تعلیم و تربیت

ابھی تو بچّہ ہے!

تدارک کی ایک ہی سبیل ہے کہ بچّےکوصرف بچّہ سمجھ کراس کی قابلِ اخذ خطاؤں پر پردہ ڈالنےکی عادت چھوڑدی جائے، والدین سرجوڑکربیٹھیں کہ بچّےکی مناسب تربیت کیسےہو؟

سالک ادؔیب بونتی

رفتارِ زمانہ اپنےعروج پرہے اور ترقی کےنعروں نےدروبام پرہلچل مچارکّھاہے… واقعی تبدیلیاں رونماہورہی … مگر اس حدتک کہ احساس اور ضمیرکابھی خون ہوتاہوا ہمیں نظرنہیں آتا.

کبھی ہم نےسوچاہےکہ نئی نسل کوہنگامئہ دوراں نے کیادِیاہےاور اس سے کیاچھیناہے؟

ایک زمانہ ایسابھی تھا جب والدین بچّوں کے تئیں ہرآن سنجیدہ رہاکرتےتھے بنابریں بچےکےرہن سہن،طرزِ تکلم،طریقئہ تعامل،اندازِ چال چلن غرض کہ ہرحرکت وعمل پر نظر رکھتے تھےاور اس کے بےشمار اخلاقی و تعلیمی فوائد ظہور پذیرہوتے تھے…. مگراب…؟

معصوم بچےکو چپ کرانےکےلیےماؤں کے پاس لوریاں نہ رہیں… سچّائی کی طرف متوجہ کرنےکےلیےزبان پر عبدالقادر جیلانی کاقصّہ نہ رہا….

الله پربھروسہ کی اہمیت بتانےکےلیے سیرتِ نبوی کاصفحہ ہم سے بسر گیا…

بہادری بتانےکےلیے طارق بن زیاد یاد نہ رہے…

ایفائے عہدکےلیے نبی کےتین روز مسلسل انتظار کرنےکی بات ہم کبھی نہیں چھیڑتے….!

اب بچےکوچپ کرانےکےلیے کوئی میوزک لگادی جاتی ہے،ذہنی تفریح کےلیے ہمارے پاس کارٹونس کی کمی نہیں ہے،وقت گزاری کےلیے گیمس کی بھرمار ہے… سچ کہیں تو ہم نے اپنوں بچّوں کی تربیت مشینوں کوسونپ دِیاہے…یہی وجہ ہے کہ بچّوں میں احساس کی کمی روز افزوں ہے…کیونکہ مشین کے پاس دھڑکنےوالا دل اور سمجھانے والی شیریں زبان نہیں ہوتی، خوشی اور غم،محبت ونفرت میں تمیزکےساتھ رہنمائی کامادّہ نہیں ہوتا…

ایسےمیں ہم اپنےبچوں سے سماج اور انسانیت کی  فلاح کےلیے کیااور کیسی امیدیں رکھ سکتےہیں؟

مشینوں کے ساتھ صبح و شام کرنےوالے بچّوں کو کیامعلوم کہ درد کیاہوتاہے؟ انھیں کیاپتہ کہ فردسماج کاحصّہ ہوتابھی ہےیانہیں؟،یہ نہیں جانتے کہ صلہ رحمی کس چڑیاکانام ہے،انھیں خبرنہیں کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے،انھیں ادراک نہیں کہ باپ جنت کا دروازہ ہے ورنہ ملک میں اولڈایج ہوم آباد نہ ہوتے، اور یہ اس سےبھی نابلدہیں کہ کہاں دھیمی آواز میں بات کرنی ہے ،کہاں خاموش رہناہے اور کہاں بولناضروری ہے ـ

آج بچّوں کی طرف سے ہم جتنےلاپرواہ ہیں تاریخ میں اس طرح کی بےحسی شایدہی اورکبھی برتی گئی ہو..

بچےکی زبان سے غلط لفظ سن کرمثبت انداز میں اس کی اصلاح کرنےکےبجائے ہم یہ کہہ کربات ٹال دیتےہیں کہ ابھی تو بچہ ہے!

غلط حرکتیں دیکھ کر ہماری پلکوں میں کوئی ردّعمل نہیں ہوتا  ہم بول اٹھتےہیں ابھی تو بچّہ ہے!

دادا،دادی اورنانا نانی کےساتھ غیراخلاقی زبان کااستعمال،پاس پڑوس کےساتھ بےڈھب کلام اور ارد گرد کےہم عمروں سے ناشائستہ گفتگو ہم صرف یہ کہہ کر نظرانداز کردیتےہیں کہ ابھی تو بچّہ ہے!

ہماری پوری توجہ صرف ہوم ورک کروانےمیں رہتی ہے،ہمیں قطعی اس کی فکرنہیں کہ بچّےکی ذہنی ارتقاء کس سطح پر ہے،کیاوہ کتابوں سے لدے بیگ کےباہربھی سوچتاہے؟

ہماری لاپرواہی کاصلہ ہے کہ ہمارابچّہ Being human توسمجھتاہے مگر "مسلمان مسلمان کابھائی ہے” نہیں سمجھتا ـ

یہی بچّہ بڑا ہوکر Blood donate تو کرتاہے مگر اُسے نہیں پتہ کہ "ایک انسان کی جان بچانے والاگویاپوری انسانیت کی جان بچاتاہے” ہماراجوان شجرکاری کرتاہے مگر اسے علم نہیں کہ "صدقئہ جاریہ” کیاہے ـ

دو بچّوں میں لڑائی ہوتی ہے تو ہم ڈانٹ کر جُداکردیتےہیں مگر یہ نہیں بتاتے کہ تین روز سے زیادہ قطع کلام کرنا شریعت میں جائز نہیں ـ

ہم نے اپنی نسل کو اصل دین اور زندگی سے دور کردیاہے….. وجہ حدسےزیادہ لاپرواہی اور بچّوں کےتئیں دِکھاوےکی شفقت کےسواکچھ بھی نہیں!

ہم کبھی نہیں سوچتےکہ ملک و ملت کامستقبل سنوارنےمیں ہمارےاپنےبچےکاکیاکردارہوگا؟

بحیثیتِ ایک مدرس ہماری ملاقات روز والدین سے ہوتی ہے،کوئی شکوہ کناں ہوتاہے،کوئی خوش …. کوئی کچھ کوئی کچھ… مگر کسی کےپاس امتحان میں اعلیٰ کامیابی کےعلاوہ کوئی دوسرامدعانہیں ـ

نتیجہ صاف طورپراخلاقی بےراہ روی،باہمی ہمدردی کی خلش،احترام کاخاتمہ،اخلاق کافقدان،علم کی ناپختگی،ادب سےنابلدی اور کتابوں سے نفرت کی صورت میں ہمارےسامنےہے.

تدارک کی ایک ہی سبیل ہے کہ بچّےکوصرف بچّہ سمجھ کراس کی قابلِ اخذ خطاؤں پر پردہ ڈالنےکی عادت چھوڑدی جائے، والدین سرجوڑکربیٹھیں کہ بچّےکی مناسب تربیت کیسےہو؟ بچّےکےاساتذہ سے مشورہ کیاجائےکہ تعلیم کےساتھ بہتر تربیت کیسے فراہم کی جائے ـ

ورنہ ‘ابھی توبچّہ ہے” کا ڈائیلاگ صرف نقصان ہی گلے ڈال کرجائے گاـ

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close