تبصرۂ کتب

نفرت کی درس گاہیں!

تحریر:نازیہ ارم، ترجمانی:نایاب حسن

(ہندوستان میں سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ سماجی سطح پر جو منفی تبدیلیاں رونماہوئیں یا ہورہی ہیں ، ان کے مظاہر ہرشعبے میں دیکھنے کو مل رہے ہیں ، حتی کہ تعلیم گاہوں اور سکولوں کے خالص تعلیمی و تربیتی ماحول میں بھی مذہبی تنفر اور مذہبی تفریق کی زہرناکیوں نے گھر کرلیاہے، جنھیں سیاست دانوں اورنیوز چینلوں کے ذریعے روز بہ روز بڑھاوا مل رہاہے۔ حیرت کی بات ہے کہ کسی انٹرنیشنل سکول میں پڑھنے والا چھ سات سال کا بچہ بھی جب اپنے ایک مسلمان ساتھی سے جھگڑتا ہے، تواس پر ’’دہشت گرد‘‘یا اسی طرح کے چبھنے والے الفاظ سے حملہ کرتا ہے اور باقاعدہ یہ کہتاہے کہ’’مجھے مسلمانوں سے نفرت ہے‘‘جبکہ اسکول کے اساتذہ یہ کہہ کر ایسے واقعے کوJustifyکرتے ہیں کہ ’’یہ توہوتا رہتا ہے‘‘۔ یہ ایک نہایت حساس معاملہ ہے اوراس پرہندوستان بھر کے باشعور طبقوں ، ماؤں ، معلمین اور سکولوں کے ذمے داران کونہایت گمبھیرتا کے ساتھ غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے، زیر نظرتحریر دراصل ایک کتاب کے اقتباس کاترجمہ ہے، کتاب کانام ہےMothering A Muslim، حال ہی میں شائع ہوئی ہے اور گزشتہ دوتین دنوں سے  اخباروں اور سوشل میڈیا میں زیر بحث ہے، کتاب کی مصنفہ ایک خاتون نازیہ ارم ہیں ، فیشن ڈزائن کے فیلڈ میں سرگرمِ عمل ہیں اور TheLuxuryLabel.inنامی سائٹ کی بانی ہیں ، یہ کتاب انھوں نے بڑی ریسرچ اور تحقیق کے بعد لکھی ہے، انھوں نے ملک کے 12؍شہروں کے 100؍بچوں اور ان کے والدین سے بات چیت کی، یہ بچے اور خاندان مڈل کلاس یا اس سے اوپر کے مسلم طبقوں سے تعلق رکھتے تھے، گفتگو کے دوران انھیں پتاچلاکہ ملک کے بہت سے مشہور ترین اوراعلیٰ درجے کے سکولوں میں بھی مذہبی بنیادوں پرمسلم بچوں کی ہراسانی کے تکلیف دہ اور حیرت ناک واقعات رونما ہورہے ہیں ، انھوں نے انہی سچی کہانیوں کو کتابی شکل دے کر (بلاتفریق مذہب)ہندوستان بھر کی ماؤں کو اپنے بچوں کی تربیت کے تعلق سے فکر مندی کا مظاہرہ کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہ اقتباس scroll.inپرشائع ہواہے، پوری کتاب ضرور پڑھنی چاہیے!)

میری پینتالیس سالہ پڑوسی عارفہ، جو پیشے سے Art Curatorہے، اس کے دوبچے ہیں ، ان دونوں بچوں نے نوئیڈا-گریٹرنوئیڈاایکسپریس وے پر واقع Lotus Valley International School میں تعلیم حاصل کی ہے، ایک دن کسی بڑے دہشت گردانہ حملے کی خبر میڈیا میں چھائی تھی، سعد(عارفہ کا دس سالہ لڑکا)اس وقت پانچویں کلاس میں تھا، اس کے کلاس روم میں ٹیچرکے ڈیسک پر ایک اخبار پڑا تھااور طلبہ اپنی انگریزی کی کلاس شروع ہونے کے انتظار میں تھے، ٹیچر آئی، اخبار اٹھایا، بلندآواز میں گزشتہ رات کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے سے متعلق خبر کی سرخی پڑھی اور حسرت آمیز انداز میں یہ کہتے ہوئے بیٹھ گئی کہ’’دنیا میں کیا ہورہاہے؟!‘‘۔

اسی دوران اچانک ایک بچے نے سعد کانام لے کر زورسے کہا’’سعد!یہ کیا کردیاتم نے؟‘‘پوری درس گاہ میں خاموشی چھاگئی، سعد کے حلق میں الفاظ اٹک گئے، اسے محسوس ہواکہ اردگرد کی سب نگاہیں اسے گھوررہی ہیں ، اس کے بولنے کا انتظار کررہی ہیں ، وہ اندر ہی اندر غصے سے تلملا رہاتھا، مگر اپنے غصے کا اظہار کرنے کے لیے اسے الفاظ نہیں مل رہے تھے، پوری درس گاہ میں اس واقعے کے متعلق بدمزگی کے ساتھ ایک سوالیہ ماحول پیدا ہوگیا، مگر ٹیچر نے اس پر کوئی دھیان نہیں دیا’’میں منتظر تھا کہ ٹیچر کی جانب سے کوئی ردعمل آئے گا اور وہ بچوں کو شانت کرے گی، مگر ان کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں آیا، وہ چپ چاپ ہمارے سامنے بیٹھی رہیں ، کچھ دیر بعد وہ کھڑی ہوئیں اور سبق شروع کردیا، میں خاموش تھا، میں نے کسی کو کوئی جواب نہیں دیا، بس بیٹھارہا، سچ یہ ہے کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہاتھا کہ ایسے وقت میں کیا کروں ؟‘‘۔

عارفہ کاکہناہے کہ2014کے عام انتخابات کے بعد سماجی سطح پر واضح تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ’’لوگ مسلمانوں کے بارے میں کھلے عام معاندانہ جذبات کا اظہار کرنے لگے ہیں ، یہی چیزاسکول کے دوران ان کے بچوں میں بھی جھلکتی ہے، اسکول میں بچے ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے رہتے ہیں ، مگر پہلے اس کی نوعیت کچھ اور ہوتی تھی، بچے ایک دوسرے کو بچکانہ گالیاں دیتے یا برابھلا کہتے تھے، مگر اب ایسا نہیں ہے، اب جب کسی مسلم طالب علم سے کسی غیر مسلم طالب کا جھگڑا ہوتا ہے، تو اس کی مذہبی شناخت کو نشانہ بنایا جاتاہے، اب اسے بغدادی، بنگلہ دیشی، پاکستانی یا سیدھے طورپر دہشت گرد کہہ دیا جاتا ہے، ان بچوں کی زبانوں پر وہ الفاظ چڑھ گئے ہیں ، جو رات دن نیوز چینلوں پر استعمال کیے جاتے ہیں ‘‘۔

حالاں کہ مسلمانوں کے خلاف اس قسم کی افتراپردازی تو نوے کی دہائی میں ہی شروع ہوچکی تھی، مگر اب(خاص طورسے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران) اس کے لب و لہجہ اور شدت میں بدلاؤ آچکاہے، پہلے اس قسم کی باتیں بے ضررانداز میں اور کبھی کبھی کی جاتی تھیں ، مگر اب اکثرو بیشتر اورمزاحاً نہیں ، اظہارِ عداوت کے لیے کی جاتی ہیں ، اگر مزاحاً بھی کہی جاتی ہوں ، تو اس کے پردے میں چھپے تمسخر کو درست نہیں قرار دیا جاسکتا، اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ’’ مسلم‘‘اور’’دہشت گردی‘‘کو کس مضبوطی کے ساتھ ایک دوسرے سے نتھی کردیا گیا ہے، اِس وقت عالمی سطح پربھی صورتِ حال مختلف ہے(اور ممکن ہے کہ اسی کی وجہ سے یہ تبدیلیاں رونما ہوئی ہوں )اسلام کے نام پر عالمی دہشت گردی میں گزشتہ پندرہ سالوں کے دوران ڈرامائی طورپراضافہ ہوا ہے اور اکیلے آئی ایس آئی ایس مبینہ دہشت گردانہ حملوں میں ہونے والی 95؍فیصد اموات کا ذمے دار ہے۔ جبکہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان میں دائیں بازوکے ہندوتوانظریات کو تقویت پہنچنے کے ساتھ یہاں کے مسلمانوں کو ’’حملہ آور‘‘، ’’غدار‘‘اور ’’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘‘ قراردے کر ان کوبدنام کرنے کی مہم بھی تیز ہوئی ہے، 2014ء کے عام انتخابات کو پولرائز کرنے میں اس نظریے کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ ملک بھر کے مختلف لوگوں سے بات کرنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ اس قسم کے خیالات و نظریات ملک کے بچوں کے ذہنوں میں  بھی منتقل کیے جارہے ہیں ۔

عارفہ کے سترہ سالہ بڑے لڑکے رفعت کوسکول میں ’’دہشت گرد ‘‘کہاگیا، یہ جان کر عارفہ گھبراگئی اور کلاس کے واٹس گروپ کے ذریعے ایسا کہنے والے بچے کی ماں سے رابطہ کیاتواس نے جواب دیا کہ’’آپ کے بیٹے نے بھی تو میرے بیٹے کو ’’موٹا‘‘کہاتھا!، وہ ’’دہشت گرد‘‘اور’’موٹا‘‘دو قطعی الگ الگ معنی و مفہوم رکھنے والے لفظوں کو برابرقرار دے کر اپنے بیٹے کا دفاع کررہی تھی، میرے پاس اسے کہنے کے لیے اور کچھ بھی نہیں تھا؛کیوں کہ یہ بچے تو طویل عرصے سے ایک دوسرے کے دوست تھے‘‘۔ عارفہ نے سرپرہاتھ رکھتے ہوئے کہا، پھر اس نے یہ واقعہ ٹیچر سے بیان کیا، مگراس کے مطابق’’اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا، انھوں نے بس یہ کہہ کر ٹالنے کی کوشش کی کہ وہ اس کے والدین سے بات کریں گے، مگر اس کے بعد بھی اس قسم کے واقعات پیش آتے رہے، حتی کہ عاجز آکر میرے بچوں نے سکول انتظامیہ کو شکایت کرنا ہی چھوڑدیا‘‘۔

عمربڑھنے کے ساتھ ہی ان دونوں بھائیوں میں کچھ عجیب تبدیلیاں آگئی ہیں اور اب اگر انھیں کوئی پریشان کرتا ہے، تو وہ بزدلی کا مظاہرہ کرنے اور اپنی ماں سے شکایت کرنے کی بجاے لڑکر معاملے کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، بسوں یا کھیل کے میدان میں ان کے درمیان ہونے والی گالم گلوچ اکثر و بیشترلڑائی میں تبدیل ہوجاتی ہے، عارفہ فطری طورپر اپنے حقوق کے حوالے سے نہایت حساس اور Vocal ہے، مگر اس کیس میں وہ زیادہ تر خاموش رہتی ہے، اس نے غمگین اور ڈری ہوئی آواز میں کہا’’میں اپنے بچوں سے کہتی ہوں کہ موجودہ سیاسی ماحول میں تمھیں کسی بھی ردِعمل کا اظہارکرتے ہوئے ہوشیار رہنا چاہیے؛ کیوں کہ پتانہیں کب، کیا ہوجائے؟‘‘

مگر رفعت کو اپنی والدہ کی رائے سے اختلاف ہے، اس کا کہناہے’’اگر وہ یہ سوچتے ہیں کہ ہم دہشت گرد ہیں ، تو پھر ہم انھیں دکھادیں گے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں ، وہ ہمیں دہشت گرد کیسے کہہ سکتے ہیں ؟جب بھی کہیں کوئی دہشت گردانہ واقعہ رونما ہوتا ہے، تو میرا ہم درس مجھ سے پوچھتاہے’’ارے!یہ کیا کروادیاتم نے؟‘‘گویا میں ہی اس واقعے کا ذمے دارہوں ‘‘۔ جب میں نے رفعت سے دریافت کیاکہ تم اس قسم کا واقعہ پیش آنے پر لڑنے کی بجاے اسکول انتظا میہ سے شکایت کیوں نہیں کرتے؟تواس مضطرب نوجوان نے جواب دیا’’ایک غیر معقول بات کا معقول طریقے سے جواب دینے کی کوشش کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے، اگر وہ لوگ لڑنا چاہتے ہیں ، تو ہم کیوں پیچھے رہیں ؟‘‘۔

سکول میں بچے دوسروں کوہراساں ؍پریشان کرنے کے لیے وہی الفاظ استعمال کرتے ہیں ، جو عموماً ہمارے گھروں میں استعمال ہوتے ہیں اورآج ہندوستانی گھروں میں ہونے والی گفتگوئیں عموماً’’دوسروں ‘‘ (مسلمانوں )کے تئیں نفرت اور ان سے ہوشیاررہنے کی تدبیروں پرمشتمل ہوتی ہیں اور یہ فطری بات ہے کہ بچے ان الفاظ کو اپنی عملی زندگی میں دوہرائیں گے۔ عارفہ اپنے بچوں سے ایسے غیر معقول کمینٹس کو نظر انداز کرنے کی نصیحت کرتی ہے’’کیوں کہ وہ سب بسوں میں ایک ساتھ سفر کرتے اور ساتھ ہی پڑھتے ہیں ، جس کی وجہ سے ایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ رہنا یادشمنی کے ساتھ رہنا ممکن نہیں ، اس کا نتیجہ یہ ہوگاوہ لوگ تنہائی پسند اور خشک اطوار ہوجائیں گے‘‘۔

عارفہ کی اس بات سے مجھے گیارہ سالہ معاذ کا واقعہ یاد آگیا، جو این سی آرمیں واقع دہلی پبلک اسکول کی ایک شاخ میں چھٹی کلاس کا طالبِ علم ہے، اس کی پیدایش مسلم باپ اور ہندوماں کے گھرہوئی ہے، اس نے مجھے بتایا کہ اس کے مسلمsurnameکی وجہ سے کس طرح ساتھیوں کے سوشل بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑتاہے، اسے اکثر و بیشتر ’’دہشت گرد‘‘کہاجاتا ہے اور اس کا کوئی ساتھی اس کے ساتھ کھیلنے تک کو تیار نہیں ہوتا، اس نے مجھے بتایا’’وہ سب ساتھ مل کر کھیلتے ہیں ، مگر مجھے اپنے ساتھ شامل نہیں کرتے‘‘اس نے یاس انگیز لب و لہجے میں کہا’’کھانے کے وقفے کے دوران میں ایک مسلم لڑکی کے ساتھ بیٹھ جاتا ہوں ، اس کے کچھ دوست ہیں ، جنھیں مجھ سے کوئی شکایت نہیں ، سکول میں میرا کوئی دوست نہیں ‘‘۔

اب تو ابتدائی عمرمیں ہی لڑائی تک کی نوبت آجاتی ہے، زرین صدیقی نے مجھے بتایا’’میرا چھوٹا لڑکا محض ساڑھے چھ سال کا ہے، جسے سکول میں صرف اس وجہ سے ماراگیا کہ وہ مسلمان ہے‘‘۔ اس کی بیٹی سمیرانوئیڈاکے ایک بین الاقوامی شہرت کے حامل سکول میں پڑھتی ہے، ایک بار اس کی بغل میں بیٹھے ایک طالب علم نے اس سے پوچھا’’کیاتم مسلمان ہو؟‘‘اور اس کے ساتھ ہی وہ اسے یہ کہتے ہوئے مارنے لگا کہ ’’مجھے مسلمانوں سے نفرت ہے‘‘۔ زرین نے بتایاکہ اس کی لڑکی نے کئی دن بعد اس واقعے کا ذکر کیا’’میں تو سنتے ہی خوف زدہ اور متحیر رہ گئی، میں نے فوراً کلاس ٹیچر کو کال کرکے بتایا، تو اس نے فقط دولفظوں میں جواب دیا’’ایسا توہوتا رہتا ہے!!‘‘۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close