تبصرۂ کتب

روشنی کے مینار: مسلم وغیرمسلم شاعروں کا عقیدت مندانہ کلام

یکجہتی اور ہم آہنگی کو اُجالتی ایک روشن کتاب

تعارف و تبصرہ : وصیل خان

کتاب کا نام  :  روشنی کے مینار ( مسلم وغیرمسلم شاعروں کا عقیدت مندانہ کلام )
تجویز        :  لارڈ غلام نون۔ ترتیب: شمس الدین آغا۔ تعاون:دھرمیندر ناتھ
قیمت        :  300روپئے  صفحات  : 320
ناشر         :  ایڈ شاٹ پبلی کیشنز، ممبئی
رابطہ        :  اطہر عزیز، ایڈ شاٹ پبلی کیشنز 104-Bاسمیتا آسکن 111، نیا نگر میرا روڈ ( ایسٹ ) ممبئی 401107فون : 022-28110972، موبائل : 09987025932ای میل : athar.adshot@gmail.com

زبان کوئی بھی ہو اور کسی خطے اور علاقے میں بولی جائے اس کا اعزاز و احترام اس لئے ضروری ہے کہ وہ دو انسانوں کے مابین مافی الضمیر کی منتقلی کا بہت بڑا ذریعہ ہوتی ہے۔کتنی عجیب بات ہےکہ اب زبان جیسی تہذیبی و معاشرتی شئے کو بھی لسانی نزاع و تعصب کا معاملہ بنادیا گیا ہے۔ جس کے بغیر ایک دوسرے کے قلبی جذبات سے واقفیت تو دور کی بات باہمی تعارف بھی دشوار ہوتا ہے۔ لیکن جس زبان کو یہ اعزاز حاصل ہوجائے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر انسانوں کے درمیان ربط و اتصال پیدا کردے تو اس کا درجہ و احترام سوا ہوجاتا ہے۔ اردو زبان کا شمار بلاشبہ اسی زمرے میں ہوتا ہے۔ جس کی آفاقیت نہ صرف ہر جہت سے مسلّم و منفرد ہوچکی ہے بلکہ اسے بین الاقوامی رابطے کی زبان کے طور پر بھی تسلیم کرلیا گیا ہے،  یہ زندہ زبان ہے، جس کا سب سے بڑا ثبوت یہی ہے کہ آزادی کے فوراً بعد سے ہی سرکاری سطح پر مسلسل بے توجہی اور عتاب کا شکار ہونے کے باوجود یہ زبان نہ صرف پوری طرح سے زندہ و تابندہ ہے بلکہ ایک خاص شان و شوکت کے ساتھ بارآور بھی ہورہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ اپنوں کی سرد مہری، خود غرضی اور بے التفاتی نے اس کے بڑھتے قدم روک لئے ہیں ورنہ اس کے پاؤں کب کا نشان منزل کو چھو گئے ہوتے۔

ایڈ شاٹ پبلی کیشنز کی بھی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ وہ اردو زبان و ادب کے حوالے سے مختلف الموضوع کتابیں قارئین کی نذر کرتا رہے جو صوری و معنوی دونوں طرح سے منفرد ہو ں۔ ’ روشنی کے مینار ‘ اسی سلسلے کی ایک تازہ کڑی ہے جو ابھی حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے جس میں کچھ مسلم اور غیرمسلم شعراء کے عقیدتمندانہ کلام شامل ہیں، جو زیادہ تر حمد ونعت پر مشتمل ہیں۔ اس کتاب کے محرکین لارڈ غلام نون، شمس الدین آغا، دھرمیندر ناتھ اور اطہر عزیز وغیرہم ہیں جنہوں نے اپنے اپنے حصے کا کام خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کرتے ہوئے اس کتاب کو انتہائی دیدہ زیب اور قابل مطالعہ بنادیا ہے۔ اس انتخاب میں شامل بیشتر شعراءوہ ہیں جو بڑی حد تک معروف ہیں، لیکن ان شعراء کی بھی تعداد کم نہیں ہے جو کسی سبب شہرت کی بلندیوں کو تو نہ چھوسکے لیکن فنی و فکری اعتبار سے ان کا کلام معیار پر پہنچا ہوا ہے۔

بہر حال اس کتاب کی دستاویزی حیثیت سے اس لئے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس کے ذریعے ادب کا ایک ایسا کام ہوگیا ہے جس کی دوسری کوئی نظیر ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔یہاں یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم شمس الدین آغا جو اس کتاب کے محرک و مرتب ہیں ان کا ایک اقتباس نقل کردیں جس سے اس کتاب کی ضرورت و اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ہندو مسلم منافرت کے ا س دور میں اس طرح کی کتابوں کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس کی جارہی ہے۔ وہ رقمطراز ہیں ’’ اردو ہماری گنگا جمنی تہذیب کی نمائندہ زبان ہے۔ ہندوستان کی جنگ آزادی میں اس زبان کا ناقابل فراموش رول رہا ہے۔ یہ زبان محبت، موافقت اور میل جول کا سرچشمہ ہے۔ مذہبی رواداری، قومی یکجہتی، باہمی ملاپ اس زبان کی سرشت میں رچی بسی ہوئی ہے۔ اردو شعرو ادب کی توسیع و اشاعت میں جوش ملیح آبادی، علامہ اقبال، فیض احمد فیض جیسے ان گنت مسلم ادیبوں و دانشوروں کے شانہ بشانہ منشی پریم چند، کرشن چندر،  ہرگوپال تفتہ،  دیا شنکر نسیم، چکبست، اور فراق گورکھپوری جیسے کئی مسلم دانشوروں، افسانہ نگاروں کی خدما ت بھی شامل حال رہی ہیں۔ لندن میں مقیم ہمارے ہمدم دیرینہ لارڈ جی کے نون نے ہمیں مشورہ دیا کہ کیوں نہ ایک ایسی کتاب ترتیب دی جائے جس میں مسلم و غیر مسلم شاعروں کے عقیدتمندانہ کلام شامل ہوں تاکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی مناسب نمائندگی ہوسکے۔ ‘‘

کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلے حصے میں سوکے قریب غیر مسلم شعراء نے جہاں حمد باری تعالیٰ، نعت رسول ؐ اور اہل بیت اطہار کی شان میں اشعار کہے ہیں وہیں ہندو دیوی دیوتاؤں کی تعریف میں مسلم شعراء کے کلام کے نمونے بھی موجود ہیں اور اس اہتمام کے ساتھ کہ سبھی شعراء کے جملہ کوائف بھی مختصراً درج کردیئے گئے ہیں۔ 320صفحات پرمشتمل اس کتاب کو اردو کے ساتھ ہی دیوناگری میں بھی پیش کیا گیا ہے تاکہ جو لوگ اردو سے واقف نہیں وہ بھی مستفید ہوسکیں۔

موجود ہ مخدوش صورتحال کو دیکھتے ہوئے جب ایک دوسرے کو سمجھے بغیر اندھوں بہرو ں اور گونگوں کی زندگی گزارتے ہمیں ایک طویل عرصہ بیت چکا ہے۔ دیوالی مبارک ہو، کی جگہ محرم مبارک ہو، سننے کی نوبت بھی آچکی ہے۔ آخر ایسا کب تک ؟ کب تک ہم دیوار سے دیوار، دکان سے دکان ملے پڑوسی ایک دوسرے کیلئے انجان بنے رہیں گے اور پھر، اجنبی بن کر ایک دوسرے کو بھنبھوڑتے اور خون پیتے رہیں گے۔ اب تو شاید جانور بھی آپس میں ہم سے زیادہ بہتر طور پر رہتے ہیں۔

یہ کتاب ہمارے درمیان کی مغائرت، سفاکیت اور اجنبیت کو دور کرنے میں یقینا ً مددگار ثابت ہوگی،جو ایک عرصہ ٔ طویل سے ہمارا مقدر بنی ہوئی ہیں۔ دیدہ زیب مجلد اور رنگین سرورق، نفیس کاغذ اور خوبصورت طباعت والی اس کتاب کے طابع و ناشر اطہر عزیز ہیں جو ایڈ شاٹ پبلی کیشنز کے زیراہتمام اب تک متعدد کتابیں شائع کرچکے ہیں۔ اطہر صاحب ایوان ادب میں آپ کی اس خوبصورت پیشکش کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں۔

مزید دکھائیں

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

متعلقہ

Back to top button
Close