گوشہ اطفال

مثالی طالب کے چند اوصاف

صادق جمیل تیمی

پیارے بچو!  علم کے جس حسین ماحول میں میں آپ اپنی شبانہ روز کی زندگی بسر کرتے ہیں،  کتب بینی، مذاکرہ علمی اور مطالعہ و دراسہ میں شام و سحر گزارتے ہیں،  اس میں آپ مشاہدہ کرتے ہیں کہ کبھی آپ کے اسکول و مدرسہ میں کسی بچے کے سر کامیابی و کامرانی کا سہرا باندھا جاتا ہے -آپ کا کلاس فیلو، روم میٹ اور ساتھی مسابقہ میں آپ سے آگے نکل جاتا ہے، اعلی اخلاق و کردار، رفتار و گفتار میں اساتذہ اور والدین اس کی مثال پیش کرتے ہیں -تعلیمی درسگاہ کے سارے طلبہ اسے عزت و وقار کی نگاہ سے دیکھتے ہیں -سماجی اعتبار سے اس کا رتبه بلند ہوتا ہے -روز افزوں اس کی محبوبیت و ہر دلعزیزی میں چار چاند لگتے جاتے ہیں -ہر چہار جانب سے اسے پیار و محبتیں ملتی ہیں -قوم و ملت کو اس پر فخر ہوتا ہے -آپ بھی رشک کرتے ہوں گے کہ یہ اتنا قابل ذکر کیوں ہے ؟کیوں اسے سر آنکھوں پر بیٹھایا جاتا ہے ؟بلاشبہ آپ بھی بھی اپنی امیدوں کا شیش محل کھڑے کیے  ہوئے ہیں کہ لوگ ہمیں بھی داد تحسین سے نوازے، تو آییے ہم جانتے ہیں کہ ایک مثالی طالب بننے کے لئے کیا کچھ انجام دینا پڑے گا -شبانہ روز کا وہ کون سا گر ہے جسے اپنا کر آپ بھی ایک مثالی طالب کے شانہ بشانہ چل سکتے ہیں اور اپنی سحر انگیزی سے ایک دنیا کو اسیر کر سکتے ہیں -ذیل کے سطور میں اختصار کے ساتھ چند اصول کی طرف رہنمائی کی جا رہی ہے:

(1)مقصد کی تعیین:

 کسی بھی کام کو کامیابی کے ساتھ اختتام تک پہوچانے کے لئے مقصد کی تعیین از حد ضروری ہوتی ہے -بغیر اس کے کامیابی کے منازل طے نہیں کر سکتے، چنانچہ ایک زندہ دل و دماغ اور حساس طالب علم کے لئے ناگزیر ہے کہ وہ ہدف کا تعین کرے، جس میں مقصد محض دنیا کمانا اور ناموری و شہرت طلبی نہ ہو، بلکہ خود آگاہی و خدا آگاہی بھی ہمیشہ نگاہوں کے سامنے رہے -یہ دونوں چیزیں جب کسی طالب کے اندر ہوں گیں تو اس سے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر خود اپنے لئے بھی اور سماج کے لئے بھی نفع بخش ہوگا -اور سماج کے لئے وہی طلبہ فائدہ مند ہو سکتے ہیں جو سماجی تعمیر کا جذبہ رکھتے ہوں،  جو انسانیت کو بیدار کرنے اور سماج میں ایک نئ روح پھونکنے کا ہنر رکھتا ہوں –

(2)مسلسل جد وجہد:

مثالی طالب کا دوسرا وصف مسلسل کوشش اور عمل پیہم ہے -زندگی کا ایک ایک لمحہ، ایک ایک پل اہم ہوتا ہے، اسے کسی اہم کام انجام دینے میں صرف کیا جائے، روزانہ کا ایک معمول بنا لیا جائے اور اسی  کے مطابق اوقات زندگی کو مطالعہ و دراسہ میں گزارا جائے -تساہلی، کاہلی اور بزدلی جیسی منفی صفات سے گریز کیا جائے، کیونکہ یہ اوصاف ہیں جو زمانہ طالب علمی میں تقریباً ہر کس و ناکس کے ساتھ در پیش ہوتے ہیں،  مثالی طالب کی پوری زندگی محنت و علم کی تلاش و جستجو سے عبارت ہوتی ہے،وہ اپنے اوقات کو عبث چیزوں میں نہیں گزارتے ہیں بلکہ ہمیشہ یکسوئی و سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر میں منہمک رہتا ہے، وہ محض خیالوں اور عزائم کی دنیا میں خوابوں کی عمارت کھڑی نہیں کرتا،بلکہ اس کے لئے مسلسل کوشش کرتا ہے جس کے نتیجے میں مستقبل کے ایام میں ایک بڑی شخصیت بن کر ابھرتے ہیں تو مثالی بننے کے لئے لگاتار محنت درکار ہے –

(3)کتب دوستی:

مثالی طالب کے لئے تیسری اہم چیز کتابوں سے دوستی ہے -کتاب کی اہمیت ہر دور ہر زمانہ میں رہی ہے -بڑے بڑے مفکر ین و اسکالرسز کتابیں پڑھ کر ہی ترقی کے اعلی مدارج تک پہنچے -کتاب سے بہتر دوست کوئی نہیں ہے کسی شاعر نے اپنے حسین افکار کو شعر کے قالب میں ڈھالا ہے اور کہا ہے کہ-

سرور علم ہے کیف و شراب سے بہتر

کوئی رفیق نہیں کتاب سے بہتر

کتاب کی انہیں اہمیتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک مثالی طالب کو ہمیشہ اپنی طالب علمی کے بیشتر اوقات کو کتب بینی میں صرف کرنا چاہئے -اس سلسلے کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ کتابوں کے مطالعہ کے دوران رہنمائی ضروری ہے کیونکہ کتابیں لا محدود ہیں اور زندگی محدود -اب اس لا محدودیت کی وادی میں کوئی علم کے متلاشی بغیر رہنمائی کے اتر جائے تو خاطر خواہ ترقی نہیں مل پاتی ہے، اس وجہ سے اپنے مقاصد و اہداف کو سامنے رکھتے ہوئے کتابوں کا انتخاب عمل میں لائیں اور اپنی علمی تشنگی کو بجھاتے رہیں –

4- بلند حوصلگی:

کہا جاتا ہے کہ ہمیشہ اونچے خواب دیکھا کرو تاکہ اس کی تعبیر بہتر نتائج کے ساتھ سامنے آئے -اگر اونچے خواب کو زندگی سے نکال دیا جائے تو پھر زندگی میں کچھ باقی نہیں رہ جاتا ہے -بلاشبہ اعلی نصب العین اعلی کردار کو جنم دیتا ہے اور ادنی نصب العین گھٹیا چیزوں کو -امنگیں،  آرزوئیں،  امیدیں اور خود اعتمادی محض الفاظ نہیں ہیں بلکہ ایک طالب کے روشن نقوش ہیں -اگر ان چیزوں کو زندگی سے نکال دیا جائے تو پھر اس میں کوئی کیف و سرور باقی نہیں رہ جاتا -خود اعتمادی کا ایک ایسا ذخیرہ ہونا چاہئے جو ہمیشہ بلند پروازی پر ابھارے -کیوں کہ بلند حوصلہ دشواریوں میں بھی گرد راہ بنانے کا وہ ہنر دیتا ہے جس سے ہر نئ صبح اور ہر نئ شام ترو تازگی کے ساتھ آتی ہے-

(5)بلند کرداری:

 ایک طالب بہت محنتی ہے، کتابوں سے حد درجہ شغف ہے، لوگ اسے کتابی کیڑا کہتے ہیں،  معلومات کا بحر بیکراں ہے لیکن بلند اخلاق و کردار سے محروم ہے، اپنے کام سے سماج کو مایوس کر تا ہے اپنے معاملات و رہن سہن سے  اپنے ساتھ رہنے والے افراد کی دلشکنی و دل آزاری کرتا ہے، خود طلبی و مفادپرستی اور ریاکاری کا شاخسانہ ہے، کسی دوسرے کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں،  تو ایسے افراد سے قوم کے مفادات خسارے میں رہتی ہیں،  اس سب کے برعکس ایک مثالی طالب کردار کی بلندیوں پر فائز رہتا ہے، وہ زندہ دل اور گرم جوش و کشادہ ظرف ہوتا ہے -وسیع النظر اور مثبت سوچ و فکر کے حامل ہوتا ہے اور یہ سماج میں ہمیشہ تابندہ و درخشندہ ستارے کی حیثیت سے اپنی زندگی کی نیا کو آگے بڑھاتا ہے –

بحیثیتِ مجموعی یہ بات سمجھ میں آئی کہ ایک طالب اگر اپنی زندگی میں توازن برقرار رکھے، وقت پر ہر کام کو انجام دے، منظم و اصولی زندگی بسر کرے، ذہن و دماغ کی شفافیت کے ساتھ ساتھ دل و نیت کی بھی صفائ رکھے، والدین، اساتذہ اور خود سے بڑے افراد کی عزت و احترام کرنا فرض سمجھے تو ایسے ہی صفات کے حامل طالب کو "مثالی "تصور کیا جائے گا، کیونکہ کہ ایک مثالی طالب ہی آدمیت کا تقاضا اور انسانیت کی سچی تصویر ہوتا ہے –

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

صادق جمیل تیمی

جامعہ ابن تیمیہ سے 2015میں فارغ التحصیل ہوں۔ صحافت میں خاصی دلچسپی ہے درس و تدریس کے مشغلہ میں منہمک ہوں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close