تبصرۂ کتب

محمد مختار وفاؔ: جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی امتزاجی آواز

صفدر امام قادری

اتنا احساں تو کرے مصر کا بازار وفاؔ

مجھ کو بے مول ہی بکنے سے بچا لے کوئی

یادش بخیر! ہمارے اسکولی تعلیم کی ابتدا کا زمانہ تھا۔ ہمارے بڑے بھائی کے دوست احباب بھی فطری طور پر ہمارے سرپرست اور نگہبان ہوتے تھے۔ جے پرکاش نرائن کی قیادت میں ۱۹۷۴ء کی تحریک زوروں پر تھی۔ چھٹی جماعت میں پڑھنے کے دوران ۱۶؍مارچ ۱۹۷۴ء کا دن یاد ہے۔ بہت سارے تحریک کار اسکول میں کلاس بندکرانے آئے اور اسکول کے بچوں کو بتیا راج کی ڈیوڑھی پر ہونے والے مظاہرہ میں شرکت کی غرض سے لے جانے کی تیاری کررہے تھے۔ ہم اسکول کی کاپیاں کتاب لیے ہوئے اس بھیڑ کا حصہ بن رہے تھے، اسی میں میرے بڑے بھائی اختر امام قادری کے دوست محمد عثمان نے اچانک مجھے دیکھا اور اس بھیڑ سے الگ کرتے ہوئے مجھے گھر چلے جانے کا حکم دیا۔ ایک فرماں بردار بچے کی طرح میں گھر کی طرف بڑھ گیا اور وہ اس جلوس کا حصہ بنتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ شام میں یہ خبر ملی کہ محمد عثمان پولیس کی گولیوں سے شہید ہوئے۔ محمد مختار وفا انھی کے ہم جماعت تھے اور ہم سایہ بھی۔ ان سب ساتھیوں کو دیکھ کر ہم بڑے ہوئے۔

وہ دور تھا جب بتیا کے ادبی افق پر بزرگ لکھنے والوں کے ساتھ نئے قلم کاروں کا ایک قافلہ آنے کے لیے پُرعزم تھا۔ ناظم بھارتی ایک ایسے استاد شاعر کے طور پر سامنے آچکے تھے جنھوں نے نئے لکھنے والوں کا ایک چھوٹا سا حلقہ تیار کرلیا تھا۔ منظر سلطان، ابوالخیر نشتر، احتشام افسر، مرزا کھونچ، ضارب بھارتی، عظیم ہاشمی وغیرہ اُبھر رہے تھے۔ ان میں اچانک سب سے کم عمر فرد کے طور پر محمد مختار وفا جنھوں نے اپنا قلمی نام ایم۔ایم۔وفا متعین کیا تھا، وہ بھی سامنے آئے۔ ناظم بھارتی ان کے بہنوئی ہوتے تھے مگر ناظم بھارتی کے سب سے قریب منظر سلطان اور دوسرے لوگ نظر آتے تھے۔ ۱۹۷۴ء میں ایم۔ایم۔وفا نے شعر کہنا شروع کیا اور اس زمانے کی نشستوں میں ایم۔ایم۔وفا، عظیم ہاشمی یا ابوالخیر نشتر ہی سب سے پہلے پڑھنے والے فنکاروں میں شامل ہوگئے۔ ہمارے گھر پہ ادبی نشستیں تواتر کے ساتھ ہوتی تھیں اور شہر میں دوسری جگہوں پر بھی جو نشستیں ہوتی تھیں ، ان میں ہم اپنے والد محترم اشرف قادری کے ساتھ چلے جاتے تھے۔

۱۹۷۷ء میں بتیا کی سب سے قدیم ادبی انجمن ’’بزمِ ارمان‘‘ نے مولانا عبدالحکیم ارمان کی وفات کی سلور جوبلی کے موقعے سے انعامی مقابلے کا اہتمام کیا تھا۔ ایم۔ایم۔وفا اسکول سے ایم۔جے۔کے۔ کالج، بتیا میں پہنچ چکے تھے۔ ہم ابھی نویں جماعت میں تھے۔ اسکول کی سطح کی مضمون نویسی میں ہم نے پہلا مضمون لکھا۔ میرے بڑے بھائی ظفر امام بھی اس میں شامل ہوئے۔ دونوں نے الگ الگ عنوانات سے انعامات حاصل کیے۔ اسی مقابلے میں غزل گویوں کے لیے بھی مصرعِ طرح دیا گیا تھا: دیکھ لینا ایک دن وہ بُت خدا ہوجائے گا۔ جب تقریب برپا ہوئی اور عظیم الشان مشاعرے میں انعامات کی باری آئی تو پہلا انعام ایم۔ایم۔وفا کے نام نکلا۔ نظم گوئی میں ابوالخیر نشتر کو انعام دیا گیا۔ غالباً یہیں سے ایم۔ایم۔وفا اپنے ادبی کاموں میں سنجیدہ ہوئے۔

بی۔اے۔ پاس کرتے ہی انھیں اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں ملازمت حاصل ہوگئی۔ اپنے دوستوں اور بتیا کے نئے پرانے لکھنے والوں میں وہ سب سے پہلے پکی ملازمت پانے والے افراد میں شامل ہوئے۔ ملازمت کے دوران شہر اور مضافات میں مختلف شاخوں میں ٹرانسفر پوسٹنگ کا سلسلہ رہا مگر ادبی کاموں میں انھیں کسی نے بے رخی کے ساتھ نہیں پایا۔ منظر سلطان گلے تک ڈوبے ہوئے شاعر معلوم ہوتے تھے، ایم۔ایم۔وفا ذرا اس سے الگ اور انداز و اطوار سے عام شہری رہتے ہوئے شعر گویوں کے بیچ اپنی پہچان بنارہے تھے۔ اسکول سے فراغت کے بعد ایم۔ایم۔وفا اسکول کے ابناے قدیم کے سکریٹری بنے ۔ سالانہ جلسے میں اسکول کا طالب علم ہونے کے باوجود مجھے انھوں نے یہ موقع دیا کہ میں اپنی کہانی پیش کروں ۔ آنے والے وقت میں اولڈ بوائز ایسو سی ایشن کا مجھے سکریٹری ہونے کا جب موقع ملا تو ایم۔ایم۔وفا سے ہی ذمہ داریاں مجھ تک منتقل ہوئیں ۔

ہم جب بی۔اے۔ میں پہنچے تب تک ادبی تنظیم قائم کرنے اور شعر و ادب کی محفلیں اپنی سطح پر برپا کرنے کی کوششیں شروع کرچکے تھے۔ ایم ایم وفا دوسرے بزرگ ادیبوں کی طرح ہمارے اس کام کو فضول کے خانے میں نہیں رکھتے تھے۔ مختصر مدت کے لیے ’دستک‘ نام سے ہماری ادبی تنظیم قائم ہوئی اور چند نئے لکھنے والوں کے ساتھ تھوڑے بہت جلسے جلوس انجام دے کر ہماری تعلیمی زندگیوں میں سما گئی۔ بزمِ ارمان اور ادبی سنگم جیسے دو مضبوط اداروں کے رہتے ہوئے ہماری تنظیم کی میرے والد اشرف قادری اور ایم۔ایم۔وفا نے ہی بغیر کسی شرط کے حمایت کی تھی۔ نسیم احمد نسیم ، احتشام افسر اور چند غزلوں کی حد تک ناظم بھارتی سے اصلاح لینے لگے اور ادبی محفلوں میں ترنم کے ساتھ شعر پڑھنے لگے۔ میں نے شعر گوئی کی طرف توجہ کی تو ڈرتے ڈرتے اپنی پہلی غزل ایم۔ایم۔وفا کو دکھائی اور انھوں نے کچھ لفظ، کچھ مصرعے تبدیل کرکے وہ پرچی واپس کردی تھی۔ نظم گوئی بھی میری شروع ہوچکی تھی اور بعض آزاد نظموں کی میں نے اس زمانے میں ان سے اصلاح لی۔ بی۔اے۔ کے امتحان کا وقت آیا تو شعر کی تقطیع کے لیے ایم۔ایم۔وفا سے میں نے کچھ سوال پوچھے۔ انھوں نے میری شاعری کی بیاض اٹھائی اور تین اشعار کی تقطیع کرکے سالم بحروں کے مسائل ظاہر کردیے۔

ایک میرے والد کا شعر تھا، ایک میرا شعر تھا اور ایک انھوں نے اپنا شعر پیش نظر رکھا۔ ساکن متحرک کی بنیادی باتیں بتائیں اور تحریر اور آوازوں کے آداب کے فرق کو واضح کیا۔حذف کرنے کے بھی عملی اصول ذہن پہ نقش کیے۔ ایک جملے میں بھی یہ بات نہیں بتائی کہ یہ مشکل فن ہے اور کچھ اس انداز سے سکھایا جیسے یہ عام زندگی کا کوئی معمول ہو۔ تقطیع کا دس پندرہ منٹ کا وہ سبق جو ۱۹۸۳ء میں حاصل ہوا تھا، ۳۴؍برس کے بعد بھی اس کی ایک ایک ادا مجھے یاد ہے اور موزونیت کی اگر کچھ شدبد اب بھی باقی ہے تو اسی غیر رسمی تدریس کی وجہ سے۔

 ایم۔ایم۔وفا کے جو دوسرے دوست احباب اس زمانے میں شعر کہنے والے تھے، ان میں سے کئی لوگ خاصے لاابالی پن کا شکار رہے اور شاعروں کی پرانی امیج قائم کرنے کے لیے ان کی مثال دی جاسکتی ہے۔ ناظم بھارتی اور منظر سلطان اسی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ معاشی طور پر وفاؔ ان سب سے سبقت لے گئے اور اپنی زندگی کے معمولات میں بھی ہوش مندانہ انداز سے جنوں خیز منزلیں سر کیں ۔ شادی ہوئی، انھوں نے اپنا نیا گھر بنایا، چھوٹے بھائی کو پڑھا لکھا کر آزاد پیشہ بنایا۔ اس کی رہائش کے بھی علاحدہ انتظامات کیے، بینکر ہونے سے پہلے بھی ان کی شخصیت میں توازن اور قرار تھا، اس کا انھوں نے استعمال کیا۔ احتشام افسر اچانک وطن سے دور چلے گئے، ناظم بھارتی کی سرگرمیاں بھی کم ہوئیں اور پھرفطری طور پر عمر کی تھکان اور نقلِ مکانی کے ساتھ موت کی دہلیز تک پہنچے۔ منظر سلطان مشاعروں میں گُم ہونے لگے ۔

اشرف قادری ۱۹۹۸ء میں گزر گئے ۔ گذشتہ بیس پچیس برسوں میں بتیا کی ادبی محفلوں میں اور ہر طرح کی سرگرمیوں کے مرکزی کردار کے طور پر ایم۔ایم۔وفا نظر آنے لگے۔ ہر نئے لکھنے والے کی حوصلہ افزائی کرنا ، جماعتی پہچان سے اوپر اٹھ کر ان کی ممکن حدتک پشت پناہی کرنا اور ادب کی جو شدبد پیدا ہوئی ہے ، اسے اصلاح اور نظرِ ثانی کے مراحل سے گزار کر تخلیقی استحکام عطا کرنے کے ذمے دار ہوتے چلے گئے۔ آج بھی ادارے تو بہت ہیں اور آپسی رسہ کشی کسی بھی شہر سے کم نہیں ہے لیکن ہر مخالف ادارے کا بھی رکن ایم۔ایم۔وفا سے مل سکتا ہے اور کچھ ہدایتیں حاصل کرکے اپنے ادبی کام کو انجام تک پہنچا سکتا ہے۔ ایم۔ایم۔وفا نے یہ کام اپنے بزرگ اشرف قادری سے سیکھا تھا جنھوں نے کبھی مقامی سطح پر ادبی تنظیموں کی گُٹ بازی میں دوسروں کی طرح خود کو اسیر کرلینے کا طور نہیں اپنایا تھا۔

 ۸۶-۱۹۸۵ء کے دوران میں نے ایم۔ایم۔وفا پر بہت دبائو بناکر شعری مجموعے کو ترتیب دینے کے لیے ماحول قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔ انھوں نے ’’بند قبا کھلنے سے پہلے‘‘ کے عنوان سے اپنی نظموں اور غزلوں کا مجموعہ تیار کرلیا تھا۔ اس زمانے میں بہار اردو اکادمی میں جمع کرکے مالی اعانت لینے کی کوشش ہوئی لیکن ناکامی ہاتھ لگی۔ بیچ بیچ میں ہم نے انھیں اس طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی مگر ملازمت کی مصروفیت اور اس کام کے لیے منتخب اور پسندیدہ تساہلی نے انھیں اس سے الگ رکھا۔ خدا کا خیر کہ ۲۰۱۷ء میں ان کا مجموعہ ’’منظر اس پار کا‘‘شائع ہوکر آگیا۔ ممکن ہے اس مجموعے کا جو آخری کلام ہے جو ان کے بزرگ دوست منظر سلطان مرحوم کی نذر ہے، اس سے آخری تحریک پیدا ہوئی۔ منظر سلطان کو اس طرف ہم لوگ متوجہ کرتے رہے کہ مجموعہ تیار کرلیجیے مگر پرانے شعرا کی پسندیدہ بے نیازی اور مشاعروں کی بے ہنگمی نے انھیں اس کام کو کرنے نہ دیا اور موت کے پنجے نے انھیں ہم سے چھین لیا۔ ای۔ایم۔وفا نے ان کی موت سے غالباً یہ سیکھا کہ اب یہ تساہلی جانکاہ ثابت ہورہی ہے۔

ایم۔ایم۔وفا کی پرانی شاعری پر جدیدیت کے واضح اثرات ہیں ۔ شعری مجموعے میں ہر چند انھوں نے نشان دہی نہیں کی کہ کون کس دور کا کلام ہے لیکن ہم جیسے پرانے پڑھنے والوں کو سارا قصہ ازبر ہے۔ ان کی ادبی تربیت جدیدیت کے مشہور رسائل کے زیر سایہ ہوئی۔ مابعد جدید ادب کی اصطلاح تو ان کی شاعری کی ایک دہائی مکمل ہونے کے بعد آزمائی جانے لگی۔ اسی لیے شکست و ریخت ، تنہائی، اعصاب شکنی اور ہیبت ناکی کے بہت سارے اشعار ان کے اس مجموعے میں ملتے ہیں ۔ مگر وقت کے بدلنے کے ساتھ رفتہ رفتہ انھوں نے زندگی کی اس خیالی پیچیدگی سے علاحدہ دنیا تلاش کرلی۔ مگر ذہنی سانچے کی سادگی اور شرافت نے بیان کو کچھ اتنا شفاف بنادیا کہ جگہ جگہ اس پر اکہرے پن اور یک معنی ہونے کا گمان گزرتا ہے۔ ان کی نئی شاعری میں ایک اعلانیہ لہجہ، بلند گفتاری، نتیجہ خیز خطابت کے اوصاف بھی ابھر کر سامنے آتے ہیں ۔

یہ مستقبل کے نقاد شاید بہتر طریقے سے طے کر سکیں گے کہ ایم۔ایم۔وفا کی شاعری کے پیچ و خم یا سادہ لوحی میں کسے تاج پہنایا جائے گا۔ یہ خوش گوار بات ہے کہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط شاعری کو ایک مختصر مجموعے میں انتخاب کی شکل میں پیش کردینے والے شاعر ایم۔ایم۔وفا کا مجموعہ قومی تعلیمی تقریب کے موقعے سے عوام کے سامنے بڑے اہتمام کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔ خدا کرے اگلے ہی برس ان کی نظموں کا مجموعہ اور متفرقات بھی طبع ہوکر سامنے آجائیں اور پڑھنے والوں کو یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہو کہ نصف صدی کی ریاضت کا جو سرمایہ ہے، وہ سفر رائیگاں نہیں ہے۔ میں ایم۔ایم۔وفا کے پہلے شعری مجموعے کی اشاعت پر انھیں مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔

مزید دکھائیں

صفدر امام قادری

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، پٹنہ

متعلقہ

Back to top button
Close