے متعلق ہے جس کی ابتدا حیدرآباد میں رسالہ طبابت حیدرآبادکی اشاعت سے ہوا۔ اس کے بعد آزادی سے قبل جاری ہونے والے مشہور اردو اخبار رہنمائے دکن‘ اور آزادی کے بعد جاری ہونے والے اردو اخبارات سیاست منصف اور ہمارا عوام کی خدمات کی تفصیلی ذکر کیا گیا ہے اردو اخبارا ت کس طرح کتابت کے دور سے کمپیوٹر کتابت کے دور اور سیاہ و سفید سے رنگین اشاعت میں داخل ہوئے اس کی تفصیلات بھی اس باب کا حصہ ہیں اردو اخبارت میں شائع ہونے والے مختلف معلوماتی سپلمنٹ اور مختلف ایام میں شائع ہونے والے مختلف خصوصی کالموں اور خبروں اداریوں کے علاوہ دیگر اہم معلومات سے متعلق تفصیلات کا احاطہ کیا گیا ہے۔اردو اخبار جب انٹرنیٹ پر دیکھے جانے لگے تو ان کے قارئین کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اس ضمن میں مصطفی علی سروری جی ڈی ٹنڈن کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’’ عالمی سطح پر انٹرنیٹ کے ذریعے اردو اخبارات کی پہنچ دیگر زبانوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔‘‘ اردو صحافت کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ سرکیولیشن کی کمی ‘کاغذ کی مہنگائی اور اشتہارات کے حصول میں دشواری سے اردو صحافت کی ترقی سست رہی ہے اور صحافیوں کو کم یافت دینے سے بھی معیاری صحافی اردو صحافت سے وابستہ نہیں ہو پائے۔باب کے آخر میں اردو صحافت میں شخصی کردار کشی کو انہوں نے نقصان دہ قرار دیا۔ کتاب کا اگلا باب میں حیدرآباد میں ریڈیو کی ترقی سے متعلق ہے۔ بیسویں صدی میں حیدرآباد میں دکن ریڈیو کی مقبولیت رہی اور آزادی کے بعد آل انڈیا ریڈیو سے اردو پروگرام نیرنگ کے مقبولیت کا ذکر کیا گیا ۔ ایک زمانہ تھا جب حیدرآباد کے ہر گھر سے نیرنگ پروگراموں کی آواز آتی تھی۔ نیرنگ سے وابستہ فنکاروں میں اظہر افسر‘قمر جمالی‘اسلم فرشوری‘جعفر علی خان‘شبینہ فرشوری‘معراج الدین‘اکبر علی خان اور ریڈیو پر پابندی سے خط بھیجنے والے سامع ماسٹر نسیم الدین نسیم کا ذکر نیرنگ کی پرانی یادوں کو تازہ کرتا ہے۔ نیرنگ میں چھوٹی چھوٹی باتیں ‘ ڈھولک کے گیت اور ہر اتوار کی شب پیش ہونے ولا ریڈیائی ڈرامہ اور حرف تابندہ مقبول پروگرام تھے۔نیرنگ کے علاوہ حیدرآباد ریڈیو سے صبح اور شام میں یواوانی پروگرام اور شا م میں اردو خبریں بھی نشر ہوتی تھیں جن کی تفصیلات اس باب میں پیش کی گئی ہیں ۔اردو پروگراموں کے علاوہ دیگر زبانوں کے پروگراموں کی تفصیلات بھی اس باب کا حصہ ہیں ۔کتاب کے تیسرے اور آخری باب میں حیدرآباد میں بیسویں صدی کی آخری دہائی میں ابلاغیات کے اہم ذریعہ ٹیلی ویژن کی ترقی کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں ۔ اردو پروگرام انجمنـ‘مختلف مواقع پر پیش ہونے والے خصوصی پروگرام اور اردو خبروں کی نشریات کا ذکر کیا گیا ہے۔ فاضل مصنف نے لکھا کہ حیدرآباد دوردرشن کو ترقی دینے میں امتیاز علی تاج نے اہم رول ادا کیا اور نئی منزلیں اوراردو میگزین جیسے پروگراموں کے آغاز کی تفصیلات پیش کیں ۔کتاب کے آخر میں مصنف کتاب مصطفی علی سروری نے ابلاغیات کے اہم ستون صحافت ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر نئے زمانے کے اثرات کا جائزہ لیا۔ اردو اخبارات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی صحافت کے بجائے ترجمے کی صحافت کا رجحان اردو صحافت کے لئے اچھا نہیں ہے اور اردو اخبارات میں بے تحاشہ انگریزی الفاظ کے استعمال سے اردو زبان کا نقصان ہوگا۔ انہوں نے ریڈیو کے شاندار ماضی کے احیا اور ٹیلی ویژن پر نظریات سازی سے زیادہ حقائق کی پیشکشی اور ایک بہتر معاشرے کی تشکیل میں صحت مند ذرائع ابلاغ پر زور دیا۔

 مجموعی طور پر مصطفی علی سروری کی اردو کتاب ’’ حیدرآباد میں اردو ذرائع ترسیل و ابلاغ بیسویں صدی کی آخری دہائیــ میں ‘‘اردو صحافت پر لکھی جانے والی کتابوں میں اہم اضافہ ہے اور ابلاغیات کی سائنس کو سمجھنے اور حیدرآباد میں ابلاغیات کے ارتقا سے واقفیت کے لئے اہمیت رکھتی ہے ۔ پیشہ صحافت سے وابستہ ہر صحافی کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ ایک ایسے دور میں جب کہ کتابوں کی خریداری ایک اہم مسئلہ ہے میں مصنف کو مشورہ دینا چاہوں گا کہ وہ اس کتاب کا مواد انٹرنیٹ پر آن لائن مفت کردیں ۔ ویسے یہ کتاب خریدنے کے لئے امیزان انڈیا اور امریکہ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے اور مصنف سے حیدرآباد میں رابطہ کرتے ہوئے حاصل کی جاسکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close