تبصرۂ کتب

پروفیسر احمد سجاد کی تصنیف، تنقید و تنقیح پر طائرانہ نظر

محمد امین عامرؔ 
پروفیسر احمد سجاد کا مرزبوم بہار شریف(نالندہ) ہے جو اصلاً ان کی روحانی اور علمی تربیت کا مرکز ہے اور رانچی انکی معیشت گاہ ہے جس سے وابستہ رہ کر انہوں نے اپنے علم و فن کی آبیاری کی اور اپنی شخصیت کو دوبالا کیا۔   بہار شریف جو اہالیان علم اور بزرگان دین کی آماجگاہ ہے اس حیثیت سے اسے صحت بخش مقام کہا جاسکتا ہے کہ جس کی خاک سے ایسی صحت مند اور تنومند ہستیاں بیدار ہوئیں کہ جنہوں نے بے دینی اور غیر صحت مند اور مسموم فضا ؤں کا رخ بدل دیا اور وہاں معرفت الٰہی کا پرُ فضا اور صحت بخش ماحول قائم کیا۔   اسی طرح رانچی جو جغرافیائی طور پر ایک صحت بخش اور پرُ فضا مقام ہے اور جس سے معاشی طور پر وابستہ رہ کر پروفیسر احمد سجاد نے اپنی جسمانی صحت اور نشوونما کا سامان کیا، علم و ادب کا ایسا مرکز قرار پایا جس سے صحت مند اور تعمیر پسند ادب کی قنادیل روشن ہوکر پورے رانچی کے ماحول کو جگمگا رہی ہیں۔   اگر بنظر غور دیکھا جائے تو پروفیسر سجاد انہی دو پرُ فضا اور صحت بخش مقامات کے پروردہ ہیں کہ جس کے سبب انکی فکر و تحریر بھی بہت ہی صحت بخش اور تعمیر پسند عناصر سے آمیزش ہے۔   اس مختصر سی تمہید کے بعد انکی تصنیف ’’تنقید و تنقیح‘‘ سے متعلق تحریر حوالۂ سطر ہے۔
زیر نظر تصنیف ’’تنقید و تنقیح‘‘ تین ذیلی عنوانات یعنی تعمیری ادبی جہات، شخصیات اور تاثرات پر مشتمل ہے۔   تعمیری ادبی جہات کے تحت باب اول میں 9 عدد، باب دوم میں شخصیات کے تحت 12 عدد اور تاثرات کے تحت باب سوم میں 7 مضامین ہیں۔   اس طرح 28 عدد مضامین پر مشتمل یہ کتاب تنقیدی نگارشات کا ایک مرقع ہے جسے تعمیر پسند اور صحت افزا فکری ادب کا درجہ دیا جاسکتا ہے۔
تعمیری ادبی جہات کے تحت گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر احمد سجاد نے بیسویں صدی کے دو عظیم مغرب زدہ مشاہیر ادب کی آسمانی و الہامی ہدایات سے محرومی کے سبب انکی فکری کجروی اور شتر بے مہار ادب کو زبردست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انکی ناکامیوں کا جہاں پردہ چاک کیا ہے وہیں اس کے برعکس پروفیسر موصوف نے ان نظریات اور خیالات کو ہوا دی ہے جو عین صحت بخش اور تعمیر پسند ادب سے ہم رشتہ ہیں۔   موصوف رقمطراز ہیں:
’’ان نظریات و اشخاص کے برعکس تعمیری ادب کا رول انسانیت دوست اور انسانیت نواز ہے اور جس کا ادب قلب مطمئنہ کا عمل اس لیے بن جاتا ہے کہ اسلام انسان کو معزز و محترم،  خدا کا خلیفہ اور اشرف المخلوقات تصور کرتا ہے اور تسخیر کائنات جس کا پیدائشی حق ہے۔   اسلامی ادیب و فنکار خدا شناس ہی نہیں خود شناس و زمانہ شناس بھی ہوتا ہے۔   وہ مایوس نہیں پرامید، قنوطی نہیں رجائی ہوتا ہے۔   اس کی روح بدترین زمانے میں بھی قنوطیت سے نہیں رجائیت سے معمور ہوتی ہے۔  ‘‘(ص: 5۔  6)
اسلامی ادب نے انسانیت کو رجائیت کی راہ دکھا کر اسے آگے بڑھنے کا حوصلہ عطا کیا ہے جب کہ اسکے برعکس ترقی پسند نظریات نے اس کی حوصلہ شکنی کی ہے۔   موصوف نے ان دونوں نظریات کا بھر پور مطالعہ کیا ہے اور غیر اسلامی نظریات اور ادب کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔   وہ فرماتے ہیں:
’’اگر غور کریں تو پورے اردو ادب اور شعری سرمائے میں اسلام ہی نہیں مختلف بڑے مذاہب کی بنیادی قدروں کی چھاپ انمٹ ہے۔   یہی وجہ ہے کہ بلا تفریق مذہب و ملت اردو شعرا نے دنیوی زندگی کے آنی جانی اور اخروی زندگی کی ابدیت پر زور دیتے ہوئے مثبت اخلاقی قدروں پر بطور خاص زور دیا ہے…………….اس کے برعکس ترقی پسندی کے بعد جدیدیت اور مابعد جدیدیت وغیرہ کے برے بھلے اثرات نے چونکہ دینی واخلاقی اقدار حیات کو دھندلا دیا اس لیے مذکورہ جدید تہذیبی انتشار اور مغربی اثرات نے ہمارے ادب کو ماتم و مرثیہ اور قنوطی احساسات و جذبات سے بھردیا۔   وہ رجائی انداز باقی نہیں رہا بلکہ اگر کہیں اس کا اظہار بھی ہوا ہے تو اس میں سطحیت اور کھلنڈرے پن کا احساس نمایاں معلوم ہوتا ہے‘‘۔  (ص: 12۔  13)
پروفیسر احمد سجاد کا موضوع گرچہ اردو زبان و ادب ہے مگر اسلامیات کے میدان میں بھی انہوں نے اپنا سکہ گاڑ دیا ہے اور اسی سے حرارت اور نشوونما پاکر وہ جہاں صحت بخش اور تعمیر پسند ادب کو موضوع گفتگو بناتے ہیں تو اس میں اخلاقیات کا آنا لازمی ہے کہ جس کے بغیر ادب کی تطہیر ممکن نہیں۔   چنانچہ ’’اخلاقی قدروں کے فروغ میں اردو ادب کا حصہ‘‘ کے عنوان پر یوں گویا ہیں:
’’اردو زبان و ادب کا آغاز و ارتقا ہی صوفی سنتوں، بزرگوں اور ولیوں کی کاوشوں سے ہوا۔   اردو کے جملہ شعری و نثری کارناموں پر خدا پرستی و اخلاق مندی اور دعوتی و تبلیغی اثرات کا ہر اعتبار سے غلبہ ظاہر و باہر ہے۔   مورخین نے نشان دہی کی ہے کہ مجدد الف ثانیؒ کے اثرات سے اردو شاعری اور تحریک شاہ ولی اللہؒ سے اردو نثر گہرے طور پر متاثر ہے‘‘۔  (ص:30)
پروفیسر موصوف وسیع المطالعہ ہیں اردو زبان و ادب کی تقریباً ہزار سالہ تاریخ انکے پیش نظر ہے ان حالات میں اردو کن کن نشیب و فراز سے گذری امتداد زمانہ نے اس پر کیا اثرات جمائے اور وہ کس طرح متاثر ہوئی کیا موضوعات اس نے قبول کیے اور کیا رد کیے اس کا لب لباب، نچوڑ اور ماحصل اخلاقی اقدار کے سوا کچھ نہیں جیسا کہ درج بالا عبارت میں پروفیسر موصوف کے تجزیہ سے ظاہر ہے۔
دنیا کے تمام انسان خواہ وہ مختلف المذاہب،  مختلف الالوان،  مختلف اللسان، مختلف الطبقات اور مختلف الارضیات ہوں سب کی پیدائش ایک ہی فطرت اسلام پر ہوئی ہے اور سب ایک ہی پدر و مادر آدم ؑ و حوا ؑ کی اولاد ہیں لہذا اسی ایک اساس پر سبھوں کو وحدت بنی آدم (Unity of Mankind ) کے مرکز پر جمع کیا جاسکتا ہے جس سے ملی و قومی، سماجی و لسانی اور فکری و ادبی یگانگت، اتحاد اور یکجہتی کی راہ ہموار ہو اور انسانیت نوازی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار و سیرت و کردار پروان چڑھے۔   اس فکر و نظر کے داعی اور محرک پروفیسر احمد سجاد بھی ہیں جنکا نظریۂ دعوت یہ ہے کہ:
’’دنیا کے تمام ادب کا راست تعلق انسانی جمالیات، لفظیات، فکرو نظر اور احساسات وجذبات سے ہے۔   مزید یہ کہ انسان از آدم تا ایندم علم الانسان کی جدید تحقیق کی رو سے بھی ایک ہی فطرت اور سرشت پر پیدا کیا گیا ہے اس لیے ان کے درمیان بنیادی احساسات و جذبات،  خیر و شر کے معیار اور تلخی و شیرینی کے ذائقوں میں بہت حد تک یکسانیت بالکل فطری ہے………..لہذا کسی ایک ہی ملک کے انسانی اور ادبی طرز اظہار میں بظاہر تنوع اور رنگارنگی کے باوجود ان کے درمیان یکجہتی وہم آہنگی کا پایا جانا ایک فطری امر ہے‘‘۔  (ص: 50۔  51)
موصوف بعنوان’’ہندوستانی ادبیات کی فکری و فنی بنیادیں‘‘درج بالا گفتگو میں اپنا یہی صحت بخش اور تعمیر پسند نقطۂ نظر پیش کرنا چاہتے ہیں کہ ہندوستان کی اردو،  ہندی، انگریزی، سنسکرت اور تامل ادبیات میں جو فکری و فنی بنیادیں ہیں وہ سب ایک ہی فطرت اور سرشت سے مربوط ہیں گرچہ ان کے مابین کچھ جزوی فرق اور فروعی اختلافات ضرور ہیں تاہم انہیں زیادہ اہمیت نہ دیکر انہیں اسی اساس کی طرف مائل کیا جاسکتا ہے جس سے باہمی انسانی ہمدردی، انسانیت نوازی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار پیوست ہیں۔   بدقسمتی سے آج ملک میں ایسے سیاسی حالات جان بوجھ کر پیدا کیے جارہے ہیں کہ جن کے نتیجے میں ادبی، لسانی، تمدنی، تہذیبی، سماجی اور تاریخی عوامل سب داؤں پر لگے ہوئے ہیں اور سبھوں کی شناخت مٹاکر سب کو ایک بھگوا رنگ میں رنگنے کی سازش رچی جارہی ہے۔   ایسے میں ملی وحدت پارہ پارہ ہے اور انسانیت خاک و خون میں لپٹی نظر آرہی ہے۔   ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلیٰ اخلاقی اقدار پر مشتمل نظریہ و ادب کو فروغ دیا جائے اور انسانوں کا رشتہ اسکے خالق و مالک سے جوڑا جائے تاکہ سچی خدا پرستی کی بدولت عالمی امن و راحت نصیب ہو اور فساد فی الارض کا بالکلیہ خاتمہ ہو۔
اردو شاعری میں محنت کش عوام کا کس طرح استحصال کیا گیا اس کی ایک جداگانہ تاریخ ہے اور اس تاریخ پر بھی پروفیسر موصوف کی گہری نظر ہے۔   انہوں نے اردو شاعری کی پوری تاریخ کو کلاسیکی اور جدید دور کے دو ادوار میں تقسیم کرکے محنت کش عوام کے استحصال کا بھر پور جائزہ لیا ہے اور یہ حقائق پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ
’’ بادشاہی، جاگیرداری، سامراجی اور سامنتی نظاموں میں غریبوں اور محنت کش طبقوں کو سب سے زیادہ پامال ہونا پڑا۔   جبھی تو اس تلخ حقیقت کا اظہار علامہ اقبال کو بھی اپنی مشہور نظم ’’لینن خدا کے حضور میں ‘‘ کرنا پڑا اور آگے چل کر دریافت کیا ہے کہ بندۂ مزدور کے اوقات انتہائی تلخ ہوچکے ہیں آخر اس سرمایہ پرستی کا سفینہ کب ڈوبے گا۔  ‘‘(ص:96۔  97)
مگر دنیا نے دیکھ لیا کہ ایک مرد درویش مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ نے تقریباً 70 سال قبل یہ پیشگوئی کی تھی کہ ’’کمیونزم کو اس کے اپنے گھر میں بھی پناہ نہیں ملے گی‘‘ اور چند سال قبل زار روس کا تانابانا بکھر گیا اور مزدوروں کے استحصال پر پلنے والی کمیونزم کی ہوا نکل گئی اور اسکا سفینہ بحر ظلمات میں ایسا ڈوبا کہ نکلنے کا کوئی نام و نشان نہیں۔
الغرض پروفیسر احمد سجاد کی یہ زیر نظر تصنیف بہت ہی قابل قدر اور لائق تحسین ہے جس میں انہوں نے ادب اور زبان و سائنس و سماج کی بدصورتی پر تنقید و تنقیح کرکے اسے صاف و شفاف بنانے کی کوشش کی ہے اور ایک صحت بخش اور تعمیر پسند ادب انسانیت کو عطا کیا ہے۔   خدا کرے انکی یہ کوشش کامیاب ہو اور وہ دارین میں سرخرو ہوں۔  آمین!

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close