تبصرۂ کتب

شہر کی انگلیاں خونچکاں: ایک مطالعہ

مصنف: پروفیسرحمید سہروردی

مبصر: عزیز سہیل

        قومی سطح پر بحیثیت افسانہ نگار ایک منفرد مقام رکھنے والی شخصیت کواردودنیا پروفیسر حمید سہروردی کے نام سے جانتی ہے۔ افسانہ نگاری کے حوالے سے پروفیسر حمید سہروردی ایک معتبر نام ہے۔ ا ن کی کئی ایک تصانیف منظرعام پرآئی ہیں۔ ان کی کتابوں کواردوحلقوں میں بہت زیادہ مقبولیت بھی حاصل ہوئی ہیں، ان کے لائق و فائق فرزند ڈاکٹرغضنفراقبال بھی ملک گیرسطح پربحیثیت ادیب اپنی ایک منفردشناخت رکھتے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں پروفیسر حمید سہروردی کے افسانوں کا مجموعہ شہر کی ’’انگلیاں خونچگاں‘‘ کے عنوان سے منظرعام پرآیا،اس تصنیف کا نام بھی منفرد ہے، یہ افسانوی مجموعہ قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان نئی دہلی کے مالی تعاون سے اشاعت پذیر ہوا ہے۔ اس کتاب کے ناشر کاغذ پبلشرز گلبرگہ ہے۔ حمیدسہروردی نے اپنے اس افسانوی مجموعہ کو’’ معاصرافسانہ نگاروں کے نام‘‘معنون کیاہے اورافسانوی انداز میں لکھا ہے کہ ’’ ہم لوگ کون سے سفر سے گذررہے ہیں اورکیوں ‘دھند چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے‘اب راستے بھی گمان کی نظرو ں سے بے اختیار ہوگئے ہیں‘ ساری سرحدیں بلند ہواکرتیں ‘پتہ نہیں کون چرالے جاتے ہیں نقش قدم‘‘۔

        زیر نظرافسانوی مجموعہ میں 76افسانے شامل کیے گئے ہیں۔ کتاب کاٹائٹل دیدہ زیب اور دلکش ہے۔ کتا ب ہارڈ بائونڈ بیانڈنگ پرمشتمل ہے۔ کتاب کے اوپر جیاکٹ کور بھی شامل کیاگیاہے۔ جیکٹ کے دنوں جانب پروفیسر حمید سہروردی ہی کے دواقتباسات شامل ہیں۔ ان اقتباسات کے مطالعہ ان کے وجود،شخصیت اور فکری پہلوؤں کا خوب اندازہ ہوتا ہے۔ پہلا اقتباس ملاحظہ ہو ’’ میں ‘ اس زمین پرپیدا ہوا جس کا احساس میں ‘کو وجدانی اور روحانی لمحوں میں شدت سے ہونے لگتا ہے جہاں اردو کے اولین نثرنگار حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ اپنا ابدی سفر طے کررہے ہیں۔ میں ‘ کا شدید ترین احساس ہے کہ ’میں ‘جوکچھ ہے ان ہی بزر گ ہستیوں کی دعائوں کا اثر ہے ورنہ ’میں ‘ کی اس پھیلی ہوئی کائنات میں کیاحیثیت ہے‘‘۔

        دوسرا اقتباس ’’ میں ‘ نے صاف کاغذاٹھایا‘اوراس پرآڑی ترچھی لکیریں کھینچنا شروع کردیں ’’میں ‘‘ کولگاکہ اس کے ذہن ودل میں الفاظ کلبلارہے ہیں اور ’’میں ‘‘الفاظ کاغذ پرپھیلاتارہا۔ الفاظ ’’میں ‘‘کے اپنے تھے۔ ’’میں ‘‘نے الفاظ کے لیے کشکو ل کسی کے آگے نہیں بڑھایا۔ ’’میں ‘‘ حیطہ تحریر میں کائنات میں پھیلی ہوئی تمام اشیاء سے اپنے رشتے کی کھوج لگانا چاہتا ہے۔ اشیاء کے ساتھ ساتھ علامتوں کاایک بیکراں جال ’’میں ‘‘ کی نظروں کے سامنے ہے۔ ’’میں ‘‘تخلیقی اور غیرتخلیقی کی بات نہیں کرتا کیوں کہ ان دنوں تخلیقی اور غیرتخلیقی کی دھماچوکڑی سے تخلیقی شناخت مشکل ہی نہیں ناممکن ہوگئی ہے۔ ‘‘

        زیر مطالعہ کتاب کے ابتداء میں باضابطہ کوئی پیش لفظ اوراپنی بات شامل نہیں ہیں۔ راست طورپر افسانوں کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ دواقتباسات حمیدسہروردی کی شخصیت اور ان کی تخلیق نگاری کو سمجھنے میں کافی اہم رول ادا کرتے ہیں۔ حمید سہروردی نے یوں تو سینکڑوں افسانے لکھے ہیں لیکن ان کایہ مجموعہ اس لیے بھی اہمیت کاحامل ہے کیوں کہ اس میں ان کے مقبول افسانے بھی شامل ہیں۔ اس کتاب میں شامل 76افسانوں میں سے چند ایک کے عنوانات یہاں پیش کئے جارہے ہیں جو کچھ اس طرح ہیں۔ امیر بخش کون؟‘ احساس کی یاترا‘ کالے گلاب‘ خواب درخواب‘روشن لمحموں کی سوغات‘دشت ہوکی صدائیں ‘ منظروں سے ڈوبتی ابھرتی کہانی‘اِدھر اُدھر‘ شاہ جو کی چاندی اور زمین کی گمشدگی‘عقب کا دروازہ‘کربلا بہت دور ہے ‘سمندر ‘کہانیاں در کہانی ‘سفید کوا‘ کھوئے راستوں کی شرط‘ بکھرے ہوئے دن‘ نہیں کا سلسلہ ہاں سے و غیرہ۔

        زیر نظر کتاب میں شامل پہلا افسانہ امیر بخش کون؟ کے عنوان سے شامل ہے۔ جو کہ ایک اصلاحی افسانہ ہے جس میں امیر بخش کے خواب میں بزرگ کا تذکرہ ہے جن کے سامنے امیر بخش اپنے وجود کے ہونے اور نہ ہونے کا رونا رو رہا ہے۔ اس افسانہ میں پروفیسر حمید سہروردی کا اسلوب ملاحظہ کریں

        رات گہر ی ہوتی جارہی ہے۔ کیا مجھے کسی نے پکار……‘‘امیر بخش ؟

        نہیں ……میرانام توسلطان احمدہے۔

        نیند کی وادیو ں میں بے خوف آنکھیں جسم اور روح کے درمیان کرب تماشہ اوراس سے پرے ہنوز ایک انسانی جسم جوغیرمصروف واقعات سے نبردآزمانورانی چہرہ‘لمبی سفید داڑھی‘سرپر صافہ‘ہاتھ میں تسبیح اورمیں جسم وروح کے درمیان کرب ِ تماشہ……بزرگ گویا ہوئے۔ سچ ہے برخوردار!رات آرام کے لیے بنائی گئی ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ روح بھی پتھر کے مانند ساکت و جامد ہو اور جسم محض ایک خوش نما اور دیدہ زیب پیکر۔

        اس افسانوی مجموعہ میں شامل دوسرا افسانہ’’ احساس کی یاترا‘‘ کے عنوان سے شامل ہے۔ جس میں افسانہ نگار نے ایک شخص کی نیند سے بیداری اور کرب و الم کے عالم میں اپنے وجود کے احساس کا منظر کھینچا ہے اور آدمی کے اپنے جسم کے رشتہ کے مکالمہ کے ذریعے مال و حرص کی بھاگ دوڑ میں دھوکہ دہی،امانت میں خیانت پر اپنے آپ کی ملامت کرتا ہے، اپنے ضمیر کو جگانے کے واقعہ کو بیان کیا ہے، یہ افسانہ بھی فرد کی اصلاح کرتا ہے۔ یہ اقتباس دیکھیں ؎

         اف فوہ! اتنی بھیانک رات…… میرا دل کیوں گھبرارہا ہے کیا کیا جائے؟؟؟خالد اپنے لمبے لمبے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگتا ہے اور گردن کوکسی قدر جھٹکا دیتے ہوئے اچانک اپنے دونوں ہاٹھ اُٹھاکرچھت کی طرف دیکھتا ہے اور دعائیہ انداز میں کہنے لگتاہے:’’ اے لامحدود طاقتوں کے مالک !کوئی حل توپیدا کر ‘میں تیرا حقیر وفقیر بندہ ہوں۔ ‘‘اس کے لہجے میں عاجزی وانکساری صاف محسوس ہورہی ہے مگر وہ پرندہ جو اس کے گھرپر منڈیر پربیٹھا ہواتھا وہ تو اڑگیا……وہ لمحہ جو کئی گزرے ہوئے لمحوں کا وقار تہس نہس کرگیا۔ ’’پھر میں نے کیاکیا……‘‘

        زیر نظر افسانوی مجموعہ میں شامل چوتھاافسانہ’’ خواب در خواب‘‘ کے عنوان سے شامل کیا گیا ہے۔ اس افسانہ میں رومانی انداز کے ذریعے عاشق اور معشوق کی آنکھوں ہی آنکھوں میں چاندانی رات میں ہونے والی گفتگوجس کا موضوع آزادی نسواں ہے کے ذریعے مرد اور عورت کی برتری سے رشتہ میں پیدا ہونے والی خلیج کو بیان کیا گیا ہے۔ افسانہ میں افسانہ نگار کے انداز کو محسوس کریں ؎

        ’’تم نے ٹھیک کہا ‘کس نے کہاکہ مرد اپنے مرد ہونے پرفخرکرکے عو رت کودوسرے درجے تک لے آتا ہے۔ شائد تمہارے ذہن کی کوتاہی اوراحساس کے محدود ہونے کانتیجہ ہے ورنہ تمام مظاہر میں بھی تم اتنی ہی اہم ہو جتنا کہ مرد ……تم نے کہاہے تو سوچوں ‘جب تک عورت اپنے وجود کواپنے اعتماد سے پُرنہیں کرلیتی تب تک اسے کوئی وجودیعنی مرد قبول نہیں کرسکتا۔ عورت تو خود کو مجازی زبان میں رنگ لینا چاہتی ہے۔ مردکواس سے کوئی لمحہ بچانہیں سکتا کہ وہ عورت کواس لمحہ میں حیات دے۔ یہ مرد کی اعلیٰ ظرفی ہوئی۔ تم تواب سبھی جگہ ہو۔ مرد کے شانہ بہ شانہ……‘‘

        حمید سہروردی کے ان افسانوں میں تصوف کا رنگ خوب نمایاں نظرآتا ہے تو دوسری جانب رومانیت کا ہلکہ سا پرتو بھی۔ وہ کہانی کے کرداروں کوپیش کرتے ہوئے فکری احساس کو جگانا چاہتے ہیں اورافسانے کے اختتام پربات ہی بات میں ایک پیغام دے جاتے ہیں۔ حمید سہروردی کے افسانے عصر حاضر میں رونما ہونے والے واقعات کا احاطہ بھی کرتے ہیں، افسانہ عموما مختصر ہوتا ہے جس میں پوری زندگی کا نچوڑ پیش کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی بلکہ زندگی کے کسی ایک حصہ اور کردار کو بیان کیا جاتا ہے ٹھیک اسی طرح حمید سہروردی نے بھی مختلف کرداروں کی زندگی کے ایک رخ کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔ حمید سہراوردی کے یہ افسانہ فن افسانہ کے کسوٹی پر کھرے اترتے ہیں وہ ایک منجھے ہوئے افسانہ نگار ہے جن کے قلم میں تجربات کو نچوڑ اور فن کی پختگی کو نمایاں طور پر محسوس کیا جاتا ہے، ان کے یہ افسانے اصلاح سازی کاایک اہم ذریعہ ہے۔ پروفیسر حمید سہروردی جس زمین سے تعلق رکھتے ہیں وہ زمین صوفیانہ اہمیت کے اعتبار سے کافی اہمیت رکھتی ہے۔ خواجہ بندہ نوازؒکے دربار سے حمیدسہروردی کی خصوصی وابستگی رہی ہے اور ان کایہ صوفیانہ رنگ ان کے افسانوں میں محسوس کیاجاسکتا ہے۔ میں حمید سہروردی کو’’شہر کی انگلیاں خونچکاں ‘‘کی اشاعت پردلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ان کے یہ افسانے اردوادب کے سرمایہ میں اضافہ کا باعث ہیں۔ حمید سہروردی اردوکاایک عظیم اثاثہ ہے۔ ان کی تحریریں جنوبی ہند بلکہ ہندوستان کی سطح پرانفرادیت رکھتی ہے۔ یہ افسانوی مجموعہ 524صفحات پرمشتمل جس کی قیمت 267روپئے رکھی گئی ہے جو کاغذ پبلشر ز‘زبیر کالونی ‘ہاگرگا کراس ‘رنگ روڈ ‘گلبرگہ 585015(کرناٹک)سے حاصل جاسکتی ہے۔

مزید دکھائیں

2 تبصرے

  1. پروفیسر حمید سہروردی صاحب کے افسانے اپنے اندر معنویت کا ایک سمندر لیے ہویے ہیں ۔ امیر بخش کون اور عقب کا دروازہ میں نے بیسوں بار پڑھا ہے ۔ منفرد اسلوب اور تصوف کارنگ افسانوں کا خاصہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close