GST اور جموں و کشمیر کے صنعت کار

الطاف حسین جنجوعہ

جموں وکشمیر میں اشیا و خدمات ٹیکس(GST)کے اطلاق کے لئے احتجاج، مظاہرے، دھرنے اور ہڑ تا ل کرنے والے جموں کے صنعت کار وں پر اب یہ حقیقت آشکارا ہو ئی ہے کہ ریاست میں صنعتوں کو مراعات ختم ہو نے والی ہیں جس کے بعد ان کے ہوش اڑ گئے ہیں۔ واضح رہے کہ جموں وکشمیر میں صنعتوں کو فروغ دینے کے لئے مرکزی وریاستی سرکار کی طرف سے چھوٹی وبڑی صنعتوں کو کئی قسم کی مراعات  ورعایتیں دی جارہی تھیں جوGST نافذ ہونے کے بعد بند کر د ی گئی ہیں۔ صنعتی مرکز بڑی براہمناں میں سینکڑوں کی تعداد میں ایسے صنعتکار ہیں جوکہ ان مراعا ت و رعایتوں کا بھر پور فائدہ اٹھا رہے تھے اور بہت کم ٹیکس ادائیگی کی وجہ سے انہیں اچھا خاصا منافع ہوتا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ ریاست میں امن وامان، سرحدپارعسکریت پسندی اور مقامی سطح پر خام مال وہنریافتہ افرادی قوت دستیاب نہ ہونے کی جوازیت پیش کر کے یہ صنعتکار مراعات اور صنعتی پیکیج حاصل کرتے رہے ہیں۔ حیران کن امر ہے کہ جون 2017سے 5جولائی 2017تک جی ایس ٹی کی جموں وکشمیر میں من وعن عمل آوری کے حق میں جو تجارتی وصنعتی تنظیمیں سراپا احتجاج تھیں، اب بند ہونے والی مراعات کو پھر سے حاصل کر نے کے لئے ہاتھ پائوں مارنا شروع ہو گئی ہیں۔ ان تنظیموں کی طرف سے لگاتار اخباری بیانات اور اشتہارات جاری کرکے یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر مراعا ت جاری نہ رکھی گئیں تو ریاست میں صنعتیں تباہ وبرباد ہو جائیں گی۔ اب صنعتی تنظیموں نے مقامی وملکی سطح کے اخبارات میں بذریعہ اشتہارات مرکزی قیادت سے اپیل کی مہم شرو ع کی ہے کہ جی ایس ٹی کے تحت بھی ان کے لئے مراعات جاری رکھی جائیں۔

بڑی برہمناں انڈسٹریز ایسو سی ایشن (رجسٹرڈ)،ایسو سی ایشن آف انڈسٹریز (رجسٹرڈ)، گنگیال ایسو سی ایشن آف انڈسٹریز(رجسٹرڈ)، آئی جی سی SIDCO سانبہ، کٹھوعہ انڈسٹریل یونٹ (رجسٹرڈ)، کٹھوعہ ایسوسی ایشن ٓف سمال سکیل انڈسٹریز، بیر پور سمال سکیل انڈسٹریز ایسو سی ایشن، ڈگیانہ سمال سکیل انڈسٹریز ایسو سی ایشن اودھم پور نے مشترکہ اشتہاری اپیل میں مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی اوروزیر اعظم دفتر میں مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ سے اپیل کی ہے کہ نوٹیفکیشن نمبر01/2010کے تحت انہیں سینٹرل ایکسائزمراعات کا جو پیکیج جو ملتا تھا اسے جی ایس ٹی کے تحت بھی جاری رکھاجائے۔ ان تنظیموں نے یونٹس کی توسیع اور نئے صنعتی مراکز کے قیام کو بھی جی ایس ٹی کے تحت لانے کو کہا ہے تاکہ صنعت کو بچایاجاسکے۔ ان تنظیموں نے انتبا ہ دیا ہے کہ مراعات واپس لیناجموں وکشمیر میں موجود صنعتوں کے لئے خود کشی کے مترادف ہوگا۔حالانکہ جب سے جی ایس ٹی نفاذ کے لئے مرکز کی طرف سے مہم تیز کی گئی تھی، تبھی سے جموں وکشمیر کی صنعتی تنظیموں نے اپنے خدشات وتحفظات کا اظہار کرنا شروع کر دیاتھا لیکن چند سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے عین موقع پر انہیں جی ایس ٹی کے حق میں ہی بولنا پڑا جس کا انہیں اب عملی طور خمیازہ مالی طور بھگتنا پڑ رہاہے۔

2اکتوبر2016کوفیڈریشن آف انڈسٹریز جموں کی ایگزیکٹیو کمیٹی میٹنگ چیئرمین للت مہاجن کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں مرکز وریاستی سرکار سے مانگ کی گئی تھی کہ موجوہ مالی مراعات کو جاری رکھاجائے۔ ایگزیکٹیو کمیٹی نے کہاتھاکہ سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی، سی ایس ٹی ری فنڈ اور دیگر مراعات جن میں کیپٹل انوسٹمنٹ سبسڈی، انٹرسٹ سبسڈی، انشورنس سبسڈی، VATسے چھوٹ اور ریاستی انڈسٹریل پالیسی2016شامل ہیں، کو جاری رکھاجائے۔ اس وقت یہ خد شہ بھی ظاہر کیاتھاکہ ریاستی سرکار کی طرف سے تشکیل دی گئی جی ایس ٹی کمیٹی میں فیڈریشن آف انڈسٹریز جموں کو نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔ جی ایس ٹی ایکٹ میں سروس ٹیکس کمپوننٹ بھی ہے۔ جموں وکشمیر میں سروس ٹیکس کا پہلے اطلاق نہیں تھا۔25 مارچ 2017 کو صنعت وحرفت کے وزیر چند ر پرکاش گنگا کی قیادت میں صنعتکاروں کے ایک وفد نے مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ امور ارجن میگھوال سے ملاقات کی تھی جس میں جی ایس ٹی کے تحت مرکزی مراعاتی پیکیج کا فائدہ جموں وکشمیر کی صنعتوں کو بھی دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ 19اپریل2017کا اسی سلسلہ میں ایک ہنگامی میٹنگ میں ایسوسی ایشن آف انڈسٹریز نے پھرمطالبہ کیاکہ جموں وکشمیر کو جومراعاتی پیکیج مل رہاہے، وہ جی ایس ٹی کے تحت بھی جاری رہناچاہئے۔

اس میٹنگ میں صدرراجیش جین نے کہاتھاکہ یکم جولائی سے لاگو ہورہے جی ایس ٹی کا ریاست میں صنعتوں پر بھاری اثر پڑے گا اور اگر مرکز وریاست کی طرف سے موجودہ مراعات جاری نہ ر کھی گئی تو کافی نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور مرکزی وزیر پرزور دیاتھاکہ ان مراعات کو جاری رکھاجائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھاکہ پچھلے دو سال سے مرکز ی پیکیج کے تحت کوئی بھی مراعات نہ ملی ہیں اور 60کروڑ روپے صنعت کا زیر التوا ہے۔ 7جون2017 کو بڑی براہمناں انڈسٹریز ایسو سی ایشن کی منعقدہ میٹنگ میں ممبران نے پھر مانگ کی کہ سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی ری فنڈ، VATسے معافی، ریاست میں کی جانے والی سیل سے VATکی چھوٹ، سی ایس ٹی سے استثنیٰ رکھاجائے۔

28جون 2017کو ایگزیکٹیو کمیٹی میٹنگ میں ممبران نے جی ایس ٹی کی عمل آوری اور مراعات نہ ملنے سے پیداشدہ غیر یقینی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔3جولائی 2017کو بڑی براہمناں ایسو سی ایشن کا بیان آیا کہ جموں وکشمیر میں جی ایس ٹی لاگو نہ کیاگیا تو صنعتوں کو بھاری نقصان پہنچے گا۔ 5جولائی2017 کو جی ایس ٹی کی عمل آوری کے لئے بڑی برہمناں انڈسٹریز ایسو سی ایشن نے ایک بڑ احتجاج بھی کیا تھا۔ لیکن اس کے بعد جون کے مہینے میں جموں کے صنعت کاروں نے بھی ریاست میں جی ایس ٹی کے اطلاق کے مطالبے کے سروں میں سر ملانا شروع کر دئے۔

اس سلسلہ میں احتجاج، مظاہروں، دھرنوں اور ہڑ تا لوں کا سہارا بھی لیا گیا اور وادی کے تاجروں کی طرف سے تمام تحفظات کی نفی کرنے کی مہم شروع کی گئی۔ لیکن اب یہی صنعت کار کھوئی ہوئی مراعات کو حاصل کرنے کے لئے ہاتھ پائوں مار نا شروع ہو گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر چہ صنعتی وتجارتی تنظیموں نے GSTکو جموں وکشمیر میں لاگو کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن دل سے وہ بھی اس کے اطلاق کے حق میں نہ تھیں۔ ذرائع کے مطابق یہ تنظیمیں دبائو میں آ گئیں تھیں جس کی وجہ سے انہیں موقف بدلنا پڑا تھا۔



⋆ الطاف حسین جنجوعہ

الطاف حسین جنجوعہ
مضمون نگار پیشہ سے صحافی اور وکیل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے