سیرت نبویﷺگوشہ اطفال

بچوں کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا مشفقانہ سلو ک

 مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

یوں تو آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں ہر شخص کے ساتھ سلوک وبرتاؤ اور ہر ایک کے حقوق کی پاسداری وادائیگی کا اہتمام ملتا ہے، لیکن سیرت نبوی میں بچوں کے ساتھ سلوک وبرتاؤاور ان کے ساتھ شفقت اور کرم گستری کے جو واقعات ملتے ہیں جہاں یہ بچوں کے ساتھ برتاؤ کے رہنمایانہ اصول کی نشاندہی کرتے ہیں وہیں آپﷺ کی زندگی کی سادگی اور بچوں کے ساتھ رکھ رکھاؤ اور ان کے ساتھ معاملت اور سلوک وبرتاؤ کا بھی پتہ دیتے ہیں، بچے معصوم ہوتے ہیں، وہ اس چمنستانِ عالم میں رنگ برنگے پھولوں کی سی حیثیت رکھتے ہیں، انہیں کے دم خم سے رونق جہاں قائم ودئم ہے، ان کی ایک ایک اداماں باپ کے لئے آب حیات کی حیثیت رکھتی ہے، ان ہی کے خاطر ماں باپ دن کا چین اور رات کی نیند حرام کئے دیتے ہیں، ویسے تو ہر باپ کو اپنے بچوں سے محبت اور شفقت ضرور ہوتی ہے، لیکن کچھ شقیق القلب باپ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی انا پسندی اور خود ساختہ رعب ودعب میں کچھ ایسے مگن ہوتے ہیں کہ انہیں بچوں کی جانب نظر التفات کا یا تو موقع ہی نہیں ہوتا ؛ یا اس کو اپنی بڑے پن کے خلاف باور کرتے ہیں، یہ تو اپنے بچوں کے ساتھ شفقت اور برتاؤ کی صورتحال ہے اور غیروں کے بچے تو ہمیں بالکل نہیں بھاتے، جہاں کوئی بچہ نظر آگیا اس کو بڑی ترچھی اور ترش نگاہ سے دیکھ کر اس میں رعب پیدا کرنا چاہتے ہیں، اسی لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’ جو شخص ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا وہ ہم سے نہیں ‘‘ (ترمذی)

آپ ﷺ نے اس روایت میں اس شخص کو اپنے راستہ اور پیروی سے ہٹا ہوا قرارہے۔ ایسے ہی ایک صحابی رسول نے اپنے بچوں کے ساتھ اپنے شفقت محبت کے عدم برتاؤ کا ذکر کیاتو آپ نے ان سے سخت جملے ارشاد فرمائے، واقعہ احادیث رسول میں یوں بیان کیا گیاہے :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا بوسہ لیا اور آپ کے پاس اقرع بن حابس بیٹھے ہوئے تھے، اقرع نے کہا کہ میرے پاس دس بچے ہیں، میں نے کبھی ان کا بوسہ نہیں لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا پھر فرمایا کہ جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔(بخاری )۔

یہی شفقت ومحبت کا معاملہ تھا کہ آپ ﷺ راستہ چلتے بچوں کوسلام کیاکرتے ’’کہ انس رضی اللہ تعالی عنہ بچوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کیا اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔‘‘(بخاری)

حضور ﷺ کا بچوں کا کے ساتھ مشفانہ سلوک :

آپ ﷺ کا بچوں کا ساتھ مشفقانہ برتاؤ یہ ہر شخص کے لئے رہنما ورہبر کی حیثیت رکھتا ہے، بسااوقات حضرات صحابہ کو آپ کے بچوں کے ساتھ شفقت اور محبت کے برتاؤ اور ان کے ساتھ مزاح ومذاق کودیکھ کر تعجب بھی ہوتا تھا کہ آپ ﷺ بھی اس قدر بڑی شخصیت اور پیغمبر اور رسالت کے مقام پر فائز ہو کر بھی بچوں کے ساتھ اس قدر حمت وشفقت کا برتاؤ کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر اٹھا رکھا ہے اور ان کا لعاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہہ رہا ہے۔(مسند احمد )حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائیں تو آپ کے ساتھ حضرات حسنین رضی اللہ عنہما بھی تھے ایک کندھے پر ایک اور دوسرے کندھے پر دوسرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ایک کو بوسہ دیتے اور کبھی دوسرے کو اسی طرح چلتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب آ گئے تو ایک آدمی نے پوچھا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان دونوں سے بڑی محبت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو ان دونوں سے محبت کرتا ہے گویا وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے۔(بخاری)ابوموسی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ حسن و حسین آگئے دونوں نے سرخ کرتے پہن رکھے تھے اور گرتے پڑتے چلے آرہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے نیچے اترے اور ان دونوں کو گود میں اٹھا لیا پھر فرمایا اللہ تعالی سچ فرماتے ہیں کہ تمہارے مال اور اولادیں فتنہ ہیں۔ میں نے انہیں گرتے پڑتے ہوئے آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہ کر سکا۔ یہاں تک کہ منبر سے اتر کر انہیں ’’( گود میں ) اٹھالیا۔۔(ترمذی )

نبی کریم ﷺ حضرت حسن وحسین سے کھیلا کرتے، وہ آپ ﷺ کے ہاتھوں اور گھٹنوں پر چلتے اور دونوں طرف سے آپ سے چپک جاتے، وہ ان کو لے کر چلتے، اور فرماتے : ’’نعم الجمل جملکما، ونعم العدلان أنتما ‘‘ تمہارا اونٹ کیا ہی بہتر اونٹ ہے اور تم دونوں کیا ہی بہتر سوار ہو(المعجم الکبیر )حضرت شداد بن ہاد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہریا عصر میں سے کسی نماز کے لیے باہر تشریف لائے تو حضرت امام حسن یا امام حسین کو اٹھائے ہوئے تھے آگے بڑھ کر انہیں ایک طرف بٹھادیا اور نماز کے لیے تکبیر کہہ کر نماز شروع کردی سجدے میں گئے تو اسے خوب طویل کیا میں نے درمیان میں سر اٹھا کر دیکھاتوبچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر سوار تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے میں یہ دیکھ کر دوبارہ سجدے میں چلا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آج تو آپ نے اس نماز میں بہت لمبا سجدہ کیا ہم توسمجھے کہ شاید کوئی حادثہ پیش آگیاہے یا آپ پروحی نازل ہو رہی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوا البتہ میرا یہ بیٹا میرے اوپر سوار ہوگیا تھا میں نے اسے اپنی خواہش کی تکمیل سے پہلے جلدی میں مبتلا کرنا اچھا نہ سمجھا۔’’ولکن ابنی ارتحلنی فکرہت أن أعجلہ حتی یقضی حاجتہ ‘‘(نسائی )ابوقتادہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھتے تھے اور آپ اسی حالت میں زینب بنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوالعاص بن ربیعہ بن عبدالشمس کی بیٹی امامہ رضی اللہ تعالی عنہا کو اٹھائے ہوئے تھے، جب سجدہ کرتے تو ان کو اتار دیتے(یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نواسی تھیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے دوران یہ خود ہی چڑھ جاتی تھیں اور خود ہی اترجاتی تھیں جیسا کہ بچوں کی عادت ہوتی ہے)(بخاری)ان روایات سے پتہ چلتا ہے کہ بچوں کی محبت وشفقت آپ ﷺ کے ذات اقدس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی کہ نماز اور خطبہ جیسے اسلامی امور کی ادائیگی کے دوران بھی آپ ﷺ بچوں کی رعایت اور ان کے جذبات ونفسیات اور ان کے دکھ درد کااحساس کرتے تھے،انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ میں نے کسی امام کے پیچھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہلکی اور کامل نماز نہیں پڑھی اور بے شک آپ بچہ کا گریہ سن کر اس خوف سے کہ اس کی ماں پریشان ہوجائے گی نماز کو ہلکا کردیتے تھے(بخاری)

عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ، عبیداللہ اور کثیر، جو کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادگان، تھے کو ایک صف میں کھڑا کرتے اور فرماتے کہ جو میرے پاس پہلے آئے گا، اسے یہ یہ ملے گا، چنانچہ یہ سب دوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے، کوئی پشت پر گرتا اور کوئی سینہ مبارک پر آکر گرتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پیار کرتے اور اپنے جسم کے ساتھ لگاتے (مسند احمد بن حنبل، حدیث: ۱۸۳۶)حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کی طرف نکلے اور میں بھی آپ کے ساتھ نکلا تو سامنے سے کچھ بچے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بچوں میں سے ہر ایک کے رخسار پر ہاتھ پھیرا حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے رخسار پر بھی ہاتھ پھیرا، حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک میں ٹھنڈک اور خوشبو محسوس کی گویا کہ عطار کے ڈبہ سے ہاتھ باہر نکالا ہو۔(صحیح مسلم )

آپ ﷺ بچوں کو جس قسم کے محبت بھری اور رسیلے الفاظ سے مخاطب فرماتے بجائے یہ جملے خود آپ ﷺ کے بچوں کے ساتھ برتاؤ وشفت کی اعلی مثال ہیں :

آپ ﷺ بچوں کو اس قسم کے الفاظ سے مخاطب فرماتے تھے ’’یا غلام إنی أعلمک کلمات‘‘(بیٹے میں تم کو چند باتیں سکھانا چاہتا ہوں ) اور ایک روایت میں یوں مخاطب فرمایا : ’’ یا غلام سم اللہ وکل بیمینک ‘‘(اے لڑکے ! اللہ کا نام لواور اپنے داہنے ہاتھ سے کھاؤ)اور ایک روایت میں بچے کو مخاطب کر کے فرمایا ’’ یا غلام أتأذن لی أ أعطی الأشیاخ‘‘(اے لڑکے! کیا تم بڑوں کو دینے کی اجازت دیتے ہو ؟)اور کبھی بچوں کو یوں مخاطب فرماتے ’’یا بنی ‘‘(اے میرے عزیز)کبھی آپﷺ کنیت سے مخاطب فرماتے جیسا حضرت عمیر سے فرمایا ’’یا عمیر ما فعل النغیر‘‘ (اے عمیر ! تمہارے نغیر نامی پرندے کا کیا ہوا) اور کبھی یوں فرماتے ’’ادعوا لی بنی أخی‘‘(میرے بھتیجوں کو بلالاؤ )اور فرمایا : میرے بھتیجے اتنے ضعیف اور کمزور ہوگئے ہیں (سنن أبوداؤد)اور آپ ﷺ حضرت سیدہ عائشہ کو جو بارہ سال کی بھی نہ تھی یوں مخاطب فرماتے ’’یا عائش‘‘(اے چھوٹی عائشہ )

آپ ﷺ کا بچوں کو ہدیہ اور تحفہ دینا :

آپ ﷺ نہ صرف بچوں کی دلداری اور دلجوئی کا سامان فرماتے، ان کے ساتھ کھیلتے، ان کے کھیل کی خود نگرانی فرماتے، ان کو سلام کرنے میں پہلے کرتے؛ بلکہ آپ ﷺ بچوں کو ہدایا وتحفہ بھی عنایت فرماتے ہیں، خورونوش کی اشیاء میں سے ان کو نوازتے۔

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہلا پھل لایا جاتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اے اللہ ہمارے لئے ہمارے پھلوں میں اور ہمارے مد میں اور ہمارے صاع میں برکت در برکت عطا فرما، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ پھل جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود ہوتا لڑکوں میں سے سب سے چھوٹے کو عطا فرماتے(مسلم )جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود ہوتا لڑکوں میں سے سب سے چھوٹے کو عطا فرماتے۔’’ثم یدعو أصغر ولد یراہ فیعطیہ ذلک الثمر ‘‘(مسلم : فضل المدینۃ ودعاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث: ۱۳۷۳)

سائب بن یزید کہتے ہیں کہ : میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، میں اور میرے ساتھ ایک اور لڑکا آپ ﷺ کے یہاں داخل ہوئے تو آپ ﷺ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ ایک برتن میں کجھور تناول فرمارہے تھے آپ ﷺ نے ہمیں اس میں سے ایک ایک مٹھی کھجور دیا اور ہمارے سروں پر ہاتھ پھیرا  (المعجم الاوسط )

آپ ﷺکی بچوں کو مشفانہ تربیت:

حضرت رافع بن عمر غفاری فرماتے ہیں کہ بچپن میں میں اپنے یا فرمایا انصار کے کھجور کے درختوں پر پتھر مارتا تھا مجھے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ فرمایا :اے لڑکے (ایک روایت میں ہے آپ نے فرمایا بیٹا)تم درختوں پر سنگباری کیوں کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ پھل کھاتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: آئندہ سنگباری مت کرنا اور جو خود نیچے گرجائے وہ کھا سکتے ہو، پھر آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا اے اللہ اس کا پیٹ بھردے۔ (سنن ابن ماجۃ)عمر بن ابی سلمي کہتے ہیں کہ : میں اپنے لڑکپن میں حضور اکرم ﷺ کے زیر تربیت تھا، میرا ہاتھ کھانے کے دوران برتن میں گردش کر رہا تھاتو آپ ﷺ نے فرمایا : اے بچے! اللہ کا نام لے اور داہنے ہاتھ سے کھااور اپنے قریب سے کھا‘‘پھر اس کے بعد میں حضور اکرم ﷺ کی ہدایت کے مطابق کھانے لگا (بخاری )آل نبی کے لئے چونکہ صدقہ کا کھانا جائز نہیں ہے حضرت حسن اپنے لڑکپن میں صدقہ کا کھجور لے کر منہ میں ڈالا ہی تھاکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’کخ، کخ‘‘تھوک دو، پھر فرمایا : کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ ہم آل رسول صدقہ نہیں کھاتے ( بخاری )حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے بیٹے ! تمہیں اگر اس بات کی قدرت ہو کہ تم صبح وشام اس حال میں کرو کہ تمہارے دل میں کسی کے لئے کھوٹ نہ ہو تو اس طرح کرو، ، پھر فرمایا : اے بیٹے ! یہ میری سنت ہے اور جو میری سنت کو زندہ کرے تو اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی تو وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا (سنن الترمذی )نبی کریم ﷺ بچوں کو رازوں کے پوشیدہ رکھنے کی تعلیم دیتے ہیں :عبد اللہ بن جعفر سے روایت ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے مجھے اپنی سواری میں پیچھے سوار کر لیااور مجھ سے کوئی راز کی بات کہی کہ میں اس کا افشاء کسی کے سامنے نہ کروں (ابوداؤد)نبی کریم نے حضرت عبد اللہ بن عمر کو ان کے لڑکپن میں تہجد کی ترغیب دلاتے ہوئے نہایت ہی مشفقانہ جملہ فرمایا:  عبد اللہ اگر تہجد کے پابند ہوتے تو کیا ہی اچھے آدمی شمار ہوتے، پھر اس کے بعد حضرت عبد اللہ نے تہجد کی پابندی شروع کردی (بخاری)اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بیٹے جب تم اپنے گھر والوں سے ملو تو سلام کرو، وہ سلام تم پر اور تمہارے گھر والوں پر خیر و برکت کے نزول کا باعث ہوگا۔ (ترمذی)۔

ان روایات کی روشنی میں نبی کریم ﷺ کے بچوں کے ساتھ سلوک وبرتاؤ اور ان کی خیرخواہی ودلجوئی اور ان کی نہایت شفیقانہ انداز میں تربیت وتعلیم کا نمونہ ملتا ہے، سیرت نبوی کے ان واقعات کے مطالعہ کے بعد اپنے بچوں یا عام بچوں کے ساتھ اپنے برتاؤ اور سلوک کو دیکھ لیں کہ ہمار ا بچوں کے ساتھ یہ برتاؤ اور سلوک ہے ؟ کیا ہم ان کے ساتھ محبت وشفقت کرتے ہیں، ان کی دل جوئی اورکھیل کود کا سامان کرتے ہیں ؟ اور ہمارا رویہ بچوں کے کسی چیز سے ٹوکنے کے وقت وہی جو نبی کریم ﷺ کا تھا، یا ہم بچوں کو سوائے ڈانٹ ڈپٹ کے کسی اور زبان سے سمجھا ہی نہیں سکتے ؟ بچوں کے ساتھ برتاؤ اورسلوک بھی سیرت نبوی کا اہم گوشہ ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

ایک تبصرہ

  1. ان کا نام حبیب بن مالک تھا، اور وہ یمن کے بہت بڑے سردار تھے، ابوجہل نے پیغام بھیجا کہ حبیب محمدﷺ نے فلاں تاریخ کو چاند کے دو ٹکڑے کرنے ہیں تم یہاں آ جاؤ، اور چاند کو دیکھنا کہ، وہ دو ٹکڑے ہوتا ہے یا نہیں۔ چنانچہ حبیب بن مالک نے رخت سفر باندھا اور کوہ ابو قیس پر پہنچ گیے، جہاں کفار نے مطالبہ کر دیا تھا کہ آسمانی معجزہ یہاں دکھاؤ یا چاند کو دو ٹکڑے کرو …!
    میرے آقا حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور چاند دو ٹکڑے کر دیا، اور واپس تشریف لے گئے- خصایص الکبری میں موجود ہے کہ ڈیڑھ گھنٹہ تک چاند دو ٹکڑے رہا …!
    حیبیب بن مالک یہ دیکھ کر حضور اکرم حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لے آئے اور بولے :
    ” یہ سب ٹھیک ہے لیکن بتائیں میرے دل کو کیا دکھ ہے …؟”

    آپ نے فرمایا :
    ” تیری ایک ہی بیٹی ہے، جسکا نام سطیحہ ہے، وہ اندھی لولی لنگڑی بہری اور گونگی ہے- تجھے اسکا دکھ اندر سے کھائے جا رہا ہے- جاؤ اللہ تعالی نے اس کو شفا دے دی ہے … ! ”

    حبیب یہ سنتے ہی دوڑ کر اپنے گھر آئے تو انکی بیٹی سطیحہ نے کلمہ پڑھتے دروازہ کھولا ، حبیب نے پوچھا کہ :
    ” سطیحہ تجھے یہ کلمہ کس نے سکھایا …؟ ”
    تو اس نے حضور اکرم حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا سارا حلیہ بتایا اور بولی :
    ” اے ابا وہ آئے، مجھے زیارت بخشی اور دعا فرمائی، اور مجھے کلمہ طیبہ بھی پڑھا گئے …! ”
    حبیب واپس گئے اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے، اور نہ صرف مسلمان ہوئے، بلکہ اسلام کی خدمت میں بھی پیش پیش رہے …!
    (بحوالہ خصایص الکبری ، بحوالہ شرح قصیدہ بردہ خرپوتی ،بحوالہ معجزات مصطفےصلو علی الحبیب صلی اللہ تعالی علی محمدﷺ )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close