بزنس

عام آدمی کی پلیٹ سے کیوں دور ہو رہی ہے دال؟

سچن کمار جین

یہ مضمون ایک ایسے موضوع پر ہے جس پر صحیح معنوں میں تو کسی طرح کے تجزیہ کی ضرورت نہیں ہے. سارے لوگ نہ صرف یہ کہ اسے جانتے اور سمجھتے ہیں، بلکہ ایک بحران کے طور پر گزشتہ کچھ سالوں سے مسلسل جھیل بھی رہے ہیں. میں زندگی کی سب سے بنیادی ضرورت دال اور روٹی کے بارے میں کچھ لکھ رہا ہوں. جس وقت میں یہ مضمون لکھ رہا ہوں تب میرے شہر بھوپال میں چنے کی دال کی قیمت 104 روپے، ارہر دال کی قیمت 168 روپے، اڑد دال کی قیمت 155 روپے اور مسور دال کی قیمت 102 روپے فی کلو ہے.

صحت مند زندگی کے لئے غذائی ضرورت کو جانتے ہوئے اور اس موضوع پر ٹھوس طریقہ سے تحقیقی تجزیہ-تجربہ کا کام کرتے ہوئے ہم نے جانا ہے کہ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں دال پروٹین کا سب سے اہم ذریعہ ہے، وہاں اس کی ضرورت 30 گرام سے 100 گرام تک ہوتی ہے. اگر دال کو پروٹین کا سب سے اہم ذریعہ مان لیا جائے تو ممکنہ طور پر پروٹین کی دو تہائی ضرورت دال ہی سے پوری ہوتی ہے. ہندوستانی طبی تحقیقاتی کونسل کے مطابق، ایک شخص کو اوسطا 65 گرام دال روزانہ (1950 گرام ماہانہ) ملنا چاہئے. اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ایک شخص کو کم سے کم 8.28 روپے یومیہ خرچ کرنا ہوگا. یہ رقم ہم نے تمام دالوں کی قیمت کی اوسط نکال کر حاصل کی ہے؛ لیکن کیا ہندوستان کے لوگ اتنی رقم خرچ کر پانے کی حالت میں ہیں؟ یقینی طور پر نہیں! اگر لوگوں کو ہر روز ایک وقت دال کھانا ہو تو پانچ افراد پر مشتمل خاندان کو ایک ماہ میں موجودہ قیمتوں پر 1242 روپے خرچ کرنے ہوں گے.

نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن کی رپورٹ (سیریل نمبر 558، اشیاء اور خدمات پر خاندانی اخراجات) کے مطابق دیہی ہندوستان میں فی شخص دال کا ماہانہ صرف 783 گرام اور شہری ہندوستان میں 901 گرام ہے جو ان کی ضرورت کو پورا کرنے کے لائق دال کی مقدار کا 35 سے 40 فیصد ہی ہے. یہ حقیقت یاد رکھیں کہ دالوں میں تقریبا 32 سے 35 فیصد پروٹین ہوتا ہے، جبکہ گندم اور چاول میں بہت کم پروٹین- تقریبا 8 فیصد، ہی ہوتا ہے.

چھ ریاستیں کرتی ہیں دال کی 80 فیصد پیداوار

ہندوستان کی چھ ریاستیں – مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، راجستھان، آندھرا پردیش، کرناٹک اور اتر پردیش 80 فیصد دال کی پیداوار کرتے ہیں. اصل میں سبز انقلاب نے دال کی پیداوار کو منفی طور پر متاثر کیا کیونکہ اس انقلاب میں ملکی ٹیکنالوجی، مقامی سماجی ضروریات اور قدرتی انتظامات کو توڑ پھینکنے کی پالیسی تھی. سبز انقلاب کے دوران گندم، چاول اور نقد فصلوں کی پیداوار کی حوصلہ افزائی کی گئی. یہی وجہ ہے کہ شمالی ہندوستان کے کسانوں نے دال کے بجائے دیگر اناجوں کو اہمیت دینا شروع کر دیا کیونکہ ایک ہیکٹر میں 3000 کلو گندم کی پیداوار کی بات نے انہیں اپنی طرف متوجہ کیا جبکہ ایک ہیکٹر میں 500 سے 800 کلو دال کی پیداوار ہے.

دال پیدا کرنے والے کسانوں کو نہیں ملا تحفظ

واقعی میں اس وقت ضرورت تھی کہ ہندوستانی حکومت کم از کم مالی امداد کی پالیسی کے ذریعے دال پیدا کرنے والے کسانوں کو تحفظ دیتی؛ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا. گندم اور چاول کی خریداری حکومت نے کی اور کم از کم مالی امداد دی، اس سے ان کی پیداوار بھی بڑھی، لوگوں کی اناج تک رسائی یقینی ہوئی اور مارکیٹ میں قیمتیں  بھی کنٹرول میں رہیں. حکومت نے دال کی خریداری نہیں کی، اس سے دال کے کاشتکار کسان بحران میں پڑے، بازار میں قیمتیں بے تحاشا بڑھیں، بچولیوں نے کمی کو بڑھایا اور حکومت کو درآمد کے لئے تیار کیا. پیداوار کو فروغ نہیں ملا اور دال کے عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہو جانے کی وجہ سے پروٹین کی کمی والی غذائی قلت بھی بہت بڑھی.

موزمبیق سے معاہدہ لیکن کسانوں کو مناسب قیمت دینے کو تیار نہیں

آج جبکہ اوپن مارکیٹ میں دالوں کی قیمتیں آسمان چھو چکی ہیں، تب بھی ہندوستانی حکومت کسانوں سے ٹال مٹول کرنے میں مشغول ہے. ایک طرف تو حکومت ہند موزمبیق سے 1 لاکھ ٹن دال خریدنے کا معاہدہ کر رہی ہے، پر ہندوستان کے کسانوں کو مناسب اور حوصلہ افزا قیمتیں دینے کے لئے تیار نہیں ہے. جانتے ہیں حکومت نے دال کی اس سال کیا قیمتیں طے کی ہیں؟  ارہر کی 50.50 روپے، مونگ کی 52.25 روپے، اڑد کی 50 روپے فی کلو؛ پر مارکیٹ کی اصل قیمتیں کیا ہیں؟ کیا حکومت خود منافع خوروں کے پالے میں کھڑی ہے! بہر حال ایگری واچ کے مطابق چنا دال کی ہول سیل قیمتوں میں ایک سال میں 57 فیصد، اڑد کی قیمتوں میں 46 فیصد اور ارہر میں 23 فیصد کا اضافہ ہوا ہے. خوردہ کی قیمتوں کو حکومت دیکھتی بھی نہیں ہے، وہ تو لوگ جھیلتے ہیں!

کہاں سے آتی ہے ہماری دال

بھارت اپنی ضرورت کا نصف حصہ ہی دال پیدا کرتا ہے. ہم بہت ساری دال درآمد کرتے ہیں. مٹر (کینیڈا سے 61 فیصد اور روس سے 15 فیصد)، چنا (آسٹریلیا سے 74 فیصد اور روس سے 16 فیصد)، مونگ / اڑد (میانمار سے 70 فیصد اور کینیا سے 7 فیصد)، مسور (کینیڈا سے 90 فیصد اور امریکہ سے 7.5 فیصد)، ارہر (میانمار سے 47 فیصد، تنزانیہ سے 19 فیصد اور موزمبیق سے 16 فیصد).

ہندوستان کو جو دالیں درآمد کرتا ہے، ان میں سے تقریبا 40 فیصد مٹر، 18 فیصد چنا اور 22 فیصد مسور ہوتی ہے.

دال کے دو اہم پہلو ہیں. ایک تو اس کا بازار اور دوسرا متوازن غذا کے طور پر اس کی ضرورت ہے. بالکل تازہ صورت حال سے بحث کا آغاز کرتے ہیں. ہندوستان کے مرکزی ادارہء صحت، ہند طبی تحقیقاتی کونسل کے مطابق پروٹین کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے دال سب سے اہم  غذائی مادہ ہے. اگر ہندوستان کی موجودہ آبادی 128 کروڑ مان لی جائے تو کونسل کے معیار کے مطابق ہر شخص (چونکہ جسمانی محنت کرنے والے زیادہ ہیں) کے لئے 80 گرام دال کی ضرورت روزانہ ہوگی. اگر ہم اس ضرورت کو پورا کرنا چاہیں تو ہمیں ہر سال ملک کو محفوظ ذخائر کی مقدار ملا کر تقریبا 3.5 کروڑ ٹن دال کی پیداوار کرنی ہوگی. لیکن ہم واقعی کتنی پیداوار کرتے ہیں؟ حکومت ہند کے اقتصادی اور شماریات ڈویژن- محکمہء زراعت کے مطابق سال 2015-16 میں ہندوستان میں 1.706 ملین ٹن دال کی ہی پیداوار ہوئی، جو کہ ملک کی ضرورت کا صرف 50 فیصد ہے یعنی ضرورت کا نصف!

ملک کے ثقافتی رویے میں شامل ہے دال

بھارت کے ہر کونے میں دال کا استعمال ثقافتی رویے جیسا ہوتا ہے. کہیں ڈھوکلا بنے گا، تو کہیں سانبر- بڑا اور کہیں کڑھی، دال کا حلوہ بھی بنتا ہے اور نمکین بھی؛ دال کی جوڑی چاول کے ساتھ تو بنتی ہی ہے. جب دال اتنی اہم ہو اور اس کی پیداوار ملک میں کم ہوتی ہو، تب منافع خور تو چوکنے ہوں گے ہی. بس یہ یاد رکھئے کہ دال کے دھندے میں منافع چھوٹے موٹے نہیں ہیں، وہ بڑی بڑی کمپنیاں ہیں جو سرمایہ کے ذریعے پالیسی اور پیداوار دونوں کو کنٹرول کرتی ہیں. آپ جانتے ہی ہوں گے کہ ہندوستان میں بندرگاہوں کی بھی نجی کاری ہوئی ہے اور ہندوستان کے مؤثر دھندہ باز اڈانی گروپ کا دال کے دھندے پر خاصا کنٹرول ہے. اڈانی کا بندرگاہ اور خصوصی معاشی مرکز کا گجرات، اڑیسہ اور آندھرا پردیش کے سمندری نقل وحمل کے مراکز پر کنٹرول ہے.

اکتوبر 2015 میں اڈانی گروپ نے انڈیا پلسیس اینڈ گرین ایسوسی ایشن (آئی پی جی اے) کے ساتھ معاہدہ کیا کہ وہ اپنے تمام بندرگاہوں پر دال کا انتظام کریں گے. اڈانی گروپ غذائی مواد کا کاروبار کرنے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے بھی ایک ہے. اس کے بعد آپ  دیکھ لیجئے کہ ہندوستانی حکومت دال درآمد کے لئے کس طرح کے انتظام  پر سرگرم ہو گئی؟ ہندوستانی حکومت کا قومی غذائی تحفظ مشن بھی دال پیداوار میں نجی کمپنیوں کے لئے ہی ماحول بنانے میں سرگرم ہے. اس دھندے میں ٹاٹا اور ڈو- پونٹ جیسے گروپ بھی سرگرم ہیں.

پیداوار اور ضرورت میں بڑا فرق

یہ طے ہے کہ بھارت کو دال درآمد کرنا ہی ہے؛ کیونکہ ہماری پیداوار 1.7 سے 1.9 کروڑ ٹن ہے جبکہ ضرورت 4 کروڑ ٹن کی ہے. بہر حال چونکہ ملک کا بڑا طبقہ اونچی قیمتوں کی وجہ سے دال کھا نہیں سکتا، اس لئے اس کا صرف 2.5 سے 2.7 کروڑ ٹن کے درمیان رہنے کا امکان ہے. یعنی اس سال 60 سے 80 لاکھ ٹن دال درآمد کیا جانا ہے. دال درآمد کے کاروبار میں نجی کمپنیوں کا بھی بڑا کردار ہوتا ہے. اندازہ ہے کہ وہ اگر ایک کلو دال پر کم از کم 40 روپے کا فائدہ حاصل کریں گی، اس کا مطلب ہے کہ وہ ایک سال میں کم از کم 32 ہزار کروڑ روپے کا منافع کما سکتی ہیں. یہ حقیقت جان لیں کہ سال 2005-06 میں ہندوستان نے 19.94 لاکھ ٹن دال درآمد کیا تھا، سال 2015-16 میں ہندوستان نے 57.9 لاکھ ٹن دال درآمد کیا تھا اور اس سال 47.6 لاکھ ٹن درآمد طے پا چکا ہے.

سب سے بڑا دال پیدا کرنے والا ملک ہے ہندوستان پھر بھی …

یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی ہے کہ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا دال پیدا کرنے والا ملک بھی ہے اور سب سے بڑا صارف بھی؛ لیکن پھر بھی ضرورت پوری نہیں ہوتی ہے اس لئے وہ دنیا کا سب سے بڑا دال درآمد کرنے والا ملک بھی بن جاتا ہے. دال پیداوار کے 33 فیصد علاقے ہندوستان میں ہیں جبکہ 22 فیصد پیداوار ہندوستان کرتا ہے. دنیا کے پوری ارہر دال کا 90 فیصد، 65 فیصد چنا دال اور 37 فیصد مسور دال کے علاقے بھارت میں پڑتے ہے؛ ایسا ہونے کے بعد اب سوال یہ ہے کہ ہندوستان میں دال کی قیمتیں 100 سے 200 روپے کے درمیان کس طرح اور کیوں پہنچی؟ ذرا سوچئے کہ جب دال کی پیداوار گزشتہ سال صرف 12 فیصد کم ہوئی تو قیمتیں دوگنی ہو گئیں.

حکومت میں نہیں نظر آتی قوت ارادی

دال کی قیمتوں کو کم کرنے کے لئے حکومت بہت سنجیدہ نہیں رہی؛ یہ مثال دیکھئے کہ سال 2008 میں عوامی قومی غذائی تحفظ مشن شروع کیا گیا، اس کے بعد ہدف طے تھا کہ سال 2012 تک دالوں کی پیداوار میں 20 لاکھ ٹن کا اضافہ ہو جائے گا اور دال کا رقبہ 40 لاکھ ہیکٹر بڑھایا جائے گا؛ پر ہوا کیا؟ سال  2010-11 میں یہ رقبہ 2.64 کروڑ ہیکٹر تھا، وہ 2014-15 میں گھٹ کر 2.31 کروڑ ہیکٹر پر آ گیا یعنی دال کا 33 لاکھ ہیکٹر رقبہ کم ہو گیا. اصل میں کسان تو پیداوار کرنا چاہتے ہیں اور کر بھی رہے ہیں، لیکن حکومت اور کمپنیوں کے بھیس میں بکھرے بچولئے ان کا استحصال کرنے میں مشغول ہیں. تازہ مثال مہاراشٹر کی ہے جہاں ریاستی حکومت 50 روپے میں خریدی ہوئی دال کو 120 روپے میں فروخت کرنے جا رہی ہے؛ وہ بھی غریبوں کی مدد کرنے کے نام پر!

سال 2005 میں ارہر دال کی قیمت 28 روپے، مونگ دال کی قیمت 33 روپے، مسور دال کی قیمت 24 روپے اور چنا دال کی قیمت 23 روپے تھی. ان کی قیمتوں میں 300 سے 690 فیصد کا اضافہ ہوا. تمام حکومتیں اس اضافہ کو قبول نہیں کرتی ہیں. ان کے ماہرین جھوٹے اعداد و شمار گنانے لگتے ہیں. گزشتہ 4 سالوں سے ہندوستان کے ان علاقوں، جہاں دال کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے، وہاں خشک سالی  واقع ہوئی. پانی کا سوکھا دال کو بہت متاثر کرتا ہے، لیکن پالیسی بنانے والوں کی آنکھوں کا سوکھا آج سب سے بڑا چیلنج ہے.

دالوں کا بین الاقوامی سال ہے یہ سال

اس سال یعنی 2016 کو "دالوں کا بین الاقوامی سال” قرار دیا گیا ہے. اس موضوع پر سال 2011 سے گلوبل پلس کنفیڈریشن (جو کہ دالوں کی عالمی تجارت کرنے والے گروپوں کا اتحاد ہے) نے اقوام متحدہ کی تنظیم برائے غذا اور زراعت کو اکسایا کہ وہ 2016 کو دالوں کا سال قرار دے. اس کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی ایسا ہی کیا. جو گروپ دالوں کے سال کے لئے وکالت کر رہے تھے، اصل میں اس كنفیڈریشن کے 600 میں سے زیادہ تر رکن تو دالوں کی بیجوں کی تجارت کرنے والے ہیں اور اس کا مقصد نجی منظم ایریئوں کو اور زیادہ حقوق / مقام دلانا ہے.

دالوں کی قیمتوں میں اضافہ سے ایک ماحول بن رہا ہے کہ شرح پیداور بڑھانے کے لئے اس میں بھی کمپنی سے تیار بیجوں کو بڑھاوا دیا جائے اور کیمیکل کے استعمال میں اضافہ کی وکالت کی جائے جو کہ سبز انقلاب کے دور سے چلی آ رہی پالیسی اور حکمت عملی ہے .

حکومت کے مقررہ قیمت سے پانچ گنا زیادہ دام

ذرا اپنے ارد گرد نظر ڈالئے اور دیکھئے کہ اب بازار میں جو دال دستیاب ہے، وہ کہاں سے آئی ہے؟ وہ کسانوں کے یہاں سے آئی ہے یا کسانوں سے وہ کمپنیوں کے پاس سے آئی ہے! اس پر کچھ نئے تشہیری نکات شامل کئے گئے (جیسے زیادہ پروٹین، آئرن، بغیر پالش، بالکل خالص وغیرہ) اور حکومت کے زریعہ طے قیمت سے 5 گنا زیادہ مطبوعہ قیمت کے ساتھ آپ کے سامنے پہنچی؟ اصل میں بازار کسان کو ہماری نظروں سے دور کر رہا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ ہماری کمپنی دال پیدا کر رہی ہے. وہ اپنی حکمت عملی میں کامیاب ہیں؛ ذرا سوچئے کہ کسانوں کے بحران کے وقت ہمارا سماج ان کے ساتھ کیوں نہیں کھڑا ہوتا؟ وہ پیاز، آلو، ٹماٹر یا گنے کی فصل کی قیمت نہ ملنے پر روتے ہوئے کسانوں کے آنسو پونچھنے کیوں نہیں جاتا؛ کیونکہ اب اوسط ہندوستانی فرد یہ مانتا ہے کہ شکر، دال، گندم، چاول، کھانے کا تیل کسان نہیں، بلکہ اڈانی، ٹاٹا، امبانی کی کمپنیاں بناتی ہیں …!

مزید دکھائیں

سچن جین

سچن جین تحقیقی مضمون نگار اور سماجی کارکن ہیں.

متعلقہ

Close