تبصرۂ کتب

نصابِ آگہی (شعری مجموعہ)

 دستگیر نواز

اس سے قبل کے ہم اپنی رودادِ مطالعہ تحریر کریں ،یہ ضروری ہوجاتا ہکہ اس مجموعہ کے بارے میںتفصیل بتاتے چلیں۔کچھ دنوں قبل کی بات ہے ہم ایک عزیز سے ملاقات کے لئے گئے تھے،وہاں دیکھا کے موصوف کے ٹیبل پر کئی کتابیں رکھی ہوئی ہیں، ایک کتاب کے سرِورق اور ٹاٹئل نے ہمیں اپنی طرف متو جہ کیا ’’نصابِ آگہی‘‘ اس شعری مجموعہ کے خالق ارشد غازی ارشدؔ ہیں یہ نام پڑھکر یوں محسوس ہواکہ ہم اس نام کے کسی شاعر سے ملاقات کرچکے ہیں۔ ابھی دماغ پر بوجھ بھی نہ پڑھ پایا تھا کہ یاد آگیاکلام بھی بلمشافہ سماعت کرچکے ہے یہی نہیں بلکہ ارشد ؔ کے ساتھ تصویر بھی کھچوائی تھی۔ملاقات کب، کہاں اور کیسے ہوئی تھی ہماری آنکھوں میں وہ سارے منظر گھومنے لگے۔اسی یادداشت نے ہمیں ’’نصابِ آگہی ‘‘ پر قلم اُٹھانے کے لئے آمادہ کیا !

تصویر،تصور اور تاثر یہ سب آپکی خدمت میں پیش ہیں۔ملاحظہ کیجئے اور اپنی رائے سے آگاہ کیجئے تاکہ ہم اپنی تحریر میں مذید نکھار لاسکئے کیونکہ ایک تخلیق کار کے لئے قاری سے بہتر کوئی منصف ہوہی نہیں سکتا۔ہمارا یہ اتقاد ہے۔ ارشد غازی ارشدؔاس شعری مجموعہ نصابِ آگہی میں صحیفہ سعادت کے تحت اپنی بات میں انتہائی ایمانداری اور سادگی کے ساتھ جو کچھ اظہار کیا ہے وہ قابلِ رشک ہے۔

احساسات،جذبات،خیالات،واقعات ہو، چاہے زندگی کے حالات ہی کیوں نہ ہو ہر ہر بات کا برملا اظہار ہیں۔جس کو پڑھکر درد مند دل، جذباتی جگر،طاقت ور جسم ، ٹھنڈہ ذہن اور سنجیدگی کو اپنا شعارِ زندگی بنا کے جینے والے افراد بھی مسکرا نے پر مجبور ہوجائیں۔بہر حال بہت ہی خوبصورت انداز سے صاف صاف لفظوں میںاپنی شریکِ حیات کا تذکرہ یوں کرتے ہیں ’’جنھوں نے گزشتہ 23 برسوں تک میری جیب سے غزلیں نکال نکال اسے سینت سینت کر رکھا(کاش وہ پائے جانے والے نوٹوں کو بھی یونہی رکھتیں)۔۔۔۔اور ایک جگہ یوں لکھا ہے صاحب نے ’’ریشمی رومال تحریک کے سرخیل‘‘ میرے دادا مولانا منصور انصاری فرمایا کرتے تھے کہ ’’شعر کا عروج علم کا زوال کی علامت ہے۔۔۔۔ایسے کئی قابلِ داد جملوں کا نظارہ ہو جاتا ہے،جو قاری کے دل ودماغ پر انمٹ نشان مثبت کرجاتے ہیں۔موصوف اپنے جدہ سودی عرب میں خیام کے دوران کی بھی تفصیل قلم بند کی ۔بہت سارے ہند و پاک کے شعرا اور ادیبوں کا تذکرہ کیا ہے لیکن حیدرآباد (دکن)کے ایک معتبر نام کا ذکر کرنا غالباً بھول گئے ،جو جدہ کی محفلوں میں بیکس نواز شارقؔ کے نام سے اپنا ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔ خیر کسی شاعر کے شعر پر واہ واہ کرنا تو عام بات ہے شرط یہ کہ اشعار دل کو چھوجاے ،دماغ کو جھنجوڑ جاے لیکن یہاں بات ہی کچھ اور ہے ۔قبل اسکے کے کلام کا مطالعہ کیا جاتا شاعر کی نثر پر بھی قاری کا واہ واہ کرنا مجبوری بنجاتی ہے۔

شاعری سے مطالق کچھ باتیں کی جائے ،جیسے ہی ہم مناجات سے آگے بڑھتے ہے تو اپنے آپ اس اشعار پرٹہر جاتے اور غور و فکر کرنے لگتے ہیں موصوف کا کچھ یوں کہنا ہے ؎ اسی کا دیکھا جہان میںسد ا بخیر انجام
جوانتہا سے کرے زیست کا آغاز
عروج پرابھی پہنچے نہ تھے کہ لوٹ آئے
جو ہم نے دیکھے زمانے کے بد اثر انداز
اب آپ اس اشعار کو لے لیجئے جو قاری کو حالات سے مقابلہ کرنے کی ہمت بندھاتے ہیں شاعر کا خیال دیکھئے اس طرح سے اظہار کرتے ہیں کہ قاری اپنے اندر ایک نئی تونائی پاتا ہے ؎
نہیں سود ا وہ پہلا سا سروں میں
یہ کیسا خوف در آیا گھروں میں
وہیں سے دیکھنا نکلے گا سورج
ابھی تاریکیاں ہیں جن گھروں میں
بس اسی طرح سے ورق در ورق ارشد غازی ارشدکے کلام میں ،کسی نہ کسی اشعار میں کہیں پنہا تو کہیں نہاں کوئی نصیت تو کئی وصیت یا پھر دشت تو کبھی دہشت کا خلاصہ کرتے ہوئے اشعار ہماری نظروں سے گزرتے ہوے دل میں گھر ،دماغ پر گہیرا تاثر چھوڑ جاتے ہیں۔اس سے قبل کے ہم اپنی تحریر کو اختتامی راہ پر لے جائیں،ارشدؔ کے یہ اشعار خاص طور پر آپکی نذر کرنا چاہتے ہے دیکھئے ؎
رُک سکتا ہے زور ہوا کا کہنے سے
کشتی لیکن پار لگے گی بہنے سے
آمد سے ہونا بھی کیا لیکن بس
دل ہلکا ہوجاے گا سننے کہنے سے
آپ سے اس بات کا بھی خلاصہ کرنا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں کہ اولیں سطور میں ہم نے تحریر کیا تھا ہماری ملاقات اس ’’ نصابِ آگہی ‘‘ کے خالق ارشد غازی ارشدؔ سے ہو چکی ہے جی ہان یہ ملاقات حیدرآباد (دکن)ہی میں منقدہ ایک کامیاب مشاعرہ پر ہوئی تھی۔

بہر حال کچھ اس طرح کے تاثرات ہمارے ذہن میں جاگے اس شعری مجموعہ کے مطالق۔ ٹائٹل ایک خیالی اسکیچ ہے لیکن نہات ہی دلکش گٹ اپ کا حامل،بہترین طباعت سے آراستہ اپنے اندر سادگی سمٹے ہوئے 224 صفحات پر مشتمل مناجات سے شروع ہوکر متفرقات پر ختم ہوتا ہے اس مجموعی کا کلامی سلسلہ،انکے درمیان بہت سارے کلام قاری کو بارہا اپنی گرفت میں جکڑ تے ہوئے نظر آتے ہیں۔مجموعہ میں مظفر حسین غزالی،ڈاکٹر تابش مہدی،الیاس نیم رضوی پاکستان،محمد مجاہد سیّد جدہ اور ڈاکٹر نواز دیوبندی نے نہایت ہی فراغ دلی سے اپنے خیالات کے زریعہ زینت بخشی ہیں۔جس کو دوسو روپے ادا کرکے ، غالب اکیڈمی ’ ایوانِ غالب‘ دہلی،مکتبہ جامعہ دہلی، علی گڑھ۔ یا ان نمبرات 0-8445-224-920 اور 0-9212-470-925 پر ربط کرکے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

دستگیر نواز

اصل نام : دستگیر محمد خان، قلمی نام : دستگیر نواز تخلص : نواز، مصروفیات: تجارت دیگر مصروفیات: سیکریٹری فاضلہ نیاز ایجوکیشنل سوسائٹی (رجسٹرڈ),بانی و سیکریٹری. ملکہ تاج فاؤنڈیشن (این جی او) پیدائش 04-05-1971 حیدرآباد (دکن) تعلیم: بی اے. حیدرآباد میں ہی ہوئی اور تربیت الحمدللہ گھر سے ہی میسر آئی. ادبی ذوق ورثہ میں حاصل ہوا یعنی والد محترم حضرت الحاج سرتاج محمد خان (رح) قادری ( بانی محمدی قبرستان و عیدگاہ پنشن پورہ) لنگر حوض حیدرآباد, تلنگانہ ہندوستان. سے. اللہ تعالی کے فضل و کرم والدین کی دعاؤں کے تفیل الحمدللہ. چار تصانیف منظر عام پر آچکے ہیں. جسے بے انتہاء مقبولیت بھی ملی. انشاءاللہ بہت جلد ایک اور تصنیف " تخلیقاتِ نواز " منظر عام پر ہوگی. لاہور سے حیدرآباد تک ( سوانح سرتاج محمد خان ) مرتب. 2011 اک دن سے...... افسانوی مجموعہ 2014(تلنگانہ اردو اکیڈمی ایوارڈ یافتہ ) " نوازشات " مجموعہ مضامین 2015 ( تلنگانہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ ) " تاثر اتِ نواز " تبصرے 2017 اسکے علاوہ ہندوستان و بیرونی ممالک میں بھی کئی تخلیقات نہ صرف اخبارات و رسائل کی زینت بنتے ہیں بلکہ سوشل میڈیا کی کئی ادبی سائٹ پر بھی پسندیدگی کی سند حاصل کرتے ہیں ِ ریڈیو, ٹی وی اور اسٹیج پر بھی اپنے جوہر آے دن دکھاتے رہتے ہیں ایک یادگار ڈرامہ " ہمارا کسان تلنگانہ کی شان " میں بہترین اداکار کا ایوارڈ بھی حاصل کیا. پتہ مکان نمبر. 446-2-9" فاضلہ نیاز گلشن " روبرو عیدگاہ پنشن پورہ, لنگر حوض, حیدرآباد. 500 008 تلنگانہ. الھند موبائل و واٹس آئپ9849075958 میل آئی ڈی dmkhan06@gmail.com

متعلقہ

Back to top button
Close