تبصرۂ کتب

قرآن کا پیغام تمام انسانوں کے نام

قرآن کریم کی تعلیمات کو عام کرنا صرف عز و شرف ہی نہیں بلکہ عظیم کار ثواب ہے

تبصرہ: محمد سراج الہدیٰ ندوی ازہری

(استاذ: دارالعلوم سبیل السلام حیدرآباد)

اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ سب سے آخری کتاب قرآن کریم ہے، جو گزشتہ تمام آسمانی کتابوں کے لئے ناسخ ہے، یہ رہتی دنیا تک کے تمام انس و جن کی رہبری کا ضامن ہے، بس شرط یہ ہے کہ کھلے دل سے اس کی تلاوت کی جائے، اس کے مضامین سمجھے جائیں، تعصب کے ہر عینک کو بالائے طاق رکھا جائے اور خلوص دل سے اسے پڑھا جائے، تو یقیناً ہدایت قدم چومے گی، قرآن کریم صرف مسلمانوں کے لئے نہیں ہے ؛ بلکہ یہ خالق کون و مکاں کی کتاب ہے، جو انس و جن کے نام ہے، اس معجزانہ کتاب میں آسمان و زمین کی بناوٹ، انسانوں کی تخلیقی کیفیات اوراس کی پیدائش کا مقصد بیان کیا گیا ہے، انس و جن کو ہدایت کی تعلیم اور گمراہیوں سے بچنے کی دعوت دی گئی ہے، متعدد آیات میں اللہ تعالیٰ کا جامع تعارف پیش کیا گیا ہے اوراس کے متنوع اوصاف کو متفرق طورپر ذکر کیا گیا ہے۔

صحیح نیت کے ساتھ قرآن کریم کی تعلیمات کو عام کرنا صرف عز و شرف ہی نہیں بلکہ عظیم کار ثواب ہے، میرے سامنے ابھی جو کتاب ہے، اس کا نام ’’ قرآن کا پیغام تمام انسانوں کے نام ‘‘ ہے، جس کے مؤلف قاری غلام ربانی قاسمی ہیں، کتاب کے نام سے بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس میں توحید کی دعوت کے ساتھ ساتھ انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کی باتیں اورشیطانی مکر و فریب سے بچنے کی دعوت دی گئی ہے، جنت کی طرف بڑھنے، جہنم سے دُور رہنے اور اخلاقِ حسنہ کو اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے، دنیا کی حقیقت کو آشکارا کیا گیا ہے، یعنی قرآنی پیغام کو پیش کیا گیا ہے ؛ لیکن یہ تو کتاب کا نام پڑھ کر ہماری قیاس آرائیاں ہیں، آئیے ! ذرا مؤلف ہی کی زبانی سنتے ہیں کہ آخر انھوں نے اس کتاب میں کیا کچھ لکھا ہے، وہ اپنے ’’ حرفِ آغاز ‘‘ میں یوں رقمطراز ہیں  :

یوں تو اس کائنات میں سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں اور کروڑوں مسائل ہیں، مگر ان تمام مسائل میں سب سے بڑے مسائل تین ہیں، سب سے پہلا اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ کائنات خود بخود وجود میں آئی یا کسی ذات نے اس کائنات کو وجود بخشا، اگر یہ کائنات خود بخود وجود میں آئی تو کس طرح آئی ؟ اور اگر کسی ذات نے اس کائنات کو وجود بخشا تو وہ ذات کون ہے ؟ کہاں ہے ؟ اورکیسی ہے ؟ اس کائنات کا دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انسان جو تمام مخلوقات میں سب سے اعلیٰ اور سب سے افضل ہے، خود بخود پیدا ہوا یا کسی ذات نے انسان کو پیدا کیا ؟ اگر کسی ذات نے پیدا کیا تو وہ ذات کون ہے ؟ کہاں ہے اور کیسی ہے ؟ تیسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انسان کے دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے ؟ کیا انسان دنیا میں اس لئے آیا ہے کہ کالج اور یونیور سٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرے اور زیادہ سے زیادہ مال و دولت جمع کرے اور عیش و آرام کی زندگی گزار کر اس دنیا سے رُخصت ہوجائے، یا انسان کے اس دنیا میں آنے کا مقصد اور غرض و غایت کچھ اور ہے ؟ اگر کچھ اور ہے تو وہ کیا ہے ؟ زیر نظر کتاب میں قرآن کی روشنی میں کائنات کے ان ہی تین بڑے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ( ص : ۵-۶)

کتاب کا آغاز صفحہ : ۸ سے ہے، اس سے پہلے سب ٹائٹل، فہرست عناوین اور حرف آغاز ہے، سب سے پہلے قرآن کریم کا مختصر تعارف پیش کیا گیا، اس کے بعد کائنات کے متعلق سائنسدانوں کے نظریہ کو ذکر کرکے قرآن کی روشنی میں اس کی تردید کی گئی اور تخلیق کائنات کی حقیقت بیان کی گئی، تخلیق آدم کو بھی قرآن کی روشنی میں واضح کیا گیا اور ڈارون کے نظریۂ ارتقاء کو زور دار انداز میں رد کیا گیا، اللہ کون ہے ؟ کیسا ہے ؟ کہاں ہے اور اس کا عرش کہاں ہے ؟ ان سب سوالات کے جواب بھی قرآنی آیات کی روشنی میں واضح طورپر پیش کئے گئے ہیں، کتاب کے اختتام سے کچھ پہلے ’’ اے انسان ! اپنے خالق کو پہچان ‘‘ اور ’’ اے انسان ! اپنی حقیقت کو پہچان ‘‘ کے دو ذیلی عناوین کے تحت تین صفحات میں عمدہ پیغام پیش کیا گیا۔

یہ بھی وضاحت کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب میں جو کچھ کہا گیا ہے، وہ سب قرآنی دلائل سے مزین ہیں، ۴۸ صفحات کی اس کتاب میں مختلف سورتوں کی تقریباً ۷۴ آیتیں مذکور ہیں، کتاب کا انداز عمدہ ہے، جگہ جگہ سوال و جواب کی شکل میں باتیں تحریر کی گئی ہیں، قرآن کی حقانیت، تخلیق کائنات کی حقیقت، تخلیق انسانی کا مقصد اور اللہ تعالیٰ کے تعارف کو متعدد ذیلی عناوین کے تحت قرآن کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے، اگر یہ بات کہی جائے تو بالکل بجا ہوگی کہ اصل کتاب کا نصف سے کچھ کم حصہ ان آیات قرآنی اور ان کے ترجمے پر مشتمل ہے، جنھیں مؤلف نے دعوے کی دلیل کے طورپر پیش کیا ہے، کتاب جن تین مرکزی باتوں پر مشتمل ہے، اگر فہرست عناوین بھی اسی طرز پر ترتیب دی جاتی کہ فہرست پر نظر ڈالتے ہی مرکزی اور ذیلی عناوین سمجھ لئے جاتے تو بہتر ہوتا، میں نے مکمل کتاب پڑھی ہے، جہاں جہاں کتابت کی غلطیاں یا اور کسی طرح کا نقص نظر آیا، تو میں نے ان کی نشاندہی کردی ہے، اُمید ہے کہ آئندہ ایڈیشن میں انشاء اللہ ان کی تصحیح کرلی جائے گی۔

کتاب کے مؤلف قاری غلام ربانی قاسمی ہیں، جو جنوبی ہند کے مشہور و معروف علمی وتحقیقی ادارہ دارالعلوم سبیل السلام حیدرآباد کے مؤقر استاذ ہیں، جامعہ ہذا کے قیام ہی سے تاحال درس و تدریس سے منسلک ہیں، کم و بیش چالیس سال کی مدت سے اس میدان میں سرگرم عمل ہیں، درس و تدریس کے ساتھ ساتھ تقریباً تیس (۳۰) سالوں تک شہر حیدرآباد کی مشہور مسجد ’’ مسجد عامرہ ‘‘ عابڈس میں امامت کا فریضہ بھی انجام دیتے رہے اور وہیں اپنے درس قرآن و حدیث سے بھی عوام و خواص کو مستفید کرتے رہے، اہل علم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ درس و تدریس اور امامت کی مستقل ذمہ داریوں کے ساتھ تصنیف و تالیف کے لئے وقت نکالنا مشکل ہوجاتا ہے، اب جب کہ قاری صاحب امامت کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوچکے ہیں ؛ لہٰذا اپنی پوری توجہ میدان قلم کی طرف مبذول کررہے ہیں۔

زیر نظر کتاب قاری صاحب کی تیسری تالیف ہے، ان کی پہلی تالیف ۲۰۰۵ء میں ’’آئینۂ دارالعلوم سبیل السلام ‘‘ کے نام سے، دوسری تالیف ۲۰۰۸ء میں ’’آسان فارسی قواعد ‘‘ کے نام سے اور اب یہ تیسری تالیف ماہ ستمبر ۲۰۱۸ء میں ’’ قرآن کا پیغام تمام انسانوں کے نام ‘‘ سے منظر عام پر آئی ہے، اس میں کل صفحات ۴۸ ہیں، اصل قیمت : ۶۰ روپئے ہے، جو بظاہر کچھ زیادہ نہیں ہے، کاغذ عمدہ استعمال کیا گیا ہے، ٹائٹل پیچ بھی بالکل سادہ نہیں ؛ بلکہ ٹھیک ٹھاک ہے، ناشر : مرکز دعوت فکر اسلامی حیدرآباد ہے، آپ چاہیں تو مؤلف سے اس نمبر : 7416212816 پر ربط کرکے، یا حیدرآباد کے مشہور مکتبوں مثلاً : سنابل بک ڈپو، ہندوستان پیپر ایمپوریم، ہدیٰ بک ڈسٹری بیوٹرس، دکن ٹریڈرس، مکتبہ کلیمیہ اور یاسین بک ڈپو سے بھی خرید سکتے ہیں، قرآن کریم کی مناسبت سے اسے خریدیئے، خود بھی پڑھئے اور دوسروں کو بھی پڑھنے کی ترغیب دیجئے، اس طرح قرآنی تعلیمات اور صحیح فکر کی اشاعت میں آپ بھی شریک ہوجائیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close