آس پاسگوشہ اطفال

 فحاشی کی اشاعت

منیر احمد خلیلی

 پنجاب کے شہر قصور میں ایک معصوم بچی زینب کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا۔ اس فعل کو بہیمانہ اس لیے نہیں کہہ سکتے کہ بہائم یعنی چوپائیوں اور مویشیوں بلکہ درندوں میں بھی اپنی جنس کے چھوٹے بچوں سے جنسی پیاس بجھانے کی کوئی مثال کسی نے نہیں دیکھی ہو گی۔ اس بچی کو جنسی وحشت کا شکار بنانے والے سفاک شخص نے اسے بڑے اذیّت ناک طریقے سے قتل کیا۔ اگرچہ یہ دونوں وحشیانہ اقدام قاتل اور مقتولہ اور اس کے خاندان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دائرے کے تھے لیکن بڑے پیمانے پر سماجی ردِّ عمل نے ان کو سارے معاشرے کا مسئلہ بنا دیا۔ حکومت مخالف موقع پرست اور خود غرض سیاست دان جو ایسے دیگر درجنوں کیسوں میں اکثربے حس اور بے تعلق رہتے ہیں ، زینب سے ہمدردی سے بڑھ کر ان کی اندھی نفرت جوش میں آئی اور اس تنور کو گرم دیکھ کر اپنی روٹیاں پکانے کے لیے دوڑ پڑے۔

زینب کے والد کی ایک ایسی مذہبی تنظیم سے وابستگی ہے جو مختلف  عنوانات سے دھرنوں اور احتجاجوں کی دھول اٹھاتی رہتی ہے۔ اگر ان سارے سیاسی عوامل کی آمیزش نہ ہوتی تو جس پیمانے پر رد عمل رونما ہوا اسے ہم ایک زندہ اور حسّاس سماج کی علامت سمجھتے۔ تاہم یہ اطمینان کی بات ہے کہ اس بہانے سے معاشرے کی بڑی اکائیوں اور دائمی قومی اداروں کے اندر اخلاقی برائیوں کے مضمرات کے بارے میں احساس کی ایک بڑی لہر اٹھی۔ لیکن دوسری طرف انتہائی افسوس ناک بات یہ ہے کہ مذہبی و سیاسی فرقہ واریت اور حزبی تفرقات و تعصبات نے معاشرے کے اندر پولرائزیشن کی جو دراڑیں ڈال دی ہیں ان کی وجہ سے مظلوم زینب ہی جیسے سانحات کے معاملے میں ملک کے ہر حصے میں ایک جیسی حساسیت اور ایک جیسا رد عمل دیکھنے میں نہیں آتا ہے۔

اسی شہر قصور میں ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے ایسے ہی جرائم پیشہ عناصر نے درجنوں کم عمر بچوں کو اس فعلِ بدکا ہدف بنایا جس کی شناعت (hideousness) اللہ کی نظر میں اتنی زیادہ ہے کہ قومِ لوط ؑ کو اسی قبیح عادت کی وجہ سے دہرا عذاب دیا گیا تھا۔ ان کی سدومی بستیوں کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا گیا اور پھر ان پر پتھروں کی شدید بارش برسائی گئی تھی۔ خبیث فطرت جرائم پیشہ گروہ نے قصور کے بچوں کی ایسی تصویریں بنا کر ویڈیو کے ذریعے عام کی تھیں جن کا چرچا عالمی سطح پر بھی ہوا تھا۔ اس کے بعد اسی شہر میں زینب جیسی سات آٹھ کلیاں مبینہ طور پرزینب کے قاتل کے ہاتھوں جنسی ہوس میں مسلی کچلی گئیں لیکن ان کے المیے پر نہ معاشرے میں کوئی تھو تھتکار ہوئی، نہ سماجی تنظیموں میں کوئی بھبک اٹھی تھی اور نہ ہی مذہبی اور سیاسی لیڈر لال بھبوکا ہوئے۔ پنجاب حکومت کو بھی تسلی تھی کہ ان واردوتوں کی وجہ سے اس کے اقتدار کی اینٹیں اکھڑنے کا کوئی خطرہ نہیں ،  لہٰذا اس کے وجود پر بھی کوئی سرسراہٹ اور سنسنی نہ دوڑی۔ میڈیامیں ایسے کیسوں کو ’فالو آن ‘ کرنے کی کوئی روایت ہی نہیں ہے۔ چنانچہ ر’ات گئی بات گئی ‘ کے مصداق وہ سب کیس دب گئے۔

خیبر پختونخواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک گائوں کے با اثربدمعاشوں نے ایک نوجوان لڑکی کو برہنہ کر کے مجمعے کے سامنے ’پریڈ‘ پر مجبور کیا۔ نہ کہیں غیض و غضب کی آگ بھڑکی اور نہ ردِ عمل کے کوئی بگولے اٹھے۔ مردان میں زینب سے بھی کم عمر بچی عاصمہ کو زینب ہی کی طرح لرزہ خیز انداز میں جنسی ہوس کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا اور اس کی لاش گنّے کے کھیت میں پھینک دی گئی۔ زینب کے حوالے دے دے کر اپنی ’ننھی پریوں ‘ کی تصویروں اور تذکروں کے ساتھ جذباتی اظہارات کے طوفان اٹھانے والے خواتین و حضرات میں سے کسی کو اپنی’ ننھی پریوں ‘ میں معصوم عاصمہ کا عکس نظر نہیں آیا۔

میرا اصل موضوع زینب کے کیس کا ایک اور پہلو ہے جس کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا۔ یہ ایشو اس زور شور اور شد و مد سے اٹھایا گیاکہ اس نے ایک سلبی (negative)فضا بنا دی ہے۔ جب کوئی برائی اس تسلسل اور تواتر کے ساتھ زیرِ بحث آتی ہے تووقت گزرنے کے ساتھ نفسیاتی طور پر اس کے بارے میں حِسی شدت (conscientious intensity)  میں اسی نسبت سے کمی آ جاتی ہے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک گھنائونے فحش عمل کا تصور لوگوں کی سوچ کا حصہ بن جاتاہے۔ معاشرے کا ہر طبقہ زینب کے قاتل سے سخت نفرت کا اظہار کر رہا ہے۔ اسے سرِ عام پھانسی دینے کا مطالبہ ہو رہا ہے۔ اس کے انجام کو ایک سبق بنا دینے کی باتیں ہو رہی ہیں ۔ اعلیٰ ترین عدالت زینب کے کیس میں انصاف کی یقین دہانیاں کرا رہی ہے۔ لیکن ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اسی نوعیت کی وارداتوں کی خبریں صرف پنجاب سے نہیں بلکہ سارے ملک سے آ رہی ہیں ۔ وجہ کیا ہے؟

بہت سے ایسے مجرم جن کے لاشعور میں ایسے فعل کی خواہش دبی ہوئی تھی زینب کے کیس کے چرچے نے اسے ابھار کر ارادے اور پھر عمل میں ڈھال دیا۔ اخلاقی زوال کے شکارمعاشرے میں عام لوگوں کے لیے ایسے واقعات عبرت سے زیادہ لذّت کا سبب بنتے ہیں ۔ برائی جس سے کم لوگ واقف ہوتے ہیں ،  ایسے چرچوں سے ہر کہ و مہ کے علم میں آتی ہے،  سفلہ مزاج لوگوں کی تفریح طبع سے گزر کران کے لیے ترغیب و تحریک کاموجب بنتی ہے۔ ایک فحش عمل کے تذکروں سے فحاشی کے رجحانات کو ہوا ملتی ہے۔ برقی میڈیا کے پروگرام، گلی محلوں اور مارکیٹوں بازاروں کا ماحول پہلے ہی مخرّبِ اخلاق ہے۔ اخلاقی طور پر زہر آلود اس ماحول کی آگ پر ایک سانحہ کے تذکروں کا تیل ایسے ہی جنسی جرائم کی رغبت اور تحریک پیدا کر دیناباعث حیرت نہیں ہونا چاہیے۔ اسلام کی بنیادی اور اصولی سکیم میں اخلاقی اصلاح،  ماحول کی پاکیزگی کے علاوہ ان محرکات کو دور کرنا بھی شامل ہے جن سے فحش رویے تقویت پکڑتے ہیں ۔ شہری زندگی میں کوئی شخص پسند نہیں کرتا کہ متعفّن

 گٹر وں (gutters)کے ڈھکنے کھلے چھوڑ دیے جائیں ۔ اسلام اسی اصول کے مطابق برائی اور بے حیائی کے واقعات کی تشہیر کو روکتا ہے۔

 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’ میری ساری اُمت کو معاف کیا جا سکتا  ہے (یا کر دیا جائے گا) سوائے ’مجاہرین‘ (گناہ پر بے باک و بے خوف لوگوں ) کے۔ مجاہرہ یہ ہے کہ ایک شخص رات کو ایک برا کام کرتا ہے،  صبح اٹھتا ہے تو اللہ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈالا ہوتا ہے۔ لیکن وہ خود (لوگوں کو پکار پکار کر ) کہتا ہے ’اے فلانے ! کل میں نے یہ اور یہ حرکت کی تھی۔ چنانچہ رات اس کے جس فعل کو اس کے رَب نے ڈھانپ رکھا تھا صبح اٹھ کر وہ خود اللہ کے رکھے ہوئے پردے کو چاک کر دیتا ہے۔ ‘ ( بخاری)  الادب المفرد میں حسن اسناد سے امام بخاری  ؒایک روایت لائے ہیں کہ : فحش خبریں لانے والا اور وہ جو ان کو آگے پھیلائے دونوں گناہ میں برابر ہیں ۔ ‘ ابن ابی حاتم کی ایک روایت ہے : ’جس شخص کی آنکھوں نے جو دیکھا اور اس کے کانوں نے جو سنا،  وہ اسے لوگوں کے سامنے بیان کرتا پھرے تو اس کا شمار ان لوگوں میں ہو گا جو ایمان والوں (کی سوسائٹی) میں بے حیائی (فحاشی) کو پھیلانا چاہتے ہیں ۔ ‘ ابن ابی حاتم ہی کی ایک اور روایت ہے : ’جو شخص فحاشی اور بے حیائی (کے کسی واقعہ) کی تشہیر کرے، وہ اگر سچا بھی ہو تو سزا کا مستوجب ہوتا ہے۔ ‘ اللہ کی نظر میں فحاشی کی اشاعت ایساگناہ ہے کہ اس کا ارتکاب کرنے والوں کودنیا اور آخرت دونوں جگہ سزا کی وعید سنائی گئی ہے۔

 اِنَّ  الَّذِ یْنَ  یُحِبُّوْنَ  اَنْ  تَشِیْعَ  الْفَاحِِشَۃُ  فِی  الَّذِ یْنَ  اٰمَنُوْا  لَھُمْ  عَذَابٌ  اَلِیْمٌ  فِی  الدُّ نْیَا  وَ  الْاٰ خِرَۃِ ط  وَ  اللّٰہُ  یَعْلَمُ  وَ  اَنْتُمْ  لَا  تَعْلَمُوْنَ (نور:19)

 ’جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں درد ناک سزا کے مستحق ہیں ، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ‘

سورۃ النّجم (31,32)میں برائی کرنے والوں کو ان کے برے عمل کا بدلہ دینے کی بات کے بعد نیک رویہ اختیار کرنے والوں کو اچھی جزا دینے کے ذکر ہے لیکن نیک رویہ اختیار کرنے والوں کے لیے اچھی جزاکے ساتھ یہ وضاحت فرمائی گئی کہ :

اَلَّذِ یْنَ  یَجْتَنِبُوْنَ  کِبٰٓئِرَ  الْاِثْمِ  وَ  الْفَوَاحِشَ  اِلَّا اللَّمَمَ ط ’جو بڑے بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبیح افعال (فواحش) سے پرہیز کرتے ہیں ، اِلّا یہ کہ کچھ قصور ان سے سرزد ہو جائے۔ ‘

سورۃ الانعام (آیت:151) میں امر و نہی اور ایجابی و سلبی پیرائے میں ان افعال کا ذکر ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے صریح حرام قرار دیا۔ انہی میں فواحش کے بارے میں انتباہ فرمایا:

 وَ  لَا  تَقْرَبُوا  الْفَوَاحِشَ  مَا  ظَھَرَ  مِنْھَا  وَ  مَا بَطَنَ  ’بے شرمی کی باتوں (الفواحش) کے قریب بھی نہ جائو، خواہ وہ کھلی ہوں یا چھُپی۔ ‘

 یہاں یہ امر واضح کرنا ضروری ہے کہ فحش یاجمع کے صیغے میں فواحش یا فَحشاء کی اصطلاح کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ بے شرمی کے کاموں میں صرف عریانی اور بدکاری کا عمل یعنی زنا ہی شامل نہیں ہے۔ جنسی لٹریچر، حیا سوز فلمیں اور ڈرامے،  ننگی تصویریں ، مجلسوں اور محفلوں میں نسوانی بدن کی نمائش،  عورتوں اور مردوں کا اختلاط اور بوس و کنار، بے حیائی کے رویوں کی انگیخت کا سبب بننے والی بے ہودہ حرکات اور اشارے کنائے تو فحش میں شمار ہیں ہی، لغو اور بے ہودہ باتیں ، بڑ اور جھک مارنا، مزاج میں سوقیانہ پن، ہیجان و اشتعال، طبیعت کی بے اعتدالی ا ور عدم توازن،  حد سے تجاوز،  ظلم اور سفّاکی، بھیک مانگنا، بخل کا مظاہرہ کرنااور جو عورت باپ کی نکاح میں رہی ہو(سوتیلی ماں ) اس سے نکاح  جیسے افعال فواحش میں شامل ہیں ۔ عربی سے انگریزی کی ایک مستند ڈکشنری ’المورد‘ میں لفظ فُحش اور فَحشاء کے درج ذیل متبادل آئے ہیں ۔ ان سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کون کون سے برے رویے اور کیسی کیسی اخلاقی قباحتیں اس اصطلاح کے دائرے میں آتی ہیں ۔

 obscenity, ribaldry, vulgarity, indecency, filth, bawdiness, shamelessness, obscene language, adultery, fornication, whoredom, atrocity, abomination, monstrosity, enormity.

 لغت کے معانی سے اگرچہ وہ ساری شناعتیں اور قباحتیں سامنے آ جاتی ہیں جن پر فُحش اور فحشاء کا اطلاق ہوتا ہے۔ لیکن اخلاق کے جو بلند ترین معیارات ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ نے قائم کیے انہوں نے اس اصطلاح کی گہرائی اور گیرائی کو اتنا واضح کر دیا ہے کہ بڑے بڑے پارسا اور متقی لوگ بھی اس کسوٹی پر رکھ کر اپنے اقوال و افعال کو فحش کے داغ سے پاک ثابت نہیں کر سکیں گے۔ ایک بار چند یہودی رسول پاک ؐ سے ملنے آئے۔ اپنے بغض کا اظہار کرتے ہوئے ’السّلام علیکم ‘ کہنے کے بجائے انہوں نے ’السّام علیکم ‘ کہا۔ جس کے معنی ہیں ’تم پر موت آئے‘۔ حضورؐ نے ’و علیکم‘ کے الفاظ سے ان کو جواب دیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی گستاخی پر ضبط نہ کر سکیں اور کہا ’علیکم السّام واللعنۃ و غضب اللہ علیکم‘۔ یہ ان لوگوں کے لیے بددعائیہ کلمات تھے جن کے دلوں میں اسلام،  پیغمبرِ اسلام اور مسلمانوں کے لیے حسد اورکینہ ہر وقت کھَولتا رہتا تھا اور وہ اللہ کے رسول ؐ اور مسلمان معاشرے کونقصان پہنچانے اور ان کی توہین و تحقیر کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ آج کے ماحول میں ان بد دعائیہ کلمات میں شاید ہی کسی کو کوئی برائی نظر نہیں آئے۔

نبیِ مکرّم ﷺ کا ایک اخلاق ساز قائد اور مُصلح رہبرکا کردار ایک لمحے کے لیے پسِ پشت نہ گیا۔ مزکّی و مربی کی حیثیت سے نبی پاک ﷺ نے اپنی محبوب رفیقۂ ِ حیات کو فوراًٹوکا۔ آپ ؐ نے اس موقع پر حضرت عائشہ ؓ سے جو کچھ کہا اس سے ’فُحش‘ اور ’تفحّش‘ کے الفاظ کی ایک وسیع تر تعریف متعین ہوتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’عائشہ! ایسا نہ کہو۔ اللہ تعالیٰ کو فُحش اور تفحّش پسند نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اسلام کے اخلاقی نظام میں کسی کوگالی یا بددعا دینا، لعنت بھیجنا فحاشی میں شمار ہوتاہے۔ اس نبوی تعریف کو سامنے رکھ کر اپنے سیاسی اور مذہبی لیڈروں کی زبان پر غور کریں ۔ وہ آئے روز اپنے مخالفین کے خلاف بیانات اور تقریروں میں الزام تراشی، تہمت بازی، کذب و افترا کے مظاہرے کرتے ہیں ۔ گالی گلوچ تک سے بھی نہیں چوکتے ہیں ۔ اگرچہ قیامِ پاکستان اور قائد اعظم ؒ کی رحلت کے فوراً بعد ہماری سیاست کے اخلاقی اعتبار سے کھوکھلے پن کی حقیقت سامنے آ گئی تھی لیکن 1970 اور اس کے بعد سیاست دانوں کی اخلاقی پستی نے قومی اخلاق پر بھی منفی اثرات ڈالنے شروع کر دیے تھے۔ گزشتہ ڈیڑھ عشرے میں تو یوں لگتا ہے کہ ہم اخلاقی زوال کی ایسی چکنی ڈھلان پر کھڑے ہیں جہاں سے پھسلنے کی رفتار نے سنبھلنے کی کوئی صورت نہیں چھوڑی ہے۔ پچھلے پانچ برسوں میں تو ہم گویاپستیوں کی آخری حد کو چھونے لگے ہیں۔

مذہبی اور سیاسی لیڈر وں کے طرزِ اظہار سے نئی نسلوں کے ذہن جس قدر مسموم اور اخلاق جس بری طرح بگاڑ کا شکار ہو رہے ہیں اس کی جھلکیاں ہمیں سوشل میڈیا پر مل رہی ہیں ۔ جنوری 2013   کے وسط کا دھرنا ہو یا اگست 2014 میں ڈی چوک اسلام آباد میں طویل دھرنا، ابھی دو ماہ پہلے فیض آباد انٹر چیج پرلگایا ہوا تماشا ہو یا لاہور کے مال روڈ پر 17 جنوری 2018    کا’آل پارٹی‘ سوانگ ہو، اس میں اپنے سیاسی مخالفین کے بارے میں جو جھوٹ بولے گئے، جو القاب دیے گئے،  جیسی گندی زبان استعمال کی گئی اور جو نعرے لگائے اور جو دعوے کیے گئے ان کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبان سے یہودیوں کے لیے نکلنے والے کلمات کے مقابل رکھیں ۔ اگر حضرت عائشہ ؓ کے الفاظ حضور ؐ کے قائم کردہ اخلاقی معیارات کے مطابق ’فُحش‘ اور’ تفحّش‘ کے دائرے میں آتے ہیں توان ’شیخ الاسلاموں ‘، ’شیخ الحدیثوں ‘،  نئے پاکستان کے معماروں، تبدیلی کے نقیبوں اور انقلاب کے علم برداروں کے مونہوں سے جو گندگی اگلی گئی اس کے بارے میں قیاس کیا جا سکتا ہے کہ وہ کتنے بڑے پیمانے اشاعتِ فَحشاء کا کام کر رہے ہیں ۔

 زبان کی بے احتیاطیوں کا معاملہ ان دو چار مذہبی اور سیاسی لیڈروں تک محدود نہیں ہے۔ اندھی نفرتوں میں ڈوبی ہوئی سیاست اور اندھی عقیدتوں میں رنگی ہوئی فرقہ وارانہ اور سیاسی مذہبیت میں یہ چلن عام ہے۔ میں نظریاتی طور پر ایک ایسی جماعت سے وابستہ ہوں جو ایک عظیم دینی تحریک کی صورت میں اٹھی تھی۔ قیام ِ پاکستان کے وقت سے یہ جماعت سیاست میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ میں گزشتہ کم و بیش پچاس سال کے عرصے میں ملک کے سیاسی منظر نامے کو گہری نظر سے دیکھ رہا ہوں ۔ میں نے اس میدان میں سیّد ابوالاعلیٰ مودودی ؒ اور ان کے رفقا کو زبان کے استعمال میں جس قدر محتاط دیکھااور کہیں یہ حذر و پرہیز کی کیفیت نہ ملی۔ مولانا مودودی ؒ اور ان کے رفقا میں زبان سے نکلنے والے ہر لفظ کے اللہ کے ہاں حساب کا احساس بڑا گہرا تھا۔ اسی لیے انہوں نے خطابت کا ایک منفرد اسلوب اور ابلاغ کا ایک یکتا و پاکیزہ رنگ اختیار کیاتھا۔ سنجیدگی، شائستگی اور وقاران کے طرزِ خطابت کا امتیاز تھا جس میں دلیل کی قوت،  علمیت کی روشنی اورشعور کی شعاعیں تھیں اور اخلاقی قدروں کی پوری روح رواں ملتی تھی۔ شرافت اور تہذیب بھی تھی اور فراست اور دانش بھی۔ وہ انسان تھے۔ خطائوں سے مبرّا ہر گز نہیں تھے لیکن وہ خدا خوفی سے خالی اور نہ آخرت کی باز پرس کے احساس سے خالی بھی نہیں تھے۔ ملک میں اخلاقی گراوٹ روز افزوں ہے۔ بے حیائی کو فروغ مل رہا ہے۔

قصور جیسے واقعات سارے ملک میں گویا معمول کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں ۔ جرائم کی شرح بلند سے بلند تر ہو رہی ہے۔ قتل کی ایسی وارداتیں سامنے آ تی ہیں جن میں قریب ترین رشتہ دار قاتل نکلتے ہیں ۔ حکومت اور سیاست دان یہ فراموش کر چکے ہیں کہ قومی اخلاق کی تعمیر اور ایک پاکیزہ معاشرے کی تعمیر ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ان ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے کا شعور تو درکنا ر،  وہ تواپنے رویوں سے قوم کو اخلاقی فساد میں دھکیل رہے ہیں ۔ معصوم زینب کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد بڑی بے رحمی سے قتل کرنے والے نوجوان اور ایسے بے شمار دوسرے افراد کو اس سنگ دلی اور بدکاری تک پہنچانے میں تعزیت کے نام پر وہاں جا کر تقریریں کرنے،  اخلاقی مسئلے کو سیاسی رنگ دینے اور انسانی المیے کو پارٹی مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے لیڈروں سے لے کرہم میں سے ہراس شخص کا کردار ہے جو اپنی گفتار و کردار میں ’فُحش‘ اور ’تفحّش‘ کی کسی نہ کسی صورت میں مبتلا ہے اور اشاعتِ فَحشاء کے عمل میں اپنا مکروہ حصہ ڈال رہا ہے۔

مزید دکھائیں

منیر احمد خلیلی

منیر احمد خلیلی تقریباً چالیس برس شعبہ تعلیم سے وابستہ رہ کر ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ موصوف گزشتہ پچاس برس سے قلم و قرطاس سے وابستہ ہیں۔ مختلف اخباروں میں شائع ہونے والی ہزاروں تحریروں کے علاوہ آپ کے قلم سے مختلف موضوعات پر کم و بیش 16 کتب نکل کر شائع ہوچکی ہیں۔ ان میں انفاق فی سبیل اللہ، تزکیہ نفس کیوں اور کیسے؟، عصر حاضر کی اسلامی تحریکیں، مقالات تعلیم، عورت اور دور جدید، اور مغربی جمہوریت کا داغ داغ چہرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

متعلقہ

Close