گوشہ اطفال

ننھے پھول

امتیازعلی شاکر

   اولادایسی نعمت ہے جسکی محبت،پرورش،روشن مستقبل کی فکر اکثرانسان والدین جیسی رحمت سے دورکردیتی ہے،انسان اس کائنات میں وہ واحد مخلوق ہے، جس کے بچوں کی تعلیم وتربیت کیلئے سکول،کالج اوریونیورسٹی کی ضرورت پیش آتی ہے۔کائنات میں دیگرتمام مخلوقات کے والدین ہی اپنے بچوں کیلئے سکول،کالج اوریوینورسٹی کادرجہ رکھتے ہیں انہیں کسی کتاب یانصاب کی ضرورت نہیں پڑتی،وہ دنیامیں جینے کے تمام ہنراپنے والدین اورقدرت کے رحم و کرم سے سیکھتے ہیں ۔

بچوں کی پیدائش سے پرورش ،تعلیم و تربت مکمل ہونے کے بعد بھی تمام عمر والدین اپنے بچوں کی فکرمیں زندگی گزاردیتے ہیں ،دورحاضرمیں تعلیم کی اہمیت اس قدربڑھ چکی ہے کہ ہم اپنے چھوٹی عمرکے بچوں کوسکول بھیج رہے ہیں ،اتنی چھوٹی عمر کہ بچے کہ سکول جانے کے ایک گھنٹے بعد دودھ کافیڈرپہنچایاجاتاہے اوردوگھنٹے بعد ڈبل روٹی،دلیہ،کھیر،اوردیگرنرم غذائیں ،بچہ سکول میں اپنے ہم عمربچوں کے ساتھ مزے کرتاہے جبکہ گھرمیں مائیں انتہائی بے چینی کے ساتھ گھڑی کی ٹک ٹک گن کروقت گزارتی ہیں،صبح سویرے جب یہ ننھے پھول سکول جانے کیلئے تیارہوتے ہیں ،سکول رخصت ہونے سے قبل امی،ابو،دادا،دادی، نانا،نانی،چچا،چچی،تایا، تائی اورپھپھو کے ہاتھ چوم کراجازت لیتے ہیں اُس وقت والدین کی خوشی کی انتہاء نہیں رہتی،بچوں کورخصت کرتے بڑے لاکھوں دُعائیں دیتے ہیں ،سہانے خواب آنکھوں میں نمی کی لہرپیداکردیتے ہیں ۔

آج کل سلفی کادورہے توبہت سارے لوگ اپنے بچوں کے سکول جانے اورآنے کے اوقات میں اُن کی سلفی ضروربناتے ہیں ،تعلیمی نظام کی پیچیدگیاں ،معاشی وسیکورٹی مشکلات والدین کیلئے توکتابوں ،کاپیوں کی اضافی تعداداوراُن کاوزن بچوں کیلئے ہرروزامتحان کادرجہ رکھتاہے،حالات جیسے بھی ہوں والدین اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے جان لڑادیتے ہیں ،اساتذہ ان ننھے پھولوں کی نرم وگداز پتیوں میں ملک وقوم کی ترقی،خوشحالی جیسے پاکیزہ جذبوں کے رنگ،محب وطن سوچ کی رہنماء خوشبوبھرنے کیلئے تمام ترتوانائیاں صَرف کرتے ہیں ،آج صبح بھائی صاحب نے حکم صادرفرمایاکہ سکول وین خراب ہوگئی ہے بچوں کوسکول چھوڑآو،شاہزیب ،فیضان، عروج اورصہیب سکول جانے کیلئے تیارہوچکے تھے ،جلدی جلدی منہ دھوکر ،بچوں کوسکول چھوڑنے نکلا،سڑک پرسینکڑوں بچے سکول وینز،ابو،چچا،بھائیوں کے ساتھ اپنے اپنے سکولوں کی طرف رواں دواں تھے،بچوں کوسکول پہنچاکرواپس پلٹاتوہرطرف ایسے بچے دیکھ کرانتہائی دکھ ہواجوسکول نہیں جاتے۔

دکھ اس بات کاہے کہ جس طرح حکمران بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے جھوٹے وعدے کرکے عوام سے ووٹ حاصل کرتے ہیں اُسی طرح تعلیم کے نام پربھی سیاست چمکاتے ہیں ،تمہیں یادہوکہ نہ یاد ہوکچھ روزقبل داخلہ مہم کاافتتاح ہواتھا ایک لمباچوڑابھاشن دے کرعوام کوسبزباغ دیکھائے گئے،کہاگیاپنجا ب کا ہر بچہ لگے سکول میں اچھا، ایک حکومتی رپورٹ کے مطابق2010 ء سے لیکر آج تک حکومت پنجاب نے سکولوں میں طلباوطالبات کی حاضری 95 فیصد، اساتذہ کی 92 فیصد، 40 ارب روپے کی لاگت سے 52,000 سے زائد سکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی،220,000 اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی، 6ہزار سے زائد سکولوں میں کمپیوٹر لیب کی فراہمی،13,400,000 بچوں میں سالانہ مفت کتب کی فراہمی، بھٹہ مزدورں کے 87 ہزار بچوں کو لازمی تعلیم بمعہ کتابیں ، یونیفارم اور ہزار روپے ماہانہ وظیفہ، 298,000 طلبہ کو میرٹ پر سولر لیمپس کی فراہمی، 16 ارب روپے سے مخدوش عمارات کی دوبارہ تعمیر، پسماندہ علاقوں میں انتہائی غریب بچوں کیلئے 14 دانش سکولوں کا قیام، خادم پنجاب زیور تعلیم پروگرام کے ذریعے 16 اضلاع میں 462,000 طالبات کو ہزار روپے ماہانہ وظیفہ، 2,000 سکولوں کی پرائمری سے مڈل ، مڈل سے ہائی اپ گریڈیشن بذریعہ ڈبل شفٹ، پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن (پیف) سکولوں میں طلبا و طالبات کی انرولمنٹ 822,997 سے بڑھ کر 22 لاکھ جیسے انقلابی اقدامات کئے گئے ہیں ۔

جبکہ 2018 ء￿ تک کے اہداف میں معیاری تعلیم اور درسی کتب کی فراہمی، 100 فیصد بچوں کا پرائمری سکولوں میں داخلہ یقینی ،10,000 سکولوں میں (Early Childhood Education) کا اجراء، آن لائن ڈیٹا رپورٹنگ کیلئے ہر سکول میں 53,000 ٹیبلٹس کی فراہمی، 20,000 سکولوں میں سولر پینلز کی تنصیب ، 3,000 نئے اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز کی میرٹ پر بھرتی، ورکشاپوں ، پٹرول پمپس اور ہوٹلز میں کام کرنے والے بچوں کا سکول میں داخلہ، مزید 8 دانش سکولوں کا قیام، 36,000 اضافی کلاس رومز کی تعمیر، 22,000 پارٹ ٹائم کوچز کی تقرری، کلاس پنجم اور ہشتم کے امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبا و طالبات اور متعلقہ اساتذہ اورسکولز کیلئے انعامات بھی اسکے علاوہ اورنجانے کیاکیا،حکمران اپنی کارکردگی کے راگ الاپ رہے ہیں جبکہ پاکستان ایجوکیشن شماریات کی رپورٹ 2016ء کے مطابق اس وقت پنجاب میں 90 لاکھ 90 ہزار بچے سکولوں سے باہر ہیں اور ان تمام بچوں کو سکولوں میں لانے کیلئے ایک محتاط اندازے کے مطابق3 لاکھ 33 ہزار کلاس رومز کی ضرورت ہے،صوبہ پنجاب کے سکولوں میں داخلہ مہم کا ہدف پورا کرنے کیلئے 3 لاکھ 50 ہزار کلاس رومز اور اساتذہ درکار ہیں۔

 آؤٹ آف سکول بچوں کو سکولوں میں لانے کیلئے 3 لاکھ 33 ہزار 300 کمروں جبکہ صوبائی دارالحکومت میں 16 ہزار 665 کلاس رومز کی ضرورت ہے، اس کے برعکس دو سال قبل 31 ہزار نئے کلاس رومز بنانے کے اعلان پر تاحال عمل درآمد نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے داخلہ مہم پر سوالیہ نشان لگ چکاہے،محکمہ سکولز ایجوکیشن کے 6 مارچ 2017ء کے نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب میں اس سال 12 لاکھ بچوں کو سکولوں میں داخل کروایا جائے گا جبکہ گزشتہ سال 2016ء میں 11 لاکھ بچوں کا ٹارگٹ تھا، اسی طرح لاہور میں رواں سال 96 ہزار بچوں کو سکول میں لانے کا ٹارگٹ دیا گیا جو گزشتہ سال 83 ہزار تھا ، اس ٹارگٹ کو مکمل کئے بغیر نئی داخلہ مہم کا آغاز کر دیا گیا،قارئین محترم آج کاموضوع اس قدر اہمیت کاحامل ہے کہ اپنے تنقیدی مزاج کے برعکس حکمرانوں سے اپیل کرتاہوں کہ تعلیم کے حوالے سے اورزیادہ سنجیدگی اختیارکی جائے،پڑھی لکھی نسل ہی وطن عزیزکے روشن مستقبل کی ضمانت ہوسکتی ہے۔

حکومت وقت کے ساتھ راقم اپنے تمام ہم وطنوں سے بھی گزارش کرتاہے کہ فیڈر پینے کی جس عمر میں ہمارے بچے سکول جاتے ہیں غریب کے بچے اُس عمر میں کسی کارخانے،ہوٹل ،ورکشاپ پرکام کرتے دیکھ کرکلیجامنہ کوآتاہے ،حکومت کے ساتھ یہ ہرشہری کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ جولوگ بچوں کوسکول نہیں بھیجتے اُن کی مالی امدادکریں تاکہ ننھے بچے تعلیم حاصل کرکے ملک وقوم کانام روشن کریں ،اپنے وطن کی خوشحالی،ترقی میں اپناکرداراداکریں ،آخرمیں ایک چھوٹاساپیغام ،اولاد کی محبت فطری ہے ٹھیک اسی طرح ہمارے والدین بھی ہمارے ساتھ محبت کرتے ہیں جس طرح ہم اپنے بچوں کے ساتھ کرتے ہیں ، اس لئے اپنے بچوں سے محبت ضرورکریں ،اُن کی تعلیم و تربیت کابہت خیال رکھیں اورساتھ ہی اُن کابھی خیال رکھیں جنہوں نے آپ کاخیال رکھااورآج بھی رکھتے ہیں ،اللہ پاک ہمارے والدین اورتمام بزرگوں کوصحت والی زندگی عطافرمائے(آمین)

بچوں سے مشقت لینا کسی بھی مہذب معاشرے کو ہرگز زیب نہیں دیتا۔ معاشی بدحالی، سہولیات سے محرومی، استحصال، بیروزگاری، غربت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم جیسے مسائل کے باعث بچوں کو زیورِ تعلیم سے دور رکھ کر ان سے جبری مشقت لی جا رہی ہے۔ روز بہ روز بڑھتی غربت اور مہنگائی نے غریب بچوں کو اسکولوں سے اتنا دور کر دیا ہے کہ ان کیلئے تعلیم ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ غریب مفلوک الحال خاندان اپنے پیٹ کی ا?گ بجھائیں یا تعلیم کے بھاری بھرکم اخراجات برداشت کریں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور معاشرے کو مل کر اس کا تدارک کرنا چاہئے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close