کیریئر گائڈنسمعاشرہ اور ثقافت

   اصلاح ِ معاشرہ کی فکر اور ہماری ذمہ داری!

مفتی محمد صادق حسین قاسمی

   معاشرہ افراد کے مجموعہ کا نام ہے ،اور ہر فرد اس بات کا ذمہ دار ہے کہ وہ اپنے معاشرہ کو ہر طرح کی خرابیوں اور گندگیوں سے پاک و صاف رکھے،ظاہری نجاست اور باطنی ہلاکت والی چیزوں کو معاشرہ سے نکال دورکرنے کی فکرکریں ۔اسلام نے مسلمانوں کو اس بات کی بطور ِ خاص تعلیم دی کہ وہ اپنے گرد وپیش کاجائزہ لیتے رہیں اور جو خرابیاں در آرہی ہیں ان کے سدِ باب کی فکر کریں ۔جب معاشرہ کی اصلاح اور سدھار کی فکریں ہوں گی تو پھر اس کے نتیجہ میں افراد بھی پاکیزہ سانچے میں ڈھلیں گے اور نوجوان بھی بے راہ روی سے بچیں گے۔نبی اکرمﷺ جس وقت دنیا میں مبعوث ہوئے ، وہ دور انسانیت کی تباہی کانہایت سنگین دور تھا ۔قرآن کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا: وکنتم علی شفا حفرۃ من النار فانقذکم منھا۔( اٰل عمران:103) ’’اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے؛اللہ تعالی نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی۔‘‘

نبی اکرم ﷺ نے اپنی نرالی اور پیاری تعلیمات کے ذریعہ انسانوں کو تباہی کے دلدل سے نکالا اور قعر ِ مذمت سے نکال اوج ِ ثریا پر پہنچایااور دنیا کے سامنے ایک ایسا پاکیزہ اور پیارا معاشرہ پیش فرمایا جس کی نظیر قیامت تک نہیں پیش کی جاسکتی اور اس معاشرہ کے افراد کو قیامت تک آنے والی انسانیت کے لئے ایک نمونہ بنادیا ،کہ جن کے طریقوں پر چل کر لوگ راہ ِ ہدایت پاسکتے ہیں اور صلاح وفلاح سے ہم کنار ہوسکتے ہیں وہ حضرات صحابہ کرام کا پیار امعاشرہ تھا۔اور پھر اس امت کی یہ ذمہ داری بتائی کہ:کنتم خیر امت اخرجت للنا س تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکروتؤمنون باللہ۔( اٰ ل عمران:110)’’( مسلمانو!)تم وہ بہترین امت ہو جولوگوں کے فائدے کے لئے وجود میں لائی گئی ہے۔تم نیکی کی تلقین کرتے ہو،برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘

اسی طرح قرآن کریم میں مسلمانوں کے باہمی تعلقات کی بنیادی ذمہ داریوں کو بتاتے ہوئے ارشاد فرمایاگیا:والمؤمنون والمؤمنت بعضھم اولیاء بعض  یامرون بالمعروف وینھون عن المنکر ویقیمون الصلوۃ ویوتون الزکوۃ ویطیعون اللہ ورسولہ  اولئک سیر حمھم اللہ ان عزیز حکیم۔( التوبۃ :71)’’اور مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں ۔وہ نیکی کی تلقین کرتے ہیں ،برائی سے روکتے ہیں ،اور نماز قائم کرتے ہیں ،اور زکوۃ اداکرتے ہیں ،اور اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرتے ہیں ۔یہ ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ اپنی رحمت سے نوازے گا ۔یقینا اللہ اقتدار کا مالک ہے ،حکمت کا بھی مالک !‘‘ایک جگہ ارشاد فرمایا:الذین ان مکنھم فی الارض اقامو الصلوۃ واتوا لزکوۃ امروابالمعروف ونھوا عن المنکر وللہ عاقبۃ الامور۔( الحج:41)’’یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں ،اور زکوۃ ادارکریں ،اور لوگوں کو نیکی کی تاکید کریں ،اور برائی سے روکیں ،اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضے میں ہے۔‘‘

     نبی کریم ﷺ نے معاشرہ کو پاکیزہ بنانے کی ذمہ داریوں کو نبھانے کے طریقے بھی بیان فرمائے ۔ارشاد فرمایا: من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ ، فان لم یستطع فبلسانہ ، فان لم یستطع فبقلبہ ،وذلک اضعف الایمان۔( مسلم : حدیث نمبر73)کہ تم میں جو شخص کوئی برائی کو ہوتا ہوئے دیکھے تو اس کو چاہیے کہ اس کو اپنے ہاتھ سے تبدیل کردے(روک دے) ،اگر ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہیں تو زبان سے اس کو بدل دے ( روک دے)،اور اگر زبان سے کہنے کی بھی طاقت نہیں ہے تو اپنے دل میں اس کام کو بُرا سمجھے ۔یہ ایمان کا بہت ضعیف اور کمزور درجہ ہے۔نبی کریم ﷺ کے مذکورہ ارشاد میں معاشرہ کو پاکیز ہ بنانے اور برائیوں و منکرات سے صاف کرنے کی ایک اہم تعلیم دی گئی اور اس کے ساتھ اس کام کو انجام دینے کا طریقہ بھی بتایا ہے ۔جب تک انسان برائیوں پر روک تھام نہیں لگائے گا اور منکرات سے باز رکھنے کی فکر وکوشش نہیں کرے گا تب تک کسی بھی معاشرہ کا پاکیزہ بننا مشکل ہے ۔برائیوں کو روکنے اور غلط کاریوں سے منع کرنے کے تین درجے ہوتے ہیں ان تینوں کو نبی کریم ﷺ نے اس حدیث میں بیان کیا ۔

    پہلا درجہ یہ ہے کہ اگر کسی کو اللہ تعالی نے ذمہ دار کی حیثیت دی ہے ،اور اس کو ہاتھ سے روکنے کی قوت و طاقت بھی حاصل ہے تو ہ اپنی نگاہوں کے سامنے والے غلط کاموں ہوتا دیکھ کراس کو ہاتھ سے روکے ،تنبیہ کرسکتا ہے تو تنبیہ کرے۔بسا اوقات کوئی ہاتھ سے روکنے کی قوت نہیں رکھتا تو اس کے لئے دوسرا درجہ یہ ہے کہ وہ زبان سے اس کو منع کرے ،برائی کی مذمت کرے اوربچنے کی بھر پور ترغیب دے ۔آخری صورت کہ جس میں کوئی نہ ہاتھ سے روک سکتا ہے اور نہ ہی زبان سے کہنے کی قدرت رکھتا ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کم ازکم اس برائی کو ہوتا دیکھ اپنے دل میں اس کے برا ہونے کااحساس تو پیداکرے ،اور کسی برائی کو دیکھنے کے بعد اس کے برائی ہونے کا خیال پیدا ہونا یہ ایمان کا آخری درجہ ہے ،اگر کوئی برائی کو دیکھ کر نظر انداز کردے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔قرآن کریم میں حکم دیا گیا ہے کہ:واتقوا فتنۃ لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ واعلموا ان اللہ شدید العقاب۔( الانفال:25)’’ اور ڈرو اُ س وبال سے جو تم میں سے صرف ان لوگوں پر نہیں پڑے گا جنہوں نے ظلم کیا ہوگا ،اور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے‘‘۔ا س آیت ِ کریمہ میں ایک اہم حکم بیان فرمایا گیا ہے ۔اور وہ یہ ہے کہ ایک مسلمان صرف یہ نہیں کہ وہ اپنی ذات کی حد تک شریعت پر عمل کرلے ۔اس کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اگر معاشرہ میں کوئی برائی پھیل رہی ہے تو اپنی طاقت کی حدتک اس کو روکنے کی کوشش کرے ۔اگر لوگ اپنے اس فریضے میں کوتا ہی کریں اور اس برائی کا کوئی وبال آئے تو صرف وہ وبال ان لوگوں کی حد تک محدود نہیں رہے گا جو اس برائی میں براہ راست ملوث تھے ،بلکہ جو لوگ اس برائی کا خود اتکاب نہیں کررہے تھے ،مگر دوسروں کو اس سے روکتے بھی نہیں تھے ،وہ بھی اس وبال کا شکار ہوں گے۔( توضیح القرآن :1/530)

قرآن کریم میں اس امت کو ’’ خیر ِ امت ‘‘ کے لقب سے نوازنے کی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ یہ لوگوں کو نیکی کی تلقین کرنے والی وربرائی سے روکنے والی ہے ۔( اٰٰل عمران :110) مفتی محمد تقی عثمانی فرماتے ہیں :آج ہمارے معاشرہ میں جو فساد پھیلا ہواہے ،اس کی بنیادی وجہ ہے کہ خاندان کے وہ سربراہ جو خاندان کے سیاہ وسفید کے مالک ہیں وہ جب خاندان کے افراد کوکسی گناہ میں مبتلا دیکھتے ہیں تو ان کو روکنے اور ٹوکنے کے بجائے وہ بھی ان کے ساتھ اس گناہ میں شریک ہوجاتے ہیں ۔

    جانتے بوجھتے برائیوں کو نظر انداز کردینا بڑی ہلاکت اور تباہی کا سبب بنتا ہے ۔قرآن کریم میں اللہ تعالی نے نبی اسرائیل کے ملعون ومحروم ہونے کی ایک وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان داود وعیسی بن مریم ذلک بما عصواوکانوا یعتدون کانوا لایتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ماکانوا یفعلون۔( المائدۃ:78۔79)’’بنواسرائیل کے جو لوگ کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسی ابن مریم کی زبان سے لعنت بھیجی گئی تھی۔یہ سب اس لئے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی تھی ،اور وہ حد سے گذرجایاکرتے تھے۔وہ جس بدی کا ارتکاب کرتے تھے ،اس سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ ان کا طرزعمل نہایت برا تھا۔‘‘نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے لوگوں روکنا اس درجہ اہمیت رکھنے والا عمل ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے !تمہیں نیکی کا حکم کرنا ہوگا ،اور برائی سے روکنا ہوگا،ورنہ کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالی تم پر کوئی عذاب نازل فرمائیں ،پھر تم اللہ سے اس عذاب کے ٹلنے کی دعائیں بھی کرو گے تو قبول نہ ہوں گی۔( ترمذی:2095)

   اس وقت ہمارے معاشرہ میں بہت ساری خرابیاں پائی جاتی ہیں اور بہت سے گناہوں میں مسلم معاشرہ مبتلا ہے ، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم زبانی دعوؤں کے بجائے عملی طور پر اپنی شریعت پر عمل پیرا ہوجائیں ، اسلام کے جو احکام ہیں ان سے زندگیوں کو آراستہ کریں ،معاشرہ کی بے دینی کو ختم کرنے کے لئے آگے آئیں ،نوجوانوں کی بے راہ روی دور کرنے کی فکر کریں ،لڑکیوں کی بڑھتی ہوئی بے حیائی کو روکنے کی تگ ودو کریں ،ہمارے گھرانے شریعت ِ اسلامی کا حسین گلشن بن جائیں اس کے لئے کوشش کریں ،اس کڑوی حقیقت کو ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ہم لوگوں نے اپنی شریعت سے بے پرواہی برتی ،ہمارے گھر سے دین نکل رہا ہے اور ہم خاموش ہیں ،شادیوں کے نام پر اسراف ،فضول خرچی ،گانا بجانا، جہیز ،جوڑے کی رقم ،سامان کا مطالبہ ہم کرتے ہوئے اپنے مذہب کو پیارے آقا کی تعلیمات کو سرِ بازار نیلا م کرتے رہیں ،عورتوں کے ساتھ ظلم وزیادتی اور بغیر سوچے سمجھے طلاق کا استعمال کرنے میں ہم پیش پیش رہیں ،لڑکیوں کو شادی کرواکر لائے تو بڑے ناز سے لیکن ان پر ظلم ڈھانے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے،بہوؤں کے ساتھ ناانصافی ،بہنوں کو وراثت سے محروم رکھنا یہ سب آج ہمارے معاشرہ میں رائج ہے اور معاشرہ کا ناسور بناہوا ہے ۔ہمیں تمام خرابیوں اور برائیوں کے خاتمہ کے لئے کوشش اور محنت کرنا ہوگا اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو انجام دیتے ہوئے ایک پاکیزہ معاشرہ کی تعمیر وترقی میں جد وجہد کرنا ضروری ہے ۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close