گوشہ اطفال

​بچوں میں بڑھتی ہوئی ہیجانی کیفیت!

شیخ خالد زاہد

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہم پریشانیوں کے جال میں پہنسے ہوئے ہیں ۔ کچھ پریشانیاں ظاہری ہیں اور کچھ پریشانیوں کی کوئی باقاعدہ شکل نہیں ہے۔ یہ پریشانیاں ، روز بروز بڑھتی ہوئی بیماریوں کا بہت بڑا سبب بن رہی ہیں ۔ بظاہر ایساہی لگتا ہے کہ یہ بھی ہمارے دشمن کی سازش ہے ۔بظاہر جو پریشانیاں ہیں ان میں سب سے اول ہمارے ملک میں بجلی کی دستیابی کا کوئی پیمانہ متعین نہیں اور نا ہی کوئی پوچھنے والا ہے۔ کوئی مرتا ہے تو مرے اور جی جاتا ہے تو اپنے خرچے پر جئے۔ یہ پاکستانیوں کا مزاج بنتا جا رہا ہے۔ کبھی ہم کسی کی بے رحمی اور نا انصافی کو بہت پیار محبت سے برداشت کر جاتے ہیں تو دوسری طرف ہم بہت معولی سی غلطی پر سامنے والے کی شان میں زمین آسمان ایک کردیتے ہیں اور تو اور جان بھی لینے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں ۔

ہیجان ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں آپ کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ آپ کو کیا کرنا چاہئے یا پھر کسی نا کسی تخریبی عمل کی جانب طبعیت مائل ہوتی جاتی ہے۔ہیجان بہت ساری بیماریوں کا باعث بنتا جا رہا ہے جن میں بلند فشارِ خون اور شگر جیسے مہلک امراض بھی شامل ہیں ۔ معاشرے میں موجود عدم توازن ہیجان کی سب سے بڑی وجہ ہے آج ہر کوئی ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں مشغول ہے تو دوسری طرف سڑکوں پر دوڑتی ہوئی گاڑیاں بھی ایک دوسرے کو پیچھے کرنے میں تیز سے تیز دوڑ رہی ہیں ۔ ہیجانی کیفیت کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک اہم ترین وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ چاہنا جو ہمارے بس میں نہیں ہے۔

یقیناًپچھلے زمانوں میں بھی اس کیفیت کا وجودرہا ہوگا مگربہت ہی مخصوص حالات میں اس کیفیت سے دوچار ہونا پڑتا ہوگا اور عبادت کے ذرئع سے بہت آسانی سے چھٹکارا مل جاتا ہوگاکیونکہ اس وقت عبادت اپنی روح کے ساتھ باقی رہی ہوگی۔ دورِجدید میں اس ہیجانی کیفیت کی نشونما اور پرورش موسیقی کی ایک خاص قسم نے کی ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ موسیقی کی بھی بہت ساری قسمیں ہیں جن میں سے ایک قسم ایسی ہے جو ہمارے اندر ہیجانی کیفیت کواجاگر کرتی ہے۔ مغرب میں اس کیفیت سے نجات کے بے تحاشہ ذرائع موجود ہیں جیسے کہ اگر ہیجان انگیز موسیقی بجائی جا رہی ہے تو سننے والے کو اس پر ناچنے سے کوئی نہیں روک سکتا اور وہ اس بات سے قطع نظر کہ وہ کہاں ہے اور کون ہے اپنی ہیجانی کیفیت کو ناچ ناچ کر ختم کر لیتا ہے یا پھر نشہ بھی اس سے نجات کا بہترین ذرئعہ ہے دنیا و مافیا سے آزاد۔ لیکن مشرق میں اور خصوصی طور پر پاکستان میں ایسی موسیقی پر تو پابندی نہیں مگر اس کو ختم کرنے والے رقص پراخلاقی ، مذہبی اور معاشرتی پابندیا ں عائد ہیں اور ہم اس پابندیوں کو توڑ نے کا سوچ بھی نہیں سکتے ایک تو معاشرہ اجازت نہیں دیتا دوسرا ہمارے مذہب میں اس چیز کی ممانعت ہے۔

آپ جب سارا دن کی محنت مشقت کے بعد شام کو گھر لوٹتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جناب سارا دن سے بجلی غائب ہے ، بجلی نا ہونے کے باعث پانی بھی دستیاب نہیں ہے اس پر گھر والوں کے تھکن زدہ اور بے سکون چہرے ، آدمی کی طبعیت میں ہیجان پیدا کرنے کیلئے کافی ہوتے ہیں اور یہ وہ تمام عوامل ہیں جو ایک عام آدمی کے پہنچ سے باہر ہیں ۔ہمارے ملک میں بجلی نہیں ہے ، پانی نہیں ہے، گیس نہیں ہے اور باقی جو کچھ بھی دستیاب ہے عام آدمی کی پہنچ میں آسان نہیں ہے۔ ہیجان سے نجات ملے تو ذہنی سکون ہو اور ذہنی سکون ہو تو معاشرے کے افراد کچھ تخلیقی یا تحقیقی کام سرانجام دیں سکیں اور خودکشیاں کا رجحان کم ہوسکے کیونکہ ہیجان کی کتاب میں خود کشی کا خیال صفہ اول پر جلوہ گر ہوتا ہے۔ ہماری نسل کو ہیجان تھوڑا تھوڑا کر کے دیا گیا تو ہم لوگ کسی حد تک اسکے عادی ہوچکے ہیں ۔ نئی نسل کو پیدائش کے ساتھ اس کیفیت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وہ اس کیفیت کی زد میں بڑے ہوتے جا رہے ہیں ۔ اس کیفیت کی مرہونِ منت ہماری نئی نسل انتہا ء درجے کی بے حسی کا مظاہرہ کرتی دیکھائی دیتی ہے۔ انکے نزدیک انکے کاموں کی اہمیت ہے دوسرے کا کوئی کتنا ہی اہم کیوں نا ہو وہ کسی قسم کی اہمیت دینے کیلئے تیار نہیں ۔ نوجوان نسل کی اس ہیجانی کیفیت کو مذہب سے نفرت کیلئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے اگر ہمارے اذہان سے مشال خان کا واقع ابھی مٹا نا ہو۔ یہ سراسر ہیجانی کیفیت کی ایک واردات تھی جو یقیناًہمارے مذہب دشمن عناصر نے سرزد کروائی۔ نوجوان نسل اپنے اوپر لگائی جانے والی کسی بھی قسم کی پابندی کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے ، بچپن سے ہی بچہ اپنے اوپر لگائی جانے والی روک سے بغاوت کرتی دیکھائی دے رہی ہے۔

یہ بچے اپنے والدین میں ہیجانی کیفیت سے دوچار کرتے چلے جاتے ہیں ۔بچوں میں ہیجان کی ایک بہت خاص وجہ وہ کھیل ہیں جو وہ کمپیوٹر ، موبائل اور دیگر ایسی مشینوں (موبائل گیجٹ)پر کھیل رہے ہیں ۔والدین اپنی جان چھڑانے کے بہانے یا پھر جدید دور سے ہم اہنگ کرنے کے لئے کمپیوٹر اور موبائل گیجٹز تک رسائی دیتے ہیں اور اپنے لئے ہیجان کے اسباب پیدا کرلیتے ہیں ۔ ان کھیلوں سے پیدا ہونے والا ہیجان بچے اپنے ساتھ لئے پھرتے ہیں اور جہاں موقع ملتا ہے لڑائی جھگڑے کی صورت میں معاشرے میں نظر آتے ہیں۔ جیسے جیسے ہیجان بڑھ رہا ہے ایسے ایسے بے حسی میں بھی اضافہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ مذکورہ بالا سطور میں تذکرہ کیا جا چکا ہے کہ عبادات روح سے خالی ہوتی جا رہی ہیں جسکی وجہ سے عبادات سے خشو ع و خضوع کی قلت ہو چکی ہے اور شائد کوئی اس قلت کو دور کرنے کیلئے عبادات میں روح پیدا کرنے کیلئے تیار ہی نظر نہیں آرہا۔ نا تو مذہبی پیشوا اور نا ہی سیاسی رہنما عوام کو اس ہیجان سے چھٹکارا دلانا چاہتے ہیں کیوں کہ وہ بہت اچھی طرح سمجھتے اور جانتے ہیں کہ ان کی دکان اس وقت تک ہی فائدہ دے سکتی ہے جب تک عوام ہیجان ذدہ رہتے ہوئے اپنی زندگیاں بسر کریں اور یہی سازش ہمارے دشمنوں کی ہے جن میں انڈیا، افغانستان اور ایران ہیں ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہیجان ختم کیسے ہوگا یا اس پر کیسے قابو پایا جائے؟؟؟؟ معجزے سے دھیان ہٹا کر اس بات کو خارج از امکان قرار دیا جا سکتا ہے کہ اب یہ ہیجان معاشرے سے ختم ہو سکے گا، یہ شکلیں بدل بدل کر ہمارے سامنے یاآ گے پیچھے گھوم رہا ہے اور گھومتا رہے گا۔ زور ہمیں اس بات پر دینا ہے کہ کسی نا کسی طرح عبادت میں ڈالیں، ایک دوسرے کو کسی بھی حد تک برداشت کریں ، ان باتوں پر دھیان دینا کم سے کم کردیں جو ہماری پہنچ میں نہیں ہیں، کینا بغض جیسی نفس کی بیماریوں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں اور دوسروں کی بھی مدد کریں ، معاشی توازن کی بحالی کیلئے کام کریں اور دوسروں کو بھی ترغیب دیں ، عبادت گاہوں کو سیاسی اکھاڑے بنانے کی بجائے صحیح معنوں میں عبادتگاہوں کا درجہ دیا جائے جہاں عبادت بغیر کسی تقسیم کے کی جاسکے۔

تعلیمی ادارے اور اساتذہ اپنی خصوصی خدمات کی بدولت آنے والی نسلوں کو ہیجان سے دور رکھنے کیلئے عملی کردار اداکرسکتے ہیں ۔ ہم اپنی اقدار کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی موجودہ اور آنے والی نسلوں کیلئے کچھ ایسی تدبیریں کرنی ہونگی جن کی بدولت معاشرہ ہیجان جیسی موذی اور مہلک مرض سے نجات پاسکے۔​

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close