تعلیم و تربیت

استاد تو ہر دور میں انمول رہا ہے

وردہ صدیقی

(نوشہرہ کینٹ)

اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا۔ سب سے پہلے اسے علم کی دولت سے مالا مال فرمایا۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے ” وعلم ادم الاسماء کلھا ” (البقرہ)

” اور آدم علیہ السلام کو تمام اشیا ء کے نام سیکھائے”

اہل علم کے مقام و مرتبہ کو رب ذوالجلال نے یوں بیان فرمایا ” کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے کیا برابر ہو سکتے ہیں ” (سورہ زمر)

اللہ رب العزت اور نبی آخر الزمان حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انسان کا سب سے بڑا محسن و مربی استاد ہوتا ہے۔ استاد کا احسان ماں باپ سے بھی زیادہ ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان عالی: ” بیشک میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں "( الصحیح البخاری)نے اس استاد کا رتبہ بلند کر دیا، معلوم ہوا استاد کا مقام کتنا اعلیٰ و ارفع ہے۔

اساتذہ تو علم کے روشن منارے ہیں۔ اگر اس دنیا میں استاد نہ ہو تو یہ دنیا جہالت کی اندھیر نگری ہوتی۔ یہ تو استاد کا احسان ہے جنہوں نے ہمیں علم کے نور سے منور کر کے جہالت و گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر معاشرے میں زندگی گزارنے کے گر اور آداب سکھائے۔

 معلم علم کی منہ بولتی تصویر اور اخلاق و آداب کا نمونہ ہوتا ہے اور اس کی ذات معاشرے میں مرکزی کردار کی حیثیت رکھتی ہے۔ استاد اگر حقیقی معنوں میں استاد ہو تو اپنے شاگردوں کی زندگیاں بدل دینے کے ساتھ،  قوم کی تقدیر میں بھی صالح انقلاب پربا کردیتا ہے۔لہذا ایسی عظیم شخصیت  بہترین اور عظیم الشان سلوک کی مستحق ہونی چاہیے۔

 استاد کی عظمت کو ترازو میں نہ تولو

 استاد تو ہر دور میں انمول رہا ہے

 سب سے پہلے طالب علموں کو چاہیے کہ اپنے اساتذہ کا ادب کریں۔ ان کے سامنے نہ ہنسیں نہ ذیادہ بولیں، جب بھی بات کریں آہستہ اور دھیمی آواز میں کریں۔ استاد کے سامنے تاکنے جھانکنے سے بھی پرہیز کریں، پوری توجہ وغورسے متوجہ رہیں۔ احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایسے بیٹھتے تھے جیسے سر پر پرندے بیٹھے ہوں۔

 اپنے استاد کی بات پر اعتماد کیجئیے۔ استاد جو بات بتائیں کسی دوسرے کی بات بطور تردید نہ ذکر کیجئیے۔ اس سے اپنے استاد پر اعتماد کی کمزوری معلوم ہوتی ہے اور بے اعتمادی کے ساتھ استفادہ مشکل ہے۔

اگر یقین کے ساتھ استاد کا غلط ہونا معلوم ہوجائے تو بے ادبی کے بجائے انتہائی احترام سے ان کی توجہ درست بات کی طرف مبذول کروائیے۔ جس سے مقصود بھی حاصل ہوجائے اور بے ادبی و دل آزاری بھی نہ ہوگی اور آپ کے بہترین انداز سے ناصرف مخلص استاد اپنی اصلاح بھی فرمائیں گے بلکہ آپ کی فہم وفراست، ذہانت و ذکاوت  پر شاباشی بھی دیں گے۔

 اساتذہ عمر میں بڑے ہوں یا چھوٹے بھرپور ادب و احترم کے لائق ہیں۔ فقط استاد ہی نہیں بلکہ استاد کے متعلقین، ان کے دوست، احباب، رشتہ دار، اھل وعیال بھی واجب الاحترام ہیں۔

 ان کے سامنے بھی عاجزی و انکساری کا اظہار کیجئے۔

ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمت

ہے روک ٹوک ان کی، حق میں تمہارے نعمت

(الطاف حسین حالی)

فخر العلماء، محبوب الصلحاء، پیر طریقت رہبر شریعت حضرت مولانا قاضی ارشد الحسینی دامت برکاتھم العالیہ اپنے والد محترم امام الزاہدین والعارفین حضرت مولانا قاضی زاھد الحسینی نور اللہ مرقدہ کے متعلق رقم فرماتے ہیں کہ جب حضرت کے محبوب اساتذہ لاہوری و مدنی رحمھما اللہ کے صاحبزادگان محترم تشریف لاتے تو اباجی کی حالت دیدنی ہوتی۔

اپنے شیخ کے صاحبزادوں کے قدموں میں بچھے بچھے جاتے اور ان کو مسجد و مدرسہ کے معائنے کے بعد ان کو اپنے کمرہ خاص، اپنے گھر میں ضرور لاتے اود جس چارپائی پر خود آرام فرماتے تھے اسی پر ان کو بٹھاتے، ان کے سامنے دوزانوں بیٹھ جاتے، ان سے دعا کرواتے اور زاروقطار روتے۔ (چراغ محمد: سوانح حضرت حسین احمد مدنی رحمہ اللہ علیہ)

 اگر کوئی استاد کی مخالفت کرے تو ثواب اور نیکی سمجھ کر دل وجان سے دفاع کیجئیے۔ اور ان کی حمایت کیجئیے۔

 اپنے استاد کی خدمت کے لئے حاضر باش رہیے۔ استاد کے کہنے کا انتظار نہ کیجئیے بلکہ جود ہی کام کر دیجئیے۔ استاد کبھی کسی کام کا حکم دیں تو دوسروں کو کام نہ کہیے، بلکہ اپنی سعادت سمجھتے ہوئے خود سر انجام دیجئیے۔

 اگر خدانخواستہ کبھی غلطی سے استاد کی بے ادبی یا نافرمانی سرزد ہوجائے تو فوراً نہایت عاجزی و انکساری سے معافی مانگئیے۔ بہتر اور موزوں یہ ہے کہ انداز میں بھی عجز و ندامت جھلکے۔ معافی مانگنے میں ہرگز تاخیر نہ کیجئیے۔ کیونکہ یہ کدورت کا سبب ہے۔ یا کم از کم استاد کو طبعی رنج میں مبتلا کر دے گی۔

استاد کی بے ادبی اور ناراضگی علم کے نور اور برکت کو زائل کردیتی ہے۔ لہذا کبھی ایسا موقع نہ آنے دیجئیے۔

ادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا

وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں

 تکمیل ِتعلیم کے بعد بھی وقتاً فوقتا ًاساتذہ کی خدمت میں حاضری دیتے رہیے۔ بے وفائی ہرگز نہ کیجئیے۔ یہ بے وفائی باعث نقصان و بے برکتی ہے۔

 ہمیشہ اپنے اساتذہ کو اپنی دعائوں میں شامل حال رکھئیے۔ کیونکہ یہ عزت وشرف، مقام و مرتبہ سب اساتذہ کرام کی شفقتوں و مہربانیوں اور ان کی کاوشوں کی مرہون منت ہیں۔ انہی کی دعائوں کا ثمرہ ہے۔

کوئی بھی کچھ جانتا ہے تو معلم کے طفیل

کوئی بھی کچھ مانتا ہے تو معلم کے طفیل

گر معلم ہی نہ ہوتا دہر میں تو خاک تھی

صرف ادراکِ جنو ں تھا اور قبا ناچاک تھی

 امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ اپنے اساتذہ کے لئے دعاء مغفرت کرتے تھے۔ وہ فرماتے تھے ” میں نے جب بھی کوئی نفل یا فرض نماز پڑھی اپنے اساتذہ کے لئے ضرور دعا کی۔”

 اللہ ہمارے اساتذہ کی زندگی میں خوب برکتیں عطا فرمائے۔ ان سے ہمیں خوب خوب فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کا سایہ رحمت و شفقت ہمارے سروں پر ہمیشہ قائم ودائم رکھے۔( آمین ثم آمین)

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close