بزنسہندوستان

ایک دیش ایک ٹیکس۔ غریبوں پر بوجھ نہ بن جائے

ڈاکٹر مظفرحسین غزالی

وزیراعظم نریندرمودی نے آزادی کی 70ویں سالگرہ پر لال قلعہ کی فصیل سے کہا کہ ان کی حکومت میں مہنگائی بڑھنے کی شرح کم رہی۔ وہ غریبوں کی تھالی مہنگی نہیں ہونے دیں گے۔ سابقہ حکومت کے وقت مہنگائی کی شرح 10فیصد سے تجاوز کرگئی تھی لیکن ان کی سرکار نے اسے 6فیصد سے زیادہ نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں گزشتہ دوبرسوں میں خشک سالی کی صورت حال رہی جس کی وجہ سے ساگ سبزی عام طورپر مہنگی ہونے کے سبب کچھ دقتیں ضرور آئیں ، لیکن حکومت نے سخت محنت سے مہنگائی کو قابو میں رکھا ہے۔ اگر پہلے کی طرح مہنگائی بڑھی ہوتی تو ملک کے غریبوں کا کیا حال ہوتا، اس کا تصورکیا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سرکار نے مہنگائی کی شرح کنٹرول کرنے کیلئے ریزروبینک آف انڈیا کے ساتھ معاہدہ کیا ہے کہ مہنگائی کی شرح 4فیصد (2جمع۔ گھٹا) تک محدود رہنی چاہئے۔ انہوں نے اپنی حکومت کی طرف سے کی گئی اقتصادی اصلاحات (جی ایس ٹی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کے معاملے میں بھارت نے دنیا کے بڑے بڑے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

آنکڑوں میں تو مہنگائی کم ہوئی ہے، لیکن زمینی سطح پر ابھی بھی دال ، ساگ، سبزی اور تیل غریب کی تھالی سے دور ہے۔ وزیراعظم کا خطاب انتخابی ریلی میں کی گئی تقریر سے مختلف نہیں تھا۔ ان کے پیش نظر آنے والا پانچ ریاستوں کا شایدالیکشن تھا تبھی انہوں نے اپنی سرکار کی کارکردگی کو تفصیل سے بیان کیا۔ وہ اپنی یوجنائوں ، پالیسیوں کے آنکڑے اس طرح سنا رہے تھے مانو کسی کمپنی کا سی ای او اپنے شیئر ہولڈرس کے سامنے پچھلی تیماہی کا لیکھا جوکھا پیش کررہا ہو کہ ہم نے اتنا فائدہ کمایا، آپ ہمارے شیئر خریدتے رہیں تواتنا اور کمالیں گے۔ وہ اس موقع پر پچھلی سرکار کو کوسنا بھی نہیں بھولے۔ انہوں نے یہ تاثر دینے کی پوری کوشش کی کہ ان کی سرکار غریبوں کے مفادات کا خیال رکھنے والی ہے ،کئی موقعوں جیسے تحویل آراضی بل، جی ایس ٹی وغیرہ پر ہونے والی بحثوں میں بی جے پی پر غریب مخالف ہونے کا الزام لگتا رہا ہے۔ جی ایس ٹی کے بارے میں یہی کہہ کر راجیہ سبھا میں آئینی ترمیم کو منظورکرایاگیا ہے کہ اس سے اقتصادی ترقی کا راستہ کھلے گا اور روزگار بڑھیں گے۔ پندرہ مہینے کے لمبے انتظار اور محنت کے بعد کانگریس کی حمایت سے 3،اگست کو گڈس اینڈسروس ٹیکس (جی ایس ٹی)بل پاس ہوگیا۔

آئین میں 122ویں ترمیم ملک کی آدھی سے زیادہ ریاستوں کی منظوری اور صدر جمہوریہ کے دستخط کے بعد ہوگی۔اس کے بعد جی ایس ٹی قانون بن سکے گا۔ نو ریاستوں میں اس وقت بی جے پی کی سرکار ہے اور سات میں اس کے حامیوں کی۔ اس لئے جی ایس ٹی کا لاگو ہونا اب لگ بھگ طے مانا جارہا ہے۔ سرکار اسے یکم اپریل 2017سے لاگو کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ بی جے پی اور اس کے حامی جی ایس ٹی کی منظوری کو تاریخی بتارہے ہیں ۔ دنیا میں سب سے پہلے جی ایس ٹی 1954 میں فرانس میں نافذ ہوا تھا۔ اسی اپریل میں ملیشیا نے اسے لاگو کیا ہے۔ 1986میں نیوزی لینڈ اور 1991میں کناڈا و جنوبی افریقہ میں لاگو ہوچکا ہے۔ 140سے زیادہ ممالک جی ایس ٹی لاگو کرچکے ہیں لیکن امریکہ میں جی ایس ٹی نہیں ہے۔ ٹیکس کیلئے آئین میں ترمیم کے لحاظ سے اسے تاریخی کہہ سکتے ہیں لیکن اصلی امتحان اس کا قانون اور اصول بنانے میں ہوگا۔ دنیا کے دوسرے ممالک سے کس طرح بھارت کا جی ایس ٹی الگ ہوگا اس کی تصویر صاف ہونے پر ہی اسے تاریخی کہنا مناسب ہوگا۔

بی جے پی کے ترجمان گوپال اگروال نے جی ایس ٹی کو بنیادی طورپر یکساں ٹیکس کا نظام بتایا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے دیش ایک ساجھا بازار میں تبدیل ہوجائے گا جس کی وجہ سے 50لاکھ درمیانی وچھوٹے کاروبار ڈولپ ہوں گے۔ پیداوار میں اضافہ ہوگا اورجی ڈی پی میں 2فیصدکی بڑھوتری۔ اس سے بزنس کرنا آسان ہوجائے گا اور بڑے پیمانے پر روزگار پیدا ہوں گے۔ اس طرح مکمل معیشت کی ترقی ہوگی۔ افراط زر میں کمی آئے گی اور ٹیکس کی چوری رکے گی۔ اس کیلئے ٹریپل ای سسٹم کو متعارف کیا جارہا ہے یعنی ای فائلنگ، ای ریٹرن، ای کریڈٹ۔ بلاواسطہ ٹیکس جو ابھی 27فیصد ہے جی ایس ٹی کے بعد 18فیصد رہ جائے گا۔ اس سے صارفین کو فائدہ ہوگا۔ کنزیومرانڈیکس پرائزمیں 55-54فیصد اشیاء کو الگ ونڈو دی گئی ہے۔ اس سے استعمال کی چیزیں خریداروں کو سستی ملیں گی۔

جی ایس ٹی تین سطح کے ٹیکس نظام پر مشتمل ہوگا۔ مرکزی جی یس ٹی، ریاستی جی ایس ٹی اور انٹی گریٹیڈ جی ایس ٹی۔ اس کے اصول وقوانین جی ایس ٹی کونسل تیار کرے گی۔ کونسل آئینی ادارہ ہوگا جو اعلیٰ اختیارات والی فائنانس منسٹرس کی کمیٹی ہوگی جس کے صدر مرکزی وزیرخزانہ ہوں گے۔ یہ کمیٹی مرکزی، ریاستی اور انٹی گریٹیڈ جی ایس ٹی کے قوانین بناکر کابینہ کو پیش کرے گی۔ اس کو پارلیمنٹ میں پاس کرانے کیلئے دوتہائی اکثریت کی ضرور نہیں ہے کیوں کہ اسے منی بل کے طورپر بھی پاس کرایا جاسکتا ہے۔ مرکز وریاستوں کے بیچ ٹیکس سے وصول شدہ رقومات کی تقسیم اور اختلافات کا فیصلہ بھی یہی کمیٹی کرے گی۔ اس کمیٹی کا سب سے چنوتی بھرا کام مرکز اورریاستوں کی آمدنی کا جائزہ لے کر صوبوں کو جی ایس ٹی کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا اندازہ لگانا ہے۔ مرکزی حکومت اس نقصان کی بھرپائی کا فائنانس منسٹرس کا اعلیٰ اختیاروالی کمیٹی میں پہلے ہی وعدہ کرچکی ہے۔ لیکن ریاستوں کے ذریعہ آمدنی کے نقصان کی رقم کے مطالبے اور مرکز کے تخمینہ میں بہت فرق ہے۔ تمل ناڈو اور دوسرے صوبوں کی مانگ بہت بڑھی چڑھی ہے۔ جی ایس ٹی کونسل کا سب سے پہلا کام مرکز اور صوبوں کی آمدنی کی بنیاد پر ریاستوں کے معاوضے کی رقم کو مقرر کرنا ہے۔ اس مقررہ رقم کا بیورا بل میں شامل کیاجائے گا۔

کونسل کیلئے جی ایس ٹی کا ڈھانچہ تیار کرنا بھی مشکل کام ہے۔ حالانکہ ریاستوں کی دلچسپی پانچ سال کے نقصان کی بھرپائی میں زیادہ ہے۔ لیکن گڈس اینڈ سروس ٹیکس کی شرح طے کرنے کے بعد ہی نقصان کی بھرپائی کی رقم کا تعین ممکن ہوگا۔ اس پر عام رائے بنانا آسان نہیں ہے۔ انیک ریاستی سرکاریں چاہتی ہیں کہ کاروبار کی حد 10لاکھ روپے ہو۔ مرکزی حکومت کا من ہے کہ یہ 25لاکھ روپے ہونی چاہئے۔ جبکہ معاشی صلاح کار اروند سبرامنیم نے اس کی حد 40لاکھ تجویز کی تھی۔ ریاستوں کے دبائو میں 10لاکھ کی چھوٹ پر اتفاق ہوا ہے۔ اس سے چھوٹے کاروباری انسپکٹر راج میں پس سکتے ہیں ۔ ابھی سیس اور سرچارج سے مرکزی حکومت کو قریب 1.15لاکھ کروڑ روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ مستقبل میں مرکز اور صوبوں کے ذریعہ سیس کے متوازی جی ایس ٹی نظام کھڑا کرنے سے اقتصادی نکسل واد پیدا ہونے کا امکان ہے۔ سرکار مان رہی کہ شروع کے تین سالوں میں جی ایس ٹی ٹیکس مہنگائی بڑھانے والا ثابت ہوگا۔ دنیا بھر میں جہاں بھی یہ لاگو ہوا ہے اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مہنگائی کبھی کم نہیں ہوتی صرف مہنگائی ہوتی ہے۔ اس سے عام آدمی کی زندگی آسان نہیں رہتی نہ ہی غریبی دور ہوتی ہے بلکہ غریبوں پر اس کی مار مسلسل پڑتی ہے۔ غریبوں کو جی ایس ٹی کے دبائو سے محفوظ رکھنے کیلئے نیوزی لینڈ ان کوکئی طرح کی مالی امداد دیتا ہے۔

تمام منصوبوں کے ساتھ یہی دعوے کئے جاتے ہیں کہ اب غریبی گئی، نوکری آئی مگر کوئی منصوبوں کا نتیجہ نہیں بتاتا کہ کتنوں کو نوکری ملی، کتنوں کی غریبی گئی۔ اسپیشل اکنامک زون(SEZ)کے دور میں بھی بڑے روزگار پیدا ہونے کا سبز باغ دکھایا گیاتھا جو آخر میں کارپوریٹس کے ذہن پڑھنے کا ذریعہ بن گیا۔ جی ایس ٹی میں شرح کو کم کرنے کے نام پر سرکار کے ذریعہ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو 30سے 25فیصد کر بڑے کاروباریوں کو راحت دینے کا انتظام پہلے ہی کردیاگیا ہے۔ سرکار کے ذریعہ غیرملکی سرمایہ کار اداروں کے 42ہزار کروڑ کے ٹیکس معاف کرنے اور مستقبل میں ٹیکس نہ لگانے کے معاہدوں کو لاگو کرنے کے بعد اب جی ایس ٹی کے ذریعہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے سازگار ماحول فراہم کیاجا رہا ہے۔ لیکن جی ایس ٹی کے ذریعہ آدھی ادھوری اصلاحات سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا جوش تو کم ہوگا ہی گھریلو کاروباری بھی اس سے بری طرح متاثر ہوں گے۔ ایک طرف کئی ٹیکس ختم کرنے سے غیر ضروری کرمچاریوں کی چھٹنی ہوگی، دوسری طرف کاروباریوں کو ریاستوں میں الگ الگ رجسٹریشن کے ساتھ کئی طرح کے ریٹرن بھرنے ہوں گے۔ اس سے تعمیل کی لاگت compliance costبڑھ جائے گی۔

گڈس اینڈ سروس ٹیکس کا اصل تصور یہ ہے کہ سب پر ٹیکس لگے،بالکل کم ٹیکس سے جہاں بھی جی ایس ٹی نافذ ہوا ہے وہاں کچھ سال تو ایک ٹیکس ہوتا ہے مگر اس کے بعد اضافہ کاعمل شروع ہوجاتا ہے۔ آہستہ آہستہ صارفین سے وصولی ہونے لگتی ہے۔ اس لئے کانگریس کہہ رہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ 18فیصد ٹیکس کی تجویز آئین میں شامل کی جائے۔ نیوزی لینڈ کا جی ایس ٹی سب سے اعلیٰ درجہ کا مانا جاتا ہے۔ یہاں کسی بھی مصنوعات کو جی ایس ٹی کے دائرے سے باہر نہیں رکھا گیا ہے۔ جی ایس ٹی کی شرح ایک ہے اور سب پر لاگوہے۔بھارت کی طرح تین قسم کا جی ایس ٹی نہیں ہے۔ ہمارے یہاں شراب،تمباکواور پٹرول کوجی ایس ٹی سے باہررکھاگیاہے۔تعلیم ،صحت اور دیگر بنیادی خدمات کوآسٹریلیا کی طرح باہرنہیں رکھا گیاہے۔جی ایس ٹی کا یکساں ٹیکس لاگوہونے سے سروس ٹیکس بڑھ جائیں گے۔ اس سے صحت اور تعلیم کے مہنگے ہونے کی قوی امید ہے۔ آسٹریلیا، برطانیہ، نیوزی لینڈ نے جی ایس ٹی لاگو کرنے کے ساتھ انکم ٹیکس میں کمی کی ہے تاکہ عام انکم ٹیکس دہندہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا جھٹکابرداشت کرسکے۔ بھارت میں انکم ٹیکس میں کمی کا کوئی ذکر نہیں ہے الٹے وزیرخزانہ گزشتہ دو بجٹ سے کارپوریٹ ٹیکس میں کمی کااعلان کئے جارہے ہیں ۔

مسلمچیمبرآف کامرس کے فائونڈر ڈاکٹر رحمت اللہ نے جی ایس ٹی پر سوالات کے جواب میں کہا کہ اس قانون کی تفصیلات کے بعد معیشت کے ماہرین، کاروباری اور ایڈوکیٹس کو جمع کرکے بات کی جائے گی تبھی ہم جی ایس ٹی کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنے کی حالت میں ہوں گے۔ آر ایس ایس کے پرچارک اور مسلم راشٹریہ منچ کے نگراں گریش جویال نے کہا کہ جی ایس ٹی ایک دیش ایک ٹیکس کی بنیاد پر لایا جارہا ہے۔ جمہوریت میں گائوں اورپنچایت کا رول بہت اہم ہے۔ الگ جگہ کی الگ ضرورت ہے اس پر اثرنہیں پڑنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ جب بے ایمانی ٹیکس کی چوری ختم ہوگی پیسے جمع ہوں گے تو ان علاقوں میں بھی ڈولپمنٹ کا کام ہوسکے گا جہاں پیسوں کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوپارہا ہے،حکومت کو اس طرف دھیان دینا ہوگا۔ہند انڈسٹریز کے چیئرمین اوراسلامی کلچرسینٹر کے صدر سراج قریشی نے کہا کہ دیش میں ایک ٹیکس ہوگاتو اس سے بزنس کرنے میں آسانی ہوگی۔ اس سے کاروباریوں کو فائدہ ہوگا۔

دراصل جی ایس ٹی ایک بلاواسطہ(Indirect)ٹیکس ہے۔ سبھی ان ڈائریکٹ ٹیکس عام آدمی پر بوجھ ڈالتے ہیں ، جسے ٹیکس کے دائرے میں آنے والی اشیاء کی خریدیا استعمال پر یہ ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔ بالواسطہ یا ڈائریکٹ ٹیکس امیروں سے وصولا جاتا ہے، جس کا حصہ مرکز کی آمدنی میں لگاتار کم ہوتا جارہاہے۔ ملک کی آمدنی کا قریب دوتہائی حصہ بلا واسطہ ٹیکسوں سے ہی آتا ہے۔ بالواسطہ ٹیکس کے کم ہونے اور بلا واسطہ ٹیکس کے بڑھنے کا مطلب ہے امیروں کو اور امیر، غریبوں کو اور غریب بنانا۔ حقیقت میں جی ایس ٹی کارپوریٹس کو پیکج کے ذریعہ راحت دے کر عام اور غریب عوام پر یکساں طوپر ٹیکس لگانے کا نظام ہے یعنی جوزیادہ کمائے گا وہ کم ٹیکس دے گا اور جو کم کمائے گا وہ یکساں ٹیکس کے نام پر زیادہ ٹیکس چکائے گا۔ فائنانشیل ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جی ایس ٹی آنے سے بھارت کی بڑی صنعتوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جوں ہی انکم ٹیکس سے جی ایس ٹی کی طرف قدم بڑھاتے ہیں معاشرے میں نابرابری بڑھنے لگتی ہے۔ نیوزی لینڈ میں تیس سالوں میں نابرابری میں اضافہ ہوا ہے۔ مطلب غریبوں کی تعداد بڑھی ہے اور غریبوں کی غریبی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے ترقی ہونے کی کوئی واضح مثال نہیں ملتی۔ بھارت میں جی ایس ٹی کے ساتھ مناسب انکش اوربچائو کے انتظام کو جوڑنا ضروری ہے نہیں تو ممکن ہے گڈس اینڈ سروس ٹیکس ہمارے ملک میں پہلے سے بڑھ رہی آمدنی کی نابرابری کو اور بڑھانے کا ہی کام کرے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تویہ دو الگ الگ بھارت پیدا کرنے کا کام کرے گا ایک خوشحال اوردوسرا بلکھتا ہوا بھارت جو زیادہ بڑا ہوگا۔ عوام کو اس کے تئیں زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا کہیں یہ اقتصادی اصلاح عوام پر بوجھ نہ بن جائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close