کاغذی کرنسی اور افراط زر

سراج الدین فلاحی
8 نومبر کی شب وزیراعظم مودی نے 500 اور 1000 روپیے کے نوٹوں کو جیسے ہی غیر قانونی ہونے کا اعلان کیا اس سے ایک بار پھر کاغذی کرنسی کی خامیاں ظاہر ہو گئیں. دراصل دور حاضر میں دنیا کے تمام ممالک کے مالیاتی نظام کی بنیاد کاغذی کرنسی ہے جس کی اپنی کوئی قیمت نہیں ہے اور نہ ہی اس کی پشت پر کوئی حقیقی اثاثہ ہے اس لیے یہ مسئلہ موجودہ مالیاتی نظام کے اہم ترین مسائل میں ایک ہے. چونکہ کاغذی کرنسی کے ذریعے لین دین کو قانونی جبر کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے اس لیے اس سے عوام کا استحصال آسان ہو گیا ہے. اس کرنسی کی ادائیگی حقیقت میں قرض کو منتقل کرنا ہوتا ہے جس کا ضامن مرکزی بینک ہوتا ہے اور حکومت اس کی پشت پناہی کرتی ہے. اب ہم یہ سمجھتے کی کوشش کرتے ہیں کہ کاغذی کرنسی کے معیشت پر کیا نقصانات ہیں

کاغذی کرنسی کی سب سے بڑی خامی افراط زر (inflation ) کی شکل میں برآمد ہوتی ہے. جب معیشت میں حکومت کا مالی خسارہ بڑھ جاتا ہے(جو کہ پہلے پنج سالہ منصوبے کے درمیان 350 کروڑ روپیہ تھا, 2015 میں پانچ لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر چکا ہے ) اس خسارے پر قابو پانے کے لئے حکومت اور مرکزی بینک کئی طرح کے اقدامات کرتے ہیں جن میں ایک طریقہ نوٹ پرنٹ کرنا بھی ہے. نوٹ پرنٹ کرنے کی وجہ سے معیشت میں زر رسد میں اضافہ ہو جاتا ہے اور جب زر رسد کے بڑھنے کا تناسب حقیقی پیداوار سے زیادہ ہوتا ہے تو معیشت افراط زر کا شکار ہو جاتی ہے. مثال کے طور پر معیشت میں کسی شئ کی 1000 اکائیاں پیدا کی گئیں اور اس معیشت میں 10000 روپیے کی کرنسی موجود ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ پیدا کی گئی شئ کی اوسط قیمت 10 روپیہ ہے اب اگر حکومت مالی خسارے یا دیگر وجوہات کی بنا پر 5000 کرنسی مزید اور جاری کرتی ہے جو کہ اس کے لیے بہت آسان ہے تو زر رسد بڑھ کر 15000 روپے ہو جائے گی جب کہ معیشت میں شئ کی پیداوار صرف 1000 یونٹ ہی ہے نتیجتاً 5000 روپے کے اضافی زر سے اس کی رسد میں اضافہ ہو گا اور شئ کی اوسط قیمت 10 روپیہ سے بڑھ کر 15 روپیہ ہو جائے گی. یعنی زر رسد بڑھ جائے لیکن پیداوار میں کوئی اضافہ نہ ہو تو اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے. اگر پیداوار میں 5 فیصد اضافہ ہو اور زر رسد 10 فیصد بڑھ جائے تو معیشت میں پانچ فیصد افراط زر ہو گا. اس لئے حقیقی پیداوار کو نظر انداز کر کے نوٹ چھاپنا کرنسی کی قدر میں عدم استحکام کا سبب بن جاتا ہے. جس کی وجہ سے وہ افراد جن کی اجرتیں فیکسڈ ہیں ان کی قوت خرید کم ہو جاتی ہے اور کمپنیوں کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے. لہذا یہ کہنے میں ہر شخص حق بجانب ہو گا کہ کاغذی کرنسی نے تقسیم دولت کے توازن بگاڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے جس کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور دولت بہت تیزی سے چند مخصوص ہاتھوں میں جمع ہو رہی ہے.

ایک اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ڈھائی سو سال میں دنیا کے اندر اشیاء و خدمات کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا لیکن گولڈ اسٹینڈرڈ کو متروک کرنے کے بعد( جب 1971 میں بریٹن ووڈ معاہدے کو کالعدم قرار دینے کا رسمی اعلان کیا گیا جس کی رو سے ڈالر کی پشت پر سونا تھا اور اس کی قیمت مقرر تھی )اس کی قیمتوں میں تقریباً پچاس گنا سے بھی زیادہ کا اضافہ ہو چکا ہے
گولڈ اسٹینڈرڈ ایسے مانیٹری سسٹم کو کہتے ہیں جس میں اشیاء و خدمات یا سرمایہ کاری کے قدر کی پیمائش سونے میں کی جاتی ہے یعنی ایک کاغذی کرنسی سونے کے مخصوص مقدار کی نمائندگی کرتی ہے اور کاغذی نوٹوں کو سرکولیشن کا آلہ بنایا جاتا ہے یہ نوٹ حکومت کے پاس موجود سونے چاندی کے قائم مقام بھی ہوتے ہیں. اس کے مطابق کوئی بھی ملک کرنسی کی سرکولیشن کو اس وقت تک بڑھا نہیں سکتا تھا جب تک وہ گولڈ ریزرو میں اضافہ نہ کر لے. کاغذی کرنسی سونے کے متعین وزن سے تعلق رکھتی ہے اور طلب پر کاغذی کرنسی کو سونے کے سکوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے.

میرے خیال میں موجودہ کاغذی کرنسی پر مشتمل نظام معیشت آئیڈیل معیشت نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کے نقصانات دنیا کے سامنے جگ ظاہر ہیں بطور خاص غریب طبقات زیادہ متاثر ہوئے ہیں جس طرح کسی معیشت میں اشیاء و خدمات کی ایک حد ہوتی ہے اور اسی کی بنیاد پر کل گھریلو پیداوار کا تعین ہوتا ہے اسی طرح ان کی خرید و فروخت کے لیے کرنسی کی بھی حد ہونی چاہئے نہ کہ معیشت کو نظر انداز کر کے نظام معیشت میں نوٹوں کا ذخیرہ بہا دیا جائے جس کے مضر اثرات دنیا کے سامنے افراط زر اور آمدنی کی غیر مساوی تقسیم کی شکل میں وقوع پذیر ہوتے ہیں.
لہذا گولڈ اسٹینڈرڈ کے نظام کو نافذ کر کے ہی موجودہ بینکنگ سسٹم کے فساد کو دور کیا جا سکتا ہے. اور معاشی عدم مساوات کو دور کیا جا سکتا ہے. البتہ موجودہ سیاسی نظام میں گولڈ اسٹینڈرڈ کو لاگو کرنا آسان نہیں ہے کیوں کہ سرمایہ دارانہ نظام کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے دنیا کی ایک بڑی تعداد کا معاشی استحصال کرتا ہے جو کہ کاغذی کرنسی کے ذریعے بآسانی ہو جاتا ہے.

کاغذی کرنسی کی گرتی قدر اور نتیجتاً معیشت میں مہنگائی کے طوفانوں کا ایک ہی حل ہے کہ مالیاتی لین دین میں گولڈ اسٹینڈرڈ کے نظام کو رائج کیا جائے جب سونے چاندی یا کوئی دھاتی معیار برائے کرنسی موجود ہو گا تو مشینوں پر انگلیوں کو حرکت دے کر اربوں روپے کی نئی کرنسی نظام میں داخل کرنا ممکن نہیں ہو گا. اسلام نے بھی ٹھوس اشیاء کو اسلامی کرنسی کی بنیاد قرار دیا ہے چونکہ اس کی پشت پر حقیقی اثاثہ ہوتا ہے اس لیے کوئی کبھی بھی اپنی مرضی کے مطابق نوٹوں کو حقیقی اثاثے میں تبدیل کر سکتا ہے.



⋆ سراج الدین فلاحی

سراج الدین فلاحی
سراج الدین فلاحی مضامین ڈاٹ کام کے خصوصی کالم نگار اور معاشی امور کے ماہر ہیں۔