گوشہ اطفال

مبارک خواب

اختر سلطان اصلاحی

رزلٹ وسیم کے ہاتھ میں تھااور اسے یقین نہ آرہا تھا ۔ پورے پچاس فیصد نمبرات کے ساتھ وہ کلاس میں دوم پوزیشن لایا تھا۔ شیخ سر اور پربلکر سر بھی اسے خوشگوار حیرت بھری نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔ ا س کے گہرے دوست ارباز، ریان، عمر اور فہد بھی اس کے قریب آگئے تھے۔ ششماہی امتحان میں وسیم کے ساٹھ فیصد نمبرات پر بھی سب کو حیرت ہوئی تھی اور اب پچاسی فیصد نمبرات، یہ تو جیسے یقین کرنے والی بات ہی نہ تھی۔
ریان نے ایک طرح سے سب کی حیرت کو زبان دے دی’’کیا یار وسیم کہیں سے جادو وغیرہ تو نہیں سیکھ لیا ہے ، یہ کیسے اچانک زیرو سے ہیرو بن گئے ‘‘۔
’’کچھ تو بھید ہے ورنہ بڑی مشکل سے پاس ہونے والا لڑکا کلاس میں سیکنڈ کیسے آگیا، مجھے تو ایسالگتا ہے کہ اس نے کہیں سے پرچہ آوٹ کرلیا ہے ‘‘۔ عارف نے تیز آواز میں کہا ۔ ’’مجھے تو لگتا ہے وسیم نے کوئی جن وغیرہ قابو میں کرلیا ہے جواسے تمام سوالات کے جوابات آکر بتادیتا ہوگا ‘‘۔ مہتاب نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
خیر جتنے منہ اتنی باتیں ، اساتذہ کو بھی حیرت تھی کہ کلاس کاکمزور ترین لڑکا ایک سال میں کتنا بدل گیا۔ جو سب سے کمزور تھا وہ اب اسکول کانمایاں ترین طالب علم تھا۔ اگلے دن کامیاب ہونے والے طلبہ کے اعزاز میں ایک پروگرام ہونا تھا۔ چاند سر نے وسیم کو بلایا اور کہا ’’کل تم کو ایک تقریر کرنی ہے جس کا عنوان ہے ’’کامیابی کا راز‘‘ بیٹا! تیاری کرکے آؤ، تمہارے بہت سے ساتھی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایک کمزور طالب علم کیسے اچانک ایک بہترین طالب علم بن گیا ‘‘۔
اگلے روز تمام کامیاب طلبہ کا اعزاز اور استقبال کیا گیا۔ عارف سر نے اعلان کیا ، اب میں آپ کے سامنے ایک ایسے طالب علم کو پیش کرنا چاہتا ہوں جو آٹھویں جماعت میں تو بڑی مشکل سے پاس ہوا مگر نویں جماعت میں پچاس فیصد نمبرات لاکر پورے اسکول کو حیرت زدہ کردیا۔ وہ طالب علم ہے محمد وسیم پانساری ۔
وسیم شرماتے ہوئے اسٹیج پر آیا، حمد و ثنا کے بعد اس نے اپنی گفتگو شروع کی ۔ قابل صد احترام اساتذہ کرام اور میرے ساتھیو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ، اسکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب نے رزلٹ ملنے کے دوسرے دن کامیاب طلبہ کے اعزاز میں یہ پروگرام منعقد کیا اس کے لئے میں ان کا شکر گزار ہوں۔ میرا اس اسکول میں پانچواں سال ہے اور اللہ کے فضل سے مجھے بھی پہلی بار اسکول کی طرف سے اعزاز و انعام سے نوازا گیا۔ خدا کرے کہ میرے اور ساتھیوں کو بھی یہ موقع نصیب ہو۔آمین۔ میرے اساتذہ اور ساتھیوں کو حیرت ہے کہ میں نے اتنے اچھے مارکس کیسے حاصل کرلئے جب کہ میں ایک کمزور طالب علم کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہوں۔
محترم دوستو! آپ کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ میری کامیابی کے پیچھے ایک خواب ہے ۔ آٹھویں جماعت میں جب میرا رزلٹ آیا تو وہ بہت مایوس کن تھا۔ مجھے صرف پچاس فیصد نمبرات ملے تھے۔ پورے گھر کے لوگ میری کارکردگی سے ناخوش تھے۔ امی کہنے لگیں ’’تمہارے چار بھائی بہن اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ آج تک کوئی ۷۰؍فیصد سے کم نمبرات نہیں لایا تھا ‘‘۔ پچاس فیصد رزلٹ کا مطلب ہے فیل ہونا۔ تم کو اس رزلٹ پر نہ تو کسی اچھے کالج میں داخلہ ملے گا اور نہ ہی آگے چل کر کوئی اچھی ملازمت ‘‘۔
’’میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ وسیم تعلیم کے تعلق سے کبھی سنجیدہ ہوگا۔ ابھی ارباز کے ابو ملے تھے ان کا بیٹا ۸۰؍فیصد نمبرات لایا تھا۔ وہ وسیم کے رزلٹ کے بارے میں جانناچاہتے تھے مگر میں کیا جواب دیتا ۔ ۵۰؍فیصد نمبرات تو بغیر پڑھے لکھے بھی آجاتا ہے۔ حکومت کی پالیسی ہے کہ آٹھویں تک کسی طالب علم کو فیل نہ کیا جائے ۔ اگر یہ پالیسی نہ ہوتی تو شاید یہ فیل ہوتا ۔ ابو کی باتوں کا میرے پاس کوئی جواب نہ تھا۔
آفرین اور یاسمین نے منہ بگاڑتے ہوئے کہا ’’اسے تو صرف طرح طرح کے کھانوں کا شوق ہے جس کانتیجہ یہ ہے کہ اچھے نمبرات کے بجائے لڈو لے آیا ہے۔ اب گھومو اور صرف لڈو کھاؤ‘‘۔
میرے پاس ان تمام کی جلی کٹی باتوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔ میرا موڈ بالکل خراب ہوگیا۔ رات میں بڑی مشکل سے دوچار لقمے کھانے کھائے اور بستر پر چادر اوڑھ کر پڑ گیا، مگر نیند بھی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ غم اور افسوس سے میرا بُرا حال تھا۔ نہ جانے کب نیند آئی ۔ شاید ذہنی پریشانیوں ہی کی وجہ سے میں خوابوں کی وادی میں چلا گیا۔ میں نے ایک خواب دیکھا ۔ عجیب و غریب خواب۔ دیکھتا ہوں کہ امتحان کا رزلٹ آیا ہے اور میں پورے اسکول میں اوّل مقام پر آیاہوں۔ سب لوگ مجھ کو مبارکباد دے رہے ہیں۔ اساتذہ شاباشی دے رہے ہیں۔ تمام دوست مٹھائی کھلا رہے ہیں۔ اسکول میں ایک شاندار فنکشن ہورہا ہے ۔ چیرمن احسانے صاحب کہہ رہے ہیں کہ وسیم نے پورے ضلع میں اسکول کانام روشن کیاہے۔ اب اس کی تعلیم کے تمام اخراجات ہماری سوسائٹی برداشت کرے گی ‘‘۔پورا ہال تالیوں سے گونج رہا تھا۔ میں بھی بے حد خوش تھا، بات بات پر قہقہے لگا رہا تھا‘‘
اچانک امی نے میرے پیروں کو ہلاتے ہوئے آواز دی ’’وسیم بیٹا اُٹھ جاؤ ، کیا ہوا؟ کوئی خواب دیکھ رہے تھے؟ کب سے میں دیکھ رہی ہوں کہ تم سونے کے دوران زور زور سے ہنس رہے تھے‘‘۔
صبح جب چاہے پینے کے دوران میں نے اپنا خواب امی کو سنایا تو وہ بہت خوش ہوئیں۔ کہنے لگیں ’’بیٹا یہ ایک اچھی علامت اور خوش خبری ہے ۔ تم اگر اب سے بھی تعلیم پر توجہ دو تو کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔ امی نے میرا اتنا حوصلہ بڑھایا کہ میں جذبات میں آکر رونے لگا۔ میں نے کہا امی اب آپ جو چاہیں گی وہی ہوگا۔ کل سے آپ کا بیٹا دن و رات محنت کرے گا ۔ کامیابی، ناکامی خدا کے ہاتھ میں ہے۔
امی نے میرا ٹائم ٹیبل بنایا۔ محلے کے ایک استاذ کو بلا کر میرے کمزور مضامین سے واقفیت حاصل کی ابو اور امی روزآنہ دو گھنٹہ میرے ساتھ بیٹھنے لگے، ابو ہر ہفتہ ایک دن اسکول آکر میری کارکردگی کے احوال معلوم کرتے ، میری چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر خوب حوصلہ افزائی کرتے۔ میں نے جب پڑھائی پر توجہ دی تو مجھے اندازہ ہوا کہ میرے پھسڈی پن میں سب سے بڑا ہاتھ خود میرا تھا۔ تھوڑی سے محنت اور توجہ دینے پر اندازہ ہوا کہ تمام مضامین بہت آسان ہیں۔ جیسے جیسے مضامین میری سمجھ آتے گئے ویسے ویسے میری دلچسپی میں اور اضافہ ہوتا گیا، اب تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے پڑھائی لکھائی سے بہتر اور کوئی کام نہیں ہے۔ پہلے میں پڑھنے کے لئے بڑی مشکل سے آدھا ایک گھنٹہ کے لئے بیٹھتا تھا مگر اب تو بارہ ایک بجے امی زبردستی لائٹ بند کرکے مجھے سونے کے لئے مجبور کرتی ہیں۔ چند ماہ کی سخت محنت نے آج مجھے اس مقام پر لاکھڑا کیاہے۔ میں خاص طور سے اپنے ان ساتھیوں سے جو کمزور ہیں اپیل کرتا ہوں کہ وہ حوصلہ نہ ہاریں۔ تھوڑی سی محنت اور توجہ ان کو کامیابی کے قریب کردے گی ۔
تمام بچے بت سے وسیم کی باتیں سن رہے تھے۔ جب وسیم نے خدا حافظ کہا تو پورا ہال واہ واہ شاباش کی آوازوں سے گونج اٹھا۔ سب سے زیادہ متاثر وہ بچے تھے جو پڑھنے میں کمزور تھے ۔ ان کے چہروں پر یہ عزم نمایاں تھا کہ اب وہ بھی وسیم کی طرح محنت کرکے کامیابی کی منزلوں کو چھولیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close