پروفیشنل کورسیزاور  کیرئیر کے امکانات

تحریر: ڈاکٹر محمد سلمان خان ندوی

آج کے جدید دور میں ہر انسان برق رفتاری کی زندگی جینے پر مجبور ہے۔اسی وجہ سے لوگ پروفیشنل بھی ہو گئے ہیں۔ایک زمانہ وہ تھا جب ایک ہی گھر میں مشترکہ فیملی کے طور پر بہت سارے افراد رہا کرتے تھے،تاہم کمانے والے ان میں ایک یا دو ہی ہوا کرتے تھے اور دیگر تمام افراد کھانے والے ہوتے تھے۔انہیں کوئی فکر یا تشویش نہیں ہوتی تھی،لیکن اب زمانہ بدل چکا ہے،برقی آلات  نے انسانی زندگی میں زبردست تبدیلیاں رونماں کی ہیں۔آج کے طالب علم پڑھائی کے ساتھ ساتھ جیب خرچ نکالنا بھی ناگزیر محسوس کرنے لگے ہیں۔اسی وجہ سے وہ روایتی کورسیز کو نظر انداز کرکے پروفیشنل کورسیزکو اہمیت دے رہے ہیں۔ویسے حقیقت بھی یہی ہے کہ آج کے دور کی ضرورت بھی پروفیشنل کورسیز ہی ہیں۔اگر کالجوں میں انہیں نمایاں کیا جا رہا ہے تو اس لیے کیونکہ اب کرئیر بنانے کی عمر 25یا30سال نہیں بلکہ ٹھیک گریجویشن کے بعد کی ہو گئی ہے۔یعنی 10+2کے بعد ملے تین سالوں کی پلاننگ آپ ایسے کریں کہ گریجویشن ختم ہونے تک آپ کے پاس ایک بہتر تکنیکی صلاحیت ہو ،جس کی بنیاد پر آپ چاہیں تو فوراً ہی ملازمت پا سکتے ہیں ۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ روایتی کورسیز کی ضرورت نہیں رہی۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر آپ کو اچھی سیلری حاصل کرنی ہے اور اپنی پہچان بنانی ہے تو کوئی نہ کوئی پروفیشنل کورس آپ کو کرنا ہی ہوگا۔

روایتی کورسیز کا انتخاب کرنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ کورسیز کسی مضمون کے مختلف پہلؤوں سے آپ کو متعارف کراتے ہیں۔یہ تجرباتی قوت کے ساتھ ساتھ آپ کے علم میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔لیکن کسی ایک تکنیک میں آپ کو کرئیر بنانے کا موقع نہیں دیتا ۔جن کا نصب العین ٹیچنگ یا تحقیق کے میدان میں اپنی پہچان بنانا ہوتا ہے تو ان کے لیے بی اے اور ایم  اے کی ڈگری خاصی اہمیت کی حامل ہے۔

آج کے دور میں پروفیشنل کورس کرنے والے کو ملازمت میں اہمیت دی جاتی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بی اے اور ایم اے کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔آج کے جدید دور کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ تعلیم یعنی بی اے اور ایم اے کے سلیبس کو دوبارہ بنایا جائے۔ملازمت کے بازار میں آج حالت یہ ہے کہ ایک بی سی اے ڈگری یافتہ طالب علم کو تو نوکری مل جاتی ہے لیکن اسی جاب کے لیے بی ایس سی فزکس والے طالب علم کو کمپنیاں نظر انداز کردیتی ہیں۔

میڈیکل ،انجینئرنگ،کمپیوٹرس اور مینجمنٹ سے متعلق زیادہ تر کورسیز پروفیشنل کورسیز کی فہرست میں رکھے جا سکتے ہیں۔آئیے جانتے ہیں کچھ پروفیشنل کورسیز کے بارے میں۔

ہوٹل مینجمنٹ:

ہوٹل مینجمنٹ ٹریننگ کورس کے بعد ہوٹل و ریسٹورنٹ مینجمنٹ ،ائیر لائنس کیٹرنگ،کلب مینجمنٹ ،کروز شپ ہوٹل مینجمنٹ ،ہاسپٹل کیٹرنگ، انسٹی ٹیوشنل مینجمنٹ وغیرہ جیسے کورسیز میں کرئیر کے امکانات ہیں۔ہوٹل مینجمنٹ اینڈ کیٹرنگ ٹیکنالوجی کے علاوہ بی ایس سی (ہوٹل مینجمنٹ) کا کورس آپ کو اس میدان میں بہتر کرئیر دے سکتا ہے۔یہ کورس نجی اداروں سے بھی کر سکتے ہیںیا کل ہند سطح کا داخلہ ٹیسٹ بھی دے سکتے ہیں۔

میڈیکل:

میڈیکل کے شعبہ میں فزیشین،ڈینٹسٹ یا دیگر اسپیشلائزیشن کے ذریعہ آپ اپنی پہچان بنا سکتے ہیں۔اس میدان میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد آپ کے لیے کرئیر کی راہیںکھل جاتی ہیں۔بعد ازاں اپنی پریکٹس کے ساتھ ہی میڈیکل اداروں میں کام کر سکتے ہیں۔میڈکل ہی نہیں پیرامیڈیکل کے شعبے میں بھی 10+2کے بعد مختلف پروفیشنل کورسیز آپ کے لیے موجود ہیں۔نرسنگ (بی ایس سی نرسنگ)،ریڈیو لو جی (بی ایس سی ریڈیولوجی)،میڈیکل لیب ٹیکنالوجی(بی ایس سی ایم ایل ٹی)،آپٹو میٹری(بی ایس سی آپٹومیٹری،فارمیسی،بی فارما)کے شعبے میں بھی گریجویٹ کورسیز کر سکتے ہیں۔ایم بی بی ایس کے کورس کے لیے کل ہند سطح کا پری میڈیکل داخلہ امتحان دینا ہوتا ہے۔

بزنس مینجمنٹ:

بزنس مینجمنٹ میں کرئیر کو سنوارنے کے بے شمار امکانات ہیں۔طالب علموں کا رجحان اس جانب بہت بڑھ رہا  ہے۔اس کورس میں طلبہ کو تجارت یا بزنس کے مختلف پہلؤوں کے بارے میںتفصیل  سے جانکاری دی جاتی ہے۔مارکیٹنگ،فائنانس،ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ اس میدان کے خاص مضامین ہیں۔گریجویشن لیول پر بی بی اے اور پوسٹ گریجویشن کی سطح پر ایم بی اے کی ڈگری دی جاتی ہے۔اگر آپ کو اعلیٰ عہدے پر ملازمت کرنے کی خواہش ہے تو گریجویشن کے بعد ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرنا لازمی ہے۔

انفارمیشن ٹکنالوجی:

آئی ٹی یعنی انفارمیشن ٹیکنالوجی میں سیدھے روزگار پانے والوں کی تعداد 10لاکھ کو عبور کر چکی ہے۔اس میں بلا واسطہ طور پر آئی ٹی کے ذریعہ سے روز گار پانے والوں کو بھی جوڑ دیا جائے تو یہ تعداد25لاکھ سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔اس میدان میں نیٹ ورکنگ،سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ویب ڈیزائننگ،میڈیکل ٹرانسکرپشن جیسے میدانوں کے علاوہ اعلیٰ تکنیک پرمنحصر کئی دیگر شعبے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ان میں کریئر بنانے کے لیے آ پ کو گریجویٹ سطح پر ہی انفارمیشن سسٹم میں اسپیشلائزیشن مہیا کرایا جا تا ہے۔ اس میں آپ کو بی ایس سی کی ڈگری دی جاتی ہے۔ بی آئی ٹی ،بی ٹیک،ایم سی اے جیسے کورس بھی کرائے جاتے ہیں۔

ٹور اینڈ ٹریول مینجمنٹ:

سیاحت کے میدان میں وسیع امکانات کو دیکھتے ہوئے مختلف سرکاری اورنجی ادارے اس میدان میں سرٹیفیکیٹ ،ڈپلوما اور ڈگری کورسیز چلارہے ہیں۔گھومنے والے لوگوں کے لیے یہ ایک ایسا کرئیر ہے جس میں اپنا شوق پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اچھی آمدنی بھی حا صل کر سکتے ہیں۔

کال سینٹر اور بی پی او:

غیر ملکی اور ملکی کمپنیاںکال سینٹر اور بی پی او کے ذریعہ سے اپنے گاہکوں کو بہتر سہولیات مہیا کرارہی ہیں۔ اس میں نوجوان پروفیشنلز کی کافی مانگ رہتی ہے۔اس شعبہ میں داخلے کے لیے صبر ، دھیان سے سننے کی صلاحیت عمدہ کمیونیکیشن اسکل ،گاہکوں کے تئیں خدمت کا جذبہ اور ٹیم کے ساتھ کام کرنے وغیرہ جیسی خاصیت کا ہونا ضروری ہے۔زبان کا زائد علم مثبت پوائنٹ ہے۔

نجی اداروں کے ذریعہ چلایا جا رہا 3تا6ماہ کی مدت کا سرٹیفکیٹ اور ڈپلوماکورس کرکے اس میدان میں داخلہ لیا جا سکتا ہے۔آئندہ سال اس شعبے میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ لوگوں کو روزگار ملنے کا امکان ہے۔مالی خدمات ،کریڈٹ کارڈ ،کمپیوٹر ہارڈوئیراور سافٹ وئیر ،ائیر لائنس ،انٹرنیٹ خدمات اور بیمہ وغیرہ کے کاروبار کے لیے کمپنیاں کال سینٹرس کا سہارا لے رہی ہیں۔تیزی سے ابھرے اس فیلڈ میںروزگار کے امکانات دیگرشعبوں کے مقابلے کہیں زیادہ ہیں۔

جرنلزم:

موجودہ دور میں میڈیا کے تئیں نوجوانوں کا رجحان کافی بڑھا ہے۔ایسے میں الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات میں روزگار کے وسیع متبادل ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔آئے دن نئے نئے چینلوں اور میڈیا اداروں نے نوجوانوں کو اس جانب متوجہ کیا ہے۔موجودہ وقت میںنوجوانوں کے لیے جرنلزم ایک گلیمرس کرئیر کی شکل میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔اس میدان میںرپورٹر ،سب ایڈیٹر،پروڈکشن ایگزیکٹیو،کیمرہ جرنلسٹ، ساؤنڈ ریکارڈسٹ اورویڈیو ایڈیٹر جیسے عہدوں پر تقرری اچھی تنخواہ پر ہوتی ہے۔

انجینئرنگ:

سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن(سی بی ایس سی) کے ذریعہ پورے ملک میں مختلف انجینئرنگ کالجوں میں داخلے کے لیے آل انڈیا انجینئرنگ اینٹرینس ایگزامنیشن کا ہر سال مئی کے مہینے میں انعقاد کیا جاتا ہے۔اس کے تحت بی ای ،بی ٹیک اور بی آئی ٹی کورسیز کی مختلف برانچیز میں داخلے دئے جاتے ہیں۔

(مضمون نگار ممتاز پی جی کالج لکھنؤ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔)