تبصرۂ کتب

دور حاضر کی چند اہم مفسرات قرآن

 کتاب پڑھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ قرآنی علوم پر مصنفہ اچھی نظر رکھتی ہیں۔

 سہیل بشیر کار

قرآن کتاب ِعمل ہے۔ قرآنی تعلیمات کا صحیح فہم و ادراک بس اس شخص کو حاصل ہوسکتا ہے جو عملی طور معاشرے کے ساتھ جڑا ہو۔ جہاں تک علوم القران کا بالعموم اور تفاسیر قرآن کا بالخصوص تعلق ہے تو مشاہدے میں آیا ہے کہ تفاسیر اکثر مرد حضرات نے لکھی ہے جبکہ قرآن کا معتدبہ حصہ ان تعلیمات پر مشتمل ہے جن کا براہ راست نسوانی عملیات کے ساتھ تعلق ہے۔ ایسے میں عورتوں سے متعلق قرآنی نصوص کا فہم عورتوں کی نفسیات اور مائنڈسیٹ کے ذریعے حاصل کرنے کی ایک الگ ہی افادیت ہے۔ اْمت مسلمہ کو قرآن کریم سے قریب کرنے کیلئے یہ بات اہم ہے کہ جہاں مرد حضرات علوم قرآن اور تفسیر قرآن کا کام کریں ۔ وہی خواتین کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا رول ادا کریں ۔ظاہر ہے قریب پچاس فیصد آبادی کے مائنڈ سیٹ کو Ignore نہیں کیا جاسکتا۔ نہ مرد پوری طرح خواتین کی نفسیات کا لحاظ رکھ سکتے ہیں نہ خواتین مردوں کا –  اگرچہ زیادہ تر تفاسیر مرد حضرات نے لکھی ہیں تاہم  اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ علوم القرآن اور تفاسیر قرآن کے حوالے سے خواتین کا بھی اچھا خاصا رول رہا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’دور حاضر کی چند اہم مفسرات قرآن‘‘ میں مصنفہ نے اسی حقیقت یعنی علوم القرآن پر خواتین  کے رول پر قلم اٹھایا ہے۔مصنفہ نے اس کتاب میں چند ایسی خواتین کے کام کا تجزیاتی اور تحقیقی جائزہ لیا ہے جنہوں نے علوم قرآن اور تفسیر قرآن پر کام کیا ہے۔ کتاب کی مصنفہ جواں سال ریسیرچ اسکالر ڈاکٹر ندیم سحر عنبر ہیں ۔ موصوفہ کی پیدائش بہرام( اتر پردیش) میں ہوئی۔ جامعۃ الصالحات سے عالمیت کی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم، اے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی سے Ph۔d کی ڈگری حاصل کی۔ آپ کے مضامین موقر رسالوں اور جریدوں میں شائع ہوتے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب دراصل ان کے ایک تحقیقی پروجکٹ کا حصہ ہے۔ اس کتاب کے لکھنے کا مقصد اسلامیات (قرآنیات) کے میدان میں خواتین کے علمی کاموں کا عمومی تعارف پیش کرنا ہے۔ مصنفہ کے الفاظ میں :

’’اسلامیات کے مختلف میدانوں میں خواتین کے علمی کاموں کا عموماً تعارف نہیں ہے۔ تفسیر و علوم قرآنی کے میدان میں تو اور بھی کم ہے۔قرآنیات پر بہت سی کتابیات مرتب کی گئی ہیں، لیکن ان میں گنتی کی صرف چند خواتین کے نام ہی ملتے ہیں ۔‘‘ (صفحہ 9 )

مصنفہ کو اس بات کا اعتراف ہے کہ تفسیر و علوم قرآن کے میدان میں خواتین کا کام مردوں کے مقابلے میں کم ہے۔ جس کی مصنفہ کچھ وجوہات بھی بیان کرتی ہیں (دیکھئے صفحہ 10)تاہم ان کا ماننا ہے کہ اس میدان میں بھی خواتین نے اچھا خاصا کام کیا ہے:

’’لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ خواتین کا کام تفسیر اور علوم قرآنی کے میدان میں ناقابل التفات اور نا قابلِ ذکر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اس میدان میں بھی قابلِ قدر اور اہم خدمات انجام دی ہیں ۔ ضرورت ہے کہ علمی حلقوں میں انہیں متعارف کرایا جائے، ان کا علمی وزن محسوس کیا جائے اور ان کی قدر و قیمت متعین کی جائے۔” (صفحہ 10)

  زیر تبصرہ کتاب میں پیش لفظ کے علاوہ پانچ ابواب ہیں، ان ابواب  میں انہوں نے ان چار خواتین کے قرآنی کاموں کا تحقیقی مطالعہ پیش کیا ہے، وہ لکھتی ہیں :

’’ اس کتاب میں جن چار تفاسیر کا تعارف کرایا گیا ہے ان میں دو مکمل ہیں (زینب الغزالی کی ’نظرات فی کتاب اللہ ‘ اور نائلہ ہاشم صبری کی ’المبصر النور القرآن ‘ اور دو جزوی (عائشہ عبدالرحمن بنت الشاطی کی ’التفسیر البیانی للقرآن الکریم‘ اور حنان الحام کی ’من ھدی القرآن‘)۔ مفسرات کے مختصر حالاتِ زندگی بیان کرنے کے بعد ان کی تفاسیر کا تفصیل سے تعارف کرایا گیا ہے۔ان کے مشتملات پر روشنی ڈالی گئی ہے، ان کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں، ان کا منہج اور طریقہ تفسیر بیان کیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ ان تفاسیر میں تفسیر کے کن بنیادی اصولوں کی پابندی کی گئی ہے، ان تفاسیر میں مصنفہ کے مطابق  تفسیر بالماثور پر اعتماد پایا جاتا ہے، تفسیر  باالقرآن کو ترجیح دی گئی ہے۔ ان تفاسیر میں ایک طرف متقدمین کی تفاسیر سے استفادہ بھی ملے گاا ورہیں یہ  تفاسیر معاصر وقت کے ساتھ ہمیں  ہم آہنگ بھی ملیں گی۔ان تفاسیر میں عورت کے حقوق کا دفاع کیا گیا ہے اور ساتھ ہی سماج کے دیگر مسائل و معاملات سے بھی تعرض کیا گیا ہے۔ زیادہ تر اختلافی، مسلکی اور فقہی اختلافات سے گریز کیا گیا ہے۔ غرض ان تفاسیر کا علمی وزن اور مقام و مرتبہ بتایا گیا ہے۔آخر میں ان کا باہم تقابلی مطالعہ بھی پیش کیا گیا ہے، جس سے ان تفسیروں کے درمیان مماثلت اور اختلافات کے پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ ” (صفحہ 11)

  کتاب کے پہلے باب میں انہوں نے ڈاکٹر عائشہ عبدالرحمن بنت الشاطی کے قرآنی کاموں خاص کر ان کی تفسیر قرآن کا مطالعہ پیش کیا ہے۔ عائشہ عبدالرحمن بنت الشاطی 1913ء میں مصر میں پیدا ہوئی۔ انہوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے Ph۔d کی ڈگری حاصل کی۔ وہ چالیس (40) کتابوں کی مصنفہ ہیں ۔ انہوں نے قرآنیات پر کافی کتابیں لکھی ہیں ۔ انہوں نے قرآن کی ’ التفسیرالبیانی للقران الکریم‘ نامی تفسیر لکھی ہے، ڈاکٹر سحر رقمطراز ہیں :

التفسیر البیانی للقرآن کریم ڈاکٹر عائشہ عبدالرحمن بنت الشاطی کی تفسیر ہے۔ یہ پورے قرآن کی تفسیر نہیں ہے، بلکہ اس میں بعض متوسط اور چھوٹی سورتوں کی تفسیر کی گئی ہے۔ یہ دو (۲) اجزاء میں ہے۔

ڈاکٹر ندیم سحر عنبرین نے عائشہ عبدالرحمن کی تفسیر قرآن کا  تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے اس تفسیر کے منہج کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ  اس تفسیر میں تفسیرالقرآن بالقرآن کا منہج اختیار کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی قرآن کے حروف اور عربی علوم پر بھی بات کی گئی ہے۔ تفسیر کی خصوصیت کے بارے میں وہ کہتی ہیکہ اس تفسیر میں اسرائیلیات، صوفیانہ اور موضوع روایات سے اجتناب کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ان لوگوں پر بھی چوٹ کی گئی ہے جو سائنس سے مرعوب ہوکر قرآن کریم کی تفسیر کرتے ہیں ۔

کتاب کے دوسرے باب میں عالم اسلام کی مشہور داعی اور مجاہد خاتون زینب الغزالی اور ان کے قرآنی علوم پر کئے گئے کام کا جائزہ لیا گیا۔ آپ 2 جنوری 1917ء کو مصر میں پیدا ہوئی۔ وہ عمل کی پیکر تھی۔ حق بولنے کی پاداش میں ان پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے۔ کئی سالوں تک انہیں بدترین صعوبت خانوں میں ڈالا گیا۔ امت مسلمہ خاص کر خواتین کو قرآنیات سے جوڑنے کے لیے انہوں نے قرآن کریم کی تفسیر "نظرات فی کتاب اللہ‘‘ کے نام سے لکھی۔ ڈاکٹر سحر اس تفسیر کے بارے میں لکھتی ہیں :

’’نظرات فی کتاب اللہ کی پہلی جلد، جو کہ ۷۱۱ صفحات پر مشتمل ہے اور سورہ ابراہیم تک ہے، دارالشروق قاہرہ سے ۱۹۹۴ ء ( ۱۴۱۴ھ) میں شائع ہوئی تھی۔ اس پر جامعہ ازہر کے استادِ تفسیر شیخ عبدامحسن فرماوی نے نظر ثانی کی ہے۔ زینب الغزالی  نے اس کے علاوہ کم عمر بچوں کیلئے آسان اور عام فہم زبان میں ۲۸، ۲۹، ۳۰ ویں پارے کی بھی تفسیر لکھی ہے۔ ابھی حال میں مکمل تفسیر، جو ۱۳۰۰ صفحات پر مشتمل ہے، دارالتوزیع و النشر الاسلامیہ قاہرہ سے شائع ہوگئی ہے۔ اس تفسیر میں دعوتی اسلوب نمایاں ہے۔”(صفحہ 29 )

مزید لکھتی ہیں :

’’ ان کی تفسیر ’نظرات فی کتاب اللہ‘ وجود میں آئی۔ اس تفسیر کی دو جلدیں ہیں : پہلی جلد سورہ ابراہیم تک ہے۔ یہ ۱۹۹۴ ء میں شائع ہوئی تھی۔ اس پر ڈاکٹر الفرماوی نے نظر ثانی کی ہے۔ دوسری جلد کی اشاعت ابھی چند سال قبل ہوئی ہے۔‘‘(صفحہ 30 )

مصنفہ زینب الغزالی کی تفسیر کے منہج کے بارے میں لکھتی ہیں کہ زینب الغزالی ہر سورہ کی ابتدا میں اس سورہ کا تعارف پیش کرتی ہیں ۔ اس کے بعد تفسیر ماثورہ بیان کرتی ہیں، اس سلسلے میں وہ دیگر مفسر ین اور اپنے زمانے کے مشائخ ازہر سے خوب استفادہ کرتی ہیں، اس تفسیر کی خصوصیت کے بارے میں مصنفہ لکھتی ہیں کہ تفسیر میں حقوق نسواں کا دفاع کیا گیا ہے- چونکہ زینب الغزالی خود ایک عظیم داعیہ تھی لہذا اس تفسیر کا اسلوب دعوتی ہے۔ اس تفسیر میں قرآنی آیات کے باہمی ربط کا خیال رکھا گیا ہے۔

کتاب کے تیسرے باب میں حنان الحام جو کہ شام کی رہنے والی تھی کی قرآن کریم کی تفسیر کا تجریاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ مصنفہ لکھتی ہیں کہ حنان الحام نے قرآنی موضوعات پر بہت سی کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ جن کا مختصر تعارف بھی انہوں نے پیش کیا ہے۔ قرآن کریم کی تفسیر انہوں نے ’’من ھدی القرآن‘‘ نام سے لکھی ہے۔ اس تفسیر کے منہج کے بارے میں وہ رقمطراز ہیں کہ حنان الحام تفسیر ماثورہ پر اعتماد کرتی ہیں، اس تفسیر کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا اسلوب ادبی ہے۔تفسیر میں دور حاضر کے معاشرتی مسائل کا بھی  تذکرہ ملتا ہے۔ ساتھ ہی موجودہ دور کے احوال و مسائل کے ساتھ قرآن کریم کے آیات اور احکامات کو جوڑتی ہیں ۔ ساتھ ہی ان کی تفسیر میں اجتہادی آراء بھی ملتی ہیں ۔

کتاب کے چوتھے باب میں مصنفہ نے نائلہ ہاشم صبری (پیدائش 1944ء فلسطین) کا بہت ہی عمدہ تعارف پیش کیا ہے۔ سیدہ نائلہ قرآن کریم کی حافظہ تھی وہ عرصہ تک مسجد اقصیٰ میں خواتین کے حلقہ میں درس قرآن دیاکرتی تھی۔ ڈاکٹر سحر لکھتی ہیں :

’’بیس (۲۰) سال کے عرصے تک وہ سات (۷) سے زیادہ گھنٹے روزانہ  مطالعہ تفسیر میں صرف کرتی تھیں ۔ اس عرصہ میں انہوں نے تقریباً ڈیڑھ سو (۱۵۰) سے زائد قدیم و جدید تفاسیر کا مطالعہ کیا۔‘‘

ان کی قرآن کریم کی تفسیر ’’المبصر لنور القرآن‘‘ 6 جلدوں میں ہے اس تفسیر کا لکھنے کا مقصد بیان کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں :

’’کتاب اللہ کی تفسیر لکھنے کا محرک اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺسے میری شدید محبت ہے۔ میری بہت خواہش تھی کہ میں قرآنی آیات کی ایسی تشریح کروں جو موجودہ زمانے سے ہم آہنگ ہو، قرآن میں بیان کردہ قدروں کو اس طرح نمایاں کروں کہ شریعت کے منشا کے مطابق ہمارے روز مرہ کے معاملات اور زندگی کی مشکلات و مسائل حل ہوں ۔ میں نے اس کام کا آغاز کرنے سے قبل استخارہ کیا، پھر تفسیر لکھنے کا آغاز کیا۔ مجھے اس وقت مزید شرحِ صدر حاصل ہوا جب میں نے رسول اللہ ﷺکو خواب میں دیکھا کہ آپ میری تفسیر اپنے دستِ مبارک میں لئے ہوئے خوشی کا اظہار کررہے ہیں اور مسکرارہے ہیں ۔ دوسری مرتبہ مجھے پھر آں حضرت ﷺکا دیدار نصیب ہوا۔ جب مسجد نبوی کی زیارت کے موقع پر مجھے نیند کی ایک جھپکی آئی تو میں نے دیکھا کہ آپ میری تفسیر کو اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے ہیں ۔‘‘(صفحہ 48 )

اس تفسیر کے بارے میں مصنفہ لکھتی ہیں کہ تفسیر میں ہر سورہ سے پہلے سورہ کا تعارف، ، آیات کلمات اور حروف کی تعداد، فضائل سورہ، سورہ کے امتیاز پر بات کی گی ہے۔ اس کے بعد اسباب نزول، مفردات کی تشریح، نص ایت، اصول تفسیر کی رعایت تفسیر القرآن بالقرآن، تفسیر القرآن بالروایت، فقہی احکام کا بیان، اور آیات کے درمیان ربط پر بات کی گئی ہے۔ مصنفہ اس تفسیر کے بارے میں لکھتی ہیں کہ اس تفسیر میں بہت ہی خوبصورت لطیف نکتے بیان ہوئے ہے۔ مثلاً سورہ البقرہ آیت 22کے ذیل میں انہوں نے پہلے یہ سوال قائم کیا ہے:

’’اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ’الناس ‘ اور ’الحجارۃ‘ کو ایک ساتھ کیوں بیان کیا ہے؟ اور انسانوں کے ساتھ پتھروں کو کیوں  جہنم کا ایندھن بنایا ہے؟ پھر تفسیر طبری اور تفسیر ابن کثیر کی روشنی میں اس کا یہ جواب دیا ہے: ’’مشرکین نے اپنے گھڑے ہوئے بتوں کو اپنا معبود بنالیا تھا اور انہیں اللہ کا ہم سرقرار دیتے تھے، اس لئے اللہ نے عذاب میں انہیں بھی شریک کرلیا اور انہیں بھی جہنم کا ایندھن بنا دیا‘‘۔

اسی طرح مقام محمود (الاسراء۷۹) کی تفسیر کے تحت یہ نقطہ بیان ہوا ہے:

’’یہ اٰیت واضح کرتی ہے کہ مقام محمود تک پہنچنے کا راستہ نماز، قرآن، تہجد اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دائمی ربطہ ہے۔(صفحہ 68)

مصنفہ مزید لکھتی ہیں کہ اس تفسیر کی خاص بات یہ ہے کہ یہ قرآنی احکام کو حالات حاضرہ سے جوڑتی ہے۔ خاص کر جن آیات میں خواتین کے مسائل بیان کئے گئے ہیں ۔ مثلاً نکاح، طلاق، ایلا وغیرہ۔ ساتھ ہی یہ قرآن کریم کے سائنسی اعجاز کو بھی نمایاں کرتی ہیں ۔مصنفہ لکھتی ہیں :

’’دورانِ تفسیر کبھی کبھی و ہ قرآن کے سائنسی اعجاز کو نمایاں کرتی ہیں ۔ مثلاً ذو القرنین کے قصے میں جہاں یہ مذکورہے کہ اس نے دیوار بناتے وقت لوہے کی چادروں کے درمیان پگھلا ہوا تانبا ڈلوایا (الکھف:۹۶) وہ لکھتی ہیں :

’’لوہے کی مضبوطی کیلئے موجودہ دور میں یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس سے لوہے کی طاقت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ قرآن کریم نے بہت پہلے  اس جدید سائنٹفک طریقہ کا انکشاف کردیا تھا۔‘‘(صفحہ 68 )

کتاب کے پانچویں (آخری) باب میں مصنفہ نے چاروں تفاسیر کا  تقابلی جائزہ پیش کیا ہے اور ان تفاسیر کی یکسانیت اور ان کی انفرادیت پر بات کی ہے۔ خواتین اور بچیوں کو قرآن کریم کی طرف نا صرف راغب کرنے میں بلکہ خواتین میں علوم القران کا شوق بڑھانے میں بھی  یہ کتاب انشااللہ زبردست رول ادا کرے گی۔ اس خلش کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں کہ مصنفہ نے اس کتاب میں برصغیر کی ان خواتین کا تذکرہ نہیں کیا ہے جن کا قرآنیات کے حوالے سے اچھا کرداررہا ہے۔ اگر ان خواتین کا بھی تزکرہ ہوتا تو کتاب کا فائدہ اور زیادہ بڑھ جاتا۔ امید ہے مصنفہ اگلے ایڈیشن میں سلسلے کو آگے بڑھائیں گے۔

 کتاب پڑھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ قرآنی علوم پر مصنفہ اچھی نظر رکھتی ہیں۔ لہذا تفسیر کے میدان میں ان کو آگے آنا چاہئے۔ کتاب کی زبان نہایت ہی آسان ہے۔ امید ہے کتاب ہاتھوں ہاتھ بک جائے گی۔کتاب 8285064809 نمبر سے حاصل کی جاسسکتی ہے۔

مزید دکھائیں

سہیل بشیر کار

بارہمولہ، کشمیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close