خطوط زنداں

محمد اسعد فلاحی

تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں جب بھی اللہ کے برگزیدہ بندوں نے احکامِ اِلٰہی کواپنے سینوں سے لگا کر شہادتِ حق کا فریضۂ انجام دیا ہے، فرعونی نظریات کے حاملین نےان کومختلف قسم کی اذیتوں میں مبتلا کیا ہے۔ کبھی انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا تو کبھی تختۂ دار پر لگادیا گیا، لیکن اللہ کے ان نیک بندوں نے اپنے فریضۂ حق سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اوروقت پڑنے پر دین حق کی سربلندی کے لیے اپنی جان کا نذرانہ بھی اللہ کے حضور پیش کردیا۔

جان دی، ہوئی اسی کی تھی

حق تویہ ہے کہ حق ادانہ ہوا

بیسوی صدی عیسوی میں شہادت حق کا فریضہ انجام دینے کے لیے اسلامی تحریکیں وجود میں آئیں۔ عالم عرب میں اخوان المسلمون اوربرصغیر ہند میں جماعت اسلامی۔ دونوں تحریکوں نے اقامت دین کواپنا نصب العین قرار دیا اوراسی پر جم گئے   اور پھر آزمائشوں کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ آج بھی جاری ہے۔

زیر نظر کتاب جناب متین طارق باغپتی کے ان خطوط کا مجموعہ ہے جوانہوں نے ایمرجنسی (1975ء) کے د وران جیل میں رہتے ہوئے اپنے اہلِ خانہ، دوست احباب اورسیاسی لیڈران کولکھے تھے۔

جناب متین طارق باغپتی جماعت اسلامی ہند کے ایک مخلص رکن تھے۔ 1975ء میں جب جماعت پر پابندی عائد کردی گئی اورتحریک کے تمام کارکنان کوجیل میں بھیجا گیا تو ان میں متین صاحب بھی شامل تھے۔ موصوف نے آزمائش کے دور میں جس جواں مردی کا مظاہرہ کیا وہ یقیناً لائق تحسین ہے۔ انہوں نے نہ صرف خود استقامت اورصبر کا مظاہرہ کیا، بلکہ دوست احباب اوراہلِ خانہ کوبھی اس کی تلقین کی۔ ایک خط میں موصوف اپنے بیٹے ذکی کولکھتے ہیں : ’’پیارے بیٹے! دنیا میں دین حق کے قیام کے لیے ہمیشہ ایسا ہی ہوا ہے اور آئندہ بھی ہوگا۔ راہِ حق وصداقت کے مسافروں کومصائب وابتلا، قید وبند اور دارورسن کے مقامات سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ انبیا ء کی سنت ہے اس لیے ایک ایسے شخص کو، جس نے اس راہ میں قدم رکھا ہے، ان ابتلاؤں کو برداشت کرنا چاہیے‘‘۔ (ص 24)

اس کتاب کا مطالعہ تحریک سے وابستہ افراد کو اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ یہ تحریک کوئی معمولی تحریک نہیں ہے۔ اس کا مقصد اقامت دین ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھی جانی چاہیے کہ تحریک اسلامی کی ایک روشن تاریخ ہے۔ اس کی آزمائش کل بھی ہو ئی تھی، آج بھی ہورہی ہے اور آئندہ بھی ہوگی۔ تحریک سے وابستہ ہر فرد کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ وابستگان تحریک کو انبیاء کی سیرت کے مطالعے کے ساتھ آزمائش کا شکار ہونے والے اللہ کے نیک بندوں کی زندگیوں کا بھی مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس سے انہیں دین کی راہ میں استقامت، صبر اور ثابت قدمی کا حوصلہ ملےگا۔ ان شاء اللہ۔

خطوط زنداں، مرتب:   ڈاکٹر ذکی طارق، ناشر: مرکز ی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، سنہ اشاعت: 2017ء صفحات: 48، قیمت 28/-روپئے



⋆ محمد اسعد فلاحی

محمد اسعد فلاحی

معاون تصنیفی اکیڈمی، مرکز جماعت اسلامی ہند

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

ملت اسلامیہ کو ایسے کسی ’برج کورس‘ کی ضرورت نہیں!

برج کورس کے قائم کرنے کا مقصد یہ بتایاگیا تھا کہ ’’ فارغین مدارس کو علوم عصریہ سے اس حد تک واقفیت کرادی جائے کہ وہ یونی ورسٹیوں کے کسی بھی شعبے میں بہ آسانی داخلہ لے سکیں ‘‘۔(ص۸)  لیکن کتاب کا مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے  اس شعبے کے ذریعے طلبہ کو مدارس، اہل مدارس اور ملت اسلامیہ سے بد ظن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مسلم یونی ورسٹی کے ارباب حل و عقد کو سنجیدگی سے اس کا نوٹس لینا چاہیے اور برج کورس کے قیام کے مقصد کے حصول کی تدابیر اختیار کرنے کی فکر کرنی چاہئے۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے