تبصرۂ کتب

کودرا: راشدشاز کی تقلیب انگیز رودادِ سفرپر ایک نظر

اس کتاب میں جابجایہ تومحسوس ہوتاہے کہ مصنفِ کتاب واقعتاً امت کے انتشار وپراگندگیِ فکروعمل پررنجیدہ وغمگین ہے اور وہ اس کوشش میں ہے کہ جیسے بھی ممکن ہو، امت کوجوڑنے اورربطِ باہمی کی کوئی مضبوط اساس فراہم کی جائے

نایاب حسن 

’’کودرا‘‘……راشدشازصاحب کی نئی تصنیف ہے، جودراصل ان کے بوسینیاکے نواح کے گیارہ روزہ سفرکی رودادہے، طباعت خوب صورت، کاغذعمدہ اورٹائٹل عمدہ ترین ہے، اولِ وہلہ میں ذوقِ مطالعہ رکھنے والے انسان کواپنی طرف متوجہ کرتی ہے، نام بادی النظرمیں کچھ عجیب سالگتاہے، مگردرونِ کتاب میں جھانکنے سے معلوم ہوتاہے کہ یہ نام کتاب کے مرکزی کردار ’’علی کودرا ‘‘سے مستعارہے، علی کودرا بوسینیائی عالم، مختلف مسالک ومشارب بالخصوص سنی وشیعہ مراکزِ علمی کے فیض یافتہ، سابق بوسینیائی صدرعزت بیگووچ کے خوشہ چیں اور اتحادِ اسلامی کاجذبۂ بے تاب رکھنے والے، مگرساتھ ہی اُس اتحادکے امکان سے مایوس بھی ہیں ، اس کتاب میں اوربھی کئی کردارہیں ، جن کی زبانی حسبِ موقع وسہولت مصنف نے یاتواپنے افکاروخیالات کااظہارکیاہے یاپارسی فال کے اساطیری قلعہ کاسل بورل کے مختلف حصوں میں ان کرداروں کے ساتھ برپاہونے والی مجلسوں کی کہانی سنائی ہے، کتاب کابنیادی تھیم شیعہ سنی اختلافات کے حل یاخاتمے کے امکانات وعدمِ امکان کے گردجولاں ہے، ٹائٹل پر ہی ’’شیعہ سنی مفاہمہ پر ایک تقلیب انگیز روداد‘‘ لکھاہے، جس سے موضوع کی نشان دہی ہوتی ہے، راشدشازخوداپنے بقول اُسی اتحادِ اسلامی کے لیے عملی وعلمی، کتابی وخطابی سطح پرمتحرک ہیں ، سوان مجلسوں میں ہونے والی گفتگومیں وہ بڑے چاؤسے نہ صرف شریک ہیں ؛ بلکہ جگہ جگہ اپنی تمام تر ’’مفکرانہ شان ‘‘کے ساتھ اظہارِ خیال کرتے ہوئے نظرآتے ہیں ، کتاب کے دیگرکرداروں میں شیخ حسن فولادی، شیخ الحذیفی، کشمیری طالب علم عبدالحمید، باسم البنا، محمدفالح، شیخ سلیمان، المینہ، ڈاکٹرپیا، مارلن وارنر، پروفیسرپریووک وغیرہم قابلِ ذکرہیں اور اس سفرنامے کازیادہ ترحصہ انہی لوگوں کی باہمی بات چیت پرمرکوزہے۔

کتاب کے مطالعے کے دوران ذہن میں خیالات وافکار کی کئی لہریں آتی اورچلی جاتی ہیں، شازصاحب کہیں خوب صورت لفظوں میں اپنی بات بھی بڑی خوب صورتی سے کہہ جاتے ہیں، جبکہ بعض دفعہ ایسا محسوس ہوتاہے کہ انھیں اپنے خیال کی تعبیرکے لیے مناسب یاواضح الفاظ نہیں مل سکے، آمداورآوردکی کیفیت پوری کتاب میں جگہ جگہ موجودہے، شازصاحب اتحادِ اسلامی کے داعی ہیں اورکاسل بورل کی مختلف مجلسوں میں جن ’’اصحابِ فکرونظر‘‘سے ان کی گفتگوہوتی ہے، وہ بھی اسی نہج پرسوچ رہے ہیں، علی کودرا، جیساکہ شازصاحب نے ان کے علمی وفکری جغرافیہ کاتعارف کروایاہے، ایک کثیرالمطالعہ انسان ہونے کے ساتھ ہرلمحہ سوچنے والے اورڈوب کرسوچنے والے انسان ہیں، شیعہ سنی مراکزِ علمیہ سے راست وابستگی اوران دونوں فرقوں کے امہاتِ مصادرِ علمیہ کے مطالعے نے ان کی شخصیت کوعجیب سی پیچیدگی، ثنویت اور خفقان سے دوچار کردیاہے، بات کرتے کرتے ان پردورہ پڑنے لگتااوروہ ’’اللہم عجل لولیک الفرج ‘‘کے نعرے لگانے لگتے ہیں ، انھیں اس بات پربے تحاشادکھ ہے کہ سنی اورشیعہ فرقے اپنی اصل سے بھٹکے ہوئے ہیں اوران دونوں کااتحاداسلام اورمسلمانوں کے روشن مستقبل کی دریافت کے لیے ضروری ہے، مگرساتھ ہی انھیں اس سے مایوسی بھی ہے، اس کی وجہ ان کے نزدیک دونوں فرقوں کے علمی ذخائرمیں پائی جانے والی تاریخی روایات، باہم متعارض احادیث کی کتابیں اور مختلف فقہی مکاتب ہیں، جنھیں دونوں فرقوں نے قرآن کی اصل تعلیمات کوچھوڑکراپنے لیے پیمانۂ عمل بنارکھاہے۔

ان کے علاوہ ایک انٹرسٹنگ کردارشیخ سلیمان کابھی ہے، پیشے سے ریسٹورنٹ کے مالک ہیں، کاسل بورل کی کانفرنس میں مہمانوں کے خوردونوش کاانتظام انہی کے سرہے، نسلاً نصیری ہیں، مگرگھاٹ گھاٹ کاپانی پی چکے ہیں، کئی فکری مسالک کوپڑھا، سمجھااوران کے یہاں پائے جانے والے فکری وعلمی تضادات پرگہری نگاہ رکھتے ہیں، ان کی باتیں بھی بڑی دلچسپ ہیں، شیعہ سنی مراجع کی تہوں میں گھس کر دونوں کی خامیوں کوکھوج نکالنے میں مہارت رکھتے ہیں، البتہ عالمِ اسلام یامسلمانوں میں پائی جانے بے چینی کاکوئی واضح حل ان کے پاس بھی نہیں ہے۔

’’کودرا‘‘میں ایک دلچسپ کتاب(کتاب البدع)کابھی تذکرہ ہے اوراس کے چیدہ چیدہ مقتبسات بھی درج کیے گئے ہیں، یہ کتاب شازصاحب کوبورل کی لائبریری میں ملی، نہایت بوسیدہ حالت میں، اتنی کہ مصنف کانام تک نہیں پڑھاگیا، تلاشِ بسیارکے بعدصرف اتناپتاچل سکا کہ اس کے مصنف کوئی نیشاپوری عالم ہیں اور سلجوقیوں کے عہدِ حکومت میں لکھی گئی ہے، نمی کی وجہ سے کتاب کے صفحات باہم پیوست ہوگئے تھے، ایک ذیلی عنوان نے شازصاحب کومتوجہ کرلیا’’اللہ نے شریعت نازل کی ہے، علمانے نہیں ‘‘پھروہ اسلام کے علمی طبقات، فقہی مسالک، اہل الحدیث، اصحابِ رجال کے بارے میں کچھ چونکانے والی باتوں کواس کتاب کے حوالے سے نقل کرتے ہیں ، شہادتِ عثمان کی ایک بالکل الگ توجیہ پیش کی گئی ہے، مصنف کومسلمانوں کے فکری انتشارپربڑی حیرت ہے، وہ لکھتاہے ’’حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے زمانے میں دینِ حنیف کی شکل کیاسے کیاہوگئی ہے، کوئی معتزلی ہے توکوئی اشعری، کوئی حنبلی ہے توکوئی شافعی، کوئی ظاہری ہے توکوئی حنفی، نہ جانے دین کی اتنی مختلف اورمتحارب شکلیں کہاں سے نکل آئیں ؟ اہلِ تصوف کی تو دنیا ہی الگ ہے، انھوں نے اپنے مختلف طرق نہ جانے کہاں سے کشیدکرلیے ہیں، درگاہیں، خانقاہ اورزاویے، جن کاصدرِ اول میں کوئی وجودنہ تھا، آج اطراف واکناف میں قائم ہورہے ہیں اورانھیں سلاطین کی پشت پناہی حاصل ہے، ان کے متولیان کے لیے بڑے بڑے اقطاع کے فرمان جاری ہوتے ہیں ، دین کے نام پرطلبِ دنیاکے اس سے مکروہ مظاہرے اورکیاہوسکتے ہیں ؟‘‘۔ (ص: 48۔ 147)

کتاب کامرکزی موضوع جیساکہ ذکرکیاگیا شیعہ سنی مفاہمہ کے امکانات کی جستجوہے، اس ضمن میں مصنفِ کتاب اورجن اشخاص کے اقوال وافکارانھوں نے نقل کیے ہیں، ان کی فکریہ ہے کہ مسلمانوں کواپنے واحدسرچشمہ قرآن پرانحصارکرچاہیے، وہ روایات اورتاریخ پراعتمادکرنے کے روادارنہیں ہیں، حتی کہ قراءتِ قرآن کے مختلف طرق بھی ان کے نزدیک’’التباسِ فکرونظرکی فتنہ سامانیاں ‘‘ہیں ۔ اتحادِ امتِ اسلامی کاقیام عصرِ حاضرمیں نہایت ضروری؛ بلکہ مسلمانوں کااولین سماجی اورفکری نصب العین ہوناچاہیے اوراس کے لیے جوبھی جماعت یافردکوششوں میں مصروف ہیں ، ہم ان کی تحسین وتائیدکریں گے، ان کی جدوجہدکوسراہنا مسلمانوں کی ذمے داری اوران کی دعوت پرلبیک کہناایک ملی فریضہ ہوگا، مگراس اتحادکے لیے بنیادکیسی فراہم کی جارہی ہے، اس پرتوجہ دینابھی ازحدضروری ہے، قرآنِ کریم اسلامی احکام کاسرچشمۂ ازلی اورمسلمانانِ عالم کاقبلۂ مقصودہے، مگرکیاپوری دنیااس کتاب کوبراہِ راست بغیرکسی شرح وتوضیح کے سمجھ سکتی ہے؟احادیث میں تعارض ایک حقیقت ہے، تاریخی روایات میں افراط وتفریط بھی پائی جاتی ہے، مگرکیااس کی وجہ سے تمام ترذخائرِعلمی وفکری وتاریخی پرخطِ نسخ پھیردیاجائے؟ہرانسان براہِ راست قرآن سے استفادہ کرنے، اس کے مرادات ومعانی کوسمجھ لینے کی صلاحیت رکھتاہو، کیاایساممکن ہے؟ضرور بالضرور کسی تفسیروتوضیح و تشریح کی ضرورت ہوگی، توکیا آپ کی تشریح پر اعتماد کریں؟

اس کتاب میں جابجایہ تومحسوس ہوتاہے کہ مصنفِ کتاب واقعتاً امت کے انتشار وپراگندگیِ فکروعمل پررنجیدہ وغمگین ہے اور وہ اس کوشش میں ہے کہ جیسے بھی ممکن ہو، امت کوجوڑنے اورربطِ باہمی کی کوئی مضبوط اساس فراہم کی جائے، مگرکتاب کے اخیرتک پہنچتے پہنچتے جوتاثرقائم ہوتاہے، وہ یہ کہ جس ذہن وفکرونظر وطرزِ عمل کے ساتھ عالمی اتحادِ اسلامی کی یہ بانگ بلندکی جارہی ہے، اس کے ہوتے ہوئے شایدہی عالمِ حقیقت میں ظہورپذیرہوسکے۔

شازصاحب زودنویس ہیں اور بسیارنویس بھی، حالاں کہ ان کی سرگرم عملی زندگی بہت طویل نہیں ہے، مگرسنتے ہیں کہ اب تک چاردرجن کتابیں لکھ چکے ہیں ، ساتھ ہی بڑی برق رفتاری کے ساتھ اپنی کتابوں کا مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی کرواتے جاتے ہیں ، ان کی بیشترکتابوں کاموضوع زوالِ امت کا ادراک اورمسلمانوں میں وحدت کے امکانات کی جستجوہے۔ میں نے ان کی ایک کتاب لگ بھگ سات آٹھ سال پہلے دارالعلوم دیوبندکی سجادلائبریری میں دیکھی تھی (پڑھی نہیں تھی)موٹی، مضبوط جلدوں والی، نام ذہن میں نہیں ، نام تھا "ہندوستانی مسلمان: ایامِ گم گشتہ کے پچاس سال "، پہلی باران کانام بھی وہیں دیکھا تھا، ’’کودرا ‘‘ان کی پہلی کتاب ہے، جس کودیکھنے، پڑھنے کی نوبت آئی؛بلکہ اسے شوق سے حاصل کرکے پڑھاہے۔ کتاب کاظاہری سراپاتولاجواب اورمصنف وناشرکے حسنِ ذوق کانمونہ ہے، اندرون کاجوموادہے، وہ بھی دلچسپ ہی ہے، مصنف کے مرکزی خیال سے عدمِ اتفاق کے باوجوداس کتاب سے کئی اہم تاریخی معلومات حاصل ہوتی ہیں ، سوچ کی نئی جہت اورفکرکے نئے درواہوتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ، اسلوب افسانوی رکھنے کی کوشش کی گئی ہے، مگرحقیقت میں ایساہونہیں پایاہے، لفظیات کوبرتنے میں بھی کئی جگہ چوک ہوئی ہے، شازصاحب کتاب میں جگہ جگہ’’مشائخیت‘‘کالفظ استعمال کرتے ہیں، حالاں کہ اگراس کی لفظی تحلیل کریں ، تویہ کوئی درست، مستعمل لفظ نہیں ، مشائخ عربی زبان میں شیخ کی جمع ہے، اس کے اخیر میں ’’ی اور ت‘‘کے اضافے کے ساتھ استعمال سمجھ میں نہیں آتا، البتہ شازصاحب جس رَومیں اس لفظ کو استعمال کرتے ہیں ، یعنی ملائیت، پاپائیت وغیرہ کے ساتھ، اس معنی میں ’’مشیخت‘‘لفظ کااستعمال درست ہے اوررائج بھی، ’’علامیہ‘‘بھی جگہ جگہ استعمال کیاگیا ہے، حالاں کہ ’’اعلامیہ‘‘رائج ہے، اذان خانہ یا مینار کے لیے عربی کا لفظ’’مئذنہ‘‘درست اور مستعمل ہے، شازصاحب نے جگہ جگہ’’ماذنہ‘‘(185، 96 وغیرہ) لکھاہے، بعض مخصوص حوالوں سے صاحبِ نفح الطیب ابوالعباس شہاب الدین احمد بن محمدیحیٰ المقری (وفات:1041ھ)اوران کی کتاب فتح المتعال فی مدح النعال کا ذکرآیاہے، مصنف کانام ہر جگہ ’’المقّری‘‘لکھاگیاہے، جواصل میں ’’المُقرِی‘‘ ہے، ’’آلایش‘‘ کی جمع ’’آلایشات‘‘(ص:192)بھی پہلی مرتبہ دیکھی، اختلافِ قراءتِ قرآن کے سلسلے میں ’’سبعۃ أحرف‘‘ایک جانی پہچانی علمی اصطلاح ہے اور اعدادکے سلسلے میں عربی زبان کے قاعدے کے اعتبار سے بھی’’سبعۃ أحرف‘‘ہی درست ہے، مگرپتانہیں کیوں شازصاحب اس کتاب میں ہر جگہ’’سبع احرف‘‘لکھتے ہیں ، مولاناے روم کے ایک شعر کا معروف مصرع ہے’’ایں خیال است ومحال است وجنوں ‘‘، اس میں ایک مخصوص شعری آہنگ وموزونیت ہے، شازصاحب نے درمیان سے دونوں ’’واؤ‘‘کوحذف کردیاہے یا کتابت کرنے والے نے ایسا کیاہے، اس سے اس مصرعے کا مزاج بگڑگیا اور درمیان میں سکتے پیدا ہوگئے ہیں ، اردوزبان و بیان پر شاز صاحب کو تقریباً گرفت حاصل ہے اور ان کے اسلوب میں ایک قسم کے شکوہ کا احساس ہوتا ہے، مگران کا سیال قلم بعض تعبیرات کوبے محل بھی استعمال کرجاتا ہے، اس کی ایک مثال عزت بیگووچ کے تذکرے کے دوران کا یہ جملہ ہے’’بیگووچ عالمِ اسلام کو نشاۃ ثانیہ سے دوچار کرنے کے بجائے اپنوں اور غیروں کی منافقت کا کچھ اس طرح شکارہوئے کہ آزاد بوسینیاکی سرزمین بھی ان کے قدموں سے پھسل گئی ‘‘(ص:54)اس جملے میں ’’دوچارکرنے‘‘کا استعمال غلط جگہ ہوگیاہے، ’’ہم کنارکرنے‘‘کی تعبیر برمحل تھی، عربی و فارسی اشعار وعبارات میں کئی مقامات پرفاش غلطیاں ہیں، جو غالباً کمپوزکرنے والے سے سرزدہوئی ہیں، مگرشازصاحب جیسے کہنہ مشق مصنف کے قارئین ایسی غلطیوں کی امیدکیا، گمان بھی نہیں رکھتے؛ لہذاآیندہ ان کی تصحیح کا اہتمام ہونا چاہیے۔ بہرحال شازصاحب کایہ سفرنامہ بڑی حد تک دلچسپ اورلائقِ مطالعہ ہے، ملی پبلی کیشنز نئی دہلی، ابوالفضل سے شائع ہواہے”ـ

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close