تبصرۂ کتب

دھڑکنیں بھارت کی

عالم نقوی

بین الاقوامی شہرت یافتہ تخلیق کار، صحافی، تاریخ داں ڈاکٹر لاری آزادؔمیرٹھ یونیورسٹی سے  الحاق شدہ، خورجہ شہر کے   ایک ڈگری  کالج میں پروفیسر ہیں لیکن بچوں کی معیاری تعلیم کی غرض سے   علی گڑھ میں   رہتے ہیں اور روز خورجہ آتے اور جاتےہیں۔ ہندی میں شاعری کرتے ہیں۔ قسمت کے دَھنی ہیں کہ بیسویں صدی کی ساتویں دہائی کے آخری اور  آٹھویں دہائی کے ابتدائی ہنگامہ خیز  برسوں   کے دوران کہی گئی، ۳۰ صفحات پر محیط، اُن کی ۱۴ عدد  آزاد اور نثری نظمیں، بہ عنوان ’’دھڑکنیں بھارت کی ‘‘انگریزی اور دو(۲) یورپی زبانوں کے ساتھ ملک کی تینتیس (۳۳) دیگر زبانوں  میں ترجمہ ہو کرقریب ایک ہزار صفحات پر مشتمل تین  ضخیم جلدوں میں شایع ہو چکی ہیں۔

یہ نظمیں ۱۹۷۷ سے ۱۹۸۴ کے درمیان کہی گئی ہیں۔ ۱۹۷۷ ایمرجنسی کا آخری اور جنتا پارٹی کا پہلا سال تھا۔ سب سے زیادہ چھے(۶) نظمیں ۱۹۷۸ کی ہیں۔ ۱۹۸۴ کی صرف ایک نظم ہے۔ ۱۹۸۰ اور ۱۹۸۲ کی دو دو  اور ۱۹۷۷ کی تین نظمیں شامل اشاعت ہیں۔

۱۶ نومبر ۱۹۷۷ کو کہی گئی ایک نظم کے آخر میں اُنہوں نے  شاعرانہ تدبر و بصیرت کی بنیاد پر جن خدشات کا اظہار کیا ہے وہ گزشتہ چار  پانچ برسوں پر بھی صادق  آتےہیں اور  آنے والے، خدانخواستہ، زیادہ ہولناک اور زیادہ  وحشت ناک دنوں کا منظر نامہ معلوم ہوتے  ہیں۔  وہ کہتے ہیں :

’’۔۔لیکن یہ دور سے آتی آندھی۔ اب نظر آرہی ہے۔ جس سے شعلہ بھڑکنے کا۔ ڈر سا ہو رہا ہے۔۔ خدا محفوظ رکھے۔ ہمارے گلستاں کو۔ ورنہ آنے والی آگ۔ جلاکر راکھ کر دے گی۔ اور ہم دب جائیں گے۔ اس راکھ میں ہمیشہ کے لیے۔ ہڑپا اور موہن جودڑو کی طرح۔ ختم ہوگا تاریخ کا ایک دور۔ اور دہرائی جائے گی۔ پھر وہی داستان ! ‘‘(جلد دوم۔ ص۔ ۳۱ )

’’دھڑکنیں بھارت کی ‘‘ اشاعت کا یہ کارنامہ انجام دیا ہے ’’کل ہند شاعرات کانفرنس ( آل انڈیا پوئٹس کانفرنس دہلی۔ علی گڑھ)‘‘نے جس کے نام سے ۔ ہم اپنی جہالت اور لا علمی  کا اعتراف  کرتے ہیں  کہ۔ پہلی بار  آشنا ہوئے ہیں !

 دلچسپ بات یہ ہے کہ صاحب کتاب  شاعر سمیت کتاب کے تینوں مدیران، ڈاکٹر وجے کمار مہتہ (نیویارک ) ڈاکٹر کرشن کمار (برمنگھم) اور ڈاکٹر داؤ جی گپتا (لکھنؤ)میں سے کوئی ایک بھی ’شاعرہ ‘ نہیں !یعنی کل ہند شاعرات کانفرنس کا پہلا کام، جو کم از کم ہماری  ناواقف حال نظروں سے گزرا ہے وہ یہی، ایک ہندی’ شاعر‘ کی چودہ نظموں کے چھتیس ترجموں پر مشتمل تین مجلد کتابیں ہیں! ہماری اس سخن گسترانہ بات کا یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ شاعرات کی کوئی تنظیم کسی شاعر کا کلام، یا اس کا ترجمہ شایع نہیں کر سکتی۔ ناشرین میں سے اول ا لذکر دونوں اسمائے گرامی تو ہمارے لیے بالکل نئے ہیں البتہ شری داؤ جی گپتا لکھنوی کو ہم خوب جانتے ہیں۔ وہ دو بار لکھنو کارپوریشن کے مئیر بھی رہ چکے ہیں اور اردو ایسی فصیح و بلیغ اور سلیس و شستہ بولتے ہیں کہ فی زمانہ لکھنو کے اردو والے تو کیا ہم  بھی  نہیں بول سکتے۔ رہے بےچارے لکھنؤ والے، اور ’ثمّ اردو والے ‘تو  انہوں نے از خود اپنی مادری زبان کو چھوڑ کر سرکاری بھاشا کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔ لیکن شری داؤ جی گپتا کا نیویارک کی کسی ہندی میگزین ’سوربھ ‘ کے مدیر ہونے کا  ہمیں علم نہیں۔ کیونکہ داؤ جی  تو آج بھی پرانے لکھنؤ میں رہتے ہیں اور اردو ہی لکھتے پڑھتے ہیں !یہ ممکن ہے کہ نیو یارک میں موجود ان کے کسی دور یا قریب کے  عزیز نے ان کے نام کا استعمال کیا ہو۔

اٹھارہ زبانوں میں تراجم کی پہلی جلدآٹھ برس قبل آخری نظم کہے جانے کے چونتیس سال بعد   ۲۰۱۰ میں شایع ہوئی ۔ جس میں انگریزی، کھاسی اور میزو تراجم رومن رسم ا لخط میں  اور بقیہ سبھی پندرہ تر جمے  دیو ناگری رسم خط والی زبانوں میں ہیں۔

دوسری جلد اگلے ہی سال  ۲۰۱۱ میں زیور طبع سے آراستہ ہوئی۔ اس میں فارسی رسم ا لخط میں مذکورہ نظموں کے  اُردو، کشمیری، سندھی، فارسی اور عربی تراجم ہیں اور یہی ہمارے پیش نظر ہے۔

تیسری جلد  البتہ اسی سال ۲۰۱۸ میں چھپی ہے۔ اِس میں تیرہ(۱۳) مختلف زبانوں میں متذکرہ چودہ (۱۴) نظموں کے ترجمے پڑھے جا سکتے ہیں!انگریزی ترجمہ پہلی جلد میں شایع ہو چکا تھا لیکن  ۲۰۱۸ والی  تیسری جلد میں بھی وہ شامل اشاعت ہے ۔ اصل ہندی نظمیں تینوں جلدوں میں شامل ہیں،جو اس لیے بھی ضروری تھا کہ نظموں کے  ترجمے کا قاری   اگر ہندی زبان بھی جانتا ہے تو وہ ہماری طرح، ترجمے کے ساتھ  اصل متن بھی ضرور پڑھنا چاہے گا۔

 شمالی ہند کی ریاست میگھالے میں بولی جانے والی ’گارو‘ زبان کاترجمہ بھی رومن رسم خط میں ہے۔ یورپ  کی دو زبانوں روسی اور سویڈش   میں ان نظموں کا ترجمہ پڑھا جا سکتا ہے  جو  اسی تیسری جلد کا حصہ ہیں۔

’دھڑکنیں بھارت کی ‘پہلی اور دوسری  دونوں جلدوں کا انتساب ’’معروف گاندھی وادی، سماجی خدمت گار، دلت خواتین  بیداری کے  رہنما پدم بھوشن ڈاکٹر بندیشور پاٹھک کی مسلسل کاوشوں کے نام ہے ‘‘اردو ترجمہ معروف ادیب و نقاد اور دانشور ڈاکٹر اسلم جمشید پوری  نے کیا ہےانہوں نے داکٹر لاری آزاد کی ’’پہلو دار شخصیت ‘‘  کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ ’’بیک وقت متعدد صلاحیتوں کا بہتر استعمال جانتے ہیں۔ ۔وہ ہندی اردو اور انگریزی میں کافی لکھ چکے ہیں۔ اُن (کی زیر نظر ) نثری نظموں میں نیا پن ہے۔ وطن کی پرچھائیاں ہیں، عوام کا درد ہے اورہندستان کا روتا بلکتا دل ہے۔ اُن کی نظموں میں جو کسک، تڑپ اور درد ہے وہ قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ ۔اور یہی ایک سچے فنکار کی کامیابی ہے۔

’ اداریہ ‘کے عنوان سے  دوسری جلد کےدیباچہ  یا پیش لفظ کے نیچے کتاب کے تینوں مدیران  کے اسمائے گرامی درج ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں :

’’دھڑکنیں بھارت کی ‘‘(اُن) چنندہ تخلیقات (پر مشتمل ہے ) جن کی اشاعت اتنی مشہور ہوئی کہ کتاب شایع ہونے سے قبل ہی تقریباً سبھی ہندستانی زبانوں میں ان کے تراجم ہوئے اور وہ بھی مشہور ہوئے۔ ۔۱۹۷۷ سے ۱۹۸۴(کا دور ) ہندستان میں ایمرجنسی کے بعد سے لے کر رام جنم بھومی اندولن کا ابتدائی (زمانہ ) تھا۔ ملک تاریخی تبدیلی سے گزر رہا تھا۔ عالمی سطح پر دہشت گردی (منڈلانے ) لگی تھی۔ انسانی تہذیب و تمدن میں تیزی سے (تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں )۔ڈاکٹر لاری آزاد بنیادی طور پر تاریخ داں ہیں۔ ان کے اندر کا شاعر تاریخ ساز تغیر کو آواز دیتا ہے۔ ملک کے ماضی سے گہری واقفیت  رکھنے کی وجہ سے ان کے الفاظ انقلابی بن گئے ہیں۔ وہ ہندستانی تہذیب و ثقافت کے رمز شناس ہیں۔ انہوں نے ’ماں بھارتی ‘ کے درد کو محسوس کیا۔ ملک کے باشندوں کے درد کو سمجھا اور وقت کی دھڑکنوں کو پہچانا۔ ۔۔ یہ نظمیں ہندستان کی دھڑکنیں شمار کرتی  نظر آتی   ہیں۔۔ڈاکٹر لاری کی شاعری میں دکھ درد ہے تو امید کی چٹانی لہروں کی قوس قزح کی موسیقی بھی ہے۔ ۔‘‘

ان کی ایک نظم کا عنوان ہے : چارپہلو۔ جو (۱)لاش (۲) جنازہ (۳) شمشان اور (۴)چتا  کے شاعرانہ بیان پر مشتمل  ہیں۔ اس کے  کچھ مصرعے  ملاحظہ ہوں :

’’گؤ کشی پاپ ہے۔ لیکن انسان کی بلی۔ ایک قابل معافی جرم ہے۔ ۔سزائے موت ہٹ گئی۔ اور اپنے ساتھ۔ انصاف کا خوف بھی لے گئی۔ اب تو گھر گھر میں۔ کھونٹیوں پر۔ لاشیں لٹک رہی ہیں ‘‘

’’۔۔ہاں قحط آیا ہے۔ وبائیں لایا ہے۔ مگر سائنس کے چمتکار نے۔ ایٹم بم بنایا ہے۔ اٹھے گا اب جنازہ۔ سارے عالم کی لاش کا ‘‘

۔۔’’اب تو پاس آگیا ہے۔ وہ شمشان۔ ۔کل ہی تو۔ چوراہے پر۔ آشا دیوی ستی ہو گئی۔ لوگوں نے وہیں۔جذبات کی بھی۔ بلی چڑھا دی۔ اب تو صرف۔ زندہ لاشیں ہی۔ بچی ہیں جلنے کے لیے ! ‘‘

 ’’۔۔کیسے جیوں۔ جب جینا ہے بے مقصد۔ ۔ملک ا لموت کے انتظار میں۔ زندہ لاشیں ہی۔ بچی ہیں جلنے کے لیے۔ ۔اب تو مایوس زندگی۔ خود اپنی۔ چتا جلا رہی ہے۔ ‘‘

۱۹۷۷ میں کہی گئی ایک نظم  ’وقت کی درار ‘ میں وہ کہتے ہیں : ’’چلچلاتی دھوپ میں۔ گرم ریتیلی زمین پر۔ ہم برسوں کھڑے رہے۔ جیسے منہ میں زبان ہی نہ تھی۔ نہیں۔ زبان تو تھی۔ لیکن اُس پر تالا لگا تھا۔ مجھے ڈر ہے کہیں۔ وقت کی درار میں۔ ہم کھو نہ جائیں۔ اور ہماری کہانی۔ ہڑپا اور موہن جودڑو کے۔ کھنڈہروں کی طرح۔ کسی وادی میں نہ دب جائے۔ ‘‘

      کتاب کی پشت پر شاعر کا جو تعارف درج ہےہم  آخر میں اُسی کو نقل کرتے ہوئے اپنا کالم تمام کرتے ہیں : ’’پروفیسر لاری آزاد نے  ماضی کی تین دہائیوں سے تہذیبی و ثقافتی فروغ اور سماجی خدمات میں پوری فعالیت سے نئی بلندیاں قائم کی ہیں۔ اپنے طالب علموں کے لیے وہ خود لائق مطالعہ بن چکے ہیں۔‘‘

مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close