تبصرۂ کتب

کلیات اقبال: ترتیب جدید بہ اعتبار حروف تہجی 

 مصنف: علامہ اقبال

مرتب: ڈاکٹر رضا ء الرحمن عاکف سنبھلی

مبصر: صالحہ صدیقی

صفحات: 696

قیمت: 800   روپئے 

ناشر: کتابی دنیا، دہلی

زیر تبصرہ کتاب شاعر مشرق علامہ اقبال کا کلیات ہیں، جسے ڈاکٹر رضا ء الرحمن عاکف سنبھلی نے حروف تہجی کے مطابق ترتیب دیا ہے۔ عاکف سنبھلی ایک فعال مصنف و قاری ہیں جو شعر وادب کی خدمت میں سرگرم عمل رہتے ہے۔ یہ بچوں کے لیے کہانیاں اور ناول بھی لکھتے ہیں۔ ان کی معروف تصنیفات میں سوانحی انسائیکلو پیڈیا، نظموں کے گلاب، روہیلکھنڈ کی سیاسی، ثقافتی، اور ادبی تاریخ، مولانا احمد رضا خان، اقوال عاکف، بصائر عاکف، کلیات نظمیات عاکف وغیرہ شامل ہیں۔

زیر تبصرہ کلیات عاکف سنبھلی کا اہم کارنامہ ہے۔ جسے انھوں نے بڑی ہی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے۔ اسے مرتب کرنے کے پیچھے اپنے مقصد کو واضح کرتے ہوئے اور ترتیب کی صورت حال بیان کرتے ہوئے عاکف سنبھلی رقم طراز ہیں کہ :

’’کلام اقبال کی مقبولیت، افادیت اور اس سے مستفیض ہونے والوں کی اس پریشانی کے مد نظر راقم الحروف نے ضروری محسوس کیا کہ ’’کلیات اقبال ‘‘  کو اس طرح ترتیب دیا جائے جس سے بوقت ضرورت بآسانی استفادہ کیا جا سکے اور مطلوبہ اشعار تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ضر وری سمجھا گیا ’’کلیات اقبال ‘‘ میں شامل جملہ کتابوں کے مواد کی ابجدی ترتیب دی جائے۔ چنانچہ غزلیات، نظمیات اور قطعات کے تین مختلف گوشے بنا کر ان کو الف، بائی ترتیب دی گئی ہے۔ غزلیات کو ردیف سے ترتیب دیا گیا ہے۔ جب کہ نظموں میں یہ رعایت ان کے عنوان پر منحصر ہے۔ قطعات میں نمبر ترتیب د یئے گئے ہیں۔ قوسین میں یہ وضاحت بھی کر دی گئی ہے کہ یہ غزل، نظم، یا قطعہ کلیات کی کون سی کتاب میں درج ہے۔ ‘‘(ص، ۹)

اس طرح بڑی ہی خوبصورتی اور سلیقہ مندی کے ساتھ قاری کی آسانیوں کو دیکھتے ہوئے منظم انداز میں اس کلیات کو عاکف سنبھلی نے مرتب کیا ہیں۔ شاعر مشرق علامہ اقبال کی شخصیت اور ان کے کارناموں سے صرف اردو ہی نہیں بلکہ دیگر زبان و ادب کے قاری بھی گہری واقفیت رکھتے ہیں۔ اقبال نے اردو شاعری میں اپنے چار شعری مجموعے بانگ درا، بال جبریل، ضرب کلیم اور ارمغان حجاز اپنی یادگار چھوڑا۔ علامہ اقبال کا پہلا اردو مجموعہ ٔ کلام ’’بانگ درا‘‘ پہلی بار ستمبر1924 میں رسالہ ’’مخزن ‘‘ کے مدیر شیخ عبد القادر کے مقدمے کے ساتھ لاہور سے شائع ہوا۔ بانگ درا کا اہم وصف یہ بھی ہے کہ اسے اقبال نے خود مرتب کیا ہے اور اپنے کلام کو تین ادوار میں تقسیم کیا۔ شیخ عبدالقادر نے انھیں تین منزلوں کو پیش نظر رکھ کر اپنے مقدمے میں اقبال کی شاعری پر گفتگو کی ہے۔ پہلے حصے میں ’’دور اوّل ابتداتا 1905 ‘‘تک کی نظمیں اور غزلیں شامل ہیں۔ اس حصے کی بیشتر غزلوں پر داغ و میر کے اثرات نمایا ں ہیں۔ دوسرے حصے میں ’’دور دوم 1905سے 1908‘‘کے کلام شامل ہیں۔ اس حصے کی نظموں میں دو اہم موضوعات ’’اخلاقیات‘‘و ’’ سیاسیات ‘‘ کو موضوع ِ سخن بنایا گیا ہیں۔ جس میں اخلاقی موضوع کے تحت مناظر فطرت و بچوں کے متعلق بہت سی نظمیں پیش کی گئی ہیں۔ جب کہ تیسرے حصے میں ’’دور سوم 1908ء ‘‘کے بعد کا کلام شامل ہیں۔ اس حصے میں مختلف موضوعات پر مبنی اشعار شامل ہیں۔ اقبال کا دوسرا مجموعہ   بال جبریل 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ علامہ اقبال کی اردو شاعری کا دوسرا مجموعہ ہے۔ اس مجموعہ میں اقبال کے فکر وفن کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ اقبال کا یہ غزلوں، نظموں اور رباعیات کا مجموعہ ہے، جس میں غزلوں کی تعداد 77ہیں۔ علامہ اقبال کا یہ تیسرا اردو مجموعہ جولائی 1936میں منظر عام پر آیا۔ اس مجموعہ کا انتساب حمیداللہ خان نواب بھوپال کے نام ہے۔ اس کے علاوہ اقبال نے فارسی کے تین شعر بھی ان کی مدح میں ان کی نذرکیے ہیں۔ اس کے بعد اقبال اپنے قاری سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں :

جب تک نہ زندگی کے حقائق پہ ہو نظر

 تیرا زجاج ہو نہ سکے گا حریف سنگ

یہ زور دست و ضربت کاری کا ہے مقام

میدان جنگ میں نہ طلب کر نوائے چنگ

خون دل و جگر سے ہے سرمایۂ حیات

فطرت لہو ترنگ ہے غافل نہ جل ترنگ

ضرب کلیم کے اشعار پر اقبال کے فن سے زیادہ افکار حاوی ہیں۔ علامہ اقبال کا آخری مجموعۂ کلام ’’ارمغان حجاز ‘‘ہے جو ان کی وفات کے بعد نومبر1938 میں چودھری محمد حسین نے مرتب کرکے شائع کیا۔ اس مجموعہ میں اقبال نے ضرب کلیم کی اشاعت کے بعد یعنی 1936سے وفات تک کے اردو و فارسی میں جو کچھ لکھا سبھی کچھ شامل ہیں۔ اس مجموعہ میں دو تہائی سے زیادہ حصہ فارسی قطعات اور باقی اردو نظموں پر مشتمل ہے۔ ارمغان حجاز کے اردو حصے کی پہلی لافانی نظم ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ ہے، جس میں اقبال نے علامتی انداز میں حکومت کے مختلف نظام کو نشانہ بنایا ہے۔ اس نظم میں علامہ اقبال نے مکالماتی و تمثیلی انداز میں اپنا پیغام بیان کیاہے۔ انھوں نے بڑے دلکش انداز میں اس نظم کو لکھا ہے۔ اس نظم کا فارسی، پنجابی اور انگریزی میں بھی ترجمہ کیا گیا ہے۔ یہ نظم 1936میں لکھی گئی جس میں 46اشعار ہیں۔

 یہ کلیات یقینا ہمارے ادبی سرمایے میں اہم اضافہ ہے اور اقبال سے محبت کرنے والوں کے لیے انمول تحفہْ۔ ۔ ۔ جسے ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

مزید دکھائیں

صالحہ صدیقی

ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

متعلقہ

Close