تبصرۂ کتب

’چشم ِشائستہِ دیدار‘ کے ’رُو بَرُو‘ 

’رو برو‘ میں شامل ہر انٹر ویو ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ پوری کتاب ایک ایسا گلدستہ ہے جس میں فطرت کے سبھی رنگ اپنی آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں

عالم نقوی

برادر ِمحترم ڈاکٹر خلیل ا لدین شجاع الدین (سابق فزیشین  عیادۃ الحرم المکی الشریف و مقیم حال انٹاریو کناڈا‘) کے  بڑے بھائی مولانا امین ا لدین  شجاع الدین مرحوم (سابق ایڈیٹر تعمیر حیات  لکھنؤ) کی کتاب ’روبرو‘ نہ صرف بقول داؤد کشمیری مرحوم، ’چشم ِشائستہِ دیدار ‘وَا کرتی ہے بلکہ  وہ بھی نظروں کے سامنے لے آتی ہے جو بالعموم نگاہوں سے اُوجھل رہتا ہے!

 مختلف علمی، ادبی اور سیاسی شخصیات کے انٹر ویوز پر مشتمل یہ مجموعہ چھے سال قبل ۲۰۱۲ ہی میں اشاعت  کے لیے تیار تھا کہ ۷ جون کو مہلت عمر پوری ہو گئی اور وہ اپنی تیسری کتاب کو شایع ہو کر منظر عام پر آتے نہیں دیکھ سکے۔

مرحوم کی پہلی کتاب ’نقوش فکر و عمل‘ ۲۰۰۹ میں اور دوسری کتاب ’ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ‘ ۲۰۱۱ میں شایع ہوئی تھیں۔

مختار مسعود مرحوم نے اپنی معرکہ آرا کتاب ’آواز دوست ‘ میں لکھا ہے کہ:

 ’’قحط میں موت اَرزَاں ہوتی ہے اور قحط ا لرجال میں زندگی۔ مرگ ِ اَنبوہ کا جشن ہو تو قحط۔ حیاتِ بے مَصرَف کا ماتم ہو تو قحط ا لرجال۔ ایک عالَم موت کی ناحق زحمت کا۔ اور دوسرا زندگی کی ناحق تُہمت کا۔ ایک سماں حشر کا دوسرا محض حشرات الا رض کا۔ زندگی کے تعاقب میں رہنے والے قحط سے زیادہ قحط الرجال کا غم کھاتے ہیں۔‘‘

برادر عزیز ندیم صدیقی کی کتاب ’پرسہ‘ (۲۰۱۶) آوارہ سلطان پوری  اور مولانا امین ا لدین کی  ’ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ‘(۲۰۰۵ اور ۲۰۱۱) اور مولانا  امین الدین مرحوم کی زیر نظر کتاب ’روبرو‘ (مئی۲۰۱۷) پڑھ کر قحط الرجال کا یہ غم اور شدید ہوجاتا ہے کہ  ہائے یہ ہم نے کیسے کیسے گہر ہائے آبدار کھو دیے ! خسارے کا یہ کیسا سلسلہ ہے جس کے لیے ’قید زمان‘ کوئی معنی نہیں رکھتا! کہنے کو یہ کتابیں بے نظیر  شخصی خاکوں، وفیات پر مشتمل یادگار مضامین  اور مختلف’ زندہ جاوید ‘ملی شخصیات کے انٹرویوز پر مبنی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ’روبرو‘ سمیت  یہ سب ہمارے عہد کی تاریخی وتہذیبی دستاویز ہیں۔

انٹر ویو ظاہر ہے کہ سوال و جواب پر مشتمل ہوتا ہے اور اہل نظر جانتے ہیں کہ اگر سوال ہی  اچھا، دو ٹوک اور تہ دار نہ ہو تو جواب دینے والے سے بھی کسی ’عبقریت ‘کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ’روبرو‘ میں شامل آپ کوئی بھی انٹر ویو پڑھیں اس حقیقت کا اعتراف  کرنے پر خود کو مجبور پائیں گے کہ اگر سوال ہی اتنے صاف، واضح، بر محل، گہرے اور وقیع نہ ہوتے تو انٹر ویو دینے والا بھی اپنے جواب میں ٹانکنے کے لیے ہیرے موتی کہاں سے لاتا؟مولانا کلب صادق نے  مولانا امین الدین مرحوم کی اسی  صلاحیت کا اعتراف ان الفاظ میں فرمایا ہے:

’’جوابات سے تو مسائل پر انسان کی گرفت کا اندازہ ہوتا ہے۔ خود سوالات بھی مسائل کی بصیرت اور مسائل پر گرفت کے آئنہ دار ہوتے ہیں ۔ آپ نے سوالات کا جو خاکہ میرے سامنے رکھا اس سے ماشااللہ خود آپ کی اسلامی بصیرت اور مسائل پر گرفت کا اندازہ ہو رہا ہے۔ ان میں کچھ سوالات تو ایسے ہیں جو حقیقتاً کسی تحقیقی مقالے کا بہترین عنوان قرار پا سکتے ہیں (روبرو ص ۱۴۷)‘‘

انٹر ویو کرنے والے کے لیے غیر جانبدار ی کی صفت اس حد تک ضروری  ہے کہ وہ اپنے کسی سوال سے اس شخصیت کو جس کا وہ انٹرویو لے رہا ہے خواہ مخواہ اذیت نہ پہنچائے اور مسئلہ خواہ کتنا ہی متنازع کیوں نہ ہو ’فریق ‘ بن کر سوال نہ کرے بلکہ ایک غیر جانبدار کی طرح مسئلہ مذکور میں انٹر ویو دینے والے کی رائے معلوم کرے۔ مولانا امین ا لدین مرحوم بال سے زیادہ باریک  اس’ پُل ِصِراط ‘ کو بھی بہت آسانی سے پار کر گئے ہیں ۔ یوں تو پوری کتاب ہی اِس کا ثبوت ہے لیکن مولانا عبد ا لعلیم فاروقی اور مولانا کلب صادق نقوی کے انٹرویوز بطور خاص اِس خصوصیت کے حامل ہیں۔

تاہم، ایک بات کی وضاحت اس جگہ ضروری  ہے کہ ہم بذات خود ’غیر جانبداری ‘ کے نہیں ’حق کی طرف داری‘ کے قائل ہیں۔ کیونکہ ’غیر جانبداری‘ یا ’نان اَلائن مِنٹ‘ جیسی کوئی چیز  فی ا لواقع دنیا میں نہ پائی جاتی ہے نہ پائی  جا سکتی  ہے۔اور اسلام، بھی ایسی غیر جانبداری کا قائل نہیں جس میں حق کے بجائے طاغوت اور عدل کے بجائے ظلم  کی حمایت  یا ’تلبیس ِ حق و باطل‘ کا شائبہ ہو۔ اوپر ہم نے جس بات کی تعریف کی ہے وہ ایسی غیر جانبداری نہیں  جس میں حق کی طرفداری نہ ہو، بلکہ مسائل یا انٹر ویو لینے والے کی وہ کیفیت ہے جو خالص احترام آدمیت ، ’’اکرمواکریم کل قوم‘‘ کی بنیاد پر ہر قوم کی بزرگ شخصیات کے احترام بلکہ ’مطلق ’ احترام نفس مسلم ‘کے داعیے سے پیدا ہوتی ہے۔

’رو برو‘ میں شامل ہر انٹر ویو ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ پوری کتاب ایک ایسا گلدستہ ہے جس میں فطرت کے سبھی رنگ اپنی آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں اور اس متنوع کائنات کی متنوع انسانی زندگی میں اپنی اپنی جگہ نگینے کی طرح جڑے ہوئے ہیں۔

مولانا امین الدین شجاع الدین ہم سے چھے برس چھوٹے تھے لیکن:

موت سے کس کو رستگاری ہے۔۔ آج وہ کل ہماری باری ہے!

ہم برادر عزیز  ڈاکٹر خلیل ا لدین شجاع الدین  کے ان الفاظ پر (جو ہم سے نو برس چھوٹے ہیں) اپنے ان معروضات کو تمام کرتے ہیں کہ اگر ہم اپنی موت کو یاد کرنے والے بن جائیں اور ہر دم  موت کی تیاری میں خود کو مصروف رکھیں تو یہی ’رَجُلِ اَمین، امین الدین‘ کی اس یاد کا حاصل ہے۔ اللہ ہمیں آخرت کی تیاری کا ہمہ وقت خیال رکھنے والا اور اپنی رضا پر زندگی گزارنے والا بنادے تاکہ دنیا و آخرت دونوں جگہ سرخروئی حاصل ہو۔ آمین۔

مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close