سیرت نبویﷺگوشہ اطفال

نبی اکرم ﷺ بچوں کے ساتھ

بچوں کے ساتھ پیار ومحبت کا سلوک اور رویہ رکھنا بھی نبی ﷺ کی سنت رہی ہے

قاضی عبد الجبار طیب ندوی

اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت اولاد ہے، دل کو سکون اعضاء کو قرار اور آنکھوں کو ڈھنڈک اولاد سے ملتی ہے، اولاد نہ ہو تو انسان اپنے آپ کو ادھورا محسوس کرتا ہے، گویااولاد زندگی کے ادھورہ پن کو ختم کردیتی ہے، اولاد سے گھر بلکہ دنیا رونق اور خوبصورت ہے۔

مزاج شریعت یہ ہے کہ گھروں میں ولادت ہو تو اہل خانہ خوش ہوں، کیوں کہ یہ ایک خوشخبری اور بشارت کی چیز ہے، جیساکہ اللہ رب العزت نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی اور حضرت زکریا علیہ السلام کو حضرت یحیی علیہ السلام کی ولادت کی خوشخبری سنائی اور بشارت دی تھی۔

بچوں کی معصومیت اور چہرہ پر کشش ہر ایک کو اپنی طرف کھینچتی ہی نہیں ؛ بلکہ ہر شخص بچوں کے ساتھ محبت اور ملاعبت پر مجبور ہوجاتا ہے، یہ فطری امر ہے، چنانچہ حضور اکرم ﷺ کی زندگی میں بھی ہمیں بچوں سے محبت اور حسن سلوک اور بہتر رویہ دیکھنے کو ملتے ہیں تو آئیے گوشہ سیرت سے ان پہلؤوں کو اجاگر کریں اور اس کو اپنی زندگی کا عملی حصہ بنائیں۔

اسلام میں بچوں کا سب سے پہلاحق ’’جینے کا حق ‘‘ ہے، تنگی اور خرچ کے تصور سے بچوں کو قتل کردینا جائز نہیں ہے، چاہے ماں کے پیٹ میں ہی بچہ کو ماردیا جائے یا اس دنیاء آب وگل میں آنکھیں کھولدینے کے بعد معصوم سی کلیوں کو اپنے ظالم ہاتھوں سے مسل دے، زندگی جب اس کے خالق نے اسے دی ہے تو وہی اس کے رزق اور اسباب زندگی کا انتظام بھی کرے گا، اس کے باوجود اگر اس کو قتل کردیا تو ایک بڑے گناہ کا مرتکب ہوگیا، حضور اکرم ﷺ سے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے بڑے گناہوں کے بارے میں پوچھا، آپ ﷺ نے ان میں سے ایک بڑا گناہ بچوں کو قتل کرنا بھی شمار کرایا اور فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنے بچہ کو۔ صرف اس ڈر سے کہ وہ اس کے ساتھ کھائے گا۔ قتل کردیتا ہے تو یہ بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے (بخاری، باب قتل الولد خشیۃ أن یأکل معہ: ۶۰۰۱)۔

بچوں کے ساتھ پیار ومحبت کا سلوک اور رویہ رکھنا بھی نبی ﷺ کی سنت رہی ہے، مختلف موقعوں سے آپ ﷺنے اپنی محبت اور نرمی کا اظہار فرمایا ہے، کبھی آپ ﷺ نے بچوں کی تقبیل فرمائی اور ساتھ ہی بچوں سے اظہارمحبت اور خود سے قریب کرنے کے لئے تقبیل اور بوسہ نہ دینے والوں پر وعیدیں بھی بیان فرمائی، حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے حضرت حسن بن علیؓ کا بوسہ لیا، صحابی رسول اقرع بن حابسؓ تمیمی نے یہ دیکھ نبی ﷺ سے کہا : اے اللہ کے نبی ﷺ ! میرے دس اولاد ہیں میں نے ان میں سے کسی کو بوسہ نہیں لیا ہے، نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’من لا یرحم لا یرحم‘‘ کہ جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا ہے، (بخاری: ۵۶۶۷)۔

بچوں سے ملاطفت اور نرم رویہ کا اظہار آپ ﷺ نے جہاں عملی اعتبار سے کیا ہے وہیں آپ ﷺ نے الفاظ کے ذریعہ بھی اس کا خوب اظہار فرمایا کرتے تھے؛ چنانچہ نبیﷺ کبھی بچوں کو ’’یا بنی‘‘ اے بیٹے، جیسا کہ حضرت انسؓ اور حضرت مغیرہؓ سے کیا کرتے تھے۔ (مسلم: ۴۔۵۶۲۳)۔

اسی طرح بچوں کو اسم تصغیر کے ساتھ بھی آپ ﷺ نے پکارا ہے اور بلایا ہے، جیسے حضرت انسؓ کو آپ ﷺ نے ’’یا أنیس‘‘ صحابی رسول ابوعمیر کو ’’یا ابا عمیرمافعل النغیر‘‘ (بالترتیب سنن ابی داؤد: ۴۷۷۳، مسلم:۵۶۲۲)، کہا، اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ بچوں سے ہنسی مذاق بھی فرمایا کرتے تھے۔

بچوں پر رحمت کی بارش برسانا دل اور طبیعت کے نرم ہونے کی دلیل ہے جو لوگ بچوں پر سختی کرتے ہیں اس کے ساتھ ملاطفت اور عاطفت اور ملاعبت کا معاملہ نہیں کرتے وہ قسی القلب، سخت دل ہی نہیں دل کی شکل میں پتھر کا ٹکڑا اپنے پہلو میں رکھتے ہیں، حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک اعرابی آیا اور کہنے لگا کہ اے نبی ﷺ آپ بچوں کو بوسہ دیتے ہیں ؟ ہم تو انہیں بوسہ نہیں دیتے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں کیا کرسکتا ہوں اگر اللہ تعالی نے تمہارے دل سے رحمت کو نکال دیا ہے، (بخاری، باب رحمۃ الولد۔۔۔۔۔ : ۵۹۹۸)۔

بچوں کو اپنے سے بہت زیادہ قریب رکھا کرتے تھے جس سے آپ ﷺ کی بچوں سے بے پناہ محبت جھلکتی ہے، حضرت ابو قتادہؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ باہر تشریف لائے کہ گردن مبارک پر آپ ﷺ کی نواسی امامہ بنت ابی العاصؓ تھیں، نبی ﷺ نے ان کو لے کر نماز پڑھی کہ جب آپ ﷺ رکوع میں جاتے تو ان کو اتار دیتے اور جب آپ کھڑے ہوتے تو ان کو بھی اٹھا لیتے، (بخاری، باب رحمۃ الولد : ۵۹۹۴)، اسی طرح کی روایت حضرات حسنینؓ کے بارے میں بھی آتی ہے۔

بچوں کو گود میں لینا اور پیشاب کرنے پر بچوں سے دوری اختیار نہ کرنا بھی نبی ﷺ کی شفقت، بچوں کے ساتھ تعلق اور محبت ہے، حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اپنی گود میں لے کر بچے کی تحنیک فرمارہے تھے، بچے نے آپ کی گود میں پیشاب کردیا، آپ ﷺ نے پانی منگا کر اس پر چھڑکا، (بخاری، باب وضع الصبی فی الحجر: ۶۰۰۲)۔

حضور اکرم ﷺ بچوں کو اپنی ران (جانگھ) پر حضرت حسنؓ کو بٹھایا کرتے تھے، اور یہ عمل آپ ﷺ دوسرے بچوں کے ساتھ بھی کیا کرتے ؛ چنانچہ حضرت اسامہ بن زیدؓ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ ہم کو پکڑ کر اپنی ران پر بٹھاتے اور دوسری ران پر حضرت حسن بن علیؓ کو۔ اور اپنے سینہ سے چمٹا لیتے تھے، اور پھر یہ دعا کرتے تھے : ’’اللہم ارحمہما فانی ارحمہما ‘‘اے اللہ ان دونوں پر رحم فرما کیوں کہ میں بھی ان پر نظرت رحمت کرتا ہوں، (بخاری، باب وضع الصبی علی الفخذ: ۶۰۰۳)۔
بچپن اور طفولیت کے زمانہ سے ہی نبی ﷺ بچوں کی تربیت فرمایا کرتے اور والدین کو اس کی تنبیہ فرمایا کرتے تھے، چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے بچوں کے سامنے جھوٹ بولنے سے ایک خاتون کو منع فرمایا۔

بچوں کے سامنے جھوٹ بولنے سے پرہیز کرنا چاہئے، یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ابھی یہ بچے ہیں، جھوٹ اور سچ کے فرق کو کیا سمجھیں گے، حقیقت یہ ہے کہ بچے محسوس کرتے اور اس کا ادراک بھی رکھتے ہیں ؛ لہذا اس سے متاثر ہو کر وہی بچہ اس طرح کے واقعات میں وہ جھوٹ بولنے کا عادی ہوجائے گا، حضرت عبداللہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ مجھے میری والدہ نے حضور اکرم ﷺ کی موجودگی میں ایک دن بلایا، اور کہا آؤ میں کچھ دیتی ہوں، تو اس پر رسول اکرم ﷺ نے سوال کیا کہ کیا تم نے اسے دینے کا ارادہ کیا تھا، میری والدہ نے کہا کہ ہاں ! میں نے اسے ایک کھجور دیا، تو نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: یاد رکھو! اگر تم نے اسے کچھ نہ دیا ہوتا تو تم پر ایک جھوٹ لکھ دیا گیا ہوتا، (سنن ابی داؤد)۔

اسی لئے صاحب عون المعبود نے حدیث کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اگر کوئی بچوں سے روتے وقت جھوٹا مذاق کرتا ہے یا کچھ دینے یا کسی چیز سے ڈرانے کا ناٹک کرتا ہے تو یہ سب بھی حرام ہے اور جھوٹ میں داخل ہے، (عون المعبود: ۱۱/۲۸)۔
نبی ﷺ بچوں کوسلام کرنے میں خود پہل فرماتے تھے؛ چنانچہ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ چند بچوں کے پاس تشریف لائے جو کہ کھیل رہے تھے، آپ ﷺ نے ان کو سلام کیا۔

نبی اکرم ﷺ بچوں کو تکلیف دہ / شدید مارپیٹ سے منع کیا کرتے تھے خاص طور پر چہرہ اور نازک جگہوں پر تو بالکل بھی نا مارے کیوں کہ چہرہ پر مارنے سے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے، بچوں کو تو آپ ﷺ کبھی ڈانٹتے بھی نہیں تھے، خود حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ مدینہ میں دس سال میں نے آپ ﷺ کی خدمت کی ہے، میں بچہ تھا، بہت سے کام نبی ﷺ کے مزاج کے مطابق نہ کر سکا پھر بھی آپ ﷺنے تک اف نہیں کہا، اور نہ یہ کہا کہ ’’تم نے یہ کیوں کیا؟ اور ایسا کیوں نہیں کیا؟ (سنن ابی داؤد: ۴۷۷۴)۔

اگر بچہ باشعور یا سن تمیز کو پہنچ چکا ہو تو پھر بطور تادیب کے مارنا جائز ہے، اس سے پہلے مارنا فائدہ مند نہیں ؛ چنانچہ حدیث میں ہے: ’’مروا أولاد کم بالصلاۃ وہم ابناء سبع سنین واضربوہم علیہا وہم ابناء عشر‘‘، (مسند احمد، سنن ابی داؤد) اپنی اولاد کو نماز کو حکم کروجبکہ وہ سات سال کے ہوں، اور ان کو مارو جبکہ وہ دس سال کے ہوں۔

حضورﷺ نے اپنا نام بھی بچوں کو عطا فرمایا اور اس کے ذریعہ تمام امت کو محمد نام رکھنے کی اجازت مرحمت فرمائی، حضرت جابر بن عبد اللہؓ فرمایتے ہیں کہ ایک شخص کے گھر لڑکا پیدا ہوا، تواس نے محمد نام رکھا، اس کی قوم کے لوگوں نے محمد نام رکھنے سے روکا اور کہا کہ ہم لوگ تمہیں اللہ کے رسول ﷺ کا نام رکھنے نہیں دیں گے، پس وہ شخص اپنے لڑکے کو اپنی پیٹھ پر اٹھائے دربار رسالت میں آ پہونچا، اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! میں نے اپنے بیٹے کا نام محمد رکھا، تو میری قوم نے مجھے یہ نام رکھنے دیتی ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’میرا نام رکھو، مگر میری کنیت مت رکھو‘‘ (مسلم، کتاب الآداب: ۵۵۸۸)۔

نبی اکرم ﷺ نے بہت سے بچوں کے نام بھی رکھا ہے، کسی کا نام عبد اللہ رکھا ہے، اسی طرح حضرت ابو موسی اشعریؓ کے لڑکے کا نام ابراہیم رکھا، (مسلم: ۱۲۔۵۶۱۵)۔

بچوں کی تحنیک بھی فرمایا کرتے تھے (بچہ کے منھ میں کوئی میٹھی چیز مثلاً کھجور وغیر چباکر ڈالنے کو تحنیک کہتے ہیں) تحنیک کے بعد اس کے لئے دعائیں بھی فرمایا کرتے تھے، چنانچہ حضرت عبد ا للہ ابن زبیرؓ کی ولادت جب ہوئی تو آپ ﷺ کی خدمت میں ان کو پیش کیا گیا، آپ ﷺ نے ان کی تحنیک فرمائی اور پھر دعاء فرمائی اور نام عبد اللہ رکھا، (مسلم: ۵۶۱۶)، حضرت عبد اللہ کے پیٹ میں جو سب سے پہلی چیز گئی وہ نبی علیہ الصلاۃوالسلام کا لعاب تھا، اور آپ ہی وہ خوش نصیب صحابی ہیں جن کی ولادت ہجرت کے بعد مدینہ میں سب سے پہلے ہوئی۔

ولادت کے بعد بچوں کے کان میں آپ ﷺ نے اذان دی ہے، حضرت ابو رافعؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے حضرت حسن بن علیؓ کے کان میں نماز والی اذان دی۔ (سنن ابی داؤد: ۵۱۰۵)، صاحب عون المعبود نے شرح السنۃ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تو حضرت عمر بن عبد العزیز داہنے کان میں کلمات اذان اور بائیں کان میں کلمات اقامت کہا کرتے تھے، (عون المعبود، کتاب الادب، رقم الحدیث: ۵۱۰۵)۔

لہذا ہمیں بھی اپنے بچوں کے ساتھ وہی کردار ادا کرنا چاہئے جو نبی اکرم ﷺ کا ہوا کرتا تھا، اللہ رب العزت ہم سب اس کی توفیق عطا فرمائے، آمین

مزید دکھائیں

عبد الجبار طیب ندوی

قاضی شریعت دار القضاء کڑپہ اے پی نائب ناظم جامعہ الصالحات۔ کڑپہ۔ آندھراپردیش

متعلقہ

Close