دہلی میں عصری اردو صحافت- تصویر کا دوسرارُخ

نام کتاب —– "دہلی میں عصری اردو صحافت- تصویر کا دوسرارُخ”

مصنف: شاہد الاسلام
تبصرہ و تعارف : اشرف علی بستوی
قیمت : 350
پبلشر : ایجوکیشنل بک ہاوس ، نئی دہلی
مصنف کا رابطہ : 8802004854،9871719262
ای میل: shahid.hindustan@gmail.com

"دہلی میں عصری اردو صحافت- تصویر کا دوسرارُخ” نئی نسل کے نمائندہ صحافی شاہد الاسلام کی اُس تازہ کتاب کا نام ہے،جو ابھی چند روز قبل ہی ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس دہلی 6 سے شائع ہوئی ہے۔
اردو صحافت کے عصری منظر نامہ کو اپنا مرکزی خیال بنانے والی یہ کتاب دہلی کے وادی اردوصحافت کی منفرد اندازِمیں سیر کراتی ہے۔ اس میں اردو صحافت سے وابستہ حقائق اوربعض کڑوی سچائیوں کو انتہائی برجستگی اور بے باکی سے پیش کیا گیا ہے ۔ دراصل برجستگی اور بے باکی مصنف کے مزاج کا جزو لاینفک ہے جو ان کی تحریروں میں بدرجہ اتم میں نمایاں رہتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ کتاب عصری صحافت کا ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے جو نئی نسل کو اردو صحافت کی تاریخ دانی سے نکال کر نئے دور کے چیلنجوں سے نمتنے کی روشنی اور رہنمائی بھی فراہم کرتی ہے ۔
کتاب کی بڑی خوبی یہی ہے، مصنف نے عصری اردوصحافت کاجوآئینہ اس کتاب کے ذریعہ دکھایا ہے،اُس سے یہ گمان ہوتا ہے کہ عصری اردوصحافت خامیوں کا مجموعہ بن کر رہ گئی ہے۔
صاحبِ کتاب نے دہلی کے روزنامہ اردو اخبارات کے مزاج ، طریقہ کار اورسمت ورفتارکو تحقیقی انداز میں سامنے لانے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ "اردو اخبارات کا احتجاجی کردار کار لاحاصل کے سوا کچھ نہیں ہے ” ساتھ ہی اس کتاب میں اردوصحافت کی داخلی دنیا کی اُن سرگرمیوں سے بھی عام قارئین کو واقف کرانے کی بڑی حد تک کوشش کی ہے جہاں تک عام لوگوں کی رسائی آسان نہیں ۔
چار ابواب پر مشتمل اِس کتاب کا مقدمہ شاردا یونیورسٹی میں جرنلزم کے شعبے سے وابستہ معروف انگریزی صحافی شاہین نظر نے تحریرکیا ہے جوخاصا وقیع ہے۔
اسی طرح اردوادب کے معروف نقاد حقانی القاسمی نے بھی’’بے چہرہ صحافت کا منظرنامہ‘‘ کے عنوان سے کتاب کا موثر انداز میں تعارف کرایا ہے موصوف ایک جگہ رقم طراز ہیں کہ ” ہاں شاہدالاسلام نے بڑے اخبارات سے متعلق جو لکھا ہے اس سے اتفاق کرنا پڑے گا کہ ان اخبارات نے بھی اردو صحافت کے وقار اور معیار کو مجروح کیا ہے ” .
چار ابواب پر مشتمل اس کتاب کے عناوین کچھ یوں ہیں
اول
صحافت کاآغازو ارتقا*دہلی میں اردو صحافت کی ابتدا*دہلی میں روزنامہ اردوصحافت کاآغاز*بیسویں صدی کے اوائل میں دہلی کی اردو صحافت*آزادی کے بعددہلی میں اردو صحافت*مختلف الجہات تبدیلیوں کا دور*
دوم
دہلی کی اردوصحافت کودرپیش چیلنجز*بنیادی مسئلہ -وجودکی برقراری*اخبارات کی سرپرستی کامسئلہ*قارئین کی تشویشناک حد تک کمی*اردواخبارات کے محدودوسائل* صحیفہ نگاری کااندازو آہنگ
زردصحافت اور اردو*مقامی خبروں کی کمی* اورخبررساں ایجنسیوں کامسئلہ*کمرشیل اشتہارات کی فراہمی کامسئلہ*سرکولیشن کا مسئلہ * سرکولیشن سے متعلق حیران کن حقیقت
سوم
اردوصحافت اورجدیدتکنیکی وسائل*ابلاغ وترسیل اور اس کی ارتقائی صورت گری*جدید ذرائع ابلاغ اور اردوصحا فت * عہد بہ عہداردوصحافت کی ارتقا کی کہانی،جدید تکنیک کی زبانی
چہاررم
*ہم عصرصحافت اوراردوصحافت-تقابلی جائزہ*اردوصحافت کی علاحدہ دنیا*صحافتی تقاضے*صحافت کااسلوب وآہنگ*اردوصحافت اور احتجاج*صحافت اور اخلاقیات۔
مجموعی لحاظ سے کتاب دلچسپ بھی ہے،معلوماتی بھی اور’حیران کن حقائق‘ کو پیش کرنے کی وجہ سے تعجب خیز بھی!



⋆ اشرف بستوی

اشرف بستوی
اشرف بستوی معروف اخبار سہ روزہ دعوت کے نائب مدیر اور اردو کے مشہور و معروف نیوز پورٹل ایشیا ٹائمز کے مدیر اعزازی ہیں۔ آپ آل انڈیا آئیڈیل جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے موسس بھی ہیں۔ آپ ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

ہر دو ہفتے میں ایک مادری زبان ختم ہو رہی  ہے!

دنیا  میں 7 ہزار سے زائد زبانیں  بولی جاتی ہیں، صرف ہندوستان  میں  22 زبانیں سرکاری  درجہ رکھتی ہیں اور کل 1635 مادری زبانیں   پائی جاتی ہیں۔ ان میں اردو کا شمار دنیا کی موثر ترین اور سب سے زیادہ بولی  جانے والی زبانوں میں ہوتا ہے، ایک جائزے کے مطابق ہندوستان میں 5 کروڑ سے زائد لوگ اردو بولتے ہیں ۔ یوم مادری زبان کا اصل مقصد  دنیا بھر میں تہذیب و ثقافت کی اس گونا گونیت کو قائم رکھنا ہے جس سے دنیا  کی خوبصورتی برقرار رہ سکے۔