تبصرۂ کتب

مجمع السلوک شرح رسالہ مکیہ:ایک تعارف

ڈاکٹر جہاں گیر حسن مصباحی
دسویں صدی کے مجددحضرت مخدوم شیخ سعدالدین خیرآبادی قدس سرہٗ سلسلہ چشتیہ نظامیہ مینائیہ کے عظیم بزرگوں میں ایک اعلی ومنفرد مقام رکھتے ہیں۔ آپ قطب عالم مخدوم شاہ مینا لکھنوی قدس سرہٗ کے ممتازمریدوخلیفہ ہیں۔آپ کی تصنیف لطیف ’’مجمع السلوک والفوائد‘‘رسالہ مکیہ کی ممتاز ومنفرد اورشاہکارشرح ہونے کے ساتھ قطب عالم مخدوم شاہ مینالکھنوی قدس سرہٗ کے ملفوظات کا بہترین مجموعہ بھی ہے۔
یہ کتاب مختلف علوم ومعارف کا خزانہ ہے، مثال کےطورپرایک طرف اس میں اہل تصوف کی دلچسپی کاہرسامان موجودہے تودوسری طرف مختلف اسلامی علوم وفنون سے شغف رکھنے والوں کے لیے انمول تحفہ ہے، مثلاً: تفسیروحدیث،کلام واصول کلام،فقہ واصول فقہ، لغوی ومعنوی،نحوی و صرفی اورصنائع بدائع ہر علوم وفنون کا نمونہ اس کتاب میں بخوبی ملتاہے۔ بلاشبہ’’ مجمع السلوک والفوائد‘‘تصوف وسلوک کادائرۃ المعارف اورطالبین وسالکین کے لیے عمدہ دستور العمل ہے،بلکہ اہمیت وافادیت کے لحاظ سے دیکھا جائےتو درحقیقت کتب تصوف میں اس کووہی درجہ حاصل ہے جو کتب فقہ میں ہدایہ کو۔ لیکن افسوس کہ جس طرح سےیہ کتاب عوام تک پہنچنی چاہیے تھی اس طرح سےنہیں پہنچ سکی۔ تاہم اپنے وقت کے عظیم بزرگوں نےاس سے استفادہ ضرورکیاہے۔ مثال کے طورپرمیرسیدعبدالواحد بلگرامی (1017ھ) نےاپنی کتاب’’ سبع سنابل‘‘میں، محمد علی تھانوی نے’’ کشاف اصطلاحات الفنون‘‘ میں،شاہ تراب علی قلندر کاکوروی (1275ھ) نے ’’مطالب رشیدی‘‘میں،شاہ محمد عزیزاللہ صفی پوری نے (1327ھ) اپنی کتاب’’عقائد العزیز‘‘ میں اور قاضی ارتضا علی خان گوپاموی (1270ھ) نے توباضابطہ’’ مجمع السلوک والفوائد‘‘کی ایک بہترین تلخیص ’’فوائد سعدیہ‘‘ کے نام سے تیار کی تھی۔جو ماہ جون1885ء میں مطبع نول کشور لکھنؤ سے شائع ہوئی۔
وجہ تالیف
حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت شیخ سیدجلال الدین بخاری قدس سرہٗ(785ھ) کے توسط سےپہلی بار’’ رسالہ مکیہ‘‘ عرب سے ہندوستان آیا تھااور صوفیائےہند کے تمام حلقوں میں یکساں مقبول ہوتا چلا گیا۔ مختلف مشائخ ہندنےباضابطہ اس کا درس بھی دینا شروع کردیا۔ ’’رسالہ مکیہ‘‘خود مخدوم شیخ سعد خیرآبادی (922ھ) کے زیر تدریس بھی رہا۔ دوران تدریس آپ کے شاگردوں میں سے شیخ مبارک بجنوری،قاضی محمدبن منُّ اللہ کاکوروی،شیخ چاندبڈھن اچولی اور قاضی راجا کہولی خیرآبادی نے گزارش کی کہ ’’رسالہ مکیہ‘‘ کی شرح کردی جائےاور درس کے دروان بیان کردہ فوائد و نکات کو بھی مناسب مقام پر شامل کردیاجائے تاکہ یہ رسالہ ہر عام وخاص طالبین وسالکین کے لیے مفیدتر ،اور راجع الی اللہ جماعت کے لیے حوصلہ بخش ثابت ہوتارہے ۔چناں چہ اپنے شاگردوں کی عرضی پر مخدوم صاحب نے 890ھ میں’’رسالہ مکیہ‘‘کی شرح ’’مجمع السلوک والفوائد‘‘کے نام سے فرمائی۔(مقدمہ جمع السلوک )
خصوصیات وامتیازات
یہ کتاب باوجودکہ فن تصوف میں ہے لیکن دیگرمختلف علوم وفنون کوبھی متضمن ہےاوراپنی گوناگوں خصوصیات وامتیازات کی وجہ سے اپنے فن میں کوہ نور کی حیثیت رکھتی ہے۔مطالعے کے بعد درج ذیل خصوصیات وامتیازات سامنے آتے ہیں،مثلاً:
1. ہندوستان میںدسویںصدی کا صوفی ادب اکثرو بیشترملفوظاتی اور مکتوباتی ادب سے متعلق ہے،ایسے میں’’ مجمع السلوک‘‘ کو یہ امتیاز و خصوصیت حاصل ہے کہ یہ اپنے عہد کےایک مقبول متن کی منفردشرح بھی ہےاور ہندوستانی علمی نہج کی اولین تصنیف بھی ۔
2. اس کا بنیادی موضوع تصوف ہے، اس لیے یہ بنیادی طورپر تصوف پر ہی مرکوز ہے۔ اس میں اسرار و آداب تصوف کو جس کمال و جمال کے ساتھ بیان کیاگیا ہے وہ ’’مجمع السلوک‘‘ کوشرح کے خانے سے نکال کرلازوال تصنیف کا درجہ عطاکردیتاہے۔
3. فن تصوف پر مشتمل ہونےکے باوجوداِس کتاب میں ضمناً بے شمار کلامی ، فقہی، نحوی، اورصرفی بحثیں بھی کی گئی ہیں۔
4. اندازتحریر یہ ہے کہ توضیح متن کے ساتھ بیچ بیچ میں مختلف الفاظ و مباحث کو بھی حل کردیا گیا ہے،اور حل مباحث میں بکثرت حوالے کا خاص اہتمام بھی کیاگیاہے،خصوصی طورپر فقہی اور کلامی مباحث میں۔ساتھ ہی کثرت سے حضرت مخدوم شاہ مینالکھنوی قدس سرہٗ کے اقوال و اعمال بھی بطورپردلیل نقل کیے گئے ہیں۔
5. بعض مقامات پر اولی و اظہرجیسے ترجیحی الفاظ کے توسط سے اپنے موقف کا اظہار کیاگیاہے۔
6. یہ کتاب عربی متن کا ترجمہ و ترجمانی دونوں کی بہترین سنگم ہے،نیز ترجمانی کبھی مختصر ہوتی ہے تو کبھی مطول ۔
7. کہیں کہیں الفاظ اورجملوں کی لغوی و نحوی تحقیق بھی کی گئی ہے۔
8. اکثر و بیشتر مصنف رسالہ کے منشا کو دلائل و شواہد اور مثالوں سے واضح کیاگیا ہے۔
9. کچھ مقامات پر شارح محقق نے مصنف رسالہ سے علمی اختلاف بھی کیا ہے، لیکن یہ اختلاف کمال ادب اور حسن تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔
علمی وفنی جامعیت
عدم مواصلات کے دور میں بھی شیخ خیرآبادی نے جس قدر کتابیں جمع کیں اور مطالعہ فرمایا وہ حیرت انگیز ہے۔ساتھ ہی اس کی یہ خوبی سامنے آتی ہے کہ بنیادی طورپر یہ تصوف پر مشتمل ہوتے ہوئے بھی دیگرمختلف علوم ومعارف کا خزانہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کتاب محض اہلِ تصوف ہی کے لیے دلچسپی کا سامان فراہم نہیں کرتی، بلکہ مختلف علوم اسلامیہ کا ذوق رکھنے والوں کے لیےبھی یک گونہ دلبستگی کاسامان ہے۔ مثال کے طورپر کن کن جہتوں سے یہ قابل توجہ ہے وہ یہ ہیں:
تفسیری حیثیت
اس کی تفسیری حیثیت کااندازہ فہرست کتابیات سے بخوبی ہوتا ہے جن سے مخدوم صاحب نے استفادہ کیا ہے۔ اُن کتب تفاسیر میں سے کچھ کتابوں کے اسما یہ ہیں: تفسیر کبیر ،تفسیر نسفی،معالم التنزیل، جامع کبیر ،بحر مواج، تفسیر الاملاء،تفسیر زاہدی،تفسیر کشاف، لطائفِ قشیری ، لباب التفسیروغیرہ ۔مثال کے طورپرمخدوم صاحب لکھتے ہیں: ’’ حملِ امانت سے مراد امانت میں خیانت نہ کرنا ہے اور امانت سے مراد وہ صفت ہے جو اللہ  نے کائنات کی ہرچیز میں رکھی ہے۔ وہ صفت ہر موجود میں اس کے ایجاد کے وقت سے ہی رکھی ہوئی ہے اور سب نے اسے قبول بھی کیا ہے، اس صفت کو جو اس کے اندر ودیعت کی گئی ہے سارے موجودات بجالائے، کسی نے بھی اس میں کوتاہی کی، اور نہ ہی کسی نے اس سے پیچھے ہٹنے اور اس میں خیانت کرنے کی کوشش کی، آسمان مسلسل حرکت میں ہے، زمین مستقل حالت قرار میں ہے، پہاڑ مضبوطی کے ساتھ اپنی جگہ قائم ہے، ہوا چلنے اور لے جانے کی صفت پر باقی ہے اور اسی طرح آگ جلانے کی صفت پر ثابت ہے،لیکن انسان جس کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے خیر اور بھلائی کا مکلف بنایا گیا اور خیر کو اختیارکرنے اور اس سے متصف ہونے کی صفت عطا کی گئی اس نے امانت میں خیانت کی اور اس کی حفاظت کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ (مقدمہ مجمع السلوک)
حدیثی حیثیت
صاحبِ نزہۃ الخواطر کاکہنا ہے کہ بخاری ومسلم اور دیگر احادیث کی عظیم ومعتمد کتابیں ہندوستانیوں کے لیے تقریباً نایاب تھیں۔ لیکن ’’مجمع السلوک‘‘ کے حدیثی ماخذ سے اُن کی بات غلط ٹھہرتی ہے۔ ساتھ ہی ذرائع ابلاغ کے اس مشکل ترین دورمیں مخدوم صاحب نے جس قدر احادیث کریمہ کی اہم کتابوں سے استفادہ کیا ،اس سے کتبِ احادیث پراُن کی غیرمعمولی نظر کا احساس ہوتا ہے۔ بطورمصادرومآخذجن کتب احادیث کاذکر مخدوم صاحب نےکیا ہے وہ یہ ہیں:بخاری ومسلم، ابودائود، نسائی،ابن ماجہ، شرح صحیح البخاری ازمالکی، شرح مسلم، ازنووی،مشکاۃ المصابیح، نوادر الاصول، شرح مشکاۃ ،ازطیبی، حلیۃ الاولیاء، مشارق الانوار، کتاب الزہد،ازاحمد بن حنبل،الجمع الصحیحین ازحمیدی وغیرہ۔
ایک مقام پر صحابیت کے لیے مقدارِ صحبت پر بحث کرتے ہوئے مخدوم صاحب فرماتے ہیں:’’ صحابی کے لیے کتنی صحبت درکار ہے اس میں علما کا اختلاف ہے، اصحابِ حدیث اور امامِ شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مسلک یہ ہے کہ وہ شخص جس کو ایک لمحہ کے لیے بھی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صحبت مل گئی وہ صحابی ہے، لیکن سعید بن مسیب ایسے لوگوں کو صحابہ میں شمار نہیں  کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ صحابی وہی ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک سال یا دو سال اقامت کی ہو اور آپ کے ساتھ غزوہ میں بھی شریک ہوا ہو۔ جمہور علما کا مسلک یہ ہے کہ صحابی وہ ہے جس کو ملاقات کے علاوہ صحبت بھی حاصل ہو اور انھوں نے اس کی مدت چھ ماہ رکھی ہے۔ ‘‘(حوالہ سابق)
اعتقادی وکلامی حیثیت
رسالہ مکیہ میں چوں کہ اعتقادی و کلامی مباحث بھی کافی آئے ہیں، اس لیے اس کی شرح میں بھی اعتقادی و کلامی مباحث کا اچھاخاصا ذخیرہ موجود ہے۔ ایک مقام پر الحمدللہ کے’’ الف لام‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’ اہلِ سنت وجماعت کے نزدیک یہاں’’ الف لام ‘‘استغراق کے لیے ہے اور معنی یہ ہے کہ تمام حمد اللہ عز وجل کے لیے خاص ہے۔ معتزلہ کے نزدیک ’’الف لام‘‘ عہد کا ہے اور معنی یہ ہیں کہ اکثر حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ چوں کہ معتزلہ اس بات کے قائل ہیں کہ بندے اپنے اختیاری افعال کے خود ہی خالق ہیں، اس لیے وہ حمد جو اُن کے اختیاری افعال سے متعلق ہے اُسے وہ بندوں کی جانب ہی راجع قرار دیتے ہیں اور اہلِ سنت وجماعت کے نزدیک چوں کہ تمام اجسام وافعال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ،اس لیے وہ تمام حمد کو اللہ تعالیٰ کی جانب لوٹادیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ(حوالہ سابق)
اس تعلق سے مصادرکے طورپرجوکتابیں استعمال کی گئیں وہ یہ ہیں: اصول الصفار، تبصرۃ الادلۃ، تمہید، شرح عقائد ، عقیدۂ حافظیہ، وغیرہ ۔
فقہی واصولی حیثیت
مخدوم صاحب خودایک اعلیٰ درجے کے فقیہ واصولی کی حیثیت کے مالک تھے،اس لیے ’’مجمع السلوک‘‘میں بھی آپ نے فقہی و اصولی فنون کا بہتر استعمال کیا ہے۔ فقہ واصول پرآپ کی گہری نظرکا اندازہ اُن کتب مصادر ومراجع سےلگایاجاسکتاہے جنھیں آپ نےمختلف مباحث میں استفادہ کیا ہے۔ ان کتابوں کے نام یہ ہیں:فقہ میں جامع صغیر، خانیہ، خزانۃ الفقہ، فتاویٰ سراجیہ،کتاب السیر، مجموع النوازل، مضمرات، ملتقط، نصاب الاحتساب، نہایہ، ہدایہ، جامع برہانی، تبیین الحقائق وغیرہ ،جب کہ اصولِ فقہ میں اصولِ بزدوی،امالی صدر الاسلام بزدوی، تلویح، شرح اصول بزدوی،شرح بزدوی حسام الدین حنفی ،شرحِ منار، کشف بزدوی وغیرہ۔
مجمع السلوک میں فقہی جزئیات بکثرت حوالے کے ساتھ نقل کیے گئے ہیں اور اصولی گفتگو کی گئی ہے۔ جب نقلِ جزئیات کا سلسلہ شروع ہوتا ہےتو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ فقہ کی ہی کتاب ہے۔ (تفصیل کے لیے مجمع السلوک دیکھیں)
صوفیانہ حیثیت
جہاں تک تصوف کی بات ہے تو یہ کتاب تو اِسی فن کا شاہکار ہے اور تصوف وسلوک کا خزانہ ہے۔ طالبانِ مولیٰ کے لیے قربِ ربانی کے حصول کا ایک مکمل کورس ہے جس کو زندگی میں اتار کر قربِ حق حاصل کیا جاسکتا ہے۔ علمِ تصوف پر یہ کوئی عام کتاب نہیں ہے جس میں صرف نقل مباحث پر اکتفا کیا گیا ہو ،بلکہ اس میں اقوال کی توضیح، تاویل، ترجیح اور صحیح وضعیف اقوال کے درمیان تفریق وتمییز بھی پائی جاتی ہے۔ علمِ تصوف پر یہ کتاب انتہائی اہم ہے۔
اس کے علاوہ نحوی،صرفی،اورلغوی ومعنوی اعتبارسے بھی یہ کتاب ہر خوبی سے مزین ومرصع ہے۔غرض کہ ’’مجمع السلوک‘‘کم وبیش تمام علمی وفنی خوبیوں کاعطرمجموعہ ہے۔اس لحاظ سے یہ کہاجاسکتاہے کہ یہ کتاب اپنی خصوصیات کی وجہ سے اس بات کی مستحق ہے کہ مختلف علوم وفنون کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس کا گہرا مطالعہ کیا جائے اور اس کے صحیح علمی مقام سے لوگوں کو آشنا کرایا جائے تاکہ لوگ اس سے کما حقہٗ عملی دنیامیںمستفید ہوسکیں۔ (ایڈیٹرماہنامہ خضرراہ،الہ آباد)

مزید دکھائیں

جہاں گیر حسن مصباحی

ڈاکٹریٹ جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی۔ مدیرمسئول: ماہنامہ’’خضرراہ‘‘ الہ آباد۔ استاذ:جامعہ عارفیہ، سیدسراواں، الہ آباد۔ متعدد اسلامی سماجی سیاسی اور ادبی مقالات ومضامین اشاعت پذیر۔

متعلقہ

Back to top button
Close