گوشہ اطفال

چائلڈ میرج کے خلاف جھارکھنڈکی بچیوں کا مثالی کردار

ڈاکٹر مظفرحسین غزالی

ملک میں اب بھی چائلڈ میرج بڑا مسئلہ ہے۔ کھیلنے کودنے، اسکول جانے اور پڑھنے لکھنے کی عمر میں شادی سے بچوں کی نشوونما پر منفی اثر پڑتا ہے۔ نہ صرف ان کی آزادی اور بے فکری کی زندی میں رکاوٹ آتی ہے بلکہ ان سے اپنے خواب پورے کرنے کے مواقع چھن جاتے ہیں۔ جنسی وجسمانی استحصال کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یونیسیف کے اعدادوشمار کے مطابق کم عمر کی 60 فیصد مائوں کی پہلے بچے کی ولادت کے وقت موت ہوجاتی ہے۔ ان سے پیدا ہونے والے بچے کمزور ہوتے ہیں۔ جو مائیں بچ جاتی ہیں، عدم غذائیت اور خون کی کمی کی وجہ سے ان کی پوری زندگی جہنم بن جاتی ہے۔ کم عمر میں شادی کرکے والدین خود ہی اپنی لڑکیوں کومصیبت کا شکار بنادیتے  ہیں۔ جمشید پور( جھارکھنڈ) سے 25 کلو میٹردورپنسا گائوں کی سریتا 15، اس کی دوست مالی14، مڈل اسکول کی طالبات کو یہ بات معلوم ہے۔ جنہوں نے اسی سال اپنے استاد پردیپ کمار کی مدد سے اپنی شادی رکوادی تھی۔ اب وہ اپنی تعلیم مکمل کرکے اپنے خواب پورے کرنا چاہتی ہیں۔ راجستھان، بہار کے بعد جھارکھنڈ وہ ریاست ہے جہاں کم عمر میں شادی کی شرح زیادہ ہے۔سالانہ ہیلتھ سروے 2010-11کے مطابق دیہی علاقوں میں 44اور شہری علاقوں میں 21 فیصد لڑکیوں کی بالغ ہونے سے پہلے شادی ریکارڈ کی گئی۔ 2011کے ایس آر ایس کے اعدادوشمار کے مطابق جھارکھنڈ میں 19-15 سال عمر میں اے ایس ایف آر 37.8تھا جو 2012میں بڑھ کر 46.5ہوگیا تھا۔ جبکہ ملکی سطح پر یہ شرح جھارکھنڈ سے کافی کم 31.5ہے۔ سالانہ ہیلتھ سروے کی مانیں تو حالت میں سدھار ہورہا ہے۔ لیکن پھر بھی کئی اضلاع میں حالت اب بھی سنگین ہے۔ 19-15سال کی عمر میں لڑکیوں کے ماں بننے کا آنکڑا دوسری ریاستوں سے زیادہ ہے۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے 2016-15کی رپورٹ کافی امید افزا ہے۔ دھیرے دھیرے کم عمر میں شادی کا چلن کم ہورہا ہے۔ پردیپ کمار کا کہنا ہے کہ جمشید پور میں کئی لڑکیوں کی شادی اب بھی کم عمر میں ہوجاتی ہے۔

کمار سے پوچھے جانے پر کہ انہوں نے سریتا اور مالی شادی کیسے رکوائی؟ انہوں نے بتایا کہ مالی اسکول میں تھی، تو اس کی بہن بلانے آئی کہ ماں بلارہی ہے۔ مالیگھر گئی تو اس کے گھر لڑکے والے اسے دیکھنے آئے ہوئے تھے۔ جب وہ چلے گئے تو مالی اسکول آئی۔ وہ بہت اداس تھی، سریتا نے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے پوری بات اسے بتادی کہ اس کے ماں باپ اس کی شادی کرنا چاہتے ہیں۔ سریتا نے اپنے ٹیچر پردیپ کمار کو اس کے بارے میں بتایا۔ وہ اسکول کے بال پتر کار بچوں کو لے کر مالی کے گھر گئے۔ اس کے والد کو سمجھایا کہ اتنی کم عمر میں شادی کرا رہے ہو۔ اس سے بچی کو کیا کیا تکلیف ہوسکتی ہے، اس کے نتائج کتنے خراب ہوسکتے ہیں۔ بچوں نے بھی کم عمر کی شادی کے نقصانات کے بارے میں بتایا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ غیر قانونی ہے۔ اگر شکایت ہوگئی تو ایک لاکھ جرمانہ کے ساتھ جیل ہوسکتی ہے۔ وہ بات مان گئے اور انہوں نے شادی کا ارادہ بدل دیا۔ اسی طرح ایک دن سریتا اسکول کے کونے میں بیٹھ کر رو رہی تھی، تب پھر بچوں نے اور میں نے اس کے بھائی سے بات کی جو خود اسی اسکول سے پڑھ چکا ہے۔ وہ گھر میں اکیلا کام کرنے والا ہے۔ اس نے اپنے والدین کو سمجھایا اور سریتا کی شادی رک گئی۔ اب وہ نویں کلاس میں ہے۔

کم عمر ی میں شادی کی وجہ جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ اس کے پیچھے کئی فیکٹر کام کرتے ہیں۔ لڑکی کو سماج میں بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ والدین کو ہمیشہ یہ فکر رہتی ہے کہ وہ جلد سے جلد اپنی ذمہ داری سے فارغ ہو جائیں۔ دوسری وجہ غریبی اور حفاظت ہے۔ یہ سوچ کام کرتی ہے کہ اپنے کھانے کے لالے ہیں ایسی حالت میں لڑکیوں کا کھانے اور پڑھانے کا خرچ کیسے برداشت کیا جائے۔ پھر لڑکی کے آنے جانے میں کوئی انہونی ہوگئی تو سماج میں کیا عزت رہ جائے گی۔ اس لئے شادی کردی جائے تاکہ اس کا شوہر اس کی حفاظت کرلے۔ تیسرے روایتی طورپر بغیر کچھ سوچے سمجھے کم عمر میں شادی کا چلن ہے۔ دیہی علاقوں میں کئی عورتیں یہ کہنے والی مل جاتی ہیں کہ ان کی شادی 15,14,13 سال کی کم عمری میں ہوئی تھی۔ وہ ٹھیک ہیں۔ ان کی بیٹی یا پوتی کی شادی کم عمر میں ہورہی ہے تو کیا ہوا؟ لڑکی سیانی ہوجائے تو اس کی شادی کردینی چاہئے۔ اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔

جھارکھنڈ معدنی لحاظ سے جتنا مالامال ہے، وہاں کے عوام اتنے ہی غریب ہیں۔ کم عمری کی شادیوں کے پیچھے ایک وجہ غریبی بھی ہے۔ یونیسیف نے اس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے بچوں کو بیدار کرنے کا منصوبہ بنایا، جس کے تحت بال پترکار پروگرام سے اسکولوں کے بچوں کو جوڑا گیا۔ ان بچوں کو حقوق اطفال کے بارے میں بتایا جاتاہے۔ مضامین، نظمیں لکھنا اور پینٹنگ بنانا سکھایا جاتاہے۔ اس پروگرام سے جڑنے کے بعد بچوں میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی۔ اسکولوں میں ڈراپ آئوٹ کی شرح میں کمی آئی ہے۔ بچے اپنے حقوق کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ کم عمری کی شادی کو روکنے کیلئے 1098نمبر پر فون کرنا چاہئے۔مشرقی سنگھ بھوم ضلع کے بوڑام بلاک کے دامودر پور گائوں کی مونیکا مہتو آٹھویں کلاس کی طالبہ ہے۔ اس سے اس کے کے اسکول میں ملاقات ہوئی۔ وہ ایک بال پترکار ہے۔ اس نے اپنے ہی اسکول کی 13 سالہ سویتا کی شادی رکوائی۔

مونیکا نے بتایاکہ جب سویتا سے اس کی شادی کی بات معلوم ہوئی تو اسے کم عمر میں شادی کے نقصانات کے بارے میں بتایا۔ پھر اپنے اسکول کے ٹیچر جگدیش منڈل سے اس بارے میں بات کی۔ ان کے مشورے سے مونیکا اپنے بال پترکار ساتھیوں کو لے کر سویتا کے گھر گئی اور اس کے والد سے بات کی۔ اس نے انہیں پاس کے گائوں کی لڑکی کی موت کی بات یاددلائی،جس کی شادی کم عمری میں ہوئی تھی۔ اس نے کہاکہ سویتا ابھی بہت چھوٹی ہے، شادی کے بعد اس کی پڑھائی چھوٹ جائے گی۔ وہ اپنا کچھ کرنے کا خواب پورا نہیں کرپائے گی۔ ساتھ ہی انہیں قانونی کارروائی سے بھی واقف کرایا۔ اس کے بعد سویتا کے والد اس کی شادی نہ کرنے کی بات مان گئے۔ مونیکا کا کہنا ہے کہ جب سے ہم بال پترکار پروگرام سے جڑے ہیں تب سے ہمیں سرکاری افسران، بی ڈی او وغیرہ سے ملنے کاموقع ملا ہے۔ ورکشاپ میں شریک ہوکر ہمیں اپنے حقوق کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے ہمارے اندر خود اعتمادی پیدا ہوئی ہے۔ مونیکا بڑی ہوکر ڈاکٹر بننا چاہتی ہے۔

 بال پترکار پروگرام کوسرکار نے 2015سے بال سند میں ضم کردیا ہے۔ بال سند میں ہر اسکول میں 25بچے ہوتے ہیں، اس میں وزیراعظم، وزیر برائے ذرائع ابلاغ اور دوسرے وزیر ہوتے ہیں۔ یہ اپنے حقوق کے بارے میں جاننے کے علاوہ اسکول کی صاف صفائی، مڈ ڈے میل اور دوسرے کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔ بال سند اسکول کے کسی ایک استاد کی نگرانی میں کام کرتی ہے۔ یونیسیف کا بال پترکار پروگرام یہاں کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ اس کی وجہ سے کم عمری کی شادیوں میں بھی کمی آئی  ہے۔ بال سند کی ہرماہ میٹنگ ہوتی ہے جس میں گائوں پردھان، مکھیا اور بی ڈی او شریک ہوتے ہیں۔ بی ڈی او چائلڈ پروٹیکشن آفیسر کے طورپر بھی کام کرتے ہیں۔ بچوں کی اسمگلنگ، ان کا استحصال، چائلڈ میرج، چائلڈ لیبر کے معاملات کو دیکھنا ان کی ذمہ داری ہے۔

حق تعلیم کے تحت 35 بچوں پر ایک استاد ہونا چاہئے۔ جھارکھنڈ میں اساتذہ کی کمی ہے۔ کسی کسی اسکول میں 300-200بچوں پر چار پانچ ٹیچر ہیں۔ کہیں اگر 35 کی شرح کے مطابق اساتذہ ہیں بھی تو مضامین کے مطابق اساتذہ نہیں ہیں۔ کہیں کہیں بچے کم تھے ایسے اسکولوں کو دوسرے قریب کے اسکولوں میں ضم کیاگیا ہے۔ معلوم ہو کہ سرکار نے کم طلبہ والے 1500 اسکولوں کو بند کردیا۔ بوڑام کے بی ڈی او امتیاز احمد سے بات کرنے پر معلوم ہوا کہ یہاں بچوں کی اسمگلنگ کے معاملے اب نہیں ہیں۔ چائلڈ میرج کو اپنے گشتی دلوں اور پنچائتوں کی مدد سے روکتے ہیں۔ لیکن پھر بھی کوئی چائلڈ میرج ہوسکتی ہے کیوں کہ لوگ عام طورپر اسے برانہیں سمجھتے۔ انہوں نے بتایاکہ یہ آدی واسی علاقہ ہے۔ یہاں ڈائریا اور ٹی بی کے واقعات پریشان کرنے والے ہیں۔ کیوں کہ کھانا بنانے کیلئے لوگ لکڑیاں جلاتے ہیں۔ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کی چیئرمین پربھا جائسوال کے مطابق 1098 پر مہینے میں قریب پانچ ہزار کال آتی ہیں۔ لیکن ان میں زیادہ تر کال بچوں کو لاوارث چھوڑنے، بچوں کا صحیح علاج نہ ہونے یا پھر بچہ مزدوری سے متعلق ہوتے ہیں۔ چائلڈ میرج سے متعلق کال بہت کم آتے ہیں۔ ہم بے سہارا بچوں کی مدد کرتے ہیں، ان کی تعلیم اور رہائش کا انتظام کراتے ہیں۔ بچوں نے جب سے آگے آکر اپنے مسائل کو اٹھانے کا کام شروع کیا ہے، تب سے ہمارا کام کم ہوگیا ہے۔ جمشید پور کے بچے دوسرے علاقوں کیلئے مثال ہیں۔ ان سے سیکھنے کی ضرورت ہے کہ اپنی اور اپنے سماج کی حفاظت کیسے کریں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close