تبصرۂ کتب

ذوق ادب (حصہ دوم)

فواد کیفی

(لکھمنیا۔ بیگوسراۓ۔)

 سماج یعنی معاشرہ کی تشکیل ہوتی ہے

افراد سے۔ اچھے،نیک اور صالح افراد سے اچھا اور صالح معاشرہ بنتا ہے۔ سماج کی بقا اسکی اپنی تیزیب و تمدن کے ساتھ ارتقاٸ منازل طۓ کرتی ہے۔۔۔دیگر لفظوں میں، کسی سماج کی تہزیب و تمدن ختم، مطلب اس سماج نے آخری سانس لے لیا۔ تہزیب و تمدن کی عمارت جن ستونوں پر کھڑی رہتی ہے ان ستونوں میں سے ایک اہم ستون ہے۔”علم“ اور ”علم“کا جزوی عنصر ہے ”زبان“۔

    زبان جب اپنی تمام ارتقاٸ مراحل طۓ کرکے بولنے کے لایق تیار ہو جاتی ہے تو سماج اسے اپنے استعمال میں لاتا ہے۔اسی زبان کے سہارے مقرر تقریر کرتے ہیں، ادیب اپنی تخلیق پیش کرتے ہیں اور اسی زبان کی جانکاری کی بنا پر قارین اسے پڑھتے ہیں اور سامعین اسے سنتے ہیں۔ کسی سماج کی زبوں حالی کا اصل سبب زبان کا انحطاط اور مستقل زوال ہونا ہوتا ہے۔لیکن تاریخ اس بات پر بھی شاہد ہے کہ جب جب سماجی تہزیب وتمدن پر اس طرح کے خطرات منڈلاے ہیں یہی اہل زبان اور اہل قلم نے اپنی تصنیف،تقریر اور تحریر سے اسے سنبھالا ہے۔

دور حاضر میں بھی ہمارا سماج تہزیبی و تمدنی لحاظ سے اپنی زبوں حالی کا قصہ پیش کرتا نظر آرہا ہے۔ معاشرے میں ہر طرف افرا تفری،بے ہنگمی،اور آہ وفغاں کا عالم ہے۔ہمارے معاشرے میں ”علم“ یعنی ”علم صالح“ کا فقدان صاف ظاہر و عیاں ہے۔آج ہمارے معاشرے میں ایسا کوٸ نظام تعلیم نہیں جو نوجوانوں کے اندر احساس بے داری پیدا کرے۔بلکہ اس کے برعکس دور حاضر میں فرنگی سازشوں کے تحت ایسے ایسے بیہودہ انتظام بازار میں دستیاب ہے کہ جس سے کسی طور بھی تعمیری زہن نمو پا ہی نہیں سکتا۔۔۔رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے آکر نکال دی، گرچہ اس معاملے میں زرا اختلاف بھی ہے کہ یہ ساتھ ساتھ بہت فایدے کی چیز بھی ہے۔۔۔بات صحیح ہے لیکن ان کے لیے ہے جو زہنی طور پر مستحکم Matured ہیں ….لیکن نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ جو اس کے استعمال میں ایسا لگا ہوا ہے کہ کب صبح ہوٸ خبر بھی نہیں۔ ۔۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا نوجوان طبقہ احساس کمتری  اور بے راہ روی کا شکار ہوتا نظر آرہا ہے۔ہر کس و ناکس لا یعنی اور بے سمت زندگی جیے جانے پر مجبور نظر آتا ہے۔طرح طرح کی اخلاقی بیماریوں کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔اب نہ بڑے بزرگوں کا احترام رہا اور نہ بچوں کے ساتھ شفقت۔ نہ وہ دینی مزاج باقی رہا اور نہ صوم وصلاة کی پابندی، نہ ماں کی عظمت کا خیال نہ باپ کا ڈر۔

ایسی ہی اور اسی طرح کی اخلاقی بے چیینی اور اضطراب کی کیفیت دیکھتے دیکھتے، دل برداشتہ ہو کر ”حاجی عبداللہ حسینی صاحب“ اپنی دوسری کتاب ”ذوق ادب حصہ دوم “ لیکر آتے ہیں اور پوری للکار کے ساتھ سماج کے ان ذہنی بیمار،اخلاقی طور پر گر چکے افراد، خصوصاًنوجوانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ اور اپنی اس کتاب کے ذریعے نوجوانوں کوکچھ اس طرح   ہشیار اور بیدار کرنے کے لیۓ علامہ اقبال کےاس سبق کا آموختہ کراتے ہیں۔ ۔۔۔کہ بقول اقبال

 دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر 

 نیا زمانہ، نی صبح و شام پیدا کر     

   خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو

    سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر

عبداللہ حسینی صاحب نے ساکت پڑے لالہ وگل سے بات بھی کیا، انہیں متنبہ بھی کیا،دینی قصے اور واقعات بھی سنواۓ،انکے اندر اسلامی ازکار اور اسلامی افکار کے مزاج بھی بناۓ،اور اسکے دیرینہ فایدے بھی گنواۓ۔خوشخبری بھی سنواۓ۔۔۔۔۔”ذوق ادب حصہ دوم“میں زیادہ ترمزہبی،دینی،تربیتی، دعوتی،اور اصلاحی  مضامین موجود ہیں۔ جو اپنے تمام فنون ادب اور نکتہ لسانیات سے مربوط و مستحکم ہیں۔ لیکن انکا طرز بیان اور اسلوب نگاری دیگر دینی مضامین سے ہٹ کر ہے۔ ۔۔یہاں پڑھنے والوں کو ایک نگاہ میں بیشک یہ کہانی، یا منی افسانہ لگے مگر در حقیقت موصوف نے سماج کی اخلاقی قدریں جو تباہی کی طرف گامزن تھیں، اس پر ایک زبردست قدزن لگانے کا کام کیا ہے۔جس میں وہ صد فی صد کاامیاب نظر آتے ہیں۔

١١٠ صفحات اور ٣٠ عناوین پر مبنی اس میں کٸ ایسے مضامین ہیں جیسے ” تربیت “ ”لہو و لعب“ ” خیالات“” نسلاًبعد نسلاً“ اولاد کی گود “وغیرہ  ”جسے آج کا نوجوان اگر ایک بار پڑھ لے تو یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ سماج میں پھیلی ان اخلاقی خرابیوں میں خاطر خواہ کمی نظر آیگی۔ موصوف کی طرز تحریر کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ انکی ہر تحریر میں ”تعلیم“ درس و تدریس“ نظام تعلیم“اور بزرگ ہستیوں اور استاد کی عظمت کا احترام اور اظہار جا بجا نظر آتا ہے۔اسکی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کی حاجی عبداللہ حسینی صاحب بزات خود تدریسی محکمہ کے بڑے عہدے سے منسلک تھے اور دوسرے یہ کہ انکا حلقہ احباب ہمیشہ ایسا زی شعور صاحب بصیرت لوگوں کا رہا جس سے معاشرے کو ہمیشہ کچھ نہ کچھ ملتا ہی رہا ہے۔ بات چاہے استاد ”سچدانند بابو“ کی ہو یا تزکرہ مولانا ”شمس الضحیٰ صاحب مرحوم لکھمنیا “اور مولانا ”بلال صاحب مرحوم لکھمنیا“ کا ہو، انہوں نے بڑے اچھے انداز سے ان بزرگوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔حاجی صاحب کے رگ و ریشے میں اسلامی تہزیب اور اسلامی تعلیم پیوست ہو چکی ہے۔۔۔۔بقول علامہ اقبال کے۔۔

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اپنی خودی کو 

ہو جاۓ ملایم تو جدھر چاہے ادھر پھیر

اور جب کوٸ تعلیم کے تیزاب میں غرق ہو کر ملایم ہو جاتا ہے تو پھر اسی طرح کی کتابیں لکھ ڈالتا ہے۔جن میں ”بچوں کی پرورش و پرداخت“ پر بھی بحث ہو اور ”عورتوں کے پردہ“کے مشورے بھی ہوں، سوشل میڈیا فیس بک اور واٹس اپ پر ہونے والے ”لہو و لعب کے “تعلق سے بھی بات ہو اور  تعلیمی نظام پر تنقیدی چوٹ ہو اور دہشت گردی کے مسایل  اور اسباب کا بھی تزکرہ ہو۔ساینسی مضامین پر تفصیلی عرق ریزی بھی  ہو اور  ادبی لطایف بھی موجود ہوں۔ ہر طرح کے پھولوں کو ایک گلدستے  میں پرو دینے کا ہنر آہی جاتا ہے۔ اس کتاب کے زریعہ مصنف نے خواب غفلت میں میٹھی نیند  سوۓ ہوۓ معاشرے کو جگانے کا کام کیا ہے۔ ۔بقول خورشید طلب کے چند اشعار میں اس بات کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ

سو چکے اک عمر اب جاگیں گے ہم

طے ہوا دن ہو کہ شب جاگیں گے ہم

۔

جاگنے کی غرض وغایز کچھ تو ہو

کب تلک یوں بے سبب جاگیں گے ہم

۔

اب تو سورج بھی سوا نیزے پہ ہے

اب نہیں جاگے تو کب جاگیں گے ہم

ذوق ادب حصہ دوم۔ ۔۔میں حاجی صاحب نے مجھ ناچیز کے ےاس مضمون کو بھی شامل کر دیا جو میں نے انکی پہلی کتاب ”ذوق ادب حصہ ایک“ پر حاصل مطالعہ کے تحت لکھا تھا جو مقامی اخباروں میں شایع بھی ہو چکا تھا۔

آخر میں اتنا ہی کہونگا بظاہر یہ کتاب چھوٹی سی ہے مگر معنوی اعتبارسے یہ بہت گہری، وزنی اور کار آمد ہے۔آپ تمام لوگ اسکا مطالعہ کریں اہل خانہ کو پڑھوایں، احباب کو دیں  انشاء اللہ ثود مند ثابت ہوگا۔

تصنیف: حاجی عبداللہ الحسینی

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close