تبصرۂ کتب

India after Gandhi:ایک معرکہ آراء تصنیف

حافظ عبدالسلام ندوی

India after Gandhi مشہور ہندوستانی مورخ اور ادیب رام چندر گوہا کی تصنیف ہے، مصنف کی پیدائش ریاست اتراکھنڈکی راجدھانی دہرادون میں ۱۹۵۸ ؁ء میں  ہوئی، رام چندر گوہا نے دہلی اور کولکاتا سے تعلیم حاصل کی اسکے بعد دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں تدریسی خدمت انجام دیتے رہے، تقریبا ۱۰ سالوں تک تین براعظم میں تدریسی خدمت انجام دینے کے بعد گوہا نے بنگلورو میں مستقل طور سے اقامت اختیار کی اور مکمل یکسوئی کے ساتھ تصنیف وتالیف میں مشغول ہوئے، گوہا کی کتابیں مختلف موضوعات پر مشتمل ہیں جیسا کہ موحولیات کی عالمی تاریخ، ہندوستانی کرکٹ کی معاشرتی تاریخ اور ہمالیائی کاشتکاروں کی سماجی تاریخ وغیرہ۔

لیکن India after Gandhi کو ان سب میں نمایاں مقام حاصل ہے، گوہا کے مطابق اس کتاب کی تصنیف میں انہیں اپنے کیریئر کے تمام مطالعات پر نظر ثانی کرنی پڑی، یہ کتاب ۳۰ عناوین کے ساتھ ۹۰۰ صفحات پر مشتمل ہے، اسکا پہلا ایڈیشن ۲۰۰۷ ؁ء میں شائع ہوا تھا، کتاب کا سب سے اہم حصہ احقر کی نظر میں A 50-50 DEMOCRACY(ایک ۵۰-۵۰ جمہوریت)ہے، جس میں مصنف نے قانون کے پیش لفظ میں دئے گئے آزادیٔ اظہار رائے کا مکمل فائدہ اٹھایا ہے اور ہندوستانی جمہوریت پر ایک ایسے مورخ وادیب کی طرح تنقید کی ہے جسکا قلم ہر طرح کی قید وبندش سے آزاد اور جسکی روشنائی خون جگر سے تیار کی ہوئی ہوتی ہے اور چونکہ یہ باب کتاب کا کلائمکس (خاتمہ ) بھی ہے۔جس وجہ سے قاری کو مطالعہ سے فارغ ہوتے ہوتے ایک ذمہ داری بلکہ ایک فریضہ اپنے ذمہ لینا ہوتا ہے، تاکہ ملک کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لئے وہ بقدر استطاعت کوشاں ہو اور ڈیموکریسی یعنی عوامی یا جمہوری حکومت کی بقاء کی فکر کرے۔

گوہا نے اس باب میں ہندوستانی لیڈروں پر بھی پر زور تنقید کی ہے، انہوں نے لکھا ہے کہ موجودہ وقت کے ہمارے اکثر قانون ساز ہی قانون کی دھجیاں اڑانے والے ہوتے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر کا ماضی نہایت خونخوار ہوتا ہے، بیوروکریسی کو جمہوریت کا ایک لازمی عنصر مانا جاتا ہے پر افسوس یہ ہے کہ نوکر شاہ بھی سیاست دانوں کی کٹھپتلی ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ خودمختاری کے ساتھ کوئی فیصلہ بھی نہیں لے سکتے، عدالتوں کی سست روی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ’’ـ ہماری عدالتیں نہایت سست ہوچکی ہیں، ضرورت سے زیادہ مقدمات کے بوجھ نے اسے سست رفتار بنادیاہے‘‘، پولس افسر وردی پوش غنڈے بن چکے ہیں اور رشوت کا بازار گرم کر رکھاہے۔

گوہا کی کتابیں اور مضامین دنیا کی مختلف ۲۰ زبانوں میں ترجمہ ہوکر شائع ہوچکی ہیں، گوہا کو ۲۰۰۹ ؁ء میں ادب اور تعلیم کی خدمت کے لئے بھارت کا تیسرا بڑا شہری اعزاز پدم بھوشن سے نوازا گیا، وہ آج بھی اپنے جذبہ اور لگن کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت میں مصروف ہیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close