تبصرۂ کتب

میرا مطالعہ

 23 اپریل کو ’عالمی یومِ کُتب‘ کی مناسبت سے ایک تحریر۔

سہیل بشیرکار

        جس طرح جسمانی غذا کی ضروریات کے لئے کھاناپینالازم ہے اورروحانی ارتقاء کے لئے عبادات اہم ہے، اسی طرح علمی ضروریات کے لئے مطالعہ اہمیت رکھتاہے۔ مشہور چینی مقولہ ہے’’جس روزکوئی شخص اپنے مطالعہ اورمعلومات میں اضافہ نہیں کرتا وہ دن اس کے لئے بے کارجاتاہے‘‘۔ ترقی یافتہ قوموں کے عروج میں جوعوامل ہوتے ہیں، ان میں اہم چیز ان کاکثرت مطالعہ ہوتاہے۔ بدقسمتی سے امت مسلمہ  میں مطالعہ کارجحان کم ہے۔ حالانکہ قرآن وحدیث میں علم حاصل کرنے پرکافی زوردیاگیاہے۔ عرب نیوزمیں چھپی ایک تحقیق سے پتہ چلتاہے کہ جہاں اوسطاً ایک امریکی سال میں گیارہ کتابیں ؛ایک برطانوی ۷کتابیں پڑھتاہے، وہی ایک عرب سال میں اوسطاً صرف ایک چوتھائی صفحہ کامطالعہ کرتاہے۔

        اہل علم کی زندگی کا حسین ترین باب ان کامطالعہ ہوتاہے۔ عرفان احمدکی مرتب کردہ کتاب ’’میرامطالعہ‘‘ عالم اسلام کے ۲۰عظیم شخصیتوں کے اسی حسین ترین باب کانچوڑ ہے۔ بلکہ یہ ان کے علمی سفرنامہ کی رودادہے۔ آج سے ۲۰سال قبل تابش مہدی کی مرتب کردہ ’’میرامطالعہ ‘‘ نام سے ہندوستان سے ایک کتاب چھپی تھی لیکن زیرتبصرہ کتاب اسی لحاظ سے اہم ہے کیونکہ ان میں جن ۲۰افرادکے مطالعہ کومرتب کیاگیا ہے، ان کاتعلق مختلف شعبہ ہائے زندگی سے ہے۔ مرتب کااحسان ہے کہ انہوں نے چندصفحات میں بڑے لوگوں کی زندگی کے اہم ترین گوشوں کوقارئیں تک پہنچایاہے۔ زیرتبصرہ کتاب میں جن افرادکے سفرِمطالعہ کوشامل کیا ہے، ان میں عالم اسلام کے مفکر احمدجاوید، ڈاکٹرمحموداحمدغازی، محمدسہیل عمر اوردانشورصحافی عامرہاشم خاکوانی خاص طورپرقابل ذکرہیں۔

        سبھی اہل علم شخصیات کے علمی سفرنامہ سے پتہ چلتاہے کہ ان حضرات نے جہاں مولانا اشرف علی تھانوی، مولانامودودی جیسی دینی شخصیتوں کامطالعہ کیاہے۔ وہی دوسری طرف عصمت چغتائی، سعادت حسن منٹو وغیرہ کوبھی پڑھاہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مطالعہ کے سلسلے میں انسان کوتنگ نظر نہیں رہناچاہیے۔ ہمہ جہت اورمتنوع موضوعات پرپڑھنے سے انسان کی فکرگہری ہوجاتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہواکہ مطالعہ کی عادت بچپن میں ہی ڈالنی چاہیے۔ مطالعہ کی عادت کیسے پیدا ہو، اس سلسلے میں پاکستان کے عظیم مفکراحمدجاوید رقمطرازہیں :’’میرامشورہ ہرایک سے یہی رہتاہے کہ پڑھے لکھے لوگوں کی صحبت میں بیٹھاکرو، انشاء اللہ مہینے بعدہی تم خودکتابیں ڈھونڈتے نظرآؤگے اوراپنی مصروفیات میں سے ترددکرکے وقت نکالوگے‘‘۔ بڑی شخصیات کے مطالعاتی شوق کوپروان چڑھانے میں ابن صفی اورنسیم حجازی کااہم رول رہاہے۔ یہ دونوں مصنفین انسانوں کومطالعہ کی لت ڈالتے ہیں۔ دانشور، صحافی، عامرہاشم خاکوانی نسیم حجازی کے حوالے سے لکھتے ہیں :

        ’’میں سمجھتاہوں کہ ہرطالب علم اورنوجوان کونسیم حجازی پڑھناچاہیے …..نسیم حجازی کے ناولوں میں حب الوطنی، مضبوط کرداراورملک وقوم کے لئے کچھ کرگزرنے کے ساتھ ساتھ پاکیزہ جذبات اورمحبت کے خوبصورت تصورات پیداہوتے ہیں ……. دنیاجہاں میں بچوں کے کرداروں کے لئے سپرہیروز کومتعارف کرایاجاتا۔ یہی کام نسیم حجازی نے کیا، فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے تاریخی ہیروزکا انتخاب کیااورانہیں کمال مہارت کے ساتھ ذہنوں میں راسخ کردیا‘‘۔

        طارق جان نسیم حجازی کے بارے میں لکھتے ہیں :

        ’’وہ یقینا ہماری قوم کے محسنوں میں سے ہیں، انہوں نے اپنے ہرقاری کو متاثرکیا۔ انہیں رلانااورتڑپانادونوں آتے تھے‘‘۔

        کسی بھی مصنف کامطالعہ کرتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جس وقت مصنف نے یہ کتاب لکھی ہے، اس وقت کے حالات کیاتھے، کیونکہ مصنف اپنے وقت کے حالات سے متاثرہوئے بغیر نہیں رہتا۔ ہرمصنف کااپنا الگ اسلوب ہوتاہے۔ مطالعہ کرتے وقت اس بات کابھی خیال رکھناچاہیے۔ مولاناآزاد کے اسلوب کے بارے میں احمدجاویدصاحب رقمطراز ہے:’’ابوالکلام آزادکی تحریر میں معنی مغلوب ہوتے ہیں، اسلوب غالب ہوتاہے اوران کی تحریر مدلل نہیں تحکمانہ ہوتی ہے‘‘۔ چونکہ آئے دن بہت سی کتابیں لکھی جاتی ہے۔ کتابوں کاانتخاب اورمطالعہ کیسے کرنا چاہیے۔ ڈاکٹرمحموداحمدغازی رقمطرازہیں :ـ

        ’’کچھ کتابیں ہوتی ہیں جن پرایک نظرڈال لیناکافی ہوتاہے۔ دس پندرہ منٹ کے لئے نظرلیں، اندازہ ہوجاتاہے کہ کیسی کتاب ہے…..البتہ کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں، ان کودوتین گھنٹے دیکھناپڑتاہے۔ کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جوایک بارپڑھنے کی ہوتی ہیں، کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جوساری زندگی ساتھ رہتی ہیں ‘‘۔ طارق جان جوکہ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز میں سینرفیلوہے، رقمطرازہے:’’عالی جاہ عزت بگوچ کی کتاب ’Islam between East and West‘کے بارے میں لکھتے ہیں :’’میں نے یہ کتاب آٹھ بارپڑھی ہوگی اورہرباران کی کتاب کاتاثرمجھ پرگہراہوتاگیا‘‘۔

        علم کی دنیامیں استدلال کام کرتاہے۔ اگرمصنف کے پاس دلیل، آج نہیں توکل وہ اپنی بات اہل علم سے منواتی ہے۔ اہل علم کے مطالعاتی سفرمیں دیکھنے میں ملاکہ چاہے کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رہاہو، وہ مولانا مودودیؒ کی کتابوں سے متاثر ہوئے بغیرنہیں رہ پاتا۔ کتاب سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ ادب کامطالعہ ناگزیرہے۔ صحافت کے نمایاں استادڈاکٹرطاہرمسعود لکھتے ہیں ’’ادبی مطالعہ نہ ہوتوانسان کی شخصیت ادھورے پن کاشکارہوجاتی ہے۔ آدمی باطنی طورپربہت Richہوتاہے۔ بہت زیادہ Cultural Behaviourismاس کے اندرپیداہوتاہے، شائستگی آتی ہے، نتیجتاً وہ بہترانسان بنتاہے‘‘۔ استاداحمدجاویداس حوالے سے رقمطرازہے:

        ’’ادبی مطالعہ ناگزیرہے۔ ایک تویہ کہ اس سے آپ کوزبان کاعلم حاصل ہوتاہے۔ ادبی مطالعے کے بغیر زبان کاعلم حاصل کرنے کاکوئی دوسراذریعہ نہیں ہے۔ اوردوسرا فائدہ اس کایہ ہے کہ اس سے آپ کاجمالیاتی شعورتربیت پاتاہے۔ یہ دونوں مقاصد اتنے بڑے اوراہم ہیں کہ ان کونظراندازکرناگویاانسانوں کی طرح زندگی گزارنے سے دست بردارہوناہے۔ میرے نزدیک وہ انسان نہیں جس کولفظ کاعلم نہیں ‘‘۔

        مذکورہ کتاب میں ڈاکٹرمحموداحمدغازی اپنے مطالعاتی سفرمیں مولانامودودیؒ کی کتابوں کے حوالے سے جوبات لکھتے ہیں، وہ حیرت پیداکرتی ہیں۔ ڈاکٹرصاحب رقمطرازہیں :

        ’’مولانا(مودودی)کی جن کتابوں سے لوگ متاثرہوتے ہیں، وہ ’’خلافت وملوکیت‘‘، ’’قرآن کی چاربنیادی اصطلاحیں ‘‘اور’’تجدیدواحیائے دین‘‘ہیں۔ ان کتابوں نے مجھے کم متاثرکیا۔ یہ مجھے مولاناکے معیار کی کتابیں معلوم نہیں ہوتی‘‘۔ حالانکہ مولانا کی فکر ان ’’قرآن کی چاربنیادی اصطلاحیں ‘‘اور’’تجدیداحیائے دین ‘‘سے ہی واضح ہوجاتی ہے۔ مولانا بنیادی طورمفکراسلام ہے اورن کی فکر کارُخ بنیادی طور ان ہی کتابوں سے واضح ہوجاتاہے۔ اس کتاب کے بارے میں استاداحمدجاویدصاحب رقمطرازہیں :’’قرآن کی چاربنیادی اصطلاحیں، ان کی اہم ترین اوربنیادی کتاب ہیں ‘‘۔ مزیدلکھتے ہیں :’’اگرمولانامودودی صاحب کی دوتین نمائندہ تحریریں منتخب کی جائیں تو’قرآن کی چاربنیادی اصطلاحیں ‘ضرورشامل ہوں گی‘‘۔ تجدیدواحیائے دین میں مولانانے خوبصورتی سے تاریخ کامطالعہ کرکے تجدیدواحیاء پرعلم کے موتی بکھرے ہیں۔ ’خلافت وملوکیت‘میں مولانانے قرآن وسنت کی کسوٹی پر ہرتاریخی واقعہ بغیرکسی لاگ لپیٹ کے پرکھاہے اوربتایاہے کہ معصوم عن الخطاء صرف اورصرف نبی امی ﷺ کی ذات گرامی ہیں۔ ڈاکٹرعبیداللہ فہد لکھتے ہیں :’’مولانا مودودی نے خلافت کی ملوکیت میں منتقلی کے اسباب کایہ تنقیدی مطالعہ نہ پیش کیاہوتاتوتاریخ اسلام میں تجدیدواصلاح مساعی وتحریکات کی اسلامی توجیح نہ پیش کی جاسکتی تھی اوروقت کے ہرحکمراں کو بجاطورپر یہ حق حاصل ہوتاکہ وہ اپنی حکومت کو اسلامی حکومت کہتا‘‘۔

        اسی طرح پاکستان کے سابق بیروکریٹ، قالم نویس اورتجزیہ نگار اوریامقبول جان اس کتاب کے اپنے مطالعاتی سفرمیں لکھتے ہیں :’’فلسفہ کبھی مسلمانوں کاموضوع نہیں رہا، مسلمان جب بھی فلسفہ میں آئے ہیں، وہ تباہ وبربادہوئے ہیں، ابن رشدؔ، الکندیؔ، معتزلہ یہ سب فلسفہ کی بدولت بربادہوئے۔ مسلمانوں کاموضوع اورمضمون معاشرہ ہے، اورمعاشرہ میں سائنس آتی ہے‘‘۔ فاضل مصنف کایہ دعویٰ کئی لحاظ سے تحقیق طلب ہے۔ پہلی بات یہ کہ جوبھی علم دنیامیں برسروجودآیا، اس کاحاصل کرنا مسلما ن علماء اوردانشوروں کی مجبوری ہے۔ فلسفہ بنیادی طورپر چارعلوم پرمشتمل ہے، (۱)الجبرااورریاضی (۲)منطق(۳)دینیات(۴)نیچرل سائنس۔ جن فقہا کو علم فلسفہ سے اختلاف رہاہے، ان کو صرف تھیالوجی کے اس حصے سے اختلاف رہاہے، جس کامضمون عقیدہ رہاہے۔ یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے بھی فلسفہ کے بارے میں اٹھائے گئے سوالات کاجواب خودبھی فلسفیانہ اندازمیں دیاہے۔ فلسفہ کی وجہ سے دنیامیں سائنس کاوجود ہواکیونکہ فلسفہ نے کائنات کے متعلق مختلف سوالات اٹھائے۔ جس وجہ سے سائنس برسرِوجودآیا۔ ساتھ ہی مختلف مباحث کی وجہ سے بین مذاہب مکالموں کاچلن عام ہوا۔ اجتہادی مزاج پیداکرنے میں بھی فلسفے کا رول رہاہے۔ انسان کوکائنات پرغوروفکر کرنے کی طرف مائل کیا جوکہ عین قرآنی مزاج ہے، البتہ دیگرعلوم کی طرح اسلامی مفکرین یہ چاہتے ہیں کہ ہرعلم کو قرآن وسنت کی کسوٹی پر تولاجائے۔ دوسری بات فلسفہ میں مسلمانوں نے گراں قدرخدمات انجام دی۔ یعقوب الکندیؔمسلمانوں کے بڑے فلسفی رہے ہیں، سولہوی صدی کے ایک مغربی مفکر انہیں دنیائے تاریخ کے دس ذہین ترین انسانوں میں شامل کرتے ہیں۔ فارابی کودنیا کا معلم ثانی کہاگیاہے۔ امام غزالی کے فلسفے سے جدیدفلسفے کے بانی ڈیکارٹؔ اورکانٹؔ تک نے استفادہ کیاہے۔ ہیومؔ کاقول ہے کہ امام غزالی نے مجھے خوابِ غفلت سے بیدارکیا۔ ابن رشدؔ کی عقلیت کے افکارکولے کرہی قرونِ وسطیٰ کاپس ماندہ یورپ سائنسی یورپ بنا۔ حیران کن امریہ ہے کہ یعقوب الکندیؔ، فارابی، ابن سیناؔ، امام غزالیؔ اورابن رشدؔصرف فلسفی ہی نہیں، بلکہ دنیا کے عظیم سائنس دان شمارہوتے ہیں جن کے نام پر چاند پرکتنے گڑھوں (crator)، پہاڑوں اورمیدانوں کے نام رکھے گئے ہیں۔

        کتابیات کے عنوان سے اس کے کتاب کے آخرمیں چھ صفحات ہیں۔ جن میں اُن کتابوں کانام دیاگیا ہے، جس کاذکرکتاب میں ہواہے۔ اس فہرست سے جہاں قاری کم سے کم وقت میں اہم ترین کتابوں کی جانکاری حاصل کرسکتاہے، وہیں یہ کمی محسوس ہوئی کہ ان میں اکثرکتابوں کے مصنفوں کانام درج نہیں ہے۔ امید ہے اشاعت ثانی میں اس کمی کوپوراکیاجائیگا۔ کتاب ’’میرامطالعہ‘‘۳۰۰بڑے صفحات پرمشتمل عمدہ گیٹ اَپ میں Emel Publication Islamabad (Pak)نے شائع کی ہے۔ اردو میں بہت کم کتابیں اتنی معیاری طباعت سے شائع ہوئی ہے۔ کتاب سے معلوم چلتاہے کہ مرتب کااس سلسلے کوآگے بڑھانے کاارادہ ہے۔ امیدہے اس کارِخیرکوجلدسے جلد تکمیل تک پہنچائے گے۔

٭٭٭

مزید دکھائیں

سہیل بشیر کار

بارہمولہ، کشمیر

3 تبصرے

  1. حالانکہ مضمون معلوماتی ہے مگر اس سے قبل غالباً افکار ملی میں شائع ہو چکا ہے۔
    کالم صحیح ہے نہ کہ قالم۔ ایسے مضامین ضروری ہیں۔ہندوستان میں یہ کتاب کہاں دستیاب ہوگی یہ بھی بتا دیا ہوتا تو بہتر ہوتا۔

متعلقہ

Close