تبصرۂ کتب

نماز کے لیے بچوں کو مسجد میں لانے کا شرعی حکم

محمد مرتضیٰ ساجد

الحمدللہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ

"نماز کے لئے بچوں کو مسجد میں لانے کا شرعی حکم” تالیفِ لطیف مفتی سعید الظفر صاحب حفظہ اللہ تعالی ………. مصنف نے شفقت فرماتے ہوئے عاجز کو بھیجی اور کہا کہ اپنے ناقدانہ تبصرے اور رائے کا اظہار کریں ‌‌” ‌‌”

ماشاءاللہ رسالہ اپنے موضوع پر جامع ترین ہے، بچوں کی تربیت انتہائی اہم عمل ہے کیونکہ نئی نسل ہمارا سرمایہ ہے اس کی نگہداشت ہم پر لازم ہے، بچے نرم شاخ کی طرح ہوتے ہیں انہیں جس طرف چاہیں آسانی سے موڑا جا سکتا ہے۔

اللہ تعالی نے اپنے خاص الخاص بندوں کی صفت بیان کی ہے”

وَ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا ہَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعۡیُنٍ وَّ اجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِیۡنَ اِمَامًا، ﴿الفرقان: ۷۴﴾

” اے ہمارے رب ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب فرما اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنادے۔ “

: الرّحمن کے بندے اس حد تک صاحب بصیرت اور ذمہ دار ہوتے ہیں کہ اپنی اصلاح کے ساتھ اپنے اہل و عیال اور پورے معاشرے کی اصلاح کے لیے دعا گو اور کوشاں رہتے ہیں۔

انبیاء کرام بھی اپنی اولاد کی اصلاح کے لئے مساجد سے ان کا تعلق استوار کرنے کے فکر مند تھے ‌‌” ‌‌” سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور سعی اس بات کی بین دلیل ہے!

( رَبَّنَا إِنِّی أَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِی بِوَادٍ غَیْرِ ذِی زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْءِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَھْوِیْٓ اِلَیْھِمْ وَ ارْزُقْھُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّھُمْ یَشْکُرُوْنَ ) [ ابراہیم : ٣٧]

” اے ہمارے رب ! بیشک میں نے اپنی اولاد کو اس وادی میں بسایا ہے، جو کسی کھیتی باڑی کے لائق نہیں، تیرے حرمت والے گھر کے پاس، اے ہمارے رب ! تاکہ نماز قائم کریں۔ بس لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں پھلوں سے رزق عطا فرما، تاکہ وہ شکر کریں۔ “

مساجد و مدارس اصلاح انسانی کے لئے ورکشاپ کی حیثیت رکھتی ہیں،

اسلئے ‌‌” موجودہ حالات میں ہمیں اس آیت کو بھی ہمشہ مد نظر رکھنا چاہیئے ‌‌”

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہِ اَنۡ یُّذۡکَرَ فِیۡہَا اسۡمُہٗ وَ سَعٰی فِیۡ خَرَابِہَا ؕ اُولٰٓئِکَ مَا کَانَ لَہُمۡ اَنۡ یَّدۡخُلُوۡہَاۤ اِلَّا خَآئِفِیۡنَ ۬ؕ لَہُمۡ فِی الدُّنۡیَا خِزۡیٌ وَّ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿البقرہ: ۱۱۴﴾

 اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتے ہوئے روکے اور مسجدوں کی بربادی کی کوشش کرے ایسے لوگوں کو خوف کے ساتھ ہی مسجدوں میں جانا چاہیے۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں عذاب ہوگا ‌‌” ‌‌”

تین آیات پیش کرنے کے بعد تین احادیث مبارکہ حاضر خدمت ہیں:

اگر ہم ارشادات رسولﷺ یاد رکھ  کر اپنی اور دوسروں کی اصلاح کی فکر کریں گے تو امید ہے معاشرہ فلاح کی راہوں پر گامزن ہوگا ان شاءاللہ الرحمن‌‌” ‌‌”

رسول رحمت ﷺ نے نے اپنی امت کو چھوٹوں پر شفقت کرنے اور اپنے بڑوں کا شرف و مرتبہ پہچان کر ادب و احترام کرنے کی تلقین فرمائی ہے:

 [عن جد عمرو بن شعيب:] ليس مِنَّا مَنْ لَمْ يَرحمُ صَغيرَنا ولَمْ يَعرِفْ شَرَفَ كبيرِنا

الترمذي (٢٧٩ هـ)، سنن الترمذي ١٩٢٠  •  حسن صحيح

جب بڑے چھوٹوں پر شفقت کریں گے تو امید ہے وہ بھی ہماری سوچ سے بڑھ کر بزرگوں کا احترام کرنے کو تیار ہوں گے

والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ

کبھی نرمی کے ساتھ اور کبھی سختی کے ساتھ اپنے بچوں کو سدھارنے کے لئے محنت کرتے رہیں ‌‌” ‌‌”

 عن عائشة أم المؤمنين رضی اللہ عنھا :] أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم قال لها يا عائشةُ ارفُقي فإنَّ اللهَ إذا أراد بأهلِ بيتٍ خيرًا أدخل عليهم الرِّفقَ

المنذري (٦٥٦ هـ)، الترغيب والترهيب ٣/٣٦١  •  رواته رواة الصحيح

جب اللہ تعالی کسی گھر والوں سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو ان پر نرمی کو داخل کر دیتا ہے ‌‌

یاد رکھو………. صرف نرمی سے بچے نہیں سدھرتے!

آنے والی حدیث رسولﷺ پر بھی عمل کرنے کی ضرورت پڑتی رہتی ہے ۔

٩- [عن عبدالله بن عباس:] علِّقوا السَّوطَ حيثُ يراه أهلُ البيتِ، فإنَّه أدَبٌ لهم

الألباني (١٤٢٠ هـ)، صحيح الجامع ٤٠٢٢  •  حسن  •  أخرجه الطبراني (١٠/٣٤٤) (١٠٦٧١)، وابن عدي في «الكامل في الضعفاء» (٣/٩٠)، والخطيب في «تاريخ بغداد» (١٢/٢٠٣) واللفظ له

تاجدارِ حرم ﷺ: گھر میں کوڑا ایسی جگہ پر لٹکا کر رکھو جہاں گھر والے اسے دیکھتے رہیں کیونکہ یہ ان کو ادب سکھانے کا ایک طریقہ ہے۔

بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے  نرمی و سختی کا توازن قائم رکھنا ضروری ہے ‌‌

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close