تبصرۂ کتب

مژگاں: بہارکا معاصر ادب نمبر

عصری ادب اور نئی نسل کی ترجمانی کے دعویداراِس رسالہ کے مدیر اعزازی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے شمارہ 50-54 کے ذریعہ دبستان بہار کے شعری و ادبی منظر نامہ کو کسی حد تک نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔

شاہدالاسلام

سہ ماہی’مژگاں ‘کا’بہارکا معاصر ادب نمبر‘جلد اول اِس وقت زیر مطالعہ ہے، جس کی اشاعت کیلئے مدیراعزازی نوشاد مومن مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ صرف اِس وجہ سے نہیں کہ یہ رسالہ اپنی خصوصی اشاعت کے ذریعہ ریاست کے معاصر ادبی منظرنامہ کو منفرد انداز میں سامنے لانے کی کوششوں میں کسی حد تک کامیاب ہے، بلکہ اِس بناء پر بھی کہ یہ کاوش ریاست کے ادبی سمت و رفتار کے تعین میں مددگارہونے کے ساتھ ہی اُردو کے عمومی منظر نامہ میں ’ادبیات بہار‘کو آگے چل کر مخصوص شناخت دلانے میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

یوں تو ادب کو زماں و مکاں کے حدودو قیود سے بالاتر سمجھا جاتا ہے لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وقفے وقفے سے مخصوص رنگ کا چشمہ لگا کر ادب کی تعین قدر کی گنجائش نکالی جاتی رہی ہے۔ کبھی ’نسائی چشمہ‘ لگاکر ادب کو دیکھنا، کبھی دلتوں کے معاملات ودیہی معاشرت کے مسائل کی عینک سے فن پاروں کی قدرشناسی توکبھی ادبی اسکولوں کی مخصوص لکیریں کھینچ کرعلاقائی ادبی صورتحال کو منعکس کرنا اِسی سلسلے کی اہم کڑیاں ہیں ۔ چنانچہ اس پس منظر میں ’مژگاں ‘ کے’بہارکا معاصر ادب نمبر‘جلد اول پربھلاعلاقائی عصبیت کا الزام کیونکر لگ سکتا ہے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مدیر ’مژگاں ‘پر اِس حوالے سے طنز کے تیر برسائے گئے، جس کا ایک طرح سے انہوں نے جواب دینے کی مدیرانہ کوشش ’مضراب‘ کے عنوان سے کی ہے۔

’مضراب‘کے عنوان سے قائم اِس خصوصی شمارہ کے اداریہ میں مدیر موصوف نے’بہارکامعاصر ادب نمبر‘کیوں شائع کیاجارہاہے؟ اس کی معنویت کیاہے؟مژگاں کی خصوصی اشاعت کاجواز کیا ہے؟یہ ادبی سعی عصبیت کامظہر کیوں نہیں ہے؟ عصر حاضر کے ادبی افق پربہار کے صاحبان قلم کی ذہنی و قلبی وابستگی اور اُن کی تحاریر میں رچی بسی علاقائی مٹی کی خوشبو کو سونگھنا کیوں ناگزیر ہے؟ اور کیوں ’ ادب بنگالہ‘ پر’ ادبِ بہار‘ کو فوقیت دی گئی؟ اِن ہی مفروضہ سوالوں کا جواب دیا ہے اور قاری کو قائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ ’سعی‘خالص ادبی ہے، متعصبانہ ذہنیت کی غمازہرگز نہیں ۔

حالانکہ اِس خصوصی نمبرکی اشاعت کے جواز کو موضوع اظہار بنانے سے زیادہ بہتر یہ تھا کہ 816صفحات پر مشتمل اِس خاص نمبر میں کیا کچھ ہے، اِس پر سیر حاصل بحث کی جاتی اور قارئین کو یہ بتایا اور سمجھایاجاتا کہ کن کن صاحبان قلم نے کن کن موضوعات پر کس کس انداز میں خامہ فرسائی کی ہے۔

صحافتی زاویۂ نگاہ سے اداریہ کو چونکہ غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے، اِس لئے یہ رائے قائم کئے بغیر نہیں رہاجا سکتا کہ اس ضخیم رسالہ کے مشتملات سے صاحب اداریہ نے انصاف نہیں کیا ہے اور پوری توانائی بس اِس بات پر صرف کی ہے کہ اِس خصوصی نمبر کی اشاعت کا جواز کیا ہے۔ صحافت کے ایک عام طالب علم کے طوپر راقم الحروف کو جو کچھ پڑھنے کا موقع ملا یا دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ تک اِس دشت کی سیاحی کے دوران جوتجربات اور مشاہدات ہاتھ آئے اُن کی روشنی میں ’یہ کہنا بے محل نہیں ہوگا کہ کسی بھی رسالے یا اخبار کے لیے اس کا اداریہ ’ روح ‘ کی حیثیت رکھتا ہے، اور زیر نظر رسالہ کا اداریہ اس معیار پر کھرا نہیں اترتا۔
اب آئیے براہ راست ’مژگاں ‘کی ورق گردانی کریں اور دیکھیں کہ ’بہارکا معاصر ادب نمبر‘جلد اول اپنے مشمولات کے لحاظ سے کیا تصویرپیش کرتا ہے؟پہلا مضمون ’’بہار سے دیش -دنیا‘‘ (تحریر:شیوپال-ترجمہ:نوراللہ جاوید)ایک انتہائی وقیع مضمون ہے، جسے ادبی تحریر تو نہیں کہاجاسکتا لیکن’ادبیات بہار‘کی تفہیم سے قبل اس کا مطالعہ قارئین کیلئے غیر مفید بھی نہیں ۔ پانچ صفحات پر مشتمل یہ تحریردریا کو کوزے میں سمیٹ دینے والی ہے۔ البتہ ایک دو مقام پر ترجمہ کا نقص رہ جانے کا گمان گزرتا ہے۔ ’بہار کی عام زبان‘ اس خصوصی نمبر کا دوسرا مضمون ہے، جس میں پروفیسر شاہ مقبول احمد نے’ بہار کی بولیوں ‘کے حوالہ سے گفتگو کی ہے۔ مضمون کا عنوان ’بہارکی عام بولیاں ‘ ہونا چاہئے تھا کیونکہ ماہرین لسانیات نے’بولی‘اور’زبان‘ کے درمیان جو حد فاصل کھینچ رکھی ہے، اُسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ’’بہار کے شعراء وادباء-پاکستان اور بنگلہ دیش کے تناظر میں (ابن عظیم فاطمی) رسالہ کا تیسرا اہم مضمون ہے، جسے مدیر’مژگاں ‘کی فرمائش پر تحریر کیاگیا ہے۔ یہ مضمون خاصا طویل ہے۔ تقریباً93 صفحات میں اُن47شعراء و ادباء کا مختصراً اجمالیہ بیان کیاگیا گیا ہے، جویوں توبہاریٔ النسل ہیں لیکن تقسیم وطن کے بعد پاکستان یا بنگلہ دیش کے ہوکر رہ گئے۔ 47 فنکاروں کی یہ فہرست نامکمل بھی ہے اور جن صاحبانِ ادب کے شعری و ادبی سفر کا قصہ اس میں بیان کیا گیاہے، اُس میں بھی بنیادی معلومات کاپوری طرح احاطہ نہیں ہوسکاہے(ایک مثال کافی ہے۔ جون ایلیا کی مطلقہ اہلیہ زاہدہ حناکی تاریخ پیدائش درج نہیں کی گئی ہے۔ جائے پیدائش کا بھی تذکرہ غائب ہے، یعنی کس ضلع سے محترمہ کا تعلق ہے، یہ بھی نہیں بتایاگیا ہے) بہت ساری کمیوں کے باوجودیہ ایک اہم مضمون ہے، جس سے یہ بھی عمومی طورپراندازہ ہوتا ہے کہ بہار کی مٹی کی خوشبو رو ہمسایہ ممالک میں کس طرح پھیل رہی ہے۔ ابن عظیم فاطمی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اپنی سطح پرایک دقت طلب کام کو انجام دیا، جس سے پاکستان و بنگلہ دیش میں مقیم بہاریٔ النسل ادیبوں و شاعروں کی ایک عمومی جھلک سامنے آگئی ہے۔ چونکہ یہ ایک تحقیقی نوعیت کاانتہائی مشکل کام تھا، اِس لئے کم وقت میں بہت ساری معلومات کو یکجا کرنے میں کمیوں کا رہ جانافطری بھی ہے۔

محترم انیس رفیع کا ایک اہم مضمون ’بہار نژادشعراء و ادباء :بنگال اور بنگال سے باہر‘ترتیب میں چوتھے نمبر پرشامل رسالہ ہے، مضمون اچھا ہے تاہم اسے پڑھ کر محسوس ہوا کہ عجلت میں لکھا گیا ہے، کیونکہ اس میں محمود ایوبی جیسے معروف افسانہ نگار کا ذکر نہ ہونا کچھ عجب سا معلوم ہوتا ہے، ملحوظ رہے کہ انیس رفیع بذات خود ایک معروف افسانہ نگار ہیں اور اسی شہر کولکاتا سے تعلق رکھتے ہیں جس کے ادبی حلقے میں بہار نژاد محمود ایوبی برسوں پوری طرح متحرک رہے اور ترقی پسند افسانہ نویسوں میں معتبریت حاصل کی، بعد ازآں وہ بسلسلہِ ملازمت کولکاتا سے ممبئی منتقل ہوگئے۔ ’ پری کتھا‘ اور’ دوسری مخلوق‘کے نام سے ان کے دو افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔

اسی طرح شاعری کی دنیا سے تعلق رکھنے والے ایک بہار نژاد قلم کار جعفر ساہنی کو بھی انیس رفیع نہ جانے کیوں بھول گئے، دو شعری مجموعوں ( ’ ہوا کے شامیانے میں ‘ اور ’ شاید ‘ ) کے خالق جعفر ساہنی کا انتقال ابھی حال ہی میں کولکاتا میں ہوا اور اس موقع پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے دوسرے قلم کاروں کے علاوہ خود انیس رفیع نے فیس بک پر یہ لکھا کہ ’’ جعفر صاحب جیسے معروف شاعر اور دانشور کی موت اردو دنیا کا بڑا نقصان ہے‘‘۔ اب ایسے میں جعفر ساہنی کا نام شامل مضمون ہونے سے کیوں رہ گیا، یہ بات سمجھ میں نہیں آتی، جعفر ساہنی نے پوری زندگی شہر نشاط میں گزاردی اوریہیں سپرد لحد بھی ہوئے۔

قومی کونسل کے موجودہ ڈائریکٹر ڈاکٹر ارتضی کرم کا مضمون ’’بہار میں اردو کے مسائل اور ان کا تدارک‘‘بھی موضوع کے ساتھ انصاف کرتا نظر نہیں آتا۔ موصوف کی تحریر کا نصف اول’بھومیکا‘ یعنی تمہیدمیں صرف ہوگیا ہے، باقی نصف میں مسائل اور ان کے تدارک پر بھاگم بھاگ والے انداز میں گفتگو کی گئی ہے، جس سے تشنگی کااحساس ہوتا ہے۔

ڈاکٹرسید شاہداقبال کامضمون’بہارکی یادگاراسلامی عمارتیں ‘ گرچہ ایک عمدہ مضمون ہے لیکن’بہارکا معاصر ادب نمبر‘اس مضمون کا متحمل کیوں کر ٹھہرا، یہ سمجھ سے باہر ہے۔ ’بے وقت کی شہنائی‘ کہہ کر اِسے قبول کرنے کے سواکیا چارہ ہے۔

بہ طورتمہیدنصف درجن مضامین کی اشاعت کے بعد مدیر رسالہ نے’ادبیات بہارکے قلمکار‘ کے عنوان سے46صاحبان مضمون کی فہرست کو جگہ دی ہے، جن کی تحریریں شامل رسالہ ہیں ۔ بعد ازاں بہارکے معاصر ادب کے حوالہ سے مختلف النوع مضامین صفحۂ قرطاس پر جلوہ بار دکھائی دیتے ہیں ، جن کی تفصیل میں جائے بغیریہ کہاجا سکتا ہے کہ مدیر رسالہ نے بہر طورکوشش اِس بات کی کی ہے کہ بہار کا ادبی وشعری منظرنامہ اپنے تمام تر عصری سروکار کے ساتھ نمایاں انداز میں سامنے آجائے۔ اسی لئے بہار کی سیرت نگاری ونعت گوئی کے ارتقائی سفر پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، تذکرہ نویسی کے باب میں بہار کی حصہ داری کی نشاندہی بھی کی گئی ہے، بہارمیں اردو تحقیق کے ارتقائی سفر کا جائزہ بھی لیاگیا ہے، راسخ اور شاد کی نوئے وطن کو بھی جگہ دی گئی ہے اور پھر گہرائی میں اتر کر غزل ونظم کی دنیا کی سیر کئی کئی زاویۂ نگاہ سے کرائی گئی ہے۔ بہارکے شعری افق کا نسائی پہلو بھی تلاش کیا گیا ہے۔ مقام شکرہے کہ گوشوں کی تلاش کے دوران ’مردانگی‘ کا کوئی الگ درکسی نے وا کرنے کی جرأت نہیں دکھائی ہے!۔ یہی صورتحال افسانہ نگاری کے باب میں دیکھی جاسکتی ہے، جہاں نسائی پہلوکو فوکس کرنے کیلئے ایک الگ مضمون شامل رسالہ ہے، جس کی خالق استاذی محترمہ قمر جہاں ہیں ۔ بہارمیں ناول نگاری، ڈرامہ نگاری، ظرافت نگاری اورانشائیہ نگاری کے جائزوں پر مشتمل مضامین کے علاوہ مزاحیہ شاعری کی روایت، خودنوشت کی روایت کو بھی موضوع تحریر بنایاگیا ہے۔

ادب اور صحافت کے درمیان یوں تو فی زمانہ بُعدکاعام طورپر احساس ہوتا ہے لیکن مدیر’ مژگاں ‘نے صحافت کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ یوں بہارکی اردوصحافت سے متعلقہ 4مضامین شامل کئے گئے ہیں ۔ بہار کی ادبی صحافت پر ڈاکٹر عبدالحئی نے روشنی ڈالی ہے، جبکہ’ بہار کی اردو صحافت کادلفریب منظر نامہ‘راقم الحروف کا تحریر کردہ ہے۔ صحافت کے حوالہ سے تیسرا مضمون ڈاکٹر سید احمد قادری کا ہے، جو بہ عنوان’بہار میں اردو صحافت آزادی کے بعد‘ شامل رسالہ ہے، لیکن یہ مضمون عصری حقائق سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ ایک مضمون میں دو بڑی’حقیقت‘کچھ ایسی شامل ہے، جسے اب ’ماورائے حقیقت ‘قرار دینامیری مجبوری ہے۔ اولاًاس مضمون میں قومی تنظیم سے وابستہ بتائے گئے معروف صحافی سیدعبدالرافع کا تذکرہ ضروری ہے کہ موصوف اب اس دنیا میں نہیں رہے، جبکہ ’مژگاں ‘اس مضمون کے ذریعہ اپنے قاری کو یہ بتارہا ہے کہ سید عبدالرافع کی قومی تنظیم سے وابستگی کی وجہ سے اخبارکا ایک خاص معیار قائم ہے!۔ اور ثانیاً روزنامہ انقلاب کے پٹنہ بیورو کے طور پرمعروف صحافی خورشید ہاشمی کے تعلق سے صاحب مضمون یہ مژدہ سنارہے ہیں کہ موصوف کی صلاحیتوں کاپرتواس روزنامہ(انقلاب)میں نمایاں ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جناب خورشید ہاشمی کی صلاحیتوں کو انقلاب (پٹنہ)کے سفیدو سیاہ کے مالکان ہضم نہ کرسکے اور یوں اُن کی بدہضمی موصوف کی علاحدگی کا عرصہ ہوا، سبب بن چکی ہے۔ صحافت سے متعلق چوتھا مضمون ڈاکٹر جمیل اختر کا تحریر کردہ ہے، جس کا عنوان ہے’بہار میں جرائد نسواں ‘۔ اس کے علاوہ مژگاں کے اِس خصوصی شمارہ میں مزید دو مضامین صحافت سے ہی متعلق ہیں لیکن دونوں مضامین دومخصوص افراد کی خدمات کا احاطہ کرتے ہیں ۔ زیر نظرشمارہ میں ’ادبیات بہارکے قلمکار‘ کے ذیل میں دو مضامین بہار کی اردو تنقید کااحاطہ کرتے دکھائی دیتے ہیں ، جبکہ اس سلسلے کے اختتام سے قبل مزید دو ایسی تحریریں شامل ہیں ، جو بہار کی ادبی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتی ہیں ۔ پہلے مضمون کا تعلق’عظیم آباد کے ادبی مشاعرے ‘ سے ہے جبکہ دوسرامضمون ’پٹنہ کا ادبی سنگم:بک امپوریم‘کے عنوان سے یہاں مکرر شائع ہوا ہے۔ (ڈاکٹر عطا عابدی کی یہ تحریر ماہنامہ آج کل میں پہلے شائع ہو چکی ہے)۔

’مژگاں ‘ کی اِس خاص پیشکش میں آخری پڑاؤپر8مضامین نسل نو سے تعلق رکھنے والے ہونہار قلم کاروں کیلئے وقف ہیں ۔ ان تحریروں کو’نیا قلم، نئی تحریر‘ کے تحت جگہ دی گئی ہے۔  عصری ادب اور نئی نسل کی ترجمانی کے دعویداراِس رسالہ کے مدیر اعزازی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے شمارہ 50-54 کے ذریعہ دبستان بہار کے شعری و ادبی منظر نامہ کو کسی حد تک نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔

صوبہ بہار سے تعلق رکھنے والے قلم کاروں پر مضامین لکھنے یا رسائل کے خصوصی شمارے شائع کرنے کا ایک رجحان سا بنتا نظر آرہا ہے، بظاہر اس کی بنیادی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود بہار کا اردو داں طبقہ ( جس میں قلم کار اور قاری دونوں شامل ہیں ) رسائل اور کتابیں خرید کر پڑھنے میں دوسرے علاقوں پر فوقیت رکھتا ہے۔ آج سے برسوں قبل ماہنامہ ’ آجکل‘ کے اُس وقت کے مدیر محبوب الرحمن فاروقی نے اپنے اداریہ میں اس حقیقت کا اعتراف کر کے اپنے لیے مشکلات کھڑی کرلی تھیں ۔ ( اس کی تفصیل میں جانے کی یہاں نہ گنجائش ہے، نہ ہی ضرورت) بہر کیف صارفیت کے اس دور میں متذکرہ رجحان کا پایا جانا ایک فطری امر ہے۔ مژگاں کے زیر نظر شمارہ کے علاوہ اردو کے بزرگ لکھاری فاروق ارگلی کی تازہ ترین کتاب ( جواہر عظیم آباد ) اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

’مژگاں ‘کا’بہارکا معاصر ادب نمبر‘جلد اول’فنکارانِ بہارکی فنکاری ‘کومکمل طورپرمتعارف کرانے میں کا میاب ہے، بہر طور یہ نہیں کہاجاسکتا۔ مدیر رسالہ کی تمام تر سعی کے باوجودجو نگارشات شامل صفحہ ہوسکے ہیں ، اُن سے کئی ایسے پہلوؤں کی بازیافت ممکن نہ ہوئی ہے جنہیں اجاگر کیا جانا چاہئے تھا۔ مثلاً درجنوں کی تعداد میں ایسے شعراء و ادباء دہلی یا ملک کے دوسرے خطوں میں آباد ہیں ، جو بہارئ النسل ہیں اور اپنی شناخت چھپاتے بھی نہیں ، لیکن اُن کا تذکرہ تک نہ ہوسکا ہے، چہ جائیکہ اُن کی فنکارانہ عظمتوں کاعتراف کیاجاتا۔ ان میں کچھ نام تو ایسے ہیں ، جومشہور بھی ہیں ، مقبول بھی، پھر بھی نظر اندازہو گئے یاعمداًکردئیے گئے۔ بہرحال یہ امید کی جاسکتی ہے کہ ’مژگاں ‘ کے خصوصی شمارہ کے جلد دوم میں بہ طور خاص ایسے فنکاروں پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش ہوگی جنہیں ’نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ‘ہے۔

مزید دکھائیں

شاہدالاسلام

مضمون نگار روزنامہ ہندوستان ایکسپریس ،نئی دہلی کے نیوز ایڈیٹر ہیں

متعلقہ

Back to top button
Close