تبصرۂ کتب

فکر نو: تعارفی تبصرے و تنقیدی جائزے

عزیز سہیل ہندوستان کے مختلف یونیورسٹیوں، کالجوں اوراداروں میں تحقیقی مقالے پیش کرچکے ہیں۔

مصنف: ڈاکٹرمحمد عبدالعزیز سہیلؔ 

مبصر: محسن خان

ڈاکٹرمحمدعبدالعزیز سہیل اردوحلقوں میں ایک جانا پہچانا نام ہے۔ انہوں نے بڑی محنت ومشقت کے ساتھ اردوادب میں اپنا ایک منفردمقام بنالیاہے۔ ہندوستان بھرمیں وہ اپنے مراسلوں ‘مضامین‘تبصروں ‘رپوتاژ اورتحقیقی مقالوں کے ذریعہ پہچانے جاتے ہیں۔ آپ نے بچوں کے رسالہ ’’ماہنامہ بچوں کا غازی ‘‘ اور’’ماہنامہ التوحید‘‘ کے بانی مدیر کے طورپراپنا ادبی سفر کا آغاز کیااوردیکھتے ہی دیکھتے متحدہ آندھراپردیش سے لیکرسارے ہندوستان کے ادبی حلقوں میں آپ کی پہچا ن بن گئی۔ عزیز سہیل ہندوستان کے مختلف یونیورسٹیوں، کالجوں اوراداروں میں تحقیقی مقالے پیش کرچکے ہیں۔ آٖ پ نے بے شمار کتابوں پرتبصرے کیے ہیں۔

 ریاست تلنگانہ ہویا کوئی اوربھی مقام کوئی بھی کتاب اگرشائع ہوتی ہے تومصنف آپ کواپنی کتاب تبصرے کے لیے ضروربھیجتا ہے۔ ڈاکٹرعزیز سہیل چاہے جتنے بھی مصروف ہوں وقت نکال کر اس کتاب پر تبصرہ ضرورفرماتے ہیں۔ اس سے کتاب کے بارے میں دنیاکومعلومات حاصل ہوتی ہے اوراسکالرس کوفائدہ بھی ہوتا ہے۔ ’’فکرنو‘‘ ڈاکٹرعزمحمدعبدالعزیز سہیل کی آٹھویں کتاب ہے۔ انتساب میں ڈاکٹرعزیز سہیل نے اس کتاب کو شہرنظام آباد کے ادبی ماحول کے نذر کیا ہے۔ یہ ان کے پیدائشی مقام سے محبت کوظاہرکرتا ہے۔ اس کتاب کا پیش لفظ نظام آباد کی مشہور شخصیت اورسوشیل میڈیا کے ذریعہ اردو کی خدمت کرنے والے ڈاکٹرمحمداسلم فاروقی نے لکھا ہے جس میں انہوں نے ڈاکٹرعزیز سہیل کے بارے میں مکمل تفصیلات پیش کی ہیں۔ اورمشورہ دیاہے کہ کتاب پرتبصرے کرنے کے دوران ان کی تنقید بھی مدنظررکھیں اورکتاب کے تعارف کے ساتھ اس کے ان گوشوں کی جانب ادیب وشاعر کی توجہ دہانی کرائیں جس کی کتاب میں ایک نقاد کمی محسوس کرتا ہے۔ پیش گفتار(فکرِ نو۔ ادبی دیانت داری او رتنقیدی بصیرت کامجموعہ) کے تحت ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری( اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ ڈگری کالج رائے چوٹی‘آندھراپردیش)لکھتے ہیں کہ ’’عام طورپر یہ خیال کیاجاتا ہے کہ تبصرہ کرنا بہت آسان اور سب سے سہل کام ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تعارف وتبصرہ اگرحقیقت پرمبنی ہواورتبصرہ نگارحق ادا کرنے میں کامیاب ہوجائے توبلاشبہ وہ ایک کامیاب قلمکار ہے۔

تبصرہ نگاری کا فن لہومانگتا ہے ‘‘اورانہوں نے کسی کی خوشنودی کے لیے اورتحسین وستائش حاصل کرنے کے لیے کیے جانے والوں پرتنقید کی ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ صاحب کتابِ کا مختصر تعارف بھی تبصرے کے ذریعہ ہوجاتا ہے جس کے لیے ڈاکٹرعزیز سہیل مبارک بادی کے مستحق ہیں۔ تفریظ برائے’ ’فکرنو‘‘ عنوان کے تحت سید معظم راز ‘ڈاکٹرعزیز سہیل کی زیرتبصرہ کتاب کے تعلق سے لکھتے ہیں کہ کتاب کا موضوع نثر ہو کہ نظم۔ عزیز سہیل نے اپنے تبصروں میں فنکار کی تخلیقات کے حسن وقبح کاباریکی سے جائزہ لیتے ہوئے ان تصانیف کے مطالعے کی جانب قارائین کوراغب کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

 ڈاکٹرعزیز سہیل حرف آغاز کے تحت اپنے خیالات کااظہار کیا۔ انہوں نے تبصرہ نگاری کرنے کے مقصد کوبیان کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ادب کے ادنیٰ سے طالب علم کی حیثیت سے تبصرہ نویسی کے میدان میں طبع آزمائی کی ہے۔ وہ آگے لکھتے ہیں کہ انہوں نے اب تک قریب سوکتابوں پرتبصرے کیے ہیں اوریہ تبصرے ملک وبیرو ن ملک کے اخبارات‘ رسائل اورچندایک ویب سائٹس پرشائع ہوئے ہیں۔ فکرنومیں تقریباً تیس سے زائد تبصرے شامل ہیں۔ دیڑھ درجن نثری کتابوں پرتبصرے ہیں۔ ا س کے ساتھ ماہنامہ گونج ڈاکٹرمحمداسلم فاروقی فن اور شخصیت نمبر پربھی تبصرہ شامل ہے۔ ’’فکر نو‘‘ کتاب کے آغاز میں مصنف ڈاکٹرعزیز سہیل نے تبصرہ نگاری کے فن پر اپنا تحقیقی مضمون پیش کیاہے جوان کی کتاب کامقدمہ بھی کہاجاسکتا ہے۔

کتاب کے صفحہ نمبر 25پروہ لکھتے ہیں کہ’’ تبصرہ لکھنا بھی ایک فن ہے ‘یہ فن بھی محنت چاہتا ہے اس لئے کہ بغیر کتاب کے مطالعہ کے تبصرہ معیاری نہیں کہلاتا حالانکہ اکثر تبصرہ نگار‘ مصنف کی شخصیت اور کتاب کی فہرست کومدنظر رکھتے ہوئے تبصرہ کرتے ہیں جس سے کتاب میں شامل مواد کی وضاحت مناسب طورپرنہیں ہوپاتی۔ فکر نو میں حصہ نثر کے تحت 22 کتابوں پرتبصرے کیے گئے ہیں جویہ ہیں : افادت زور (سید رفیع الدین قادری)‘ دکن کی چندہستیاں ( ڈاکٹرراؤف خیر)‘ اردوہے جس کا نام (ڈاکٹرعابدمعز)‘ ادبی بصیرت (ڈاکٹرمحمدناظم علی)‘ پروفیسر اکبر علی بیگ فن اور شخصیت( ڈاکٹرمحمدابرارالباقی)‘ تیسری آنکھ(ڈاکٹرضامن علی حسرتؔ )‘ پرورش لوح وقلم( ڈاکٹرمختاراحمدفردین)‘ رنگ وآہنگ(محمددانش غنی)‘ اردومیڈیا کل آج کل (ڈاکٹرسیدفاضل حسین پرویز) ‘پھرچھڑی بات(ڈاکٹرعابد معز)‘ بچوں کا ادب اور اخلاق:ایک تجزیہ( ڈاکٹرسید اسرار الحق سبیلی )‘ بچوں کے ادب کی تاریخ (ڈاکٹرسید اسرار الحق سبیلی)‘ بچوں کے ادب میں حامد اللہ افسر میرٹھی کا حصہ (شمیم سلطانہ)‘ اردو میں تجریدی افسانہ(ڈاکٹرآمنہ آفرین)‘ ذہن کی جھیل پہ اُبھرے ہیں کنول( عاصمہ خلیل)‘ روشنی کے اندھیرے( سلیم اقبال)‘ افسانہ ہزاروں ہیں (جمیل نظام آبادی)‘ سنسکرت ادب کے اردوتراجم( ڈاکٹرشیخ عبدالغنی)‘ کاماریڈی ماضی اورحال کے آئینے میں (رحیم انور)‘ سائنس نامہ( ڈاکٹراسلم فاروقی) ‘ کھانے میں ہماری صحت ہے (ڈاکٹر عابدمعز) ‘جہانِ رنگ وبو (ڈاکٹرعزیز احمدمرسی)۔

 ان نثری تبصروں میں مولانا آزاد نیشنل اردویونیورسٹی کے مرکز برائے فروغ علوم میں کنسلٹنٹ کے طورپرخدمت انجام دینے والے ڈاکٹرعابد معزز کی تین اہم کتابو ں پرتبصرے شامل ہیں۔ ’’ کھانے میں ہماری صحت ہے ‘‘ کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹرعزیز سہیل لکھتے ہیں کہ ’’زیر تبصرہ کتاب میں ڈاکٹرعابد معز نے کھانے میں ہماری صحت سے متعلق بہت ہی مفید اورکارآمد مشورے دیئے ہیں جن کو ہم اختیار کرتے ہوئے اپنے آپ کو تندرست وتوانارکھ سکتے ہیں۔ اسرار الحق سبیلی جو بچوں پرکتابیں لکھتے ہیں ان کی دو کتابوں کابھی مصنف نے اپنے تبصرے میں تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ آپ کاایک تبصرہ جوآپ نے آل انڈیا اردوماس سوسائٹی فارپیس کے صدر ڈاکٹرمختاراحمدفردین کی کتاب ’’ پرورش لوح وقلم‘‘ پرکیا ہے۔ یہ تبصرہ ہندوستان کے بیشتر اخبارات میں شائع ہوا ہے اوراسے کافی پسند کیاگیا۔

اس کے علاوہ حصہ نظم کے تحت10 شعری مجموعوں پرتبصرہ کیاگیا ہے جس میں :لفظ لفظ روشنی( محمد مظہر محی الدینؔ )‘ ذکرجمیل (جمیل ؔ نظام آبادی )‘ راہِ طلب (حلیم بابرؔ )‘ صبحِ زرتاب ( راشد احمدراشدؔ )‘ اَضراب ( سوزؔ نجیب آبادی)‘ متاعِ منانؔ (محبت علی منان)‘کھری کھری(چاچا پالموری)‘ مزاح صادق(ڈاکٹرخواجہ فرید الدین صادقؔ ) اورشانہ بدوش(اقبال شانہؔ ) کے شعری مجموعے شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹراسلم فاروقی فن اور شخصیت پر ماہنامہ گونج نظام آباد پربھی تبصرہ کیاگیا ہے۔ وہ اس شمارہ پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ’’ 40صفحات پر مشتمل اس شمارے میں بہت ہی اختصار سے دریا کوکوزے میں بند کرتے ہوئے ڈاکٹر محمداسلم فاروقی کوسمیٹاگیا ہے جو400صفحات کے مقالہ کا متقاضی ہے۔ اگر میں ’’فکر نو‘‘ کے تمام تبصروں پر مختصرروشنی بھی ڈالوں تومضمون طویل ہوجائے گا۔ یہ کتاب نظام آباد ضلع والوں کے لیے بہت ہی اہم اورانمول تحفہ ہے کیونکہ جملہ32تبصروں میں سے قریب 10 تبصرے نظام آباد کے مصنفین کی کتابوں پرہیں۔ اور واحد رسالہ پر جوتبصرہ اس کتاب میں شامل کیاگیا ہے وہ بھی نظام آباد کی مشہور شخصیت ڈاکٹراسلم فاروقی کاہے جنہوں نے زیرتبصرہ کتاب کاپیش لفظ بھی لکھا ہے۔ نظام آباد کے بعد محبوب نگر کے مصنفین کی کتابوں پرتبصرے شامل ہیں۔

 192صفحات پرمشتمل اس اہم معلوماتی کتاب پڑھنے سے نئے لکھنے والوں کوبہت کچھ سیکھنے ملے گا خاص کر تبصرہ کے فن کے بارے میں انہیں اہم معلومات حاصل ہوسکیں گی۔ کتاب کا سرورق بہت ہی شاندار ہے۔ کتاب کے بیک پیچ پر ڈاکٹرسید فضل اللہ مکرم سابق چیرمین بورڈ آف اسٹیڈیز اورینٹل عثمانیہ یونیورسٹی نے ڈاکٹرعزیز سہیل کی تبصرہ نگاری پر گراں قدر آرا درج کی ہے۔ یہ کتاب روشناس پرنٹرس نئی دہلی نے آئی ایس بی این نمبر کے ساتھ شائع کی ہے۔ فکر نو کتاب مصنف کے مکان مجید منزل لطیف بازار نظام آباد کے علاوہ ھدی بک ڈپو پرانی حویلی اوربزم کہکشاں نیو ٹاؤن محبوب نگر سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

 میں آٹھویں تصنیف کی اشاعت پرڈاکٹرعزیز سہیل کومبارک باد پیش کرتا ہوں اورامید کرتا ہوں کہ وہ نہ صرف نظام آباد اورمحبوب نگر بلکہ ہندوستان اور دنیا کے تما م اہم ادیبوں سے ہم کواپنے تبصروں کے ذریعہ واقف کروائیں گے۔ اس کے علاوہ آپ کی مزید تحقیقی وتنقیدی اورمعلوماتی کتابیں منظرعام پرآئیں گی۔

مزید دکھائیں

محسن خان

Mohsin Khan ریسرچ اسکالر شعبہ ترجمہ مانو Mobile : 09397994441

متعلقہ

Close