تبصرۂ کتب

 کانٹ کی مشہور کتاب ’تنقید ِ عقل ِ خالص‘ کا خلاصہ

ادریس آزاد

کانٹ نے “تنقیدِ عقل ِ خالص” 1781ء میں شائع کی۔ یہ کتاب ایک تو بہت طویل ہے دوسرا اپنی خشک نثر اور پیچیدہ اصطلاحات کی وجہ سے تقریباً ناقابل ِ مطالعہ ہے۔ کانٹ نے اپنے قاری کی الجھن کم کرنے کے لیے “تنقیدِ عقلِ خالص” کی اشاعت کے دوسال بعد Prolegomena to Any Future Metaphysics شائع کی جو کچھ زیادہ ہی مختصر کتابچہ تھا جس میں کانٹ نے اپنی “مابعدالطبیعات” Metaphysics اور “علمیات” Epistemology کے دروازوں کو کھولنے کے لیے گویا ایک چابی فراہم کردی۔

جس سے “تنقیدِ عقلِ خالص” کی تفہیم کسی حدتک آسان ہوگئی، لیکن پھر بھی بقول شوپن ہاؤایر “جب تنقیدِ عقل ِ خالص، پڑھنے لگتاہوں تو سر چکرا جاتاہے اور کئی کئی بار پڑھنے کے بعد مطلب سمجھ میں آتاہے”۔

کانٹ کا بنیادی مقصد “خالص انسانی عقل” کی حدود اور رسائی (پہنچ) معلوم کرنا ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ اکیلی عقل بے منتِ حواس کیا کچھ طے کرسکتی ہے؟ یعنی خالص انسانی عقل حواسِ خمسہ یا دیگر محسوسات کے بغیر علم حاصل کرنے میں کس قدر کارآرمد ہے؟

مابعدالطبیعات (میٹافزکس) کے ماہرین ‘حقیقت کی فطرت’ یعنی نیچر آف رئیلٹی کے بارے میں بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ لیکن یہ دعوے عموماً ایک دوسرے سے ٹکراجاتے ہیں۔ اور کچھ وجہ یہ تھی کہ کانٹ بہت محتاط تھا کیونکہ ‘ہیوم’ نے اپنی تشکیک Skepticism میں میٹافزکس کے امکان کو ہی چیلنج کردیا ہوا تھا۔

کانٹ انسانی علم کی بنیاد دو الگ الگ قسم کی ججمنٹس کو قرار دیتاہے۔ انالیٹک ججمنٹ اور سنتھیٹک ججمٹ۔ انہیں کو ایک اور رنگ میں۔۔۔۔۔۔۔اے پری آری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے پوسٹیری آری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھی کہا جاتاہے۔ ‘اے پوسٹیری آری’ نالج خاص علم ہے جو ہم صرف تجربے کی بنیاد پر حاصل کرسکتے ہیں۔ جبکہ ‘اے پری آری’ ایک خاص علم ہے جو یونیورسل ہے جس کےلیے ہم تجربے کے مرہون ِ منت نہیں ہیں۔

مثال کے طور پر ہمارا ریاضی کا علم۔

کانٹ کی باتیں سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم منطق کی چند بنیادی اصطلاحات سے واقف ہوں۔ منطق میں کسی جملے کی بناوٹ کو سب سے پہلے دیکھا جاتاہے۔

کسی بھی ایک مکمل بیان کو سٹیٹمنٹ کہتے ہیں۔

مثلاً “علی ایک ڈاکٹر ہے”، یہ ایک سٹیٹمنٹ ہے۔

“سقراط ایک انسان ہے”، یہ بھی ایک سٹیٹمنٹ ہے۔

ایک سٹیٹمنٹ کے دو بنیادی اجزا ہوتے ہیں۔

نمبر۱۔ سبجیکٹ Subject

نمبر۲۔ پریڈیکیٹ Predicate

“علی ایک ڈاکٹر ہے” میں علی سبجیکٹ ہے اور ڈاکٹر پریڈیکیٹ ہے۔

اب قدرے مشکل مثال دیکھیں،

“ہر جسم کا حجم ہوتاہے”

“دانا انسان عقلمند ہوتے ہیں”

“کنوارے غیر شادی شدہ ہوتے ہیں”

ان مثالوں میں آپ غور سے دیکھیں تو آپ کو نظر آئے گاکہ ان مثالوں مین پریڈیکیٹ میں موجود تصور مثلاً حجم کا تصور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبجیکٹ کے اندر ایگزسٹ کرتاہے یعنی جونہی جسم جو پہلی سٹیٹمنٹ میں سبجیکٹ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کو تصور میں لایا جائے گا، حجم ساتھ ہی نظر آئے گا۔ یہ ہے بقول کانٹ “انالیٹک ججمنٹ”۔ “ہرجسم کا حجم ہوتاہے” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جسم کے اندر ہی حجم کا تصور پہلے سے موجود ہے۔ لیکن بعض ایسی سٹیٹمنٹس ہوتی ہیں جن کے سجبیکٹ میں پریڈیکیٹ کا تصورپہلے سے موجود نہیں ہوتا۔

مثلا یہ جملے دیکھیں،

“ہرجسم پر کشش ِ ثقل اثرانداز ہوتی ہے”

“دانا انسانوں کے سر عموماً بڑے ہوتے ہیں”

“کنوارے اکثر خوش رہتے ہیں”

ان تینوں میں مثالوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ
پریڈیکیٹ میں پایا جانے ولا تصور، ضروری نہیں تھا کہ سجیکٹ میں بھی پایا جاتا۔ کیونکہ کسی جسم کے ساتھ کشش ثقل کا تصور فوری طور پر ذہن میں نہیں آتا۔

انالیٹک ججمنٹ میں جو منطقی جملہ بولا جاتاہے اس کے پریڈیکیٹ میں پیش کیا گیا تصور، اُسی جملے کے سبجیکٹ میں پہلے سے موجود ہوتاہے۔ دانا انسان عقلمند ہوتے ہیں، ہرجسم کا حجم ہوتاہے وغیرہ

یہیں سے کانٹ اپنی منطق کے تمام خطوط استوار کرنا شروع کرتاہے۔ کانٹ سے پہلے اس گہری اور پیچیدہ لیکن بظاہر سادہ سی بات کی طرف کسی منطقی کا ذہن نہیں گیا۔ ہر وہ سٹیٹمنٹ جس کا سبجیکٹ اور پریڈیکیٹ دیکھتے ہی ہمیں اندازہ ہوجائے کہ یہ ناقابل ِ مشاہدہ ہے وہ “اے پری آری” نالج پیش کرتی ہے اور انالیٹک ججمنٹ کہلاتی ہے۔

ہر وہ سٹیٹمنٹ جس کا سجیکٹ اور پریڈیکیٹ ہمیں بتا دیں کہ یہ قابل ِ مشاہدہ ہے “اےپوسٹیری آری” نالج یا سنتھیٹک سٹیٹمنٹ کہلاتی ہے۔ اس ساری بات کو ہم مثالوں میں ملاحظہ کرتے ہیں۔

سنتھیٹک ججمنٹ معلومات فراہم کرتی ہے جبکہ انالیٹک ججمٹ تعریف یا ڈیفینیشن۔ اسی لیے سنتھیٹک ججمنٹ کو انفارمیشنل کہتے ہیں۔عام طور پر ہم ایک پوسٹیری آری نالج کو سنتھیٹک ججمٹ کے ساتھ اور ایک اے پری آری نالج کو انالیٹک ججمنٹ کے ساتھ جوڑتے ہیں۔

مثلاً یہ ججمنٹ کہ “تمام راج ہنس سفید ہوتے ہیں” سنتھیٹک ججمنٹ ہے۔کیونکہ سفید ہونا ہنس ہونے کا لازمی جزو نہیں ہے اور ساتھ ہی یہ اے پوسٹیری آری نالج بھی ہے کہ اُس کا سفید ہونا تجربے سے معلوم کیا جاسکتاہے۔جسم پر کشش ثقل کا اثر انداز ہونا، بڑے سر والوں کا زیادہ عقل والا ہونا یہ ہونا۔ یہ تجربے سے معلوم کیا جاسکتاہے چنانچہ اے پوسٹیری اری نالج اور سنتھیٹک ججمنٹ ہے۔

اسی تعریف کی بنا پر کانٹ سنتھیٹک اور اے پری آری کو آپس میں مکس کرکے دیکھتاہے۔ مثال کے طور پر ریاضی کے علم میں ہم جانتے ہیں کہ 7 + = 12 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ اے پری آری نالج ہے۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ یہ یونیورسل ہے اور ہمیں یہ بات جاننے کے لیے کسی تجربے کی ضرورت نہیں۔

لیکن یہ ایک سنتھیٹک ججمنٹ بھی ہے کیونکہ 12 کے تصور میں 7+5 کا تصور موجود نہیں ہے۔
پھر کانٹ کہتاہے کہ یہی اصول سائنسی قوانین پر بھی لاگو ہوگا۔ مثلاً “ہرعمل کا ردِ عمل ہوتا ہے”، ایک یونیورسل ٹرتھ ہے۔ اور اس کا یقین حاصل کرنے کے لیے تجربے کا اہتمام کرنا ضروری نہیں ہے۔

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close