عشق محمد صلی اللہ علیہ وسلم

محمد اسعد فلاحی

علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں قائم سیرت کمیٹی نے گزشتہ کئی برسوں سے محبان رسول کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ اس کے ذریعہ ہرسال ’’ سیرت رسولؐ‘‘ کے عنوان کے تحت تحریری وتقریری مقالمے منعقد کیے جاتے ہیں۔ مقابلہ میں ممتاز کار کردگی کرنے والوں کوانعامات سے نوازا جاتا ہے ملکی سطح سیرت کے عنوان سے ایک خصوصی سیمینار کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے، جس میں اہلِ علم حضرات اپنے قیمتی مقالے پیش کرتے ہیں۔ بعد میں انہیں یکجا کرکے افادۂ عام کے لیے کتابی شکل میں شائع کردیا جاتا ہے۔ یہ کام 2015ء سے جاری ہے۔ چنانچہ 2015ء میں ’ذکر محمدؐ ‘2016میں ’فکر محمدؐ‘ اوراب 2017میں عشق محمدؐ کے نام سے مقالات کے مجموعے شائع کیے گئے ہیں۔

ایک حصہ تعلیماتِ سیرت کے عنوان سے ہے۔ اس میں سیرت سے متعلق دس (10) بیش قیمتی مقالات شامل ہیں۔ دوسرے حصے میں’ تقریباتِ سیرت‘ سے متعلق مضامین ہیں۔ اس میں کمیٹی کی جماعت سے منعقدہ مقابلہ جات، اجلاس اور سیمینار کی روداد میں شامل کی گئی ہیں۔

محبانِ رسول کوبیش قیمتی تحفہ دینے کے لیے سیرت کمیٹی کے تمام ممبران مبارک باد کے مستحق ہیں۔ کتاب اس معنی میں بہت قیمتی ہے کہ اس میں سیرت رسول کو موجودہ حالات کے اعتبار سے بیان کیا گیا ہے۔ فاضل مرتب نے حرفِ آغاز میں ’’ محبتِ رسول اور عشقِ رسول ؐ پر مختصر روشنی ڈالی ہے اور علامہ اقبال کے اشعار کے حوالوں کے ساتھ اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ محبتِ رسول اور عشقِ رسول دونوں مترادف اصطلاحیں ہیں۔ یہ بات درست نہیں معلوم ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں اصطلاحوں میں معنیٰ ومفہوم کے اعتبار سے زمین آسمان کا فرق ہے۔ عشق ایک دیوانگی ہے جوعاشق سے عقل وشعور سلب کرکے اسے پاگل پن میں مبتلا کردیتی ہے۔ عشق ایک جنوں ہے۔ اس کے معنیٰ ومفہوم میں شہوت اور ہوس پرستی کی بو آتی ہے۔ اس کے برعکس محبت ایک پاکیزہ لفظ ہے۔ اس میں اعتدال ہے۔ اس کے مفہوم میں پاکیزگی، حیا اور تقدس کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔

اس خوب صورت مجموعۂ مقالات کی اشاعت پر فاضل مرتبین مبارک باد کے مستحق ہیں۔ امید ہے، اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا۔

کتاب کا نام: عشق محمد صلی اللہ علیہ وسلم، مرتبین : ڈاکٹر عبیداللہ فہد، ڈاکٹر ضیاء الدین فلاحی، ناشر: یونی ورسٹی سیرت کمیٹی، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ، سنۂ اشاعت: 2017ء، صفحات: 264، قیمت:درج نہیں ہے۔



⋆ محمد اسعد فلاحی

محمد اسعد فلاحی

معاون تصنیفی اکیڈمی، مرکز جماعت اسلامی ہند

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

ملت اسلامیہ کو ایسے کسی ’برج کورس‘ کی ضرورت نہیں!

برج کورس کے قائم کرنے کا مقصد یہ بتایاگیا تھا کہ ’’ فارغین مدارس کو علوم عصریہ سے اس حد تک واقفیت کرادی جائے کہ وہ یونی ورسٹیوں کے کسی بھی شعبے میں بہ آسانی داخلہ لے سکیں ‘‘۔(ص۸)  لیکن کتاب کا مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے  اس شعبے کے ذریعے طلبہ کو مدارس، اہل مدارس اور ملت اسلامیہ سے بد ظن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مسلم یونی ورسٹی کے ارباب حل و عقد کو سنجیدگی سے اس کا نوٹس لینا چاہیے اور برج کورس کے قیام کے مقصد کے حصول کی تدابیر اختیار کرنے کی فکر کرنی چاہئے۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے