تبصرۂ کتب

دھواں دھوا ں بد ن: جذبہ و احساس کا راست بیانیہ

زیر تبصرہ شعری مجموعہ ’دھواں دھواں بدن‘ کے خالق بزرگ شاعر عزیز شیگانوی ہیں جو ایک عرصہ ٔ دراز سے گیسوئے غزل سلجھانے میں مصروف ہیں

تعارف و تبصرہ : وصیل خان 

شاعر:  عزیز خان شیگانوی

 کتاب کا نام  : دھواں دھواں بدن ( شعری مجموعہ )

شاعر :  عزیز خان شیگانوی ( موبائل : 9158289885

صفحات:  157

قیمت:  100/-روپئے

ناشر:  سید سبحان انجم ( موبائل :  9209512630 )

ملنے کا پتہ: عزیزخان عزیز محلہ فرشی، شیگاؤں ، ضلع بلڈانہ ۴۴۴۲۰۳

 تاج میڈیکلس، آٹھواڑہ بازار شیگاؤں ، بلڈانہ، موبائل : 9970927926

زیر تبصرہ شعری مجموعہ ’دھواں دھواں بدن‘ کے خالق بزرگ شاعر عزیز شیگانوی ہیں جو ایک عرصہ ٔ دراز سے گیسوئے غزل سلجھانے میں مصروف ہیں انہوں نے دیگراصناف سخن میں بھی طبع آزمائی کی ہے لیکن غزل میں زیادہ کھلتے دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل نظموں کا مجموعہ ’ لفظوں کی مالا‘ منظر عام پرآچکا ہے اور اب ایک طویل وقفے کے بعد جب وہ غزلوں کے ایک انتخاب کے ذریعے دوبارہ شائقین کے سامنے آئے تو ایسا لگا کہ ان کا یہ ادبی سفراحساسات و تجربات کی نئی نئی کہکشاؤں سے روشن ہے۔ پیشہ ٔ تدریس سے دیرینہ وابستگی اور معاشرتی زندگی سے قربت کی تجرباتی جھلک ان کے اشعار میں جگہ جگہ نظر آتی ہے۔

شاعری دراصل احساسات و جذبات کے وسیلہ ٔ اظہار کا نام ہے جس میں بیک وقت متعدد محرکات کارفرما ہوتے ہیں ، ندرت فکر اور سحر انگیز لفظوں کے اتصال سے جو خوبصورت اور جاذب اشعار وجود میں آتے ہیں وہ قاری کی تمام تر توجہ اپنی جانب مبذول کرلیتے ہیں ۔ اگر شاعری ان صفات سے تہی دامن ہو تو وہ محض تک بندی تک ہی محدود ہوکر رہ جاتی ہے جس سے نہ کوئی حظ اٹھاسکتا ہے نہ ہی اپنے فکری رجحانات میں کوئی تموج پیدا کرسکتا ہے۔ بد قسمتی سے آج ہمارے آس پاس ایسی ہی شاعری کا انبار لگا ہوا ہے۔ ایسے میں اگر عزیز شیگانو ی ان کمزوریوں سے بڑی حدتک محفوظ نظر آتے ہیں تو اہل ادب کیلئے یہ بہرحال ایک خوش آئند لمحہ کہا جاسکتا ہےان کی شاعری قارئین کی سماعتوں پر بار نہیں بنتی بلکہ انہیں ایک کارآمد اور لطیف احساس سے ہم کنار کرتی ہے۔

ڈاکٹر زینت اللہ جاوید کے بقول ’’ ان کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جو شاعری کی مقصدیت کے قائل ہیں اور شاعری سے اس کا مرتبہ و منصب نہیں چھینتے ان کی شاعری میں حسن و خیر کی جستجو کی چنگاریاں اور منزل مقصود کی طرف ذہن موڑنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ ان کی شاعری زندگی سے پوری طرح ہم آہنگ ہے اور اس کی جڑیں ایسی تہذیب اور اقدار سے وابستہ ہیں جو انہیں ذہنی ویرانوں میں بھٹکنے نہیں دیتیں وہ ایک با معنی صحت منداور مبنی بر انصاف معاشرہ کی تشکیل میں پوری طرح معاون ہوتی ہیں ۔‘‘

ان کی شاعری کا ایک ماحصل یہ بھی ہے کہ معاشرتی بدحالی اور تیزی سے روبہ زوال قدروں کا وہ ماتم نہیں کرتے اس کے برعکس متانت و حکمت سے اس کا موثر علاج تلاش کرتے نظر آتے ہیں اور اس کوشش میں وہ داخلی سطح کی صحت مندی پر زیادہ زور دیتے ہیں ، یہی سبب ہے کہ ان کے یہاں احتساب غیر کے بجائے خوداحتسابی کا رنگ نمایاں ہے۔ حلم وسنجیدگی ان کی شاعری کا خاص وصف ہے، جارحانہ طرز بیان سے وہ حتی الامکان گریز کرتے ہیں وجہ ظاہر ہے کہ یہ طرز سخن شوریدگی اور برگشتگی کے سوا کچھ اور خلق نہیں کرسکتا۔ اصلاح معاشرہ کیلئے سنجیدگی اور نرمی اولین شرط ہوتی ہے۔ موصوف اسی حکمت عملی کے ذریعے اپنے محسوسات قارئین کے گوش گزار کردیتے ہیں۔ لفظوں کی فسوں کاری اور ادق جملوں کا استعمال کرکے وہ شاعری کو چیستاں نہیں بناتے بلکہ سب کچھ صاف اور سہل تر لہجے میں کہہ کر اصلاح معاشرہ کا فرض ادا کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ان کی شاعری قاری کو خوابیدہ ذہنی سے نکال کر بیداری اور آگہی کی دنیا میں پہنچا دیتی ہے، کچھ اشعار بطور تمثیل یہاں درج کئے جارہے ہیں امید ہے کہ آپ ضرور متفق ہونگے۔

ہم کہاں جائیں علاج درد پنہاں کیلئے 

   کون تجھ سا چارہ گر ہے مالک ارض وسما

زندگی ایسی مہم ہے جسے سر کرنے کو 

  ہو ش مندی بھی ضروری ہے فقط جوش نہیں

غیر ممکن نہیں تسخیر زمانہ لیکن 

  آپ کے پاس ہیں اخلاق کے زیور کتنے 

جن کے سائے میں بڑا دل کو سکوں ملتا ہے 

  کیا سلامت ہیں وہ اشجار چلو دیکھیں گے 

ظلمت ہے خوفناک اجالے بھی دلفریب

   لگتا ہے مارڈالے گا دن رات کا ہجوم 

مزید دکھائیں

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

متعلقہ

Close