تبصرۂ کتب

مشرف عالم ذوقی کا ناول: پوکے مان کی دنیا

مجھے تو کبھی کبھی یہ بھی احساس ہوا کہ یہ ناول ذوقی نے نہیں بلکہ خود پوکے مان نے تحریر کی ہے۔پوکے مان بھی تاریخی شعور سے نا بلد نہیں۔

ڈاکٹر کوثرمظہری

(شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی)

جب میں نے بانو قدسیہ کے ناول ’راجہ گدھ‘ پر فکشن کے مشہور ناقد وارث علوی کا تیس صفحے کا مضمون پڑھا تو یہ انکشاف ہوا کہ ایک ناکام ناول پر بھی بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے۔ حالانکہ میں اسے ناکام ناول تصور نہیں کرتا بلکہ وارث علوی نے یہ فتویٰ صادر فرمایا ہے۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ ناول اگر ناکام ہے تو کیا وارث علوی کا مضمون بھی بیکار ہے اور اگر مضمون کسی کام کا نہیں تو موصوف نے اتنی خوبصورت ناکام کوشش کیوں کی؟ معلوم نہیں مشرف عالم ذوقی کے ناول ’پوکے مان کی دنیا‘ کے حوالے سے میری یہ کوشش ناول اور مضمون دونوں کو کہاں پہنچاتی ہے؟

عہد رفتہ کے حوالے سے اگر ہم ناولوں پر گفتگو کریں تو اس میں آزادی ہے۔ پہلی آزادی تو یہی ہے کہ بیشتر ناول نگار مرحوم ہوچکے یا پھر وہ خود یا ان کے حوارییّن رفتار زمانہ سے بچھڑ گئے، لیکن نئے ناولوں پر گفتگو کرنا ’لوہے کے چنے چبانا‘ ہے۔ سب کے سب یا بیشتر ناول نگار حاضر یا پھر حاضر نہیں تو کم ازکم حیات سے تو ہیں ہی۔ لہٰذا آج نئے ناولوں پر جو کچھ بھی لکھا پڑھا جاتا ہے، بہت سوچ سمجھ کر۔ سو مجھے کیا پڑی ہے کہ اپنا سر اوکھلی میں دوں ۔ یعنی مجھے بھی بہت سنبھل کر اور حزم و احتیاط کے ساتھ اس ناول پر کچھ لکھنا ہے۔

آج کے تناظر میں اہم بات یہ ہے کہ کائنات اور اشیائے کائنات کی تفہیم میں ناول نگار کتنا کامیاب ہے۔ موضوع کا انتخاب اور پھر اس کی پیش کش جو واقعے، حادثے، وقوعے وغیرہ کو زماں و مکاں (Time & Space) سے ہم آہنگ کرکے ایک تخلیقی فن پارہ بنا دیتی ہے، وہ کیسی ہے اور ہم اس سے کہاں تک مطمئن ہیں ۔ ایک سچے فنکار کے لیے ضروری ہے کہ موضوع کو پرکھنے اور اس کی چھان پھٹک کرنے کے بعد ہی ناول کے لیے اسے منتخب کرے۔ یہ بھی خیال ہے کہ ناول ایک Artistic Genre  ہے۔ یعنی اگر موضوع آرٹ نہیں بن پاتا تو اس Genre کی کسوٹی پر ناول پورا نہیں اُتر سکتا۔ میرا تو ماننا ہے کہ ناول محض ایک Genre نہیں بلکہ اس کے دو قدم آگے کی چیز، یعنی ایک Dicipline ہے۔ ظاہر ہے ڈسپلن کے مالہٗ وماعلیہ (Pros & Cons) سے آپ بخوبی واقف ہیں ۔

آج اگر ہم سرسری طور پر بھی نئے ناولوں کی فہرست تیار کریں تو بیس بائیس نام آہی جائیں گے۔ اس وقت جو ناول یاد آرہے ہیں وہ اس طرح ہیں : نمک (اقبال مجید)، فرات (حسین الحق)، مہاساگر (عبدالصمد)، آخری داستان گو (مظہرالزماں خاں )، تین بتّی کے راما (علی امام نقوی)، مہاماری (شموئل احمد)، بادل اور کابوس (شفق)، دویّہ بانی، وِش منتھن (غضنفر)، اوس کی جھیل (انل ٹھکّر)، دل مُن ( یعقوب یاور)، اگر تم لوٹ آتے (آچاریہ شوکت خلیل)، جانے کتنے موڑ (آشا پربھات)، آنکھ جو سوچتی ہے (کوثرمظہری)، موت کی کتاب، نعمت خانہ (خالد جاوید)، لمینیٹڈ گرل (اختر آزاد)، میرے نالوں کی گمشدہ آواز (محمد علیم)، جنگ جاری ہے (احمدصغیر)، روحزن (رحمن عباس) وغیرہ۔

آئیے اب ذوقی کے ناول ’پوکے مان کی دنیا‘ کی طرف چلتے ہیں ۔ دو ابتدائی اقتباس دیکھیے:

’’آنکھیں بند کرتے ہی ایک چمکیلی سی دُھند آجاتی ہے۔ دُھند کے اُس پار سے کوئی منظر، مجھ پر حملہ کرنا چاہتا ہے مگر آنکھیں تو بند ہیں ۔ منطروں کے آنے کا راستہ بند…..‘‘ (ص 13)

میں ایک جج ہوں ، جو ڈیشیل مجسٹریٹ یہ صرف اس لیے بتا رہا ہوں کہ اس کے بغیر شاید میں آپ کو وہ سب کچھ نہ سمجھا پاؤں ، جو بتانا چاہتا ہوں … اور ہر جج کی طرح میرا ایک نام ہے۔ سنیل کمار رائے….. ایک چھوٹا خاندان ہے۔ بیوی اسنیہہ لتا رائے اور دو بچے۔ نتن اور رِیا۔ نِتن کمپیوٹر انجینئرنگ کرپارہا ہے۔ ریاکالج میں ہے۔‘‘ (ص 14)

پہلا اقتباس ناول کا درکھولتاہے۔ دوسرا اقتباس مرکزی کردار سنیل کمار رائے اور اس کے خاندان کا تعارف پیش کرتا ہے۔ پہلے اقتباس میں جس ’چمکیلی سی دھند‘ کا استعمال ہوا ہے، اس ترکیب کا استعمال پورے ناول میں کم و بیش دس گیارہ جگہوں پر ہوا ہے۔ یہ ترکیب اپنا معنوی انسلاک اور اپنا ایک استعاراتی نظام (Metaphorical framework) بھی رکھتی ہے۔ ’دُھند میں چمک‘ گویا ایک مٹتی بجھتی زندگی میں ا ُمید کی کرن کا استعارہ ہے۔ سنیل رائے کے سامنے بھی ایک  دھند ہے لیکن اس میں اُمید کی ایک چمکیلی کرن بھی ہے۔ یہ ’دھند‘ سنیل کمار کے لیے آج کا مغربی کلچر ہے اور جو ’چمک‘ ہے وہ اپنے اقدار و روایات کا اشاریہ ہے۔ چونکہ اس ناول کا موضوع کلچرل تصادم ہے اور اس تصادم کے اسباب کا تجزیاتی نظام اس میں شامل ہے۔ اس لیے ناول نگار نے ’چمکیلی دُھند‘ جیسا ایک تخلیقی استعارہ وضع کیا ہے۔ یہ استعارہ موضوع کی تفہیم اور تفہیم کے لیے کائنات کو Penetrate کرنے کا ایک آلہ بھی بن گیا ہے۔ ناول کا بیانیہ یہی کہتا ہے، ناول کے کردار اور ناول کے وقوعے یہی کہتے ہیں ۔ یہ میرا ذاتی زاویۂ تفہیم ہے جس سے اختلاف کی پوری گنجائش موجود ہے۔ اختلاف اگر منہا کرلیا جائے تو پورا ادب شفاف چشمے کے بجائے ایک کائی جمے ہوئے جوہڑمیں تبدیل ہوجائے گا۔

’پوکے مان کی دنیا‘ مگر غیرادبی سا نام لگتا ہے۔ مجھے بھی یہ نام سن کر اچھا نہیں لگا تھا۔ سوچا تھا کہ ذوقی صاحب نے کچھ جدیدیوں کی سی فیشن پرستی کی چادر تو نہیں اوڑھ لی۔ لیکن ناول پڑھ کر ان کی جدت کاری اور جودتِ طبع کی داد دینا پڑی کہ انھوں نے بڑی خوشی اسلوبی سے پوکے مان کو عہد حاضر کے کلچرل ڈسکورس میں ضم کردیاہے۔ جاپان کی ڈیزائننگ کمپنیوں نے پوکے مان کو جس طرح دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور اس کے جو منفی اثرات مشرقی ممالک پر مرتب ہورہے ہیں ، ذوقی نے اپنی تیسری آنکھ سے اس تبدیلی کو دیکھنے اور اپنی قوت مدرکہ (Power of perception) سے اس کی تفہیم کی کامیاب کوشش کی ہے۔ سنیل کمار رائے کا کردار جس طرح مضطرب اور بے چین نظر آتا ہے، اس سے اندازہ ہوتاہے کہ ذوقی نے ایک تخلیق کار کی بے چینی اس کردار کی سرشت میں بھر دی ہے۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ ناول میں ساتھ ساتھ  موجود رہتے ہیں ۔ اگر ایسا ہوتا تو ناول کا تانا بانا بگڑ جاتا، کیوں کہ ایسے میں معروضیت (Objectivity) مجروح ہوجاتی ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو فنکار بہت چالاک ہوتا ہے وہ کرداروں کی شریانوں میں پوری طرح حلول کرجاتا ہے۔ ایسے میں وہ متعلق بھی ہے اور نہیں بھی۔ کسی بھی فن پارے کا اصل اعجاز و معیار بھی یہی ہے۔ جب کردار فن کار پر حاوی ہوجاتا ہے تو ایسے میں فن مجروح ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ایک مضحکہ خیز صورتِ حال بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ مشہور فکشن رائٹر جیمس جوئس کے نزدیک آرٹ کی معراج یہ ہے کہ فنکار کائنات کے خالق کی طرح اپنے فن پارے کے اندر بھی ہو اور باہر بھی، اس کے پیچھے بھی اور اس کے اوپر بھی اور اپنی تخلیق سے بالکل بے پروا دور کھڑا ناخن تراشتا ہوانظر آئے۔ فلابیرؔ کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ فنکار کو چاہیے کہ وہ اپنے کردار کی شخصیت میں فنا ہوجائے اور کردار کو اپنی شخصیت میں گم نہ ہونے دے۔ ’پوکے مان کی دنیا’ میں ذوقیؔ نے جس طرح اپنے کرداروں کو پیش کیا ہے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اس مذکورہ بالا راز سربستہ کو پالیا ہے۔

سنیل کمار رائے جج بھی ہے اور ایک حساس انسان بھی۔ وہ بارہ سال کے Rapist بچے کو بچانے کی فکر میں ہے۔ وہ اس بچے سے ملنے کئی بار ریفارم ہاؤس جاتا ہے اور اس کے حرکات و سکنات کو Watch کرتا ہے۔ انٹرنیٹ سے اس طرح کے مقدموں کے حوالے سے معلومات فراہم کرتا ہے اور اپنے وکیل دوست نکھل اڈوانی سے بار بار اس سلسلے میں مشورے کرتا ہے۔ اس کردار کے اس عمل سے اس کے اخلاص اور Seriousness کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس کے نزدیک ریپ کرنے والے بچے کو بچانا دراصل اس نئی نسل کو بچانا ہے جو مغربی اور Imported کلچر کے سیلِ تُند میں بہتی جارہی ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ ذوقی نے کچھ پالیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ جس طرح آرکمیڈیس (Archimedes) نے پانی میں غوطہ لگاتے ہوئے کچھ پالیا تھا اور پھر وہ ننگا ہی پانی سے باہر آکر یوری